اچھے شہری اور اچھے انسان کا فرق

اسلام فی الحقیقت تربیت سے عبارت ہے اسے خارجی دنیا میں پسندیدہ اور نگاہوں کو لبھانے والی شخصیت اسی وقت ملتی ہے جب وہ سماج کے افراد کی کتاب و سنت میں پائی جانے والی، آسمان سے نازل شدہ قدروں اور اصولوں کے مطابق تربیت کرتا ہے۔ جب تک یہ اقدار اور اصول کتاب و سنت میں ہوتے ہیں تب تک یہ فطری شعار اور اقدار کی حیثیت رکھتے ہیں یہاں تک کہ زمین پر چلتی پھرتی زندگی میں انھیں سمو دیا جاتا ہے۔ اور اس کا راستہ تربیت ہے۔

مکہ اور مدینہ میں دعوت کے ساتھ ساتھ اس تربیت کے کام کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھرپور کوشش کی۔ آپ نے صرف اتنا کہہ دینے پر بس نہیں کیا کہ ’’لوگو! اللہ تمہیں یہ حکم دیتا ہے۔‘‘ فلاں کام کے لیے بلاتا ہے‘‘ بلکہ آپ نے ایک گروہ کی تربیت پر لمبی مدت تک بھرپور کوشش کی اور آپ کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ یہ گروہ ان اسلامی اصولوں اور قدروں کا لوگوں کی نگاہوں کے سامنے عملی ترجمان بن گیا، اسی کے ساتھ ساتھ آپ نے اس امت کے اندر یہ پختہ یقین پیدا کیا کہ جب تک لوگوں کی اسلامی تربیت نہیں کی جائے گی اس وقت تک اس عالم آب و گل میں اسلام اپنی پسندیدہ شکل میں نظر نہیں آسکتا۔ تربیت کے بغیر حقیقی زندگی سے اس کا کوئی ربط نہیں رہے گا اور یہ نظریاتی شعار بن کر رہ جائے گا۔

تربیت کا یہ راستہ جسے اسلام نے طے کیا ہے بہت بڑا راستہ ہے۔ اس اسلامی تربیت کا مقصد، اگر ہم مجمل طور سے اسے بیان کرنا چاہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں۔ ’’صالح انسان‘‘ کا تیا رکرنا۔ اسلامی تربیت کا یہ مقصد متعین مقصد ہے۔ اپنے اس مقصد کے لحاظ سے اسلام دیگر تمام نظامہائے تربیت سے الگ ہے۔ دوسرے تمام نظامہائے حیات اپنے پیش نظر نقطہ میں اپنے تربیتی مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کو اچھا ’’شہری‘‘ بنانا ان کی تربیت کا مقصد ہے۔ لیکن اسلامی تربیت کا مقصد اچھے انسان تیا رکرنا ہے۔ شروع شروع میں تو ان دونوں باتوں میں ’’اچھے شہری‘‘ اور ’’اچھے انسان‘‘ میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ ظاہر ہے کہ جو اچھا شہری ہوگا تو وہ اچھا انسان بھی ہوگا۔

لیکن حقیقت میں یہ ایک وہم ہے۔ صداقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس دور کے نظاموں پر یا تاریخی دور کے کسی وضعی نظام پر نگاہ ڈالیں تو ’’اچھے شہری‘‘ اور اچھے انسان کا فرق واضح ہوکر سامنے آجائے گا۔ دوسری عالمی جنگ سے پہلے — انگریزی تربیت— شاید مثالی تربیت تھی۔ اس لیے کہ اسلام جس توازن کو پیدا کرنا چاہتا ہے یہ اس سے قریب تر تھی۔ وہ تمام وضعی نظام زندگی جو اپنے تربیتی نظام سے لوگوں کو اچھا شہری بنانا چاہتے ہیں، ان کے مقابلے میں یہ تربیت مثالی تھی، لیکن اس سے جو ’’اچھے شہری‘‘ تیار ہوئے، آئیے ان پر بھی ایک نگاہ ڈال لیں اور اسلامی معیار کو سامنے رکھ کر دیکھیں کہ یہ اچھے شہری، اچھے انسان سے کتنے قریب یا دور تھے۔

دوسری جنگ عظیم سے پہلے جب انگریزی تربیت اپنے عروج پر تھی اور وہ اس انسانی کرہ پر اچھے مثالی شہری تیار کرتی تھی، تو ان اچھے شہریوں کا دوسرے انسانوں کے ساتھ کیا سلوک تھا؟ جب یہ برطانوی جزیروں سے نکل کر دنیا کے دوسرے حصوں میں حاکم بن کر جاتے تھے تو ان کا برتاؤ وہاں کے لوگوں کے ساتھ کیسا ہوتا تھا؟ اچھے برطانوی شہری ہندوستان میں کیسے نظر آتے تھے؟ سوڈان میں اور مصر میں ان کی کیا حقیقت تھی؟ نو آبادیوں میں پہنچ کر وہ کیسے سلوک کا مظاہرہ کرتے تھے؟ ان کا وہ اچھا اخلاق کہاں چلا گیا تھا، جس کا وہ برطانوی جزیروں میں مظاہرہ کرتے تھے۔ ان کا اعلیٰ کردار اور ان کی امانت کہاں چلی جاتی تھی؟ان کا اعلیٰ اخلاق گم ہو جاتا تھا؟ اسی پر تو ان کی تربیت ہوئی تھی! کیا برطانیہ سے باہر نکلنے کے بعد یہ سب کچھ بدل جاتا تھا۔

میری رائے تو یہ ہے کہ ان کے کردار اور اخلاق میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تھی۔ بلکہ جس اخلاق و کردار کا وہ مظاہرہ کرتے تھے اسی کی انہیں تربیت دی گئی تھی۔ انہیں بندگیِ رب کی تربیت نہیں دی گئی تھی، نہ ان کی تربیت کے لیے کوئی ایسی انسانی بنیاد فراہم کی گئی تھی، جس میں ہر انسان کا احترام انسان ہونے کی حیثیت سے کیا جاتا ہو۔ ان کی تربیت کے لیے ایک نئے بت کی بندگی کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ اس بت کا نام ’’برطانیہ عظمیٰ‘‘ تھا۔ یہ جب برطانیہ میں رہتے تو اپنے اچھے اخلاق سے اسی بت کے مفاد میں سرگرم رہتے۔ اور جب یہ نو آبادیوں میں پہنچتے تھے تب بھی ان کی سرگرمیاں اسی بت کے مفاد میں ہوتی تھیں۔ البتہ سرگرمیوں کا راستہ بدل جاتا تھا۔ اسی بت کے مفاد میں یہ لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کرتے تھے۔ لوگوں کی جان و مال عزت و آبرو کو حلال قرار دے دیتے تھے۔ نو آبادیوں میں ان کی یہ سرگرمیاں ان کے مزاج سے ہم آہنگ تھیں۔ برطانیہ میں اسی کی انھیں تربیت دی گئی تھی۔ باہر پہنچ کر ان کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آجاتی تھی۔

صحرائے اعظم میں برطانیہ اور جرمنی کے درمیان طویل معرکہ جاری تھا۔ اس معرکہ میں بالآخر برطانیہ کو کامیابی حاصل ہوئی۔

جرمن فوج نے چاروں طرف بارودی سرنگیں بچھا رکھی تھیں۔ لیکن جب حالات سے مجبور ہوکر جرمن فوج کو پسپائی اختیا رکرنی پڑی تو فاتح فوج کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے لیے بارودی سرنگوں کو ان لوگوں نے جوں کا توں چھوڑ دیا۔ صحرا میں یہ عام طریقہ ہے کہ ایسی بارودی سرنگوں کو برباد کرنے کے سلسلے میں اونٹوں اور گدھوں سے کام لیا جاتا ہے۔ جن علاقوں میں یہ سرنگیں ہوتی ہیں ان علاقوں میں ان جانوروں کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور ان کے پاؤں کی ٹھوکروں سے سرنگوں کی بڑی تعداد پھٹ کر ضائع ہو جاتی ہے اور پھر جب فاتح فوج اس علاقہ میں داخل ہوتی ہے تو اسے کم سے کم نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ لیکن اس بار معرکے میں سرنگوں والے علاقے میں گدھوں اور اونٹوں کے بجائے ہندوستانی فوج کو داخل ہونے کا حکم دیا گیا۔ اس حکم کا سبب کیا تھا یہ مجھے نہیں معلوم! لیکن یہ بات تو معلوم ہے کہ ہندوستانی فوج کو سنگین کی نوک پر اس علاقے میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا۔ فوج کو اس بات کا علم تھا کہ یہ سرنگوں والا علاقہ ہے۔ اس کے سامنے بھی موت تھی، بارودی سرنگوں کی شکل میں اور پیچھے بھی موت تھی، برطانوی گولیوں کی شکل میں اور پھر برطانوی فوج اس علاقے میں داخل ہوگئی۔ برطانوی نشریہ میں کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا:

ہم جیت گئے، ہم طبرق پر قابض ہوگئے، اس کامیابی کے لیے ہمیں بہت معمولی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

اس اعلان کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت اپنی جگہ پر ہے کہ سرنگوں والے خطہ میں داخل ہونے والی ہندوستانی فوج پوری کی پوری تباہ ہوگئی۔

یہ ہے ایک نمونہ اس ’’اچھے شہری‘‘ کا جس کی تربیت کے لیے برطانیہ کی بندگی کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ اسی بت کی بندگی میں لگا رہتا تھا۔ برطانیہ کے اندر یہ اپنے اعلیٰ اخلاق سے اس کی خدمت کرتا۔ باہر پہنچ کر وہ اپنے گھناؤنے اخلاق سے اسی کی خدمت میں لگا رہتا۔ اس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں ہوتی تھی۔

اب رہا دوسرا حادثہ — تو اس کا تعلق ایک تصویر سے ہے۔ اس تصویر میں ہندوستان میں مقیم ایک برطانوی فوجی کو دکھایا گیا ہے۔ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو رہا ہے لیکن گھوڑے کی پیٹھ پر پہنچنے کے لیے رکاب سے مدد لینے کے بجائے وہ اپنے ایک ہندوستانی انسانی بھائی کی پیٹھ پر پاؤں رکھ کر گھوڑے پر سوار ہو رہا ہے۔

ایک اچھے شہری اور ایک اچھے انسان میں جو فرق ہوتا ہے ان دونوں مثالوں سے وہ پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔ اسلام اپنی تربیت سے انسان کو اچھا شہری بنانے کے بجائے ایسا صالح انسان بناتا ہے جو انسانوں کے ساتھ انسانیت کا سلوک کرتا ہے۔ صالح انسان کی سرگرمیوں کا ہدف یہ ہوتا ہے کہ دوسرے انسان بھی اپنی اس بہترین ساخت کو پالیں جس پر اللہ نے انہیں پیدا کیا۔

ترجمہ: ہم نے انسان کو بہت خوب صورت سانچے میں ڈھالا ہے۔ پھر ہم اس کو پستی کی حالت والوں سے بھی پست کردیتے ہیں۔ لیکن جو لوگ ایمان لائے جنہوں نے نیک اعمال کیے۔‘‘ (التین)

ایمان اس کا ہدف ہوتا ہے اور وہ کوشش کرتا ہے کہ انسان اپنی بہترین ساخت پر قائم رہے۔ اسلام اپنی تربیت سے جو انسان صالح تیار کرتا ہے وہ علاقائی انسان نہیں ہوتا ہے۔ اور نہ اس کے اعلیٰ اخلاق و اقدار کا تعلق کسی خاص علاقے سے ہوتا ہے۔ وہ جہاں کہیں بھی ہوتا ہے اس کا اعلیٰ کردار اور و اخلاق اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ غیر مسلم معاشرے میں بھی اس کا وہی اخلاق ہوتا ہے جو مسلم معاشرے میں ہوتا ہے۔ تمام انسانوں کے ساتھ اس کا معاملہ یکساں ہوتا ہے۔

بطور مثال کے ہم ایک تاریخی حقیقت کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ پورے وسطی افریقہ میں، ایشیا میں، جنوت مشرقی ایشیا میں اسلام بغیر کسی جنگ کے پھیلتا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ ان علاقوں میں اسلام کیسے پھیلا؟ کس نے اس کی اشاعت کی؟ ہم کہتے ہیں کہ مبلغین نے یہ کام انجام دیا۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ اسلام کی اشاعت میں مبلغین کا بھی بڑا حصہ ہے لیکن اسلام کی اشاعت میں تاجروں کا بہت بڑا احسان ہے۔ ان تاجروں میں بہت بڑی تعداد حضرمی تاجروں کی تھی۔ یہ جزیرۃ العرب کے باشندے تھے۔ یہ دنیا کے مختلف ملکوں میں سفر کرتے رہتے تھے۔ ان کے سفر کا مقصد دین کی تبلیغ و اشاعت نہیں تھا۔ رہی یہ بات کہ اسلام کی اشاعت کیسے ہو جاتی تھی، یہ دعوت و تبلیغ کے لیے تو جاتے نہیں تھے، یہ تو اپنے کاروبار کے لیے سرگرم سفر رہتے تھے۔ تو یہ بات صحیح ہے۔ لیکن ان خطوں کے باشندوں نے جب ان کے اچھے اخلاق کو دیکھا۔ معاملات میں ستھرائی اور ایمان داری کو دیکھا، تو انہیں اسلامی تربیت کے آثار نظر آگئے اور اسی چیز نے انہیں اسلام تک پہنچا دیا۔ یہ لوگ ان تاجروں کو، ان کے اخلاق اور ان کی امانت و دیانت کو دیکھ کر کہتے تھے ’’جس دین نے انسانوں کو ایسا اچھا اور اعلیٰ انسان بنایا وہ دین اچھا دین ہے۔ ہمیں اس دین کو اپنانا چاہیے۔ اس طرح ان خطوں میں تاجروں کے پیچھے آہستہ آہستہ اسلام پھیلتا چلا گیا۔ (المجتمع سے ترجمہ)lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد قطبؒ

Leave a Reply