BOOST

ایئر فارمنگ انڈسٹری

فضائی ایآلودگی عالمی ماحولیاتی مسائل میں سر فہرست ہے۔ گلوبل وارمنگ کی طرح اس کی وجہ بھی صنعتی سرگرمیاں ہیں۔ صنعتوں سے خارج ہونے والا مضر صحت دھواں اور زہریلے کیمکلز مل کر فضا کو آلودہ کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صنعتی ممالک اور بالخصوص صنعتی شہروں میں فضائی آلودگی ایک گمبھیر مسئلہ بن چکی ہے۔ فضائی آلودگی کے سنگین اثرات کے حوالے سے چین کئی برسوں سے شہ سرخیوں میں ہے۔ دار الحکومت بیجنگ کی دھند آلود فضا اور چہروں پر ماسک پہنے ہوئے شہریوں کی تصاویر تواتر سے عالمی ذرائع ابلاغ کی زینت بن رہی ہیں۔

بیجنگ اور شنگھائی سمیت چین کے دوسرے صنعتی شہروں میں فضائی آلودگی خطرے کی حد عبور کر چکی ہے۔ ماحولیاتی تحقیق سے متعلق امریکی کمپنی، برکلے ارتھ کی رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کے باعث مختلف امراض میں مبتلا ہوکر روزانہ 4000 چینی شہری موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

چین کے صنعتی شہروں میں رہنے والوں کے لیے زہریلے دھویں سے اٹی فضا میں سانس لینا دو بھر ہوچکا ہے۔ بیجنگ میں کیے گئے ایک سروے کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد کا کہنا تھا کہ ان کی سب سے بڑی خواہش صاف ستھری فضا میں سانس لینا ہے! فضائی آلودگی کے ہاتھوں ستائے ہوئے لوگوں کی اس خواہش نے ایک نئے اور انوکھے کاروبار کو جنم دیا ہے۔ کاروباری ذہن رکھنے والے لوگ انہیں صاف ہوا ڈبوں میں بند کر کے فروخت کرنے لگے ہیں! ڈبا بند ہوا کا کاروبار تیزی سے پھل پھول رہا ہے او رباقاعدہ صنعت کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ہوا کی فروخت سے وابستہ تاجروں نے اس صنعت کو ’’ایئر فارمنگ‘‘ کا نام دے دیا ہے۔

ہوا کی خریدو فروخت بہ ظاہر ناقابل فہم ہے مگر صاف ستھری ہوا کی قدر ہمہ وقت آلودہ فضا میں رہنے والے ہی جان سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہوا کا ایک ڈبا یا کین چین میں 160 امریکی ڈالر (دس ہزار ہندوستانی روپے سے زائد) تک کی قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔ بیجنگ اور شنگھائی کے بازار اور سپر اسٹورز کینیڈا، امریکہ، برطانیہ اور دوسرے ملکوں کے پر فضا مقامات کی ہوا کے ڈبوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ انتہائی مہنگی ہونے کے باعث غیر ملکی ہوا غریب چینیوں کی پہنچ سے دور ہے۔ صرف امراء ہی شنگھائی اور بیجنگ میں رہتے ہوئے غیر ملکی پرفضا مقامات کی صحت بخش ہوا میں سانس لے سکتے ہیں۔

برطانوی شہری لیوڈی واٹس چند ہفتے پہلے ہی ایئر فارمنگ انڈسٹری سے وابستہ ہوا ہے۔ مختصر وقت میں وہ کوئی سو ڈبے فروخت کر چکا ہے۔ لیویارک شائر، سمرسیٹ اور ویلز کی ہوا ڈبوں میں بند کرکے چینی خریداروں کو برآمد کرتا ہے۔ لیو کا کہنا ہے کہ چینی خریدار اس سے مختلف قسم کی ہوا کی فرمائش کرتے ہیں۔ کچھ کو پہاڑی چوٹی پر چلنے والی ہوا درکار ہوتی ہے، کچھ وادی کی ہوا میں سانس لینا چاہتے ہیں۔ اسے شب میں چلنے والی اور طوفانی ہوا کے آرڈر بھی موصول ہوتے ہیں۔

برطانوی تاجر کے مطابق اس کا کاروبار تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اسے ملنے والے آرڈرز کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ندیم سبحان

تبصرہ کیجیے