5

بدلہ

یہ دوسری جنگ عظیم کی بات ہے۔ اس وقت میں ذرا لڑاکا قسم کی بچی تھی، مغرور اور اپنے آپ میں مگن رہنے والی۔ انہی دنوں میں ریل سے کان پور اپنے ایک چچا کے گھر گئی۔ اس سفر کے لیے میں نے جیب خرچ جمع کیا تھا اور بڑے ٹھاٹ سے سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ خریدا۔ ڈبے میں میری ایک رشتے دار کے علاوہ سات آٹھ مسافر اور تھے۔ مجھے بڑا سکون اور آرام محسوس ہوا۔ جی چاہتا کہ اوپر کی نشست پر خوب پھیل پھیل کر بیٹھوں، ہاں بھئی پیسے جو خرچ کیے تھے۔ ویسے تو ہمیشہ تھرڈ کلاس یا پھر انٹر کلاس میں سفر کرنا پڑتا تھا۔

خیر بھئی، لیٹنے کا خیال چھوڑ میں کھڑکی سے لگی باہر دیکھتی رہی۔ ان دنوں لوگوں نے کسی قدر ریل کا سفر کرنا شروع کر دیا تھا ورنہ جنگ کے کچھ دن پہلے تک یہ حال تھا کہ انٹر کلاس میں الو بولتا یا پھر اکادکا مسافر ہوتا جو دن دہاڑے ٹھاٹ سے لیٹا خراٹے لیتا رہتا۔ مگر اب گاڑی چھوٹے موٹے پلیٹ فارموں پر بھی کھڑی ہوتی تو جیسے بھگدڑ مچ جاتی۔ عورتیں گٹھڑیاں اور بچے اٹھائے پاگلوں کی طرح گاڑی پر جھپٹ پڑتیں۔ ان کے ساتھ کے آدمی ایسے ہونق لگتے کہ دیکھ کر قہقہے لگانے کو جی چاہتا۔

جب عورتیں سیکنڈ کلاس میں چڑھنے کی کوشش کرتیں تو سب سے پہلے میں دروازے کے پاس راستہ روک کر کھڑی ہو جاتی اور کہتی ’’یہ سیکنڈ کلاس ہے، دکھائی نہیں دیتا؟ ادھر جاؤ تھرڈ کلاس میں۔‘‘ میرے بات سنتے ہی وہ پھر منہ اٹھا کر بھاگنا شروع کر دیتیں۔ سیکنڈ کلاس کا نام سنتے ہی ان پر ایسا رعب طاری ہوتا کہ میرا جی خوش ہو جاتا۔ بڑائی کا اتنا احساس ہوتا کہ بس کچھ نہ پوچھو۔

ایک چھوٹے سے اسٹیشن پر گاڑی رکی تو ایک بڑھیا اپنی گٹھڑی اٹھائے میری کلاس میں گھس آئی۔ میں نے لاکھ روکا مگر اس نے نہ سنی۔ بولی: ’’پھر کیا ہوا بیٹا! اللہ نے سب کو ایک جیسا بنایا ہے۔ میں اس کلاس میں بیٹھ گئی تو کون سی چھوت لگ جائے گی۔‘‘ وہ الٹا مجھے سمجھانے لگی۔ اور اپنی گٹھڑی غسل خانے کے دروازے کے پاس رکھ کر مزے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔

’’ارے مائی! ٹکٹ چیکر آکر اتار دے گا، یہ سیکنڈ کلاس ہے۔‘‘ ایک عورت نے نرمی سے کہا: بڑھیا نے جواب دینے کی ضرورت نہ سمجھی۔ ادھر گاڑی نے سیٹی دی اور ادھر میرا غصے سے برا حال ہوگیا۔ میں نے تو اپنا جیب خرچ بچا بچا کر اپنی عزیز دار کے ساتھ سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ خریدا تھا اور بڑی بی صاحبہ کیا مزے میں، پیسے خرچ کیے بغیر سیکنڈ کلاس میں سفر کر رہی تھیں۔ وہ کم بخت کانٹے کی طرح میرے دل میں چبھنے لگی۔

اگلے اسٹیشن پر گاڑی رکی تو میں پوری گردن کھڑکی سے باہر نکال کر جھانکنے لگی کہ کہیں ٹکٹ چیکر نظر آجائے، تو بڑھیا کو مزا چکھوا دوں۔ مگر جناب وہ کم بخت تو جیسے کہیں افیون کھا کر سوگیا تھا۔ ادھر بڑھیا گاڑی کے جھٹکوں کے ساتھ ہل ہل کر آرام سے اونگھ رہی تھی۔ میں نے اسے تنگ کرنے کا بیڑا اٹھا لیا۔

’’ادھر سرکو، مجھے غسل خانے جانا ہے۔‘‘ میں نے رعب سے کہا۔

وہ اپنی گٹھڑی ہٹا کر ایک طرف سرک گئی مگر جانے منہ ہی منہ کیا کہتی رہی۔ ایک بھی لفظ سمجھ میں نہ آیا۔ اس کے بعد تو مجھے ترکیب سوجھ گئی۔ بس ہر پندرہ بیس منٹ بعد غسل خانے کی طرف منہ اٹھ جاتا۔ بڑھیا سرک سرک کر عاجز آگئی۔ ایک بار جو میں اندر جانے لگی تو بڑھیا نے عجیب نظروں سے میری طرف دیکھا اور بولی ’’کیوں تنگ کرتی ہو بیٹاَ ہم تو ادھر نیچے ایک کونے میں پڑے ہیں۔ یہ گاڑی تمہاری ہے نہ ہماری، سب کو اتر جانا ہے۔‘‘

’’واہ! ہمارے پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔‘‘

یہ کہہ کر میں اندر چلی گئی۔ جب باہر نکلنے کے لیے دروازہ کھولا تو بڑھیا وہیں لیٹ کر سوگئی تھی۔ میں نے پہلے تو اسے جگانے کی کوشش کی، مگر جب نہ اٹھی تو اسے پھاند کر باہر آگئی۔ پھاندنے میں اس کا ایک ہاتھ میرے چپل کے نیچے آگیا۔

وہ چلا اٹھی اور بولی: ’’تم غریب ہوتیں تو پتا چلتا۔ اللہ کرے تم بھی ایک بار میری ہی طرح گاڑی میں سفر کرو۔‘‘ اس نے بڑی زخمی نظروں سے میری طرف دیکھا۔ میں ڈر سی گئی۔

’’ہوش میں رہ بڑھیا! ذرا سا لڑکی کا پاؤں لگ گیا تو باتیں بناتی ہے۔ ایک تو اس نے بیٹھے رہنے دیا، اس پر اتنا اونچا دماغ دکھاتی ہے۔ حد ہے بھئی۔‘‘ میری عزیز دار زور سے غرائیں۔

’’نیکی کا زمانہ نہیں۔ ابھی ہاتھ پکڑ کر نیچے اتار دیں تو پتا چلے۔‘‘ ایک عورت نے برا سا منہ بنا کر کہا۔ غصہ تو مجھے بھی آرہا تھا مگر کچھ کہا نہ گیا۔ بڑھیا نے کسی کو جواب نہ دیا، ایسی مست ہو کے بیٹھی جیسے کچھ سنا ہی نہیں۔ اس کے بعد جو اسٹیشن آیا تو بڑھیا اتر گئی۔ جلد ہماری بھی منزل آگئی۔ چاچا جی اسٹیشن پر موجود تھے۔ انٹر کلاس کے ہجوم میں مجھے تلاش کر رہے تھے۔ میں نے بڑی مشکل سے آوازیں دے دے کر انہیں اپنی طرف متوجہ کیا اور بڑے ٹھاٹ سے سیکنڈ کلاس سے اتر کر ان سے ملی۔

پاکستان بنا اور ہم لوگ بحری جہاز سے کراچی آگئے۔ تین دن وہاں ٹھہرے اور پھر لاہور روانہ ہوگئے۔ نیا نیا پاکستان بنا تھا۔ بس یوں سمجھو کہ کسی چیز کا ٹھور نہ تھا۔ ہم لوگ بڑی مشکل سے جس ریل میں جگہ حاصل کرسکے، اس میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ مسافر بے لگام ہو رہے تھے۔ انہیں کوئی اصول یاد نہ تھا۔

ہم لوگ بڑی مشکل سے جب اپنے ڈبے میں پہنچے تو بیٹھنے کے لیے کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ بڑی کوشش سے تھوڑی سی جگہ حاصل کی۔ وہاں اماں کو بٹھا کر ہم سب بہنیں ایک طرف کھڑی ہوگئیں۔ غسل خانے کے قریب سامان کا انبار لگا ہوا تھا۔ جب میں تھک گئی تو ایک ٹرنک کھینچ کر وہیں غسل خانے کے پاس بیٹھ گئی۔ اس پر غضب یہ کہ رات کو جانے کیا گڑبڑ ہوئی کہ ریل کی روشنی جاتی رہی۔ رات غسل خانے میں جانے والوں کا تانتا بندھا، تو دھکوں سے میرا برا حال ہوگیا۔

’’ذرا ٓرام سے جائیے دھکے تو نہ مارئیے۔‘‘ میں ایک دفعہ بول اٹھی۔

’’واہ، پھر ہوائی جہاز سے سفر کیا ہوتا، بڑی ناک مزاج ہیں بے چاری!‘‘ جواب ملا۔

جب کوئی اس اندھیرے گھپ میں غسل خانے سے نکل رہا تھا تو میرا پاؤں اس کی چپل کے نیچے پچی ہوگیا۔ میں بلبلا اٹھی۔ مجھے وہ بڑھیا یاد آگئی … کئی سال گزرنے کے باوجود اس بڑھیا کی بدعا نے میرا پیچھا نہ چھوڑا تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
خدیجہ مستور

تبصرہ کیجیے