احسان کا بدلہ

جب ۲۰۱۴میں اہلیہ کئی سنگین بیماریوں مین مبتلا ہو کر جسلوک میں ایڈمٹ ہوئیں تو بہت سے اعزا واحباب نے داد رسی کی اور ہر طرح کا اخلاقی اور مالی تعاون پیش کیا.فجزاھم اللٰہ احسن الجزاء

ایک دن گاوں کا ایک نوجوان بھی اسپتال میں آیا۔میری پریشانی دیکھ کر وہ بے حد پریشان ہوا۔بڑی دیر تک ڈھارس بندھاتا رہا۔ استقامت اور صبر کی تلقین کرتا رہا۔جاتے ہوے اس نے اپنی جیب میں سے نوٹون کی ایک گڈی نکالی اور میری جیب میں بہ اصرار ڈالتے ہوے کہا:

اسے استعمال میں لائیے۔ گنئے مت،تھوڑے سے پیسے ہیں یہ قرض نہیں ہے، تحفہ ہے واپس نہیں کرنا ہے۔

میں نے ان پیسوں کو واقعی گنا نہیں۔ مصیبت کی اس گھڑی میں اس کے لیے فرصت کہاں تھی۔

چند ماہ کے بعد جب کچھ گنجائش ہوئی اور حالات بہتر ہوئے تو ذہن میں آیا کہ کچھ لوگوں کے پیسے واپس کیے جائیں یہی کیا کم تھا کہ وہ آڑے وقتوں میں کام آے۔ لسٹ بنائی گئی تو اس میں اس نوجوان کا بھی نام تھا۔

میں نے اندازہ لگایا کہ اس کی دی ہوئی رقم پچیس ہزار کے آس پاس رہی ہو گی۔چناںچہ پچیس ہزار روپے لے کر اس کے گھر پہنچا۔ شکریہ کے ساتھ جب میں نے اس کی رقم واپس کرنی چاہی تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا :

میں یہ رقم کبھی واپس نہیں لے سکتا آج میں جس مقام پر ہوں کیا اس میں آپ کا کوئی کردار نہیں ہے۔

جب کہ مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ میں نے اس پرکتنا معمولی احسان کیا تھا۔

یہ تقریباً دس سال پہلے کی بات تھی اس نوجوان کا فون آیا۔خیریت دریافت کرنے کے بعد وہ گفتگو کو طول دیتا رہا مجھے اندازاہ ہوا کہ وہ کچھ کہنا چاہتا ہے مگر کہہ نہیں پا رہا ہے۔

آخر میں نے خود پوچھا کوئی خاص بات تو نہیں ہے،کوئی ضرورت تو نہیں ہے؟اگر کوئی ضرورت ہو تو بلا تکلف کہو۔اگر ہو سکے گا تو میں کچھ ضرور کروں گا۔

نوجوان کی بہمت بڑھی اور بولا:

ایم ایس سی کا فارم بھرنا ہے مگر باوجود کوشش کے میں پندرہ سو روپے کا انتظام نہیں کر پا رہا ہوں۔کیا آپ کے لیے یہ ممکن ہے؟یہ پیسے میں کچھ دنوں بعد واپس کر دوں گا۔

میں نے فوراً حامی بھری اور ہنستے ہوئے کہا مجھے پیسے ابھی واپس نہیں چاہئیں ہاں جب تم پڑھ لکھ کر ملازمت پاؤ گے تو کئی گنا واپس لوں گا۔میں نے اپنے ایک رشتہ دار کو فون کیا انھوں نے ایک گھنٹہ کے اندر پیسے کا انتظام کردیا۔

تعلیم کے حصول کے بعد جب وہ نوجوان ایک اچھی ملازمت کے حصول میں کامیاب ہو گیا تو ایک دن مٹھائی کا ایک ڈبہ لیے میرے پاس آیا۔اسے ایک کمپنی میں دس ہزار روپے کی ایک ملازمت مل گئی تھی۔پھر کئی ماہ کے بعد ایک بار پھر مجھ سے ملا اور کہنے لگا۔

آپ نے کئی دفعہ مجھے رقم قرض دی ماشاء اللہ آج میں اسے واپس کر سکتا ہوں لیکن میں نے ارادہ کیا ہے کہ واپس نہیں کروں گا۔میں پوری زندگی آپ کا مقروض رہنا چاہتا ہوں۔ دو ڈھائی ہزار روپے واپس کر کے میں اس احسان سے آزاد نہیں ہونا چاہتا جو آپ نے مجھ پر کیا ہے۔ہاں میں نے عزم کیا ہے کہ جب بھی کوئی ضرورت مند طالب علم آے گا میں ضرور اس کی مدد کروں گا۔

آج بھی وہ نوجوان میرا بڑا ممنون ہے۔ اس کے ذریعہ خیر کے کئی کام انجام پا رہے ہیں۔ اپنے اعزا اور ضرورت مندوں کی خدمت کر کے وہ بڑی خوشی محسوس کرتا ہے۔

میرا یہ کئی بار کا تجربہ ہے کہ جن چھوٹی بڑی نیکیوں کی اللہ نے مجھے توفیق دی کہ اس کا بہترین بدلہ کئی دفعہ اسی دنیا ہی میں مل گیا جب کہ آخرت کا بدلہ تو یقینی ہے۔

اس تحریر کا مقصد صرف یہ ہے کہ شاید کسی کو حوصلہ ملے کہ زندگی صرف اپنے لیے نہیں جی جاتی۔اگر آدمی اپنے سماج، اعزہ اور ضرورت مندوں کے کام نہ آسکے تو اس کی زندگی بے کار ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
اختر سلطان اصلاحی

Leave a Reply