معذور افراد کے حقوق

رب کائنات نے جتنی مخلوقات کو وجود بخشا، سب سے افضل اور مکرم انسان کو بنایا ہے۔ ارشادِ ربانی:

’’ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔‘‘ (التین:۴)

’’اور یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی۔‘‘ (بنی اسرائیل:۷۰)

دین اسلام ہمیں انسانیت کی تکریم کا جو درس دیتا ہے وہ رنگ و نسل اور مذہب سے بھی بلند ہے۔ انسان کا احترام اس کے رنگ، اس کی نسل، خاندان یا مذہب کے باعث نہیں بلکہ انسانیت کا احترام اس کے انسان ہونے کے باعث ہے۔ نبی مکرمﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع میں انسانیت کو جو عزت اور وقار عطا کیا گیا ہے وہ دنیا کا کوئی بھی دستور نہیں دے سکتا۔

تکریم انسانیت کی بلند ترین سطح یہ ہے کہ انسان دوسرے انسان کی دل آزاری نہ کرے، اس کا مذاق نہ اڑائے، اسے اس کے عیبوں کا طعنہ نہ دے، اسے برے ناموں یا القاب سے نہ پکارے، اسے اپنے سے کم تریا گھٹیا محسوس نہ کرے۔ قرآن مجید میں اللہ، رب العزت نے تکریم انسانیت کا یہ درس دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد رکھو۔ (الحجرات:۱۱)

دین اسلام نے زندگی کے معاملات میں ہر انسان کو بلا تمیز رنگ و نسل یا سماجی مرتبہ مساوی حیثیت عطا کی ہے۔ یہ عام سماجی رویہ ہے کہ معذور افراد کو زندگی کے عام معاملات اور میل جول میں نظر انداز کرنے کی روش اختیار کی جاتی ہے۔ قرآنی تعلیمات نے اس روش اور عادت کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے ہر انسان کو لائق عزت و وقار قرار دیا ہے۔

ایک موقعے پر آں حضوؐر رؤسائے مشرکین کو تبلیغ فرما رہے تھے کہ اتنے میں نابینا صحابی حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دوسروں سے مصروف گفتگو ہونے کی وجہ سے آپؐ حضرت عبد اللہ بن ام مکتومؓ کی طرف متوجہ نہ ہوسکے تو اس عدم توجہی پر یہ آیت نازل ہوئی:

’’ترش رو ہوا اور بے رخی برتی اس بات پر کہ وہ اندھا اس کے پاس آگیا۔ تمہیں کیا خبر، شاید وہ سدھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لیے نافع ہو؟ (عبس:۱-۴)

ان آیات مبارکہ کے توسط سے امت کو یہ تعلیم دی گئی کہ : ۱- معذور افراد دیگر افراد معاشرہ کی نسبت زیادہ توجہ کے مستحق ہیں۔ اس لیے دوسرے افراد کو ان پر ترجیح دیتے ہوئے انھیں نظر انداز نہ کیا جائے۔

۲- عزت و وقار کے مرتبے کا تعین سماجی یا معاشرتی حیثیت کو دیکھ کر نہ کیا جائے بلکہ اس کے لیے ذاتی کردار تقویٰ، اصلاح طلبی اور نیکی کے جذبے کو معیار بنایا جائے۔

۳- معذور افراد کو تعلیم سے بہرہ مند کیا جائے کیوں کہ وہ دیگر انسانوں کی طرح مفید اور کار آمد ثابت ہوسکتے ہیں۔

دین اسلام نے کسی شخص کے جسمانی نقص یا کمزوری کی بنا پر اس کی عزت و توقیر اور معاشرتی رتبہ کو کم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی ہے، بلکہ جابجا ایسے واقعات اور احکامات موجود ہیں، جن کی بنیاد پر اللہ اور اس کے رسولؐ نے ایسے لوگوں کو دوسرے انسانوں کی نسبت زیادہ عزت بخشی ہے۔

حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم نابینا تھے۔ وہ حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنا کچھ مدعا بیان کرنا چاہتے ہیں اور تعلیماتِ رسولؐ سے بہرہ مند ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔ بینائی نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے حاضر خدمت ہوکر اپنا مدعا بیان کرنا شروع کر دیا، عین اسی وقت کچھ اشرافِ قریش بھی آپ کے پاس بیٹھے تھے جنہیں آپؐ عبد اللہ ابن مکتوم کی طرف توجہ نہ دے سکے اور اُن کے سوالات کا جواب بھی نہ دیا، بلکہ ابن مکتوم کی بار بار ندا اور مداخلت سے سرکار دو عالم ﷺ کو قدرے ناگواری ہوئی۔ مگر باری تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم کو متوجہ فرماتے ہوئے اُن کی مخلصانہ طلب اور راہِ حق کی سچی جستجو کو زیادہ اہمیت دینے کی نشان دہی فرمائی۔

ایک او رواقعہ جو بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ حضرت عمرؓ لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے۔ آپؐ نے دیکھا ایک شخص بائیں ہاتھ سے کھانا کھا رہا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اے بندۂ خدا دائیں ہاتھ سے کھا۔ اس نے جواب دیا کہ ’’وہ مشغول ہے۔‘‘ آپؓ آگے بڑھ گئے جب دوبارہ گزرے تو پھر وہی فرمایا اور اس شخص نے پھر وہی جواب دیا۔ جب تیسری بار آپ نے اس کو ٹوکا تو اس نے جواب دیا کہ ’’موتہ کی لڑائی میں میرا دایاں ہاتھ کٹ گیا تھا۔‘‘ یہ سن کر آپ رونے لگے اور پاس بیٹھ کر اس سے پوچھنے لگے کہ ’’تمہارے کپڑے کون دھوتا ہے اور تمہاری دیگر ضروریات کیسے پوری ہوتی ہیں؟ تفصیلات معلوم ہونے پر آپ نے اس کے لیے ایک ملازم لگوا دیا۔ اسے ایک سواری دلوائی اور دیگر ضروریات زندگی بھی دلوائیں۔ (کتاب الآثار از یوسف 1:208 رقم 927ھ)

اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم معاشرے کا فرض ہے کہ وہ معذور افراد کی ضروریات کا خیال رکھنے میں کوتاہی اور سستی کا مرتکب نہ ہو۔

ایک پگلی عورت کا واقعہ بھی حدیث میں نقل ہوا ہے جسے متعدد محدثین مثلاً امام مسلم، ابو داؤد، قاضی عیاض، قسطلانی، ابو لیلیٰ اور ذہبیؒ نے حضرت انسؓ کی زبانی تحریر کیا ہے کہ مسجد نبویؐ میں آں حضورؐ صحابہ کرام کے پاس بیٹھے کچھ اہم موضوعات پر گفتگو فرما رہے تھے کہ پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ایک بڑھیا مجمع کے آخر میں کھڑے ہوکر کچھ کہنا چاہ رہی تھی۔ آپؐ اس کی طرف متوجہ ہوئے، اس نے عرض کیا کہ حضورؐ میں کچھ عرض کرنا چاہتی ہوں مگر سب کے سامنے نہیں۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ یہ عورت پاگل ہے اور ایسے ہی آپؐ کا وقت ضائع کرے گی۔ آپؐ کا چہرہ اقدس متغیر ہوا فرمایا کہ: ’’پاگل ہے تو کیا انسان نہیں، کیا اس کی خواہشات اور تمنائیں نہیں ہیں۔ یہ کچھ کہنے آئی ہے۔‘‘ لہٰذا آپؐ مسجد نبوی سے نکل کر اس کے ساتھ چل پڑے۔ آپؐ نے اس سے اس کی ضرورت پوچھی اور ساتھ ہی فرمایا کہ تیری ہر بات تسلیم کی جائے گی۔ بڑھیا آگے آگے چلتی رہی اور سرکار دو عالمؐ اس کے پیچھے پیچھے چلتے رہے۔ مدینے کی ایک گلی کی نکڑ پر بڑھیا نے آپؐ سے کہا کہ آپ زمین پر تشریف رکھیں۔ آپؐ بیٹھ گئے۔ بڑھیا نے اپنی پوری داستان سنائی اور رحمت دو عالمؐ نے اس کی ساری ضروریات پوری کردیں۔ اس طرح بے سہاروں کو سہارا دینا بھی ایک بڑی عبادت ہے۔

اہلِ قرابت کے نان نفقہ کا حق

اسلام نے جہاں خصوصی افراد کو معاشرے میں عدم توجہی سے محفوظ رکھنے کے احکامات جاری کیے وہاں ان کے سماجی تحفظ کا بھی اہتمام کیا ہے۔ قدرت نے جہاں انہیں کسی ایک صفت سے محروم کیا وہیں ان کی معاونت اور مدد کے لیے ان کے حقوق کا حکم بھی صادر کر دیا۔

’’کوئی حرج نہیں اگر کوئی اندھا، یا لنگڑا یا مریض (کسی کے گھر سے کھالے) اور نہ تمہارے اوپر اس میں کوئی مضائقہ ہے کہ اپنے گھروں سے کھاؤ یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے، یا اپنی ماں نانی کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے، یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے، یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے، یا ان کے گھروں سے جن کی کنجیاں تمہاری سپردگی میں ہوں، یا اپنے دوستوں کے گھروں سے۔ اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھاؤ یا الگ الگ۔‘‘(النور:61)

یہاں بے بصر اور جسمانی طور پر معذور افراد کے لیے ایک نعمت اور عطیۂ خداوندی کا اعلان کرتے ہوئے انھیں فاقہ کشی اور بھوک و ننگ سے محفوظ کر دیا ہے کہ اہل قرابت ان کی ضروریات اور حقوق سے جان چھڑاتے نہ پھریں اور نہ خصوصی افراد اپنی بے بسی اور اپنوں کی بے مروتی کے باعث خود کشیاں کرتے پھریں۔ دیکھئے کتنے عظیم اور بنیادی چارٹر کا اعلان:

۱- اندھے، بیماراور جسمانی طور پر معذور (لولے لنگڑے) افراد چوں کہ جنگ میں شریک نہ ہوسکتے تھے، لہٰذا انھیں قریبی رشتہ داروں کے گھروں سے کھانا کھانے کی اجازت دی گئی۔

۲- قریش اور سردارانِ مکہ معذور افراد کو منحوس اور قابل نفرت خیال کرتے تھے۔ لہٰذا اللہ نے ان کی تکریم کرتے ہوئے، ان کے حقوق اور عزت نفس کا اعلان کیا اور جاہلانہ رسوم کا قلع قمع کر دیا۔

۳- ماں باپ اور بہن بھائی معذور افراد کو کراہتاً رشتہ داروں کے گھر چھوڑ آتے تھے تاکہ وہ خود تو خوب سیر ہوکر کھالیں اور یہ کہیں سے روکھی سوکھی کھالیں۔ رب العزت کو یہ بات پسند نہ تھی لہٰذا ترغیباً والدین اور بہن بھائیوں یا قریبی رشتہ داروں کے گھر سے کھانے کی اجازت دی۔

۴- بہن بھائیوں، چچاؤں، پھوپھیوں، ماموؤں، خالاؤں کے گھروں سے یا ان کی عدم موجودگی میں بھی ان کے ہاں کھانا کھانے کی اجازت اور رخصت دی گئی۔

۵- رشتہ داروں کے بعد جن گھروں کی کنجیاں اُن کے حوالے کی گئیں وہاں سے بھی کھانے کی اجازت دی گئی۔ دوست احباب کے گھر کو بھی رشتہ داروں کے گھروں سے تشبیہ دی گئی تاکہ یہ قربت بھی عظمت کی علامت رہے اور خصوصی افراد کے حقوق یہاں بھی محفوظ رہیں۔

۶- بعض لوگ معذور لوگوں کو حقیر سمجھ کر الگ تھلگ بٹھا کر کھانا دیتے تھے، اللہ تعالیٰ نے تنہا خوری کی کراہت کو ختم کرتے ہوئے اپنے رسولؐ کے ذریعے اکٹھے کھانے کی ترغیب دی۔

حضرت عمرؓ کا گزر کسی کے دروازے پر سے ہوا جہاں ایک سائل بھیک مانگ رہا تھا۔ وہ ایک بوڑھا آدمی تھا، جس کی بصارت زائل ہوچکی تھی۔ آپؓ نے پوچھا تم اہل کتاب کے کس گروہ سے ہو؟ اس نے کہا: یہودی۔ آپ نے اس سے پوچھا: تمہیں کس چیز نے بھیک مانگنے پر مجبور کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: میں بڑھاپے، ضرورت مندی اور جزیہ کی وجہ سے بھیک مانگ رہا ہوں۔ حضرت عمرؓ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور گھر میں سے اسے کچھ لاکر دیا اور پھر آپ نے بیت المال کے نگراں کو بلایا اور فرمایا، اس کا اور اس جیسے دوسرے لوگوں کا خیال رکھو۔ (کتاب الخراج: از یوسف، ص136)

مدینہ کے اطراف میں ایک نابینا بڑھیا رہتی تھی۔ حضرت عمر فاروقؓ روزانہ علی الصبح اس کے جھونپڑے میں جاکر اس کے لیے پانی اور دیگر ضروری خدمات انجام دیتے تھے۔ کچھ عرصے بعد آپ کو محسوس ہوا کہ کوئی شخص ان سے پہلے آکر یہ کام کر جاتا ہے۔ ایک روز تحقیق کی غرض سے آپ کچھ رات گزرنے کے بعد وہاں تشریف لے گئے تو دیکھا خلیفہ اول حضرت ابو بکرؓ صدیق اس ضعیفہ کی خدمت گزاری سے فارغ ہوکر اس کے جھونپڑے سے نکل رہے تھے۔

حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے دورِ خلافت میں اس بات کا خاص اہتمام کر رکھا تھا کہ ممالک محروسی میں کوئی شخص فقر و فاقہ میں مبتلا نہ ہو۔ آپؐ نے حکم جاری کر رکھا تھا کہ ہر مفلوج اور اپاہج فرد کو بیت المال سے ماہانہ وظیفہ دیا جائے۔ (ہندی، کنزالعمال، اسلام اور کفالت عامہ، ص۷۷)

جہاد اور دفاعی ذمہ داریوں سے استثناء:

قرآن حکیم نے اسلامی ریاست کے فروغ اور غلبۂ دین حق کی جدوجہد کے لیے جہاد میں حصہ لینے کو ایمان و استقامت کی جانچ کے معیار کے طور پر بیان کیا اور اس بنیادی ذمہ داری سے راہِ فرار اختیا رکرنے کو عذاب الیم کا سبب قرار دیا۔ تاہم معذور افراد کو اس کلیدی اور بنیادی ذمہ داری سے مستثنیٰ قرار دیا گیا:

’’ہاں اگر اندھا اور لنگڑا اور مریض جہا دکے لیے نہ آئے تو کوئی حرج نہیں، جو کوئی اللہ او راس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اسے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، اور جو منہ پھیرے گا اسے وہ درد ناک عذاب دے گا۔ (الفتح:48)

گویا قانون اسلام نے معذور افراد کو ناقابل برداشت ذمہ داریوں سے مستثنیٰ قرار دیے جانے کو ان کا بنیادی حق قرار دیا اور مزید برآں اس استثنا سے اس بات کی نفی کی گئی کہ ان افراد کو کم تر نہ سمجھا جائے کہ وہ جہاد میں شریک نہیں ہوئے۔ اسلام کی تعلیمات سے یہ امر واضح ہے کہ:

۱- اسلام معذور افراد کو معاشرے کا قابل احترام اور باوقار حصہ بنانے کی تلقین کرتا ہے۔

۲- اسلام اس امر کی تعلیم دیتا ہے کہ معذور افراد کو خصوصی توجہ دی جائے اور انہیں یہ احساس قطعاً نہ ہونے دیا جائے کہ انہیں زندگی کے کسی شعبے میں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

۳- معاشرتی اور قومی زندگی میں ان پر کسی بھی ایسی ذمہ داری کا بوجھ نہ ڈالا جائے جو ان کے لیے ناقابل برداشت ہو۔

۴- اسلام کے عطا کردہ جملہ حقوق کی ادایگی میں معذوروں کو ترجیحی مقام دیا جائے تاکہ معاشرے میں ان کے استحصال یا محرومی کی ہر راہ مسدود ہو جائے۔

معذور افراد کی زندگی کو باسہولت بنانے کے لیے مناسب سہاروں کو مہیا کرنا اسلامی معاشرے اور حکومت کا فرض ہے۔ موجودہ دور میں معذور اور خصوصی افراد کو وہیل چیئرز، ٹرائی سائیکل، یبساکھیاں، آلۂ سماعت، خصوصی موٹر بائیک، گاڑی، مصنوعی اعضا وغیرہ کی فراہمی کے علاوہ ان کے لیے تعلیمی سکول، ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر اور دیگر ضروری ادارہ جات کا قیام اسلامی روایات کی روشنی میں صاحب استطاعت لوگوں اور حکومت پر فرض ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد سلیم اختر

Leave a Reply