غزل

کیا کریں توقع ہے روشنی سے وابستہ

روشنی تو خود بھی ہے تیرگی سے وابستہ

موت اک حقیقت ہے جانتے ہوئے بھی ہم

آرزوئیں رکھتے ہیں زندگی سے وابستہ

آنسوؤں کے پہلو میں قہقہے مچلتے ہیں

کیوں کہ غم ہمیشہ سے ہے خوشی سے وابستہ

کس لیے برا مانوں تیری تلخ گوئی کا

جانتا ہوں الفت ہے برہمی سے وابستہ

راحتوں کو دولت کے گھر میں ڈھونڈنے والو

ہے سکون کی دولت بندگی سے وابستہ

وہ سرور بخشا ہے تیرے غم کی چوٹوں نے

خود کو کر دیا ہم نے شاعری سے وابستہ

جان کر خموشی کو باپ نے رضا اس کی

کر دیا ہے بیٹی کو اجنبی سے وابستہ

شیئر کیجیے
Default image
سید حیدر رضا

Leave a Reply