جعلی ڈاکٹر

جج: (ملزم سے) تمہار انام؟

ملزم: حسین ادیب۔

جج: تمہاری عمر؟

ملزم: ۴۴ سال

جج: تمہار اپیشہ؟

ملزم: انجینئر

جج: حسین! تم انجینئر ہوتے ہوئے اپنے آپ کو ڈاکٹر کہلواتے ہو… یہاں تک کہ اب تم آپریشن بھی کرنے لگے ہو۔ تمہیں علم نہیںکہ یہ کتنا بڑا جرم ہے؟

ملزم: (حیران و پریشان ہوکر) جان کی امان جناب والا، بندہ کس طرح بغیر ڈگری کے ڈاکٹری کرسکتا ہے؟ اس بارے میں یقینا آپ کو غلط فہمی ہوئی ہیـ

جج: یعنی تم انکار کرتے ہو۔ اچھا تو پہلے گواہوں کو سن لیں، پھر تم سے مزید بات ہوگی۔

(جج چوبدار سے بات کرتا ہے، عدالت میں تیس پینتیس برس کی ایک خاتون کو بلایا جاتا ہے)۔

جج: خاتون سے کچھ سوال پوچھنے کے بعد) ندیمہ خانم! آپ کو جو کچھ معلوم ہے، بیان کریں۔

ندیمہ خانم: جناب، میرا خاوند اچھا خاصا صحت مند ہے مگر اسے جب درد قولنج ہوا تو ہم اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے جس نے اپنڈکس تشخیص کیا اور کہا کہ اس کا فورا آپریشن کرنا ہوگا۔ میں یہ کہنے میں عار محسوس نہیں کرتی کہ مجھے اپنے خاوند سے بہت محبت ہے، اس لیے میں اس کی بیماری اور اس کے علاج سے متعلق اچھی طرح تسلی کر کے کسی اچھے ڈاکٹر سے اس کا آپریشن کروانا چاہتی تھی۔

جج: یہ آپ کا حق ہے ندیمہ خانم، اپنا بیان جاری رکھیں۔

ندیمہ: جناب والا! مخمورہ نام کی میری ایک دوست ہے۔ اس کے خاوند کو بھی اپنڈکس تھا۔ ایک سرجن نے اس کا آپریشن کیا۔ اس نے پانچ سولیرے لے کر مریض کو ایک مہینے میں بھلا چنگا کر دیا تھا۔ اب وہ ہماری طرح صحت مند ہوچکا ہے۔ میری دوست جو مجھے اپنے خاوند کے سرجن کے گھر لے گئی تھی، اس نے مجھے سمجھایا کہ پیاری، پیسے تو دوبارہ بھی آجاتے ہیں، مگر گئی ہوئی صحت نہیں، لہٰذا جیسے بھی ہو فوراً اپنے شوہر کا علاج اس ڈاکٹر سے کروا لو۔

جج: (ملزم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) اس سرجن سے آپ کی ملاقات ہوئی؟

ندیمہ: جی ہاں… اسی روز۔

جج: آپ اسے پہچانتی ہیں؟

ندیمہ: یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اسے پہچانتی نہ ہوں؟ (ملزم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) یہ ہیںڈاکٹر صاحب۔

ملزم: محترمہ! خدا کے لیے، حقیقت میں میری جو گفتگو آپ سے ہوئی تھی وہ کہیں نا، ورنہ جھوٹ بول کر کیوں اپنے آپ کو جہنم کے شعلوں کے حوالے کرنا چاہتی ہیں۔ میںنے جو کہا تھا وہی جج صاحب کے سامنے بیان کریں۔

ندیمہ: بتاتی ہوں… (جج سے مخاطب ہوکر) یہ صاحت کہتے ہیں تھے کہ ’’میں سرجن وغیرہ نہیں ہوں بلکہ انجینئر ہوں۔ اپنے خاوند کے علاج کے لیے کوئی اچھا سا سرجن تلاش کرو۔‘‘ میں ہاتھ باندھ کر اس کی منت سماجت کرنے لگی کہ اگر پانچ سو لیرے کم ہیں تو میری سونے کی بالیاں، جھومر اور گلے کا ہار لے لو، پر خدارا میرے پیارے خاوند کو بچا لو مگر انہوں نے وہی ایک رٹ لگائی۔

ملزم: (بڑی ممنونیت کے ساتھ… جج سے) سنا آپ نے جج صاحب؟ جو سچ ہے آپ پر آشکارا ہوچکا ہے۔

جج: جلدی مت کرو… اب دوسرے گواہوں کو سن لیں جو یہاں موجود ہیں… مخمورہ خانم کو پیش کرو۔

(دو منٹ بعد عدالت میں مخمورہ خانم آتی ہے، وہ بھی ندیمہ خانم کی عمر کی ہے، مگر اس کے برعکس یہ لمبے قد اور پتلے جسم کی مالک… یہاں تک کہ اس کی آواز بھی باریک ہے)۔

جج: مخمورہ خانم! آپ کو (ملزم کے بارے میں) جو معلوم ہے بیان کریں۔

مخمورہ: میری دوست نے جب مجھ سے ایک اچھے سرجن کا پتہ پوچھا تو میں نے (ملزم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) ان صاحب سے ملنے کا مشورہ دیا۔

جج: ملزم کے سرجن ہونے کا آپ کو کیسے علم ہوا؟

مخمورہ: میں بھلا کیسے نہ جانتی؟ انہوں نے ماشاء اللہ میرے خاوند کا بڑی کامیابی سے اپنڈکس کا آپریشن کیا ہے، لہٰذا ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ انہوں نے آپریشن کے پانچ سو لیرے معاوضہ لیا اور واقعی اسے حلال کر کے دکھایا۔ اللہ انہیں کسی چیز کا محتاج نہ رکھے۔ یہ صاحب باعث شرف انسانیت ہیں، ان پر خدا کی رحمت نازل ہو۔

جج: (خاتون کی بات کاٹتے ہوئے… ملزم سے) اب جواب دو۔

ملزم: (جو ناامیدی کا شکار ہو رہا تھا) جھوٹ، اللہ کی قسم، جھوٹ… کیسا آپریشن؟ میں تو خود اپنی شیو نہیں کرسکتا، آپریشن کیسے؟ اگر اتوار کے دن حجام کی دکان بند ہو تو میں سارا دن بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ گزار دیتا ہوں۔

مخمورہ:جناب! التجا کرتی ہوں… آپ کیوں انکار کر رہے ہیں؟ حسن کا آپریشن اور اس کی دیکھ بھال کرنے والے آپ نہیں تھے کیا؟ ہر روز میں آپ کے ہاں حسن کو دیکھنے آتی تھی۔ ایک بار جب میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ آپ اتنے اچھے ڈاکٹر ہیں، پھر بھی آپ کے دروازے پر نیم پلیٹ کیوں نہیں ہے تو آپ نے جواب دیا تھا: ’’میں اشتہار بازی سے گھبراتا ہوں۔ اس سے خوامخواہ انسان مشہو رہو جاتا ہے جب کہ مجھے جاننے والے جانتے ہیں۔‘‘ کیا یہ سب کچھ آپ نے نہیں کہا تھا؟ جج صاحب! اگر آپ کو مجھ پر اعتبار نہیں تو میرے خاوند کو بلا کر ان سے پوچھ لیں۔ وہ ان کے بارے میں کہی گئی باتوں کی تصدیق کردیں گے۔ (مخمورہ خانم، مقدمے کی کارروائی سننے والوں میں بیٹھے اپنے خاوند کی طرف دیکھتے ہوئے) حسن! خدا کے لیے، کچھ تم ہی بولو۔ احمقوں کی طرح میری طرف دیکھنے کے بجائے کچھ تم ہی بتاؤ!

(جج حسن کو پکارتا ہے، وہ ڈرتے ڈرتے آتا ہے)۔

جج: کیا ملزم نے آپ کا آپریشن کیا تھا؟

حسن! (قربان ہونے والے جانور کی طرح ادھ کھلی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے) کیا یہ صاحب؟ خدا کی قسم، کیا کہوں؟ یہ صاحب ایک مشہور انجینئر ہیں۔ یہ اپنے پیشے کے بڑے ماہر ہیں اور ہمارے ملک کے قابل فخر لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔

’’جج: یہ کیسا جواب ہے؟

ملزم: حسن! تم میرے دیرینہ دوست ہو، خدا کے لیے، مجھے اس مشکل گھڑی سے نکالو۔

حسن: (جھوٹ موٹ کھانستے ہوئے) جناب والا! معلوم نہیں کیا کہوں… میرے دوستوں میں سے حسین صاحب…

مخمورہ: (اس بار اضافی غصے سے) انہوں نے تمہارا آپریشن کیا ہے نا؟ کیوں ہچکچا رہے ہو؟ ہاں کہو نا… ڈاکٹری کی ڈگری نہ ہونے کے باوجود اس نے تمہاری جان سے کھیلنے کی کوشش کی تھی۔ کیا اس کا تمہیں کوئی ملال نہیں؟ اگر یہ تمہیں جان سے مار دیتا پھر؟

ملزم: (التجا کرتے ہوئے) حسن! اللہ کی رضا کی خاطر مجھے بچاؤ۔

حسن: (خاصی دیر سوچنے کے بعد کھانستے ہوئے جج سے) جناب والا! حقیقت حال ابھی بیان کرتا ہوں، مگر اس کے لیے یہاں خصوصی تخلیہ چاہتا ہوں۔

جج: یہ تخلیے کا وقت نہیں۔

حسن: اگر ایسا نہ ہوا تو جناب والا، میں کچھ کہہ نہ پاؤں گا۔ (حسن نے جب زیادہ اصرار کیا تو کمرہ عدالت لوگوں سے خالی کروالیا گیا۔ جج نے جب اپنے ساتھ گواہوں کو رکھنا چاہا تو حسن نے جج کے قریب ہوکر آہستہ آواز میں کہا: جناب والا! میرا خصوصی تخلیہ چاہنے کی وجہ یہ تھی کہ میں اپنی بیوی کی موجودگی میں کھل کر بات نہ کر سکوں گا، چناں چہ اس کی خواہش کے مطابق اس کی بیوی کو عدالت سے باہر بھجوا دیا گیا)۔

جج: اب بولو کیا کہنا چاہتے ہو؟

حسن: جناب! کیا آپ شادی شدہ ہیں؟

جج: (غصے ہوتے ہوئے) اس مقدمے سے اس بات کی مناسبت کیا ہے؟

حسن: اگر آپ کنوارے ہیں تو شاید مجھے آپ کو اپنی بات سمجھانے میں دشواری پیش آئے، پھر بھی میں کہتا ہوں۔ جناب! ایک دن جب میری بیوی نے ایک دکان پر سمور کا قیمتی لباس دیکھا تو اسے خریدنے کی فرمائش کرنے لگی۔ اس نے مجھے بڑی جلی کٹی سنائیں اور کہا کہ میں چوری کروں، ڈاکہ ڈالوں یا بھیک مانگوں، ہر حال میں اسے یہ لباس لے کر دوں۔ میں اس کی عادت خوب سمجھتا تھا، میری التجا، منت سماجت اور دھمکی کا جب اس پر کسی قسم کا اثر نہ ہوا تو آخر کار مجھے ایک چارہ سوجھا۔ میں نے اسے بڑی اپنائیت سے کہا: ’’چلو تمہاری خواہش کا لباس ہی لے لیں گے مگر آج نہیں کل سہی۔‘‘ پھر اس رات میں نے جھوٹ موٹ تڑپنا اور چیخنا چلانا شروع کر دیا کہ مجھے درد قولنج ہو رہا ہے اور اگلی صبح اپنے انجینئر دوست حسین ادیب کو ڈاکٹر کہہ کر بلا بھیجا۔ اسے اپنا مسئلہ اور اس کا حل بتاتے ہوئے اس کو ڈاکٹر بنا دیا۔ میرے دوست نے مجھے اس مصیبت سے نکالنے کا وعدہ کیا اور میری بیوی کو بلا کر کہا: ’’آپ کے خاوند کی آنتوں میں سوجن ہے، لہٰذا مجھے ان کا آپریشن کرنا ہوگا۔‘‘ میری بیوی جیسی بھی ہے، مجھے بڑا چاہتی ہے۔ یہ سن کر بے چاری ’’ڈاکٹر صاحب! میں اپنے خاوند کو کھو رہی ہوں‘‘ کہہ کر دہائی دینے لگی۔ حسین ادیب نے میرے کہنے کے مطابق میری بیوی سے آپریشن کا معاوضہ سات سو لیرے مانگا، مگر بات پانچ سو لیرے پر طے پاگئی۔ میں نے اس موقع پر درد سے بے تاب ہوکر کہا: ’’یہ نہیں ہو سکتا۔ اس رقم سے تو میں تمہارے لیے سمور کا لباس خریدوں گا؟‘‘ میرے اس انداز وفا نے اس کو مزید رلا دیا۔ اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے رونا شروع کر دیا۔ ’’سمور پر لعنت بھیجو۔ مجھے صرف تمہاری جان عزیز ہے اور میری زندگی تم سے وابستہ ہے۔‘‘ میں حسین ادیب کے گھر میں ایک ماہ تک آرام کرتا رہا ہوں۔ اس عرصے میں مجھے جو آرام ملا دنیا میں آنے سے اب تک زندگی میں کبھی نصیب نہیں ہوا۔ جب بیوی مجھے ملنے آتی تو میں بستر میں لیٹ کر مریض بن جاتا اور اس کے جانے کے بعد اس کے لائے ہوئے پھل حسین ادیب کے ساتھ مل کر مزے مزے سے کھاتا۔ یہ ہے میرے معصوم دوست کی ڈاکٹر بننے کی حقیقت۔

(جج پانچ منٹ بعد حسین ادیب کا جرم ثابت نہ ہونے کی وجہ سے اسے باعزت بری کرنے کا فیصلہ سناتا ہے)۔

شیئر کیجیے
Default image
رشاد نوری گنتیکن، ترجمہ خالد مبین

Leave a Reply