کھولتا دریا

پچپن  مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا امیزون کا جنگل، دنیا کا سب سے بڑا بارانی جنگل ہے۔ سولہ ہزار اقسام کے انتالیس ارب درختوں پر مشتمل اس جنگل میں ہزارہا حیوانی انواع بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ وسیع و عریض جنگل چرند، پرند، حیوانات و نباتات کی نامعلوم اقسام کی شکل میں ان گنت رازہائے قدرت کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہاں ایسے قبائل موجود ہیں جو آج بھی پتھر کے دور میں جی رہے ہیں اور بیرونی دنیا سے جن کا کوئی رابطہ نہیں۔ امیزون کی پر اسرار سرزمین کے اسرار وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں اس جنگل میںبہنے والے ایک عجیب و غریب دریا کے بارے میں تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ چار میل طویل یہ دریا امیزون کے قلب میں بہتا ہے۔ Mayantuyacu نامی اس دریا کی انفرادیت یہ ہے کہ اس میں کھولتا ہوا پانی بہتا ہے! اس دریا میں قدم رکھنے والا جان دار ابل جاتا ہے! Mayantuyacuکی تفصیلات ماہر ارضیات آندرے روزو نے پیش کی ہیں۔

افریقی ملک پیرو کی سرزمین پر بہنے والے اس افسانوی دریا کے بارے میں آندرے نے برسوں پہلے سنا تھا۔ مگر اس وقت آندرے کا خیال تھا کہ اس قسم کے دریا کی موجودگی ناممکن ہے کیوں کہ ایک چھوٹے دریا میں بہتے ہوئے پانی کو ابالنے کے لیے بھی کثیر مقدار میں ارضی حرارتی توانائی درکار ہوتی ہے جو کوئی آتش فشاں ہی فراہم کر سکتا ہے، اور امیزون کے طاس میں کوئی آتش فشاں نہیں ہے۔ مگر اس وقت آندرے کی حیرانی کی انتہا نہ رہی جب اس نے خود ابلتے ہوئے دریا کا مشاہدہ کیا۔

ان دنوں وہ ساؤدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کر رہا تھا، اس عجیب و غریب دریا کے متعلق سننے کے بعد اس نے اپنے ساتھیوں اور اساتذہ سے اس بابت استفسار کیا کہ کیا سائنس کی رو سے ایسے دریا کا وجود ممکن ہے جس کا پانی ہمہ وقت کھولتا رہتا ہو۔ ان کا جواب نفی میں تھا۔ بعد ازاں آندرے نے یہی سوال حکومتی اداروں اور تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں سے وابستہ سائنس دانوں اور انجینئروں کے سامنے رکھا۔ ان کا جواب بھی نفی میں تھا۔

آندرے کی ایک آنٹی اس دریا کا نظارہ کر چکی تھیں۔ وہ دشوار گزار راستہ طے کرتے ہوئے ان کے ساتھ وہاں پہنچا۔ اپنی آنکھوں سے ابلتے ہوئے دریا کا مشاہدہ کرنے کے بعد بالآخر اسے یقین کرنا پڑا کہ اپنے دادا، آنٹی اور دوسرے لوگوں کی زبانی اس نے جو کچھ سناتھا وہ سچ تھا۔

ماہر ارضیات کی حیثیت سے آندرے نے اس عجیب و غریب دریا پر تحقیق شروع کی تو پتا چلا کہ دریا کا پاٹ زیادہ سے زیادہ ۸۲ فٹ چوڑا اور زیادہ سے زیادہ گہرائی ۲۰ فٹ ہے۔ پانی کا درجہ حرارت اتنا زیادہ ہے کہ اس میں پتی ڈالیں تو چائے تیار ہوجائے گی۔ پانی کی گرمی کو جانچنے کے لیے آندرے نے اس میں ہاتھ ڈال دیا، مگر یہ عمل اسے بہت مہنگا پڑا۔ ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اس کا ہاتھ بری طرح متاثر ہوا تھا۔ آندرے کا کہنا تھا کہ دریا کے پانی میں کسی انسان کا زندہ رہنا ممکن نہیں۔ وہ چند سکنڈ میں ’ابل‘ جائے گا۔ دوران مشاہدہ اسے مینڈک اور کئی دوسرے جانوروں کی ابلی ہوئی لاشیں دکھائی دیں۔ کئی جانور اس کی آنکھوں کے سامنے دریا میں گرے اور تڑپتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔

ماہر ارضیات کی تحقیق سے ظاہر ہو اکہ گرم پانی کے کئی چشمے مل کر یہ دریا تشکیل دیتے ہیں، مگر اس کا درجہ حرارت گرم پانی کے عام چشموں کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر بڑھا ہوا ہے جو حیران کن ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
غزالہ عامر

Leave a Reply