تربیت اولاد، والدین کی اسلامی ذمے داریاں

حضرت سعید بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’کسی باپ نے اپنی اولاد کو جو کچھ دیا ہے، اس میں کوئی تحفہ اور عطیہ اس کی اچھی سیرت اور حسن ادب سے بہتر نہیں۔‘‘
اسلامی معاشرے کا سدھار اسی وقت ممکن ہے، جب ہم اسلامی اصولوں، قواعد، ضوابط اور حدود کی پاس داری کریں اور نئی نسل کی درست سمت میں راہ نمائی کرنے کا عزم کریں۔ کسی بھی قوم کا سرمایہ اس کے بچے ہوا کرتے ہیں اور والدین بچوں کے لیے نمونہ۔ انہی کی ابتدائی تعلیم و تربیت بچے کی زندگی پر اچھے یا برے اثرات مرتب کرتی ہے۔ لہٰذا والد کی اولین ترجیح یہ ہو کہ اولاد کے رگ و ریشے میں دین کی روح پھونک دیں، اب اس کے لیے بے حد ضروری ہے کہ باپ خود دینی صفات کا حامل ہوتا کہ اولاد کے لیے عملی نمونہ بن سکے۔
یاد رکھیے! اگر باپ کے اخلاق اعلیٰ ہوں گے، سچ بولتا ہوگا، نمازوں کا خصوصی اہتمام کرتا ہوگا، بری باتوں اور لغویات سے اجتناب کرتا ہوگا تو پھر انشاء اللہ بچہ خود بہ خود ایسا ہی طریقہ اور وضع حیات اختیا رکرے گا۔ اگر ہم حقیقتاً مسلمان باپ بننے کے خواہاں ہیں تو ہمیں ساقی کوثرؐ کا پیرو بننا ہوگا۔ صحابہ کرامؓ کی طرح اتباع سنت کا اہتمام کرنا ہوگا۔ اس کے نتیجے میں ہمیں صالح اولاد کی صورت میں مقصود و مطلوب ضرور حاصل ہوگا۔ ہمارے بچے رسولِ کریمؐ سے محبت کرنے والے بن جائیں گے، کامل مومن، داعی، اور محب دین و وطن بن جائیں گے۔
حضرت شیخ عبد الوہاب شعرانیؒ نے ’’لطائف المنن والاخلاق‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’اولاد کی اصلاح کے لیے سب سے زیادہ کارگر عمل یہ ہے کہ والدین ان کی دینی اصلاح کے لیے دعاؤں کا اہتمام کریں‘‘ ہم اولاد کے بگڑنے کا گلہ کرنے اور انہیں موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں جھولی پھیلا کر ان کی اصلاح کی دعا کریں اور قرآن و حدیث میں موجود فراست والی دعاؤں کے ذریعے اللہ جل شانہ سے مدد مانگیں تو کوئی وجہ نہیں کہ دعاؤں کو شرفِ قبولیت عطا نہ ہو۔
یہاں ان مواقع اور مقامات کا ذکر بھی کر دیا جائے، جہاں دعاؤں کے مقبول ہونے کا قوی امکان ہوا کرتا ہے۔
٭ رات کے پچھلے پہر (تہجد) یعنی آخری حصے میں ٭شب جمعہ ٭جمعے کے دن ٭شب قدر کی رات ٭اذان کے وقت ٭اذان و اقامت کے درمیان ٭حی علی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح کے بعد ٭اقامت کے وقت ٭اللہ کے راستے میں نکلنے کے بعد ٭فرض نمازوں کے بعد ٭ سجدے کی حالت میں ٭قرآن حکیم کی تلاوت اور ختم قرآن پاک کے وقت ٭عرفہ کے دن یعنی ذی الحجہ کو ٭رمضان المبارک میں افطار کے وقت ٭بارش کے وقت ٭زم زم کا پانی پیتے وقت اور مرغ کی آواز کے وقت۔
اللہ تعالیٰ کی ذات عالی شان پر بھروسا کرتے ہوئے دعاؤں کا اہتمام کیجیے، ہر حال میں نفع حاصل ہو کر رہے گا۔
حضرت احنف بن قیس تابعیؒ فرماتے ہیں کہ:
’’اولاد ہماری دلی آرزوؤں کا ثمرہ اور کمر کا ٹیک ہے۔ ہم اس کے لیے زمین کی طرح ہیں، جو نہایت ہی نرم اور بے ضرر ہے۔ ہمارا وجود اولاد کے لیے اس آسمان کی طرح ہے جو اس پر سایہ کیے ہوئے ہے۔ ہم اولاد کے سہارے بڑے بڑے کارنامے انجام دینے کی ہمت کرتے ہیں۔ لہٰذا اولاد اگر آپ سے کچھ مطالبہ کرے تو خوش دلی کے ساتھ اسے پورا کیجیے، اگر وہ غم زدہ ہو تو اس کا غم دور کیجیے، آپ دیکھیں گے کہ وہ اولاد آپ سے محبت کرے گی اور آپ کی کاوشوں کو سراہے گی۔ آپ کی خدمت کرے گی اور آپ کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کرے گی۔
یاد رکھیے! اولاد کی شرعی تربیت کرنا، ان سے محبت کرنا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا، ہر والد کی ذمے داری ہے۔ اس کا مکمل و جامع نمونہ سید الانبیاء محمد مصطفی کی ذات گرامی ہے۔ اگر ہم بہ حیثیت امتی، رسول کریمؐ کے ہر عمل کو جان سے عزیز رکھتے ہوئے اس کی پیروی کریں گے تو بارگاہِ الٰہی سے اجر عظیم عطا کیا جائے گا۔ پھر اپنی اور اولاد کی زندگی پرسکون اور خوش گوار کر پائیں گے۔
اولاد کی تربیت کے حوالے سے قرآن مجید میں ارشاد رب ذو الجلال ہے کہ ’’بیٹا! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، بے شک شرک کرنا بڑا بھاری ظلم ہے۔‘‘ (سورہ لقمان:13)
’’بیٹا نماز پڑھا کر اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور تجھ پر جو مصیبت واقع ہو، اس پر صبر کیا کر یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔‘‘ (سورہ لقمان)
قرآن مجید کی روشنی میں یہ بات عیاں ہوگئی کہ اولاد کو نرمی اور شفقت کے ساتھ ہر بات سمجھانی ہے تاکہ بات دل تک اثر کر سکے۔
وہی باپ ذی شعور ہے جو موقع کی مناسبت سے اولاد کو وعظ و نصیحت کرتا ہے کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ بسا اوقات بے وقت کی نصیحت اکتاہٹ کا سبب بن جاتی ہے اور بچوں پر اصلاحی بات کا خاطر خواہ اثر نہیں پڑتا۔
ذیل میں چند اوصاف کا ذکر ہے جو تربیت اولاد کے سلسلے میں ضروری ہیں:
اخلاص:یہ وہ بنیادی وصف ہے، جس کے بغیر کوئی نیکی کارگر اور نفع بخش نہیں ہوسکتی۔ باپ کی ذمے داری ہے کہ اولاد کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ کا رضا جو ہو اور ہر طرح کی مادی غرض کے بغیر اولاد کی تربیت کے لیے مثبت اقدامات کرے اور اولاد کے لیے سراپا نصیحت و خیر خواہی بن جائے۔ والد کا ہر قول اور ہر عمل درد و سوز میں ڈوبا ہوا ہو پھر کوئی وجہ نہیں کہ اولاد باپ کی آرزوؤں کو پورا کرنے والی نہ ہو۔
علم: باپ کے لیے ضروری ہے کہ اولاد کی تربیت کے قواعد اور حکیمانہ اصول، کتب احادیث اور دیگر اسلامی کتابوں سے مطالعے کے ذریعے سیکھے۔ اولاد کے لیے باپ نمونہ ہوتا ہے اور باپ میں اتنا شعور ضروری ہے کہ وہ جانتا ہو کہ بچے کے سامنے کن امور سے اجتناب کرنا ہے اور کون سا عمل بچے کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے اور یہ سب سنہرے اصول ہمیں علم دین کے ذریعے حاصل ہوں گے۔
صبر و تحمل:اولاد کے خوب صورت کردار کی حسین عمارت کی تکمیل میں والد کے تحمل کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ تربیت ایک نازک ترین فریضہ ہے جسے ایک صابر اور تحمل رکھنے والا باپ بہ خوبی ادا کرسکتا ہے، جب آپ اپنی اولاد کی معمولی اغلاط کو نظر انداز کریں گے تو یقینی طور پر اولاد کا دل باپ کے واعظ کی طرف مائل ہوگا اس کے لیے قرآن حمید میں ارشاد ربانی ہے کہ ’’اور غصہ کے ضبط کرنے والے اور لوگوں (کی تقصیرات) سے درگزر کرنے والے اور اللہ تعالیٰ ایسے نیکو کاروں کو (جن میں یہ خصال ہوں بہ وجہ اکمل) محبوب رکھتا ہے۔‘‘ (سورہ آل عمران)
یاد رکھیے! جو باپ بلند ہمتی سے کام لے گا، اولاد کے اچھے عمل پر دوام کی خوش خبری کے ساتھ داد و تحسین سے کام لے گا، تو اس کی اولاد ہر حال میں حوصلہ مند، نڈر، بے باک اور مثبت کام میں عمل کے حوالے سے پہل کرنے والی ہوگی اولاد کے ساتھ بے جا سخت رویہ ان کی بے راہ روی کا سبب بن سکتا ہے۔
حسن گفتار:اگر بہ حیثیت باپ ہم اس بات پر اس نتیجے کے خواہاں ہیں کہ ہماری اولاد ہمارے وعظ سے اکتاہٹ کا شکار نہ ہو، تو ہم پرلازم ہے کہ ہم مخاطب و طرز گفتگو میں شیریں اور خوش گوار طریقہ اپنائیں تاکہ ہماری ہر بات اولاد پر اثر انداز ہو، ہماری کوئی بات اس پر بار گراں نہ گزرے، جیسا ہم چاہیں وہ عین اسی طرح کرنے لگے، البتہ اس کے لیے ہر باپ کو رسول کریمؐ کے پاکیزہ اخلاق کو اپنانا ہوگا۔ تاکہ ہر عمل پر اجر اور اثر نصیب ہوسکے۔
حسن کردار: بچوں کو اچھائی کا عادی بنانے کے لیے باپ کو اچھائی کا نمونہ بننا ہے۔ بچے بری عادتوں کو کبھی نہیں اپنائیں گے اگر باپ برائیوں سے کنارہ کش رہتا ہوگا۔ در حقیقت باپ کا حسن کردار اولاد کے لیے ان مٹ مثال ہوا کرتا ہے، ہر باپ کے لیے اشد ضروری ہے کہ تقویٰ، صلہ رحمی و خوف الٰہی کے لیے زندگی گزارنے کی سعی کرے، والدین اپنی زندگی سیدنا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی جامع حیات طیبہ کی نقالی کرتے ہوئے گزارنے کا عزم و ارادہ کریں، انشاء اللہ تعالیٰ ہماری اولاد صراطِ مستقیم پر چلنے والی بنے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ جل شانہ ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائے۔ (آمین)عمال کریں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
خالد دانش

Leave a Reply