بچے کی غذائی عادات کیسے سدھاریں!

بچوں کا اسکول جانا ہو یا کہیں گھومنے پھرنے، انہیں بہلانے یا کسی ضد سے توجہ ہٹانی ہو تو بچے کو کوئی چیز لے کر دینا لازمی سمجھ لیا گیا ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ شیر خوار بچوں کو ہی مائیں ٹافی، چاکلیٹ اور بسکٹ کی طرف راغب کرنے لگتی ہیں، بچے جلد ہی اس کے عادی ہوجاتے ہیں اور گھر کی بنی ہوئی اشیا بازار کی ان چیزوں کے مقابلے میں بے ذائقہ محسوس ہونے لگتی ہیں اور بچوں کی ضد اور رونے سے تنگ آکر مائیں کبھی خوشی سے اور کبھی بے دلی سے یہ چیز بچوں کو فراہم کر ہی دیتی ہیں، پھر آئے دن بچوں کے پیٹ خراب رہنا، سینہ کی خرخراہٹ، دانتوں کے مسائل اور پیٹ میں کیڑے جیسی شکایات عام ہو جاتی ہیں اور والدین بچوں کی ان بیماریوں کی اصل وجوہات سے غافل ہوتے ہیں۔

پہلے مائیں اپنے بچوں کو گھر کی بنی ہوئی اشیا بنا کر دیتی تھیں اور بچے باہر کی چیزوں پر اتنا انحصار نہیں کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یوں محسوس ہوتا ہے کہ گھر میں بچوں کے لیے چیزیں بنانے کا رجحان ختم ہی ہوگیا ہے۔ بازار سے بچوں کے کھانے کے تیار لوازمات خریدے جانے لگے۔ زیادہ سے زیادہ گرم کریں یا تل لیں اور یہ کھانے کے لیے تیار ہیں۔

ایک اور مسئلہ بے وقت اس طرح کی چیزیں دینے سے ان کی غذا کے متاثر ہونے کا بھی سامنے آیا ہے۔ ہم بچوں کو چیز دینے سے یکسر منع نہیں کرتے لیکن اگر احتیاط کریں تو آپ او رآپ کا بچہ بہت سی پریشانیوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ اعتدال میں رہ کر ہی ہر شے کا اختیار کرنا بہترین لائحہ عمل ہے۔

فاسٹ فوڈ، میٹھی اشیا اور سافٹ ڈرنک نے بچوں میں موٹاپے، ہڈیوں کے بھربھرے پن (یعنی کیلشیم کی شدید کمی) اور دانتوں کی بیماریوں کو بہت زیادہ عام کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں بچوں میں بھی ان چیزوں سے متعلق آگاہی پیدا کرنی چاہیے۔

صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے پہلے بچوں کو دانتوں کی صفائی پر آمادہ کریں۔ نمک ملے نیم گرم پانی سے غرارے کروائیں۔ معیاری ٹوتھ برش استعمال کریں اور خراب ہونے پر برش تبدیل کرلیں۔ بچے کو کھانے سے ایک گھنٹے پہلے کوئی چیز نہ دیں۔ اگر وہ ضد کرے تو کچی سبزیاں یعنی کھیرا، گاجر، ٹماٹر، ابلے ہوئے مٹروغیرہ دیں تاکہ اس کو ان سے غذائیت میسر آئے، پھر چاہے بچہ کھانا تھوڑا کھالے، کوئی حرج کی بات نہیں۔ کیوں کہ وہ پہلے ہی سلاد کی صورت میں اپنی غذائیت کا سامان کر چکا ہے۔ شام میں اکثر مائیں بچوں کو چائے بسکٹ، پاپے اور ختائیاں وغیرہ دیتی ہیں، اس کے بجائے موسم کے پھل دینا زیادہ مفید ثابت ہوسکتا ہے، بچوں کو غذائیت سے بھرپور چیزوں کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ماؤں کو دقت تو ضرور ہوگی مگر اس کے نتیجے میں نہ صرف آپ کے بچے کی صحت اچھی ہوگی بلکہ آپ کے اخراجات پر بھی خاطر خواہ مثبت اثرہوگا۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
اہلیہ محمد فیصل

Leave a Reply