بچوں میں جرائم

اپنے بچے پر نظر رکھنا اور دیکھنا کہ وہ پڑھنے لکھنے میں کس قدر سنجیدہ ہے او ریہ کہ اس کے دوست احباب کس طرح کے ہیں اور ان کا اخلاق و کردار کیا ہے آپ کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔ یہ ذمہ داری ایسے وقت میں اور زیادہ بڑھ جاتی ہے جب اسکول محض تعلیم گاہ بن کر رہ گئے ہوں اور جہاں تربیت کے نام پر مغربی تہذیب پر مبنی اور مخرب اخلاق و کردار قدروں کو ان کے ذہنوں میں اتارا جا رہا ہو۔ جی ہاں یہ توجہ اس لیے دلائی جا رہی ہے کہ ملک ہی میں نہیں دنیا بھر میں نو عمروں کے درمیان جرائم کی طرف میلان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ملک اور ملک سے باہر کی دنیا میں جب آپ ان اعداد و شمار پر نظر ڈالیں گے جو اس ضمن میں سرکاری اور غیر سرکاری ادارے پیش کر رہے ہیں تو آپ کے ہوش اڑ جائیں گے۔ ویسے والدین کو اس طرف متوجہ کرنے کے لیے وہ واقعات ہی کافی ہیں جو آئے دن ملک کے اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ اس میں خدشہ اس بات کا بھی ہے کہ آپ کا بچہ مجرمانہ ذہنیت کے کسی بچے کی زیادتی کا شکار ہوجائے اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ برے اخلاق و کردار والے بچوں کے زیر اثر آکر خود اس طرح کی مجرمانہ حرکت کا ارتکاب کرے۔

شعور کی کمی اور ناپختگی، کچھ نیا تجربہ کرنے کا شوق اور غیر معمولی کام کرنے کی خواہش بعض اوقات نو عمروں کو غلط سمت میں بھی لے جاسکتی ہے۔ اس پر مستزاد معیار زندگی کو اٹھانے کا شوق اور دولت حاصل کرنے کی دھن، الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے نئے نئے جرائم کی تفصیلات تک اور بے ہودہ و فحش ویب سائٹس تک رسائی کے سبب موجودہ نئی نسل گویا ایسے دہانے پر کھڑی ہے کہ پاؤں پھسلا تو گئے دین و اخلاق سے۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نو عمروں کے جرائم میں تشویشناک طور پر اضافہ ہوا ہے اور اس اضافہ میں پسماندہ ہندوستان کے نوجوان ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ شہری ہندوستان کے نوجوان پیش پیش ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو نے انکشاف کیا ہے کہ مہاراشٹر میں قتل او راقدامِ قتل کے جرائم میں زیادہ تر ملوث لوگ اٹھارہ سال سے کم عمر کے تھے۔ جبکہ ریاست مہاراشٹر نو عمروں کے ذریعے انجام دیے گئے ریپ کے واقعات میں دوسرے نمبر پر ہے اور اس میدان میں مدھیہ پردیش سب سے آگے ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ مہاراشٹر میں رپورٹنگ کا نظام دوسری ریاستوں کے مقابلے زیادہ چست درست ہے اس لیے وہاں بہ ظاہر جرائم زیادہ محسوس کیے جاتے ہیں۔ اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دیگر ریاستوں میں جہاں اس قسم کے سنگین جرائم اور وہ بھی نو عمروں کے ذریعے، رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔

اسباب کی تلاش کی جائے تو ماہرین کی رائے میں مختلف اسباب نظر آتے ہیں:

’’کچھ نیا اور ’’تھرل‘‘ کرنے کی شدید خواہش انہیں اس قسم کے سنگین جرائم کی طرف لے جاتی ہے۔‘‘ یہ حقوق اطفال کے لیے کام کرنے والی یامینی ایبدے کا خیال ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں: مہاراشٹر وہ ریاست ہے جہاں انٹرنیٹ تک رسائی سب سے زیادہ ہے جو جرائم سے متعلق معلومات اور فحش مواد تک رسائی کا ذریعہ ہے اور یہ ان کے ذہنوں پر الٹا اثر کرتی ہے۔ یہ ان کے اندر نو عمری میں شدت پسندی یا ایگریشین کو بڑھاتا ہے، جس کے نتیجہ میں وہ قتل اور ریپ جیسے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔‘‘

یامنی ایبدے کہتی ہیں کہ یہ مجرم بچے اگرچہ علمی لیاقت کم رکھتے ہیں اور معلومات کے اعتبار سے کمزو رہوتے ہیں مگر وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہیں سزا نہیں ملے گی کیوں کہ وہ کم عمر (Juvenile) ہیں۔

جہاں نو عمروں کو سزا دلانے والے قانون کی خامیوں پر بحث ہوتی ہے اور اسے اس سلسلہ میں ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے وہیں نو عمروں سے متعلق سزا دلانے کے قانونی مراحل کو بھی لوگ اس کا سبب قرار دیتے ہیں۔ بھارتی علی جو اس میدان میں فعال ہیں ان کا خیال ہے کہ ’’ایسے بھی معاملے ہیں جہاں ٹرائل دس سال تک کھنچ جاتا ہے او ریہ ہمارے نظام کی کمزوری ہے۔‘‘ معاملوں کو حل کرنے کا تناسب بہت کم اور معلق رکھنے کا تناسب بہت زیادہ ہے۔

اب جرائم کے سلسلے میں ایک اور روایت پھیل رہی ہے کہ جرائم کے مافیا بڑے بڑے جرائم کو انجام دینے کے لیے بچوں کا استعمال کرتے ہیں اور اس کے پیچھے جو سبب ہے وہ یہ ہے کہ پکڑے جانے کی صورت میں ان پر آنچ نہیں آئے گی اور بچے تو نو عمری کے سبب چھوٹ جائیں گے۔ لوٹ اور ڈاکہ زنی کے واقعات میں یہ چیز شہروں میں اکثر دیکھنے میں آتی ہے، جہاں بڑی عمر کے لوگ باہر کھڑے چوکیداری کرتے ہیں اور نو عمر بچوں کو اندر بھیج دیا جاتا ہے اور باہر سے کسی بھی خطرہ کی صورت میں محفوظ طور پر وہ تو فرار ہو جاتے ہیں اور بچے پکڑ میں آتے ہیں جو بعد میں نو عمری کے سبب چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ یہ ایک استحصال کی شکل ہے۔

جو اسباب اس ضمن میں ماہرین گنواتے ہیں ان کی صحت سے انکار کیے بنا پورے شرح صدر کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان اسباب کی حیثیت محض ضمنی ہے۔ اگر انٹرنیٹ ختم کر دیا جائے تو کیا جرائم نہیں ہوں گے اور کیا جب انٹرنیٹ نہیں تھا اس وقت یہ جرائم نہیں ہوتے تھے۔ اسی طرح کیا نو عمروں کو سزا دلانے کے قانون میں تبدیلیاں کر کے ان جرائم کو ختم کیا جاسکتا ہے جب کہ قانون تو پہلے سے موجود ہے۔ پھر غور کیجیے کہ اسباب کیا ہیں اور بنیادیں اور جڑیں کہاں سے تقویت پا رہی ہیں۔

عمر کے جس مرحلے میں یہ جرائم انجام دیے جاتے ہیں وہ شعوری پختگی کی عمر نہیں ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مرحلے میں بچے کو خصوصی رہ نمائی، توجہ اور نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی توجہ، نگرانی اور رہ نمائی اس مرحلے میں اسے بھٹکنے اور پھسلنے سے بچا سکتی ہے۔ یہ کام ایک مقام پر تو والدین انجام دینے کے لیے ذمہ دار ہیں اور دوسری جگہ اسکول اور تعلیم گاہ اور ہمارے عہد کی بدقسمتی یہ ہے کہ اسکول اور تعلیم گاہیں محض تعلیم گاہیں ہیں وہاں تربیت کا کوئی تصور سرے سے موجود ہی نہیں اور وہاں جو کچھ جس انداز میں سکھایا جاتا ہے وہ خود اس نسل کو اسی طرف دھکیلنے کا سبب بنتا ہے، جس سے نکالنے کی ہم فکر کر رہے ہیں۔ رہے والدین تو وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیج کر مطمئن ہو جاتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ اسکول میں ان کے بچے کو تعلیم و تربیت مل رہی ہے۔ موجودہ دور کے والدین کا معاملہ تو یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں سے، ان کے مزاج سے اور ان کی پسندو نا پسند اور حلقۂ احباب تک سے ناواقف ہوتے ہیں۔ انہیں یہ خبر تک نہیں ہوتی کہ ان کا بچہ کیا کر رہا ہے، کہاں جا رہا ہے اور کن کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔ یہ اصل خرابی کی جڑ ہے۔

دنیا میں بے شمار چیزیں موجود ہیں۔ ہمارے کچن میں چھری ہے جس سے سبزی کاٹی جاتی ہے۔ کچھ واقعات ایسے بھی ہیں گھر کی اسی چھری سے ہاتھوں کی نسیں کاٹ کر خود کشی کرلی گئی۔ وہ استعمال کی ایک چیز ہے مگر ہم بچوں کو اس کا صحیح استعمال سکھاتے ہیں او روہ بھی اس وقت جب وہ سمجھ دار ہوجاتے ہیں جب کہ چند ماہ کا بچہ اگر اسی چھری کو ہاتھ میں لے لے تو ہم دوڑ کر اس سے چھین لیتے ہیں خواہ وہ کتنا ہی روئے چلائے۔

مجرمین کی تفصیلات (عمر)

لڑکے لڑکیاں

6-8 سال 4.4 10.6

9-11 10.0 20.6

12-14 37.9 38.3

15-17 47.7 30.4

شناخت

خاندان والے 26.4 24.9

جانے پہچانے 63.8 57.0

اجنبی 2.6 0.6

ان جان 8.3 9.7

ٹکنا لوجی کا درست استعمال اور مناسب وقت پر استعمال سکھانا والدین اور اسکول دونوں کی ذمہ داری ہے اور دونوں ہی اپنی ذمہ داری کے انجام دینے میں کوتاہ اور لاپرواہ ہیں۔ یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ایبل کمپنی کے بانی جنہوں نے پوری دنیا کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ اور موبائل فون پکڑا کر دنیا کو یکسر بدل ڈالا ان کے گھر میں ان کے بچوں کو ان چیزوں کے استعمال کی اجازت نہیں تھی۔ شاید اس وجہ سے کہ وہ یہ جانتے تھے کہ ان کے بچے ابھی عمر کے اس مرحلے میں نہیں آ ئے جہاں پہنچ کر انہیں ان چیزوں کا استعمال کرنا چاہیے یا وہ یہ سمجھتے ہوں کہ یہ چیز ان کے لیے فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب سن سکتی ہے۔

اس بات کے تذکرے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کے اندر اچھے اور برے، صحیح اور غلط کی شناخت کو اتنا پختہ بنانا چاہیے کہ وہ کبھی بھی کسی ایسی چیز سے نقصان نہ اٹھائیں جو بہ ظاہر اچھی نظر آتی ہو مگر حقیقت میں وہ نقصان دہ اور تباہ کن ہو۔

نئی نسل کو اس تباہی سے بچانے کی واحد شکل یہ ہے کہ ہم خیر اور شر کو پرکھنے کی کسوٹی ان کے ذہن و فکر کو دے دیں۔ اس کے لیے تربیت اور نگرانی کی ضرورت ہے۔ فکری رہ نمائی اور دینی تعلیم کی ضرورت ہے۔ تب کہیں جاکر ہم چین کی نیند سو سکیں گے۔ بلکہ شاید پھر بھی نہیں کہ دنیا ہر لمحہ بدل رہی ہے اور ہر روز نئے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply