گود لی ہوئی ماں

ناصر دفتر سے لوٹا تو روزانہ کی طرح اماں ہاتھ میں تسبیح لیے جا نماز پر بیٹھی نظر آئیں، شہلا اپنے کمرے میں ٹیلی ویژن پر کوئی پروگرام دیکھ رہی تھی، ملازمہ شام کے کھانے کی تیاری میں کچن میں مصروف تھی۔

ناصر کی شادی کو ایک سال ہونے والا تھا لیکن اماں نے ابھی تک اس کی بیوی شہلا کو گھر کی ذمہ داریوں سے دور ہی رکھا تھا۔ وہ خود ملازمہ کے ساتھ مل کر بڑی خوش اسلوبی سے گھر چلا رہی تھی۔ کئی بار ناصر نے اماں سے اصرار کیا تھا کہ ’’گھر کے کاموں میں شہلا کو بھی اپنے ساتھ لگا لیا کریں بلکہ میں تو چاہتا ہوں کہ وہ اب گھر کی ذمہ داریوں کو سمجھ لے اور آپ اب آرام کریں!!!‘‘ لیکن اماں محبت بھرے لہجے میں اسے سمجھا دیتیں ’’بچے عمر پڑی ہے کام کرنے کے لیے…!!! یہی کچھ دن ہوتے ہیں آزادی کے، ساری زندگی گھر گرہستی ہے دیکھنا ہے۔۔۔!!! اور ملازمہ بھی تو ہے، سارے کام اچھی طرح کر لیتی ہے، بس ذرا دیکھنا ہوتا ہے سو میں دیکھ لیتی ہوں۔‘‘

ناصر نے اماں کے اکیلے پن اور گھر کے کاموں کے لیے کل وقتی ملازمہ بہت پہلے ہی رکھ لی تھی۔ بھلی اور ایمان دار عورت تھی، جوانی میں ہی بیوہ ہوگئی تھی کوئی بچہ بھی نہیں تھا، اس کو بھی ٹھکانہ مل گیا تھا مستقل طور پر گھر میں ہی رہتی تھی یوں گھر کا کام کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔

اماں شہلا کی خوب ناز برداریاں کرتیں، اس کی پسند پوچھ پوچھ کر کھانے پکواتیں، کسی کام کو ہاتھ نہ لگانے دیتیں، ہزاروں دعاؤں سے نوازتیں اور دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ خوش دیکھ کر مطمئن ہو جاتیں۔ لیکن شہلا عجب مزاج کی لڑکی تھی اس کو نہ اماں کی ناز برداریاں پسند تھیں اور نہ اماں۔ اسے صرف ناصر پسند تھا بلا شرکت غیرے۔

اماں کی نگرانی میں ملازمہ گھر کے سارے کام نمٹا لیتی، اماں کا دل چاہتا کہ شہلا ان کے پاس بیٹھے، کچھ بات کرے لیکن شہلا تو بس ناشتے اور کھانے کے وقت ہی سب کے ساتھ دکھائی دیتی۔ ناصر کے دفتر جانے کے بعد وہ اپنے کمرے تک محدود ہو جاتی۔ ٹیلی ویژن پر ڈیلی سوپ، نیٹ چیٹ، اور فون پر اپنی دوستوں سے گھنٹوں باتیں کرنا اس کے پسندیدہ شغل تھے۔ سارا سارا دن یوں ہی اپنے کمرے میں گزار دیتی۔ ملازمہ کے علاوہ گھر میں اور تھا ہی کون اماں جس سے بات کرتیں… شروع شروع میں شہلا کی کم گوئی کو انہوں نے شرم پر محمول کیا لیکن رفتہ رفتہ شہلا کی بے نیازی انہیں محسوس ہونے لگی ۔۔۔ جہاندیدہ تھیں، ایسے ہی رویوں کی ستائی ہوئی بھی تھیں… خاموشی اختیار کرلی۔ رفتہ رفتہ ناصر کو بھی احساس ہونے لگا۔ وہ خاموشی سے جائزہ لے رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ شہلا کسی وقت نہ اماں کے پاس بیٹھتی ہے نہ ان سے مخاطب ہوتی ہے۔ اگر اماں خود اس سے مخاطب ہوتیں تو لیے دیے انداز میں نپے تلے جواب دے کر خاموش ہوجاتی۔

جب تک ناصر گھر میں رہتا اور اماں کے پاس بیٹھا ہوتا تو اسے بھی ناصر کی وجہ سے بادلِ نخواستہ اماں کے پاس بیٹھنا پڑتا لیکن اس کی کوشش یہی رہتی کہ ناصر بھی اماں سے دور رہے۔ مگر دفتر سے لوٹ کر ناصر کا اماں کے پاس بیٹھ کر کچھ وقت گزارنا روزانہ کا معمول تھا اور جب سے شادی ہوئی تھی وہ چاہتا تھا کہ وہ اماں اور شہلا ایک ساتھ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ کر کچھ وقت گزاریں یا باتیں کریں۔ ناصر کے اصرار پر شہلا وہاں آکر بیٹھ تو جاتی لیکن اس کے چہرے سے بیزاری صاف جھلکتی جسے اماں کے ساتھ ہی ناصر بھی خوب سمجھتا تھا بلکہ اب تو ملازمہ بھی اماں کے تئیں شہلا کے اس انداز کو سمجھنے لگی تھی۔

ناصر کی فکر دن بدن بڑھتی جا رہی تھی وہ ہر حال میں اماں اور شہلا کے درمیان اچھے تعلقات کا متمنی تھا۔ ایک طرف شہلا اس کی بیوی جس سے وہ بہت پیار کرتا تھا اور دوسری طرف اماں تھیں جن کا دل دکھانے کا خیال بھی اس کے لیے سوہان روح تھا۔ اماں سے تو اس کا رشتہ ہی بہت انوکھا تھا بلکہ سچ تو یہ تھا کہ ان میں تو کوئی رشتہ ہی نہیں تھا… نہ وہ اس کی سگی ماں تھیں نہ سوتیلی بلکہ وہ تو اس کی منہ بولی ماں تھیں اور پچھلے تین سال سے وہ ماں کی حیثیت سے اس کے ساتھ تھیں۔

اماں اور ناصر کے اس انوکھے رشتے کی کہانی بھی خوب تھی…! ناصر صحافی تھا اور ایک مشہور ٹی، وی چینل میں ریسرچ اور اسکرپٹ رائٹنگ کے شعبہ سے منسلک تھا۔ حالیہ پروجیکٹ کے تحت چینل کی طرف سے اسے ایسے فلاحی اداروں کا سروے سونپا گیا تھا جو عمر رسیدہ، بیوہ اور بے سہارا خواتین کے تحفظ اور فلاح کے لیے کام کر رہے تھیـ ’’آشیانہ‘‘ نام کے اس اولڈ ایج ہوم میں سروے کے دوران ہی اس کی ملاقات صابرہ خاتون سے ہوئی تھی۔

سروے کے دوران کچھ ایسی تلخ سچائیاں سامنے آئیں، جن کا ناصر پر بہت گہرا اثر ہوا۔ وہ خواتین جن کا دنیا میں کوئی نہیں تھا بے سہارا اور عمر رسیدہ تھیں ان اداروں میں انھیں روٹی کپڑے اور ایک محفوظ چھت کے ساتھ ہی بیماری میں دوا علاج بھی اگر میسر تھا تو غنیمت تھا۔ زندگی کی ڈھلتی شام میں ان کے لیے اتنا بھی بہت تھا۔ مگر ایسی بزرگ خواتین جو اپنوں کی بے اعتنائی کا شکار ہوکر یہاںپناہ گزیں ہوگئی تھیں ذہنی طور پر زیادہ مایوس اور دکھی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں اپنوں کا انتظار جیسے ٹھہر سا گیا تھا۔ اور کئی کئی برس گزر جانے کے بعد بھی آس کی ڈور کو یقین سے تھامے وہ اپنوں کی راہ دیکھ رہی تھیں۔

صابرہ خاتون بھی ایک ایسی ہی ماں تھیں جو اپنے بیٹوں کی بے رخی کا شکار ہوکر اس ادارے میں آئی تھیں۔ ناصر سے تفصیلی بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا تھا کہ ’’ان کے دو بیٹے ہیں جو اپنے بیوی بچوں کے ساتھ امریکہ میں مقیم آسودہ زندگی گزار رہے ہیں۔ دو سال پہلے ان کے شوہر کا اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا اور وہ اکیلی رہ گئیں۔ والد کے گزر جانے کے بعد بچوں نے ان سے رابطہ کیا اور تسلی بھی دی لیکن کاروباری مصروفیت کی بنا پر فوری آنے سے معذرت کرتے ہوئے جلد ہی ان کو اپنے پاس بلانے کا یقین دلایا۔ مگر دو سال کا عرصہ گزر جانے پر بھی نہ وہ آئے اور نہ ہی مجھے اپنے پاس بلایا۔ بڑھتی عمر، تنہائی اور صدمہ … ایسے وقت میں مجھے سب سے زیادہ بچوں کا انتظار تھا۔ میرا انتظار بڑھتا جا رہا تھا لیکن نہ وہ خود آرہے تھے اور نہ مجھے اپنے پاس بلا رہے تھے۔ ہاں میرے دونوں بیٹوں کی باقاعدگی سے بھیجی گئی رقم سے میرا بینک بیلنس بڑھتا جا رہا تھا اور میرا دل خالی ہوتا جا رہا تھا۔ مجھے ان کے پیسوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، میری خوشی تو اپنے بچوں اور ان کے بچوں کے ساتھ رہنے میں تھی۔ حالاں کہ میں یہ بھی جانتی تھی کہ وہ اپنا جما جما یا کاروبار چھوڑ کر انڈیا میرے پاس آکر نہیں رہ سکتے لیکن میں تو ان کے پاس جاکر رہ سکتی تھی۔ نہ معلوم وہ خود مجھے اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ یا ان کی بیویوں کو میرا وہاں ان کے ساتھ رہنا گوارا نہیں تھا‘‘ بولتے بولتے ان کا گلا بھر آیا تھا مگر وہ خاموش نہیں ہوئیں شاید آج پہلی بار انہوں نے کسی سے اپنا درد بانٹا تھا۔۔۔!!

’’اپنے گھر میں تنہائی اور خاموشی سے میں ڈرنے لگی تھی، میرے بچوں کی شرارتیں، اچھل کود اور ہنسی کی وہ آوازیں جو گھر کے ہر گوشے میں محفوظ تھیں تصور میں مجھے اپنا چہرہ دکھاتیں تو میری بے چینی اور بڑھ جاتی۔ بڑے سے گھر میں ایک بھٹکی ہوئی روح کی طرح میں چکراتی پھرتی…! تب گھبرا کر میں نے وہ گھر بیچ دیا اور وہ رقم اسی اولڈ ایج ہوم کو دے کر میں خود بھی یہیں آگئی کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا میرے پاس۔ میں نے سوچا میری جیسی اور بھی عورتیں ہوں گی، سب مل کر ایک دوسرے کا درد بانٹ لیں گی۔ جب سے یہاں آئی ہوں تنہائی کا احساس کافی حد تک کم ہوگیا ہے مگر دل کا درد کم نہیں ہوتا…!!

صابرہ خاتون کی آپ بیتی سن کر ناصر بہت اداس ہوگیا تھا…!!! وہ خود بھی اس دنیا میں اکیلا تھا اور اکیلے پن کے درد کو بہ خوبی سمجھتا تھا، اس کی ماں اس کی پیدائش میں چل بسی تھی اور اس کا باپ جب وہ ایک سال کا تھا ایک حادثے کا شکار ہوکر اپنی جان گنوا بیٹھا تھا۔ ایک دن اچانک جب دادی بھی چل بسی تو محلے کا کوئی شخص ازراہِ ہمدردی اسے ایک یتیم خانے میں چھوڑ آیا تھا جہاں اس کی پرورش ہوئی۔

ناصر ایک ذہین اور سلجھا ہوا بچہ تھا، اس کی ذہانت کو دیکھتے ہوئے یتیم خانے کے مہتمم سرفراز علی نے ذاتی طور پر اس کی سرپرستی کی ذمہ داری اپنے سر لے لی اور اس کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔ ناصر نے بھی ان کو کبھی مایوس نہیں کیا، تعلیم حاصل کی اور صحافت کو بطور کیریئر چنا۔ تین سال پرنٹ میڈیا میں کام کرنے کے بعد الیکٹرانک میڈیا کی طرف رخ کیا اور اس میدان میں بھی اپنی محنت اور لگن سے جلد ہی ایک مقام بنا لیا۔

’’آشیانہ‘‘ اولڈ ایج ہوم میں صابرہ خاتون سے مل کر جب ناصر واپس لوٹا تو اپنے دل میں ایک مضبوط فیصلہ کر چکا تھا۔ اس نے ایک ہفتے کے اندر ہی ’’آشیانہ‘‘ پہنچ کر صابرہ خاتون سے دوبارہ ملاقات کی اور نمناک آنکھوں اور بھرائی ہوئی آواز میں اپنی دلی تمنا کا اظہار بھی کر دیا…‘‘

صابرہ خاتون کو اس وقت ناصر ایک معصوم بچہ نظر آیا… ایک لمحے کو انہیں لگا جیسے ایک اونچے پورے مرد کے اندر کا بچہ ماں کی مامتا پانے کے لیے بے قرار ہے۔۔۔ پیٹ کی اولاد نے جس مامتا سے آنکھیں پھیرلی تھیں اسی مامتا کو پانے کے لیے دو ملتجی غیر آنکھیں ان کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں… بس وہی ایک لمحہ زخمی مامتا پر جیسے مرہم کا ٹھنڈا پھاہا رکھ گیا اور صابرہ خاتون نے ناصر کی خواہش پر حامی بھر دی۔

صابرہ خاتون کی حامی کے باوجود ناصر کو انہیں بحیثیت ماں اپنے گھر لانے کے لیے کئی قانونی مراحل سے گزرنا پڑا۔ ’’آشیانہ‘‘ کی مینیجنگ کمیٹی کا متفقہ فیصلہ تھا کہ صابرہ خاتون کے تحفظ اور فلاح کے پیش نظر ناصر سے ایک حلف نامہ لیا جانا چاہیے کہ اگر مستقبل میں اس کی طرف سے صابرہ خاتون کو کوئی شکایت ہوئی یا انہیں کوئی تکلیف پہنچی تو ادارہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مجاز ہوگا۔

ناصر نے بہ خوشی حلف نامہ داخل کیا اور صابرہ خاتون کو بطور ماں اپنے گھر لے آیا۔ دونوں کے بیچ کوئی رشتہ نہ ہوتے ہوئے بھی ایک خوب صورت اور مضبوط رشتہ بن گیا۔ انہیں ناصر کے ساتھ رہتے ہوئے دو سال ہوگئے تھے اور اب وہ ناصر کی شادی کر کے ایک ماں کا فرض ادا کرنا چاہتی تھی۔ ایک دن جب ناصر بہت اچھے موڈ میں ان کے پاس بیٹھا گپ شپ کر رہا تھا تب انہوں نے اس کی شادی کی بات چھیڑ دی…

’’بیٹا میں چاہتی ہوں تمہاری شادی ہوجائے… گھر بس جائے تمہارا۔‘‘

’’گھر تو بس گیا ہے اماں…!‘‘ وہ حیران ہوکر اس کی طرف دیکھنے لگیں…

’’آپ کے آجانے سے‘‘ وہ شرارت پر آمادہ تھا۔

’’بے وقوف لڑکے میں تیری شادی کی بات کر رہی ہوں‘‘ ناصر کی بات سن کر مسکرائے بغیر نہ رہ سکیں۔

’’دیر سے شادی ٹھیک نہیں بچے۔ اگر تم نے کوئی لڑکی پسند کر رکھی ہو تو بتاؤ ورنہ میں کچھ کرتی ہوں۔‘‘

’’ارے نہیں نہیں اماں! میں نے کوئی لڑکی وڑکی پسند نہیں کر رکھی ہے بس آپ کو پسند کیا تھا اور لے آیا‘‘ وہ بدستور مذاق کے موڈ میں تھا اور ہنس رہا تھا لیکن صابرہ خاتون کو سنجیدہ دیکھ کر بول اٹھا… ’’اچھا اچھا… جیسی آپ کی مرضی لیکن میری ایک شرط ہے کہ شادی آپ کی پسند سے ہوگی اور آپ کو حق ہے جس پر چاہیں قربان کر دیں مجھے… اُف بھی نہ کروں گا‘‘ وہ چھیڑنے سے باز نہیں آرہا تھا انھیں۔ اس کی رضا مندی مل جانے پر صابرہ خاتون نے سرفراز علی کی بیوی کی مدد سے دو ایک لڑکیاں دیکھیں اور شہلا کو پسند کر کے بہو بنا لائیں…!!

ناصر کی زندگی میں شہلا بہار بن کر چھا گئی۔ خلوتیں آباد ہوئیں تو زندگی اس کے سامنے ایک نئے روپ میں جلوہ گر ہوئی۔ دل میں مسرت اور شادمانی کے موسم اتر آئے۔ بشاشت اس کے چہرے سے عیاں ہونے لگی۔ اس کی زندگی میں اب خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔

کچھ ہی مہینے اچھے گزرے کہ رفتہ رفتہ صابرہ خاتون کے تئیں شہلا کا رویہ بدلنے لگا۔ اس کی نظروں میں اماں کے لیے نہ احترام ہوتا نہ محبت۔ اس کا اماں کو اس طرح نظر انداز کرتے دیکھ کر ناصر کو تشویش ہونے لگی۔ شہلا کے رویہ سے وہ دل ہی دل میں عجیب سی شرمندگی سے دوچار رہتا۔ وہ تو تصور میں بھی اماں کو دکھ دینے کا سوچ نہیں سکتا تھا۔ زندگی میں ان کے آجانے سے اس نے ماں کی مامتا کو محسوس کیا تھا اور ایک ایسا رشتہ جیا تھا جس کا مزہ اس نے چکھا ہی نہیں تھا۔ اس کی زندگی کے اتنے بڑے خلاء کو صابرہ خاتون نے اپنی بے لوث محبت سے پر کیا تھا۔ وہ بے چین ہو اٹھا، اس نے فیصلہ کیا کہ وہ شہلا سے کھل کر بات کرے گا اور اسے سمجھائے گا… اماں سے اپنے رشتے کی نوعیت بتائے گا اور اسے یقین تھا کہ شہلا احساس دلانے پر اپنے رویے پر ضرور غور کرے گی۔ لیکن یہ اس کی غلط فہمی تھی۔ ناصر نے اس سے کھل کر بات کی تو وہ بھی کھل کر سامنے آگئی۔ دل میں صابرہ خاتون کو لے کر جو غبار بھرا تھا ایک جھٹکے میں نکال باہر کیا۔

’’ناصر اچھا ہوا تم نے ہی بات چھیڑ دی… میں خود تم سے بات کرنے والی تھی۔‘‘

’’ہاں … ہاں… کیوں نہیں! اگر ماں سے تمہیں کوئی شکایت ہو تو مجھے بتاؤ… وہ تو تم سے اور مجھ سے کتنی محبت کرتی ہیں، سارا گھر سنبھال رکھا ہے انہوں نے…!!! پوری طرح آزاد ہو تم!! وہ اسے احساس دلانے کی کوشش کر رہا تھا اور شہلا تو جیسے ناصر کی کوئی بات سن ہی نہیں رہی تھی بس اپنی ہی کہے جا رہی تھی۔ ’’ناصر حیرت ہوتی ہے مجھے …! تمہارا سارا دھیان صرف اماں کی خوشی میں ہی رہتا ہے… چہرہ پڑھتے رہتے ہو تو ان کا … میں تو تمہیں نظر ہی نہیں آتی…! لوگ سگی ماؤں کی اتنی پرواہ نہیں کرتے جتنی تم اس غیر عورت کی کرتے ہو، اور تم کوئی بچے تو تھے نہیں کہ تمہیں ماں کی اتنی ضرورت تھی کہ اپنی ماں نہیں تھی تو اولڈ ایج ہوم سے ہی ماں کے نام پر اٹھا لائے ایک عورت…‘‘

وہ ایسا زہر اگلے گی ناصر کو اندازہ بھی نہیں تھا۔ گنگ سا بیٹھا وہ اسے دیکھ رہا تھا مگر شہلا کے ترکش میں ابھی کچھ تیر باقی تھے… ’’تنگ آگئی ہوں میں ان کی دخل اندازی سے… ہر وقت نصیحتیں… ناصر کو یہ پسند ہے وہ پسند نہیں ہے…! ناصر لا ابالی سا ہے… اس کی بکھری چیزیں سمیٹ کر رکھ دو…! اس کی الماری ٹھیک کردو! حد ہوگئی ہے۔!!! وہ ہوتی کون ہیں مجھ پر اس طرح حکم چلانے والی؟ بس ایک منہ بولا رشتہ ہی تو ہے تمہارے اور ان کے درمیان… اور سنو! وہ جس طرح تمہارے اوپر حکم چلاتی ہیں وہ تو مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہے۔ تمہیں نہیں لگتا کہ حد پار کر رہی ہیں وہ…‘‘

’’خاموش ہوجاؤ…! اب ایک لفظ بھی آگے مت بولنا‘‘ ناصر چیخ پڑا…!

’’کتنی بے حس ہو تم…! جذبات سے عاری… اور کیسی تعلیم حاصل کی ہے تم نے کہ ذرا تمیز نہیں ہے تمہیں بات کرنے کا… ادب لحاظ سب طاق پر رکھ دیا… کبھی سوچا تمنے کہ تمہارا یہ رویہ کتنا ہرٹ کرتا ہوگا انہیں‘‘ ایک درد سا اس کے اندر اتر آیا… لیکن شہلا کچھ نہیں سوچنا چاہتی تھی اسے تو جیسے اپنے اور ناصرکے درمیان صابرہ خاتون کا وجود برداشت ہی نہیں تھا۔ دونوں کے بیچ سرد جنگ سی شروع ہوگئی، آپس میں بات چیت بھی کم ہوگئی، دونوں کھنچے کھنچے سے رہنے لگے۔ کئی دن یوں ہی گزر گئے…!!!

اماں کی وجہ سے ناصر بات کو زیادہ بڑھانا نہیں چاہتا تھا، اس نے خود ہی شہلا سے بات کرنے کی پہل کردی۔ شہلا بھی شاید انتظار میں ہی تھی سو اس نے بھی زیادہ نخرے نہیں دکھائے۔ ماحول میں کچھ اچھی سی تبدیلی ہوئی تو ناصر کو بھی سکون کا احساس ہوا اور حالات کے بہتر ہونے کی آس بھی بندھ گئی۔

اس دن جب ناصر دفتر سے لوٹا تو خلافِ معمول شہلا کو اچھے موڈ میں دیکھ کر اسے اطمینان سا ہوا۔ سوچنے لگا کہ شاید شہلا کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے۔ رات کے کھانے سے فارغ ہوکر اپنے کمرے میں پہنچا تو شہلا کو منتظر بھی پایا۔ ادھر کافی دنوں سے وہ دیکھ رہا تھا کہ جب وہ بیڈ روم میں آتا تو شہلا اسے سوئی ہوئی ملتی… نہ معلوم سو جاتی تھی یا سوجانے کا ناٹک کرتی تھی… وہ دل ہی دل میں خوش ہوگیا ’’کیا بات ہے بھئی آج تو تم جاگ رہی ہو، کیا ہمارا انتظار ہو رہا تھا؟‘‘ اس نے شرارت سے شہلا کی طرف دیکھا!!!

’’ہاں ناصر! میں کئی دن سے سوچ رہی تھی کہ تم سے بات کروں لیکن تم ناراض تھے تو میری ہمت ہی نہیں ہوئی‘‘ بڑی ادا سے اس نے ناصر کی طرف دیکھا۔ ’’ہاں تھا تو ناراض… لیکن اب نہیں ہوں… بتاؤ کیا بات ہیَ‘‘ ناصر غلطی میری بھی ہے اتنے دنوں میں بھی تم سے دور دور رہی…‘‘ تو اب قریب آجاؤ کس نے روکا ہے؟ وہ اسے اب اور شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا صرف یہی چاہتا تھا کہ شہلا ماں کے رشتے کی نوعیت کو سمجھ لے ان کی عزت کرے ان سے محبت کرے بس! ’’ہاں تو تم کیا کہنا چاہ رہی تھیں کہو نہ …! دل کی بات بتانے میں اتنی شرم کیوں؟؟؟‘‘ وہ اسے چھیڑ رہا تھا۔

ایک قاتل ادا سے شہلا نے ناصر کے گلے میں اپنی باہیں ڈال دیں اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی‘‘ ناصر کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم اماں کو واپس ’آشیانہ‘ پہنچا دو…!!!‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
افشاں ملک

Leave a Reply