کام والیوں کو کیسے سدھارا جائے؟

سعودی عرب کے ممتاز اخبار ’عرب نیوز‘ میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق یہاں ایک سال کے دوران 86 ہزار سے زائد کام والیوں نے اپنے مالکوں کے ہاں مزید کام کرنے سے انکار کر دیا۔ ان میں بڑی تعداد غیر ملکیوں کی تھی۔ یہ خبر سعودی عرب کی شوریٰ کونسل (مرکزی کابینہ) کی نظروں سے چھپی نہ رہ سکی، کونسل نے اس کا نوٹس لیا، ایک کمیٹی قائم کی کہ کام کرنے والیوں کی اس قدر بڑی تعداد انکار کرنے پر مجبور کیوں ہوئی۔ اخبار نے ایک مقامی رہ نما کے خیالات بھی اس خبر میں شامل کیے جس نے تین اسباب بیان کیے۔

اول: ملازماؤں کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جاتی۔

دوم: انھیں ناکافی اور غیر معیاری کھانا دیا جاتا ہے۔

سوم: ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں دس کروڑ سے زائد افراد دوسروں کے گھروں میں کام کرتے ہیں، جن میں 83 فیصد خواتین ہوتی ہیں۔

ہندوستان اس موضوع پر اعداد اور شمار جمع کرنے کا رواج نہیں ہے تاہم یہاں گھروں میں کام کرنے والیوں کی شرح 90 لاکھ سے زائد ہے تاہم مسائل وہی ہیں جو سعودی عرب میں 86 ہزار کام کرنے والیوں کے تھے۔ آپ کسی بھی کام کرنے والی سے استفسار کریں تو وہ بھی کم تنخواہ یا دیر سے تنخواہ ملنے کی شکایت کرے گی، وہ بھی اپنی مالکہ کے مظالم کی ایک طویل فہرست پڑھ کر سنائے گی۔ بلاشبہ آج کل ہمارے اخبارات میں آئے روز ایسی لرزہ خیز کہانیاں شائع ہوتی رہتی ہیں، جس میں گھروں میں کام کرنے والی بالخصوص کم عمر بچیوں کے ساتھ درد ناک سلوک کا احوال بیان کیا جاتا ہے۔

دوسری طرف مالکہ سے پوچھا جائے تو وہ کام کرنے والی کی ہزار شکایتوں کی فہرست پیش کردیتی ہے۔ یوں بعض لوگوں کے خیال میں فریقین کے مابین معاملہ ساس بہو کے جھگڑے جیسا ہے جو ازل سے جاری ہے۔ تاہم ہمارے خیال میں یہ درست سوچ نہیں ہے۔ ساس، بہو کا تعلق بھی خوش گوار ہو سکتا ہے اور مالکہ اور کام کرنے والی کا بھی۔

ہر گھر والی کو یہ بات ملحوظ خاطر رکھنی چاہیے کہ اس تیز ترین زندگی نے گھر کی خواتین کی ذمہ داریوں میں خاصا اضافہ کر دیا ہے۔ نتیجتاً انھیں اپنی اضافی ذمہ داریوں کے باعث گھریلو امور میں کسی مددگار کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اسے دوسرے لفظوں میں کام والی بھی کہا جاتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ایک اچھی، دیانت دار اور ذمہ دار مددگار ایک نعمت ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر گھر والیاں اس نعمت کی قدر نہیں کرتیں۔ کبھی ان خواتین سے اس نعمت کی بابت سوال کیجیے جو بیاہ کر بیرون ملک چلی جاتی ہیں یا پھر ایسے گھروں میں بیاہی جاتی ہیں جہاں کام والیاں رکھنے کا رواج نہیں ہوتا۔ ایسی خواتین کو چھوٹے بڑے سب کام خود ہی کرنا پڑتے ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے ، ہم میں سے اکثر گھر والیوں کو شاید یہ معلوم نہیں کہ یہ ہماری معاون، ماسیاں، بھی گوشت پوست کی بنی انسان ہوتی ہیں، ہمارے جیسی عورتیں ہی ہوتی ہیں۔ صرف ایک گھر سنبھالنا بڑی اور کل وقتی ذمہ داری ہوتی ہے جب کہ یہ کام والیاں ایک ہی دن میں کئی گھروں کا کام نمٹاتی ہیں۔ سارے گھر کی صفائی، سب کپڑوں کی دھلائی اور استری، سب برتنوں کی صفائی غرض سارے کا سارا کام کئی گھروں میں نپٹاتی ہیں۔ ہم گھر والیاں ان کام والیوں کو کوئی دیو ہیکل مشین سمجھ لیتی ہیں، ان کے کام کے بارمیں اضافہ کرتی چلی جاتی ہیں۔ کیا ہم میں سے کوئی گھر والی ایک دن میں اتنا کام کرنے کی ہمت رکھتی ہے؟

پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ کام والیاں، معاشرے کے تمام بحرانوں، مشکلات اور مصائب سے ہم سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ انھیں معاشرے کے غیر متوازن رویوں کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں طبقاتی نظام ہو اور اسے ختم کرنے کی کوشش بھی نہ ہو، جہاں بے روزگاری کی شرح آسمانوں سے باتیں کرتی ہو، جہاں کم اجرت کے مسائل ہوں، وہاں پریشان حال مردوں کو اپنی مردانگی جھاڑنے کے لیے بھی صرف یہی بے بس عورت نظر آتی ہے اور اس کی عزتِ نفس کو دھکے دے جاتے ہیں۔ گھر سے اپنے معاش کے لیے نکلی ان عورتوں کو راستے بھر میں بے شمار پریشانیوں کا سامنا رہتا ہے، ہر کوئی انھیں خریدا ہوا مال سمجھتا ہے۔ معاش کے لیے جس گھر میں جاتی ہیں، وہاں بھی انھیں ہتک آمیز برتاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اللہ کے دین کا کمال ہے کہ یہاں غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کو آخرت میں نجات کا باعث قرار دیا گیا۔ یہاں مویشیوں کے ساتھ بھی انسانوں جیسا سلوک کرنے کا حکم دیا کہ انھیں پیٹ بھر کر کھلایا جائے، مارنے سے گریز کیا جائے، جو دین مویشیوں کے ساتھ بہترین حسن سلوک کا حکم دے رہا ہے وہ انسانوں کی بابت کس قدر زیادہ شاندار سلوک کی ہدایت کرتا ہوگا، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

عورت ہونے کے ناتے یہ کام والیاں، ہم خواتین کی زیادہ اور مکمل توجہ کی مستحق ہیں مگر ہمارا رویہ ان کے ساتھ صرف مالکانہ ہوتا ہے او رہم ان کے مسائل اور معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے نہ ہی ہم ان کے اور ان کے بچوں کے بہتر مستقبل کا خیال ذہن میں لاتے ہیں جو ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ پڑوسی ملک کی ایک خاتون ڈاکٹر کوثر فردوس نے اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے ایک رفاہی تنظیم ’ماسی پراجیکٹ‘ قائم کی ہے جہاں انھیں قرآن و حدیث کی تعلیم، اچھے آداب اور لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا ہے، ان کے بچوں کو تعلیمی سہولیات اور ان کے شوہروں کو چھوٹے بلا سود قرضے دینے کا آغاز کیا گیا ہے۔ کوثر فردوس کہتی ہیں کہ چند ماہ کے دوران میں ہی نہ صرف ان خواتین کے رویے اور اخلاق و معاملات میں بہتری دیکھی گئی ہے بلکہ ان کے بچوں میں بھی مثبت تبدیلی پیدا ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم ایک کام والی کی اچھی تربیت کرلیں تو اس کے بچوں تک مثبت اثرات منتقل ہوں گے، جس سے معاشرے میں ایک اچھے خاندان کا اضافہ ہوگا۔

٭ اگر کام والیوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیا جائے، انھیں قرآن باترجمہ سے پڑھایا اور نماز یاد کرائی جائے تو ہم دیکھیں گی کہ کام والی کے زندگی میں ایک بڑی مثبت تبدیلی پیدا ہوگی، جس کے نتیجے میں فریقین کا باہمی تعلق خوشگوار ہوگا، باہم اعتماد قائم ہوگا، نتیجتاً گھر والی کو ذہنی آسودگی حاصل ہوگی۔

٭ کام والی کو اپنی نگرانی میں کام کرائیں، کبھی مردوں کے سپرد نہ کریں چاہے وہ بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ معاشرے میں بڑھتے میڈیا کے منفی کردار اور دیگر اثرات کے باعث ہمارے گھر کے مرد کسی آزمائش کا شکار ہوسکتے ہیں، نتیجتاً سارا گھرانہ کسی بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔

٭ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے وصال کے وقت دو نصیحتیں فرمائیں، ایک نماز کی پابندی اور دوسرا ملازموں سے حسن سلوک ۔ اسلامی تعلیمات یہ ہیں کہ انھیں ساتھ بٹھا کر کھلایا جائے، انھیں بھی ویسا ہی کپڑا اوڑھنے، پہننے کو دیا جائے جیسا ہم خود اوڑھتے پہنتے ہیں، انہیں اچھی اور قابل استعمال اشیاء دی جائیں، ان کے بچوں کا خیال رکھا جائے، خوشی اور غمی کے مواقع پر ان سے اپنائیت کا ثبوت دیا جائے، بیمار ہوں تو ان کی تیمار داری کی جائے اور ان کے گھریلو امور میں ہاتھ بٹایا جائے۔ ان سب کاموں سے گھر والوں اور کام والیوں کے درمیان اعتماد اور خیر خواہی کا جذبہ پیدا اور مضبوط ہوگا۔

ہمارے حسن سلوک کے سب سے پہلے حق دار ہمارے گھر والے اور یہی ملازمین ہیں۔ آپ ان سے شفقت اور اپنائیت کا معاملہ کیجیے، وہ آپ سے محبت اور احترام کا برتاؤ کریں گے۔ نتیجتاً ان کی زندگی بھی اچھی اور آپ کی زندگی بھی پرسکون، مطمئن اور بے مثال ہوگی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شازیہ عبد القادر

Leave a Reply