قرآن

اس رمضان قرآن سمجھ کر پڑھئے!

مسلمانوں کا ایک گروہ یہ خیال کرتا ہے کہ قرآن صرف علماء کے سمجھنے کے لیے ہے۔ رہے عوام تو بزرگوں کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھ لینا ان کے لیے کافی ہے۔ مگر یہ خیال نہ صرف غلط، بے بنیاد اور قرآن کی روشنی سے لوگوں کی محرومی کا باعث ہے، بلکہ ان کو دین سے دور رکھنے کا باعث ہے۔

کون نہیں جانتا کہ قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہی اقراء سے ہوا ہے، جس کے معنی ہیں پڑھ۔ اور پڑھنے سے مراد قرآن کا پڑھنا ہے۔ نیز اس میں سمجھ کر پڑھنے کا مفہوم بھی شامل ہے۔ کیوں کہ قرآن ایک مقصدی کتاب ہے، جس کو سمجھے بغیر کس طرح اس سے فائدہ اٹھایا جاسکے گا؟ پڑھنے کا یہ حکم نبیﷺ کے واسطہ سے ہر شخص کو ہے جس تک قرآن پہنچا دیا گیا ہے، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، خواص میں ہو یا عوام میں سے اور عالم ہو یا غیر عالم۔

قرآن تو اپنے نزول کا مقصد ہی لعلکم تعقلون (تاکہ تم سمجھو) بتاتا ہے۔ اس لیے یہ خیال کرنا کہ اس کتاب کو صرف علماء ہی سمجھ سکتے ہیں سراسر غلط ہے۔

قرآن اپنے عام فہم ہونے کی خود صراحت کرتا ہے:

ترجمہ:’’اور ہم نے قرآن کو آسان بنایا نصیحت کے لیے، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟‘‘ (القمر:۱۷)

قرآن کی اس صراحت کے باوجود یہ کہنا کہ یہ کتاب صرف علماء کے سمجھنے کے لیے ہے، بڑی جسارت کی بات ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جو شخص بھی نیک نیتی کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرے گا، خواہ وہ کتنا ہی کم علم کیوں نہ ہو، اس کی تذکیر سے فائدہ اٹھائے بغیر نہیں رہے گا۔ اور یہی قرآن کا اولین مقصد ہے:

ترجمہ: ’’اور وہ اپنی آیتیں لوگوں کے لیے صاف صاف بیان کرتا ہے، تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں۔‘‘ (البقرہ:۲۲۱)

ترجمہ: ’’او رہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثالیں بیان کیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔‘‘ (الزمر:۲۷)

ترجمہ: ’’نہیں، یہ تو یاد دہانی ہے تو جو چاہے یاد دہانی حاصل کرے۔‘‘ (المدثر:۵۴،۵۵)

اور قرآن عالموں کے لیے تو کیا مسلمانوں کے لیے بھی مخصوص نہیں ہے، بلکہ وہ تمام انسانوں کے لیے کتاب ہدایت ہے۔ اور اس کا تقاضا ہے کہ لوگ اس کا مطالعہ کریں اور اس میں تدبر کریں:

ترجمہ: ’’رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔‘‘ (ص:۲۹)

’’یہ کتاب ہم نے تم پر نازل کی ہے برکت والی، تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں، اور اہل دانش نصیحت حاصل کریں۔‘‘

ترجمہ: ’’جو لوگ ہماری نازل کردہ واضح نشانیوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں، درآں حالے کہ ہم ان کو کتاب میں لوگوں کے لیے بیان کرچکے ہیں، ان پر اللہ لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت کرتے ہیں۔‘‘ (البقرہ:۱۵۹)

ترجمہ: ’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا دلوں پر تالے پڑ گئے ہیں؟‘‘ (محمد:۲۴)

قرآن میں کافروں کو بھی آیتیں سنانے کا حکم دیا گیا ہے:

’’کہو، آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے کیا چیزیں تم پر حرام کی ہیں۔‘‘ (الانعام:۱۵۱)

ترجمہ: ’’اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ) قرآن پڑھ کر سناؤ جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنی ہی بھلائی کے لیے کرے گا۔‘‘

یہاں تک کہ عین جنگ کے موقع پر بھی اگر کوئی مشرک کلام الٰہی سننے کی غرض سے امان طلب کرے تو اسے امان دے کر کلامِ الٰہی سنانے کا حکم دیا گیا ہے:

ترجمہ: ’’اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص تم سے امان طلب کرے تو اسے امان دے دو، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ پھر اسے اس کے امن کی جگہ پہنچا دو۔ یہ اس لیے ہے کہ یہ لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘(التوبہ:۶)

مگر تعجب ہے کہ مسلمانوں کا ایک گروہ، مسلمانوں ہی پر قرآن فہمی کا دروازہ بند کر دینا چاہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر لوگ قرآن کا ترجمہ پڑھتے رہے، تو وہ فتنہ کا شکار ہوجائیں گے۔ گویا ان کے نزدیک بے سمجھے بوجھے قرآن پڑھتے رہنے سے مسلمانوں کے کسی فتنہ میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ نہیں ہے۔ بلکہ قرآن ترجمہ کے ساتھ پڑھنے سے ان کے فتنہ میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ یہ الٹی منطق ہے، جسے وہ پیش کر رہے ہیں۔ اگر ان کا یہ اندیشہ صحیح ہے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ علماء نے قرآن کریم کا ترجمہ کرنے کی زحمت کیوں گوارا فرمائی؟ کیا یہ تراجم علماء ہی کے پڑھنے کے لیے لکھے گئے ہیں؟ مولانا شاہ عبد القادر صاحب، مولانا محمود الحسن صاحب، مولانا اشرف علی صاحب تھانوی، مولانا فتح محمد صاحب جالندھری، مفتی محمد شفیع صاحب علیہم الرحمہ اور دیگر علمائے کرام نے قرآن کریم کے تراجم و تفاسیر کی جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، ان سے کن لوگوں کو فائدہ پہنچانا ان کے پیش نظر تھا؟ عربی داں لوگوں کو یا اردو داں طبقہ کو؟ اگر ان علماء کے نزدیک ترجمہ پڑھنے میں فتنہ کا احتمال ہوتا تو وہ سرے سے ترجمہ کرتے ہی نہیں۔ رہا ترجموں میں اختلاف کا مسئلہ تو اگر ترجمہ کی صحت کی طرف سے اطمینان کرلیا گیا ہے، تو ترجموں کے جزوی اختلاف کو جوہر مترجم کی فہم کے اعتبار سے ہوتا ہے، اتنی اہمیت نہیں دی جاسکتی کہ لوگوں کو یہ مشورہ دیا جائے کہ دوسرے کے ترجمہ پڑھیں ہی نہیں۔ آج پڑھے لکھے مسلمانوں کی ایک تعداد ایسی ضرور ہے جو قدیم اور جدید اردو ترجموں سے استفادہ کر رہی ہے۔ ان کے باترجمہ قرآن پڑھنے سے کون سا فتنہ پیدا ہوا؟ پھر جو لوگ قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پڑھنے اور سنانے میں فتنہ محسوس کرتے ہیں، وہ بزرگوں اور عالموں کی لکھی ہوئی کتابوں کے پڑھنے اور سنانے میں فتنہ کیوں نہیں محسوس کرتے؟ جب کہ ان میں بہ کثرت اختلافی باتیں پائی جاتی ہیں۔ اور بعض کتابوں مین تو ضعیف اور موضوع حدیثوں کی بھر مار ہے۔ بزرگوں کی غلو آمیز تعریف، بے سر و پا حکایتوں اور خوش فہمی پیدا کرنے والے خوابوں نے دین کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے اپنے حلقہ کے علماء کی کتابوں کے مطالعے کے مقابلہ میں قرآن کریم کے مطالعہ پر زور دیا جائے۔ لوگوں کا رشتہ قرآن کریم سے جتنا مضبوط ہوگا، اصلاح کا کام اتنا ہی آسان ہوگا۔ وہ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کے جب عادی ہوں گے تو ان کو علم کی روشنی میسر آئے گی۔ او ران کا کلی اعتماد انسانوں کی لکھی ہوئی کتابوں پر نہیں ہوگا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مولانا شمس پیر زادہ

Leave a Reply