خواتین سے امتیازی سلوک میں خواتین کا کردار

ٹی وی ہو یا اخبار، کوئی نہ کوئی ایسی خبر سامنے آہی جاتی ہے، جس میں کوئی خاتون گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہے توکہیں جہیز نہ لانے پر بیٹی کو مار دیاتا ہے۔ خواتین پر ظلم کی کہانی نئی نہیں بل کہ برسوں سے چلی آرہی ہے اور آج کے اس جدید دور میں بھی، جسے ہم ’’ماڈرن ایج‘‘ کہتے ہیں، یہ قضیہ اٹھائے ہوئے ہے۔ ایسے بہت سے قصے سننے میں آتے ہیں کہ جن میں مرد ظالم اور عورت ہمیشہ مظلوم نظر آتی ہے لیکن کیا یہ بات درست ہے، کیا ہر جگہ مرد ہی ظالم ہے، کیا ہر دور میں عورت ہی ظلم سہتی رہی ہے اور قصور وار صرف مرد ہے؟

خاتون ہونے کے باوجود دل کبھی اس بات پر پوری طرح مطمئن نہیں ہوا۔ بہت جگہوں پہ مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ مرد اتنا ظالم و جابر نہیں بلکہ اکثر اوقات خواتین کی اپنی ہی سوچوں کی وجہ سے مرد کی حکم رانی کا جذبہ غالب آگیا ہے۔ خواتین پر مظالم کا ذمہ دار اگر مرد ہے، تو اکثر وہ خود یا اس جیسی اور خواتین بھی اس کی وجہ ہوتی ہیں۔

اگر حالات پر ایک نظر ڈالی جائے تو بہت سے حقائق کا انکشاف ہوتا ہے۔ گھریلو تشدد کی بات کی جائے تو زمانہ جاہلیت سے لے کر آج تک بہت سے مرد خواتین پر ہاتھ اٹھانے کو مردانگی سمجھتے ہیں۔ یہ حق انہیں کون دیتا ہے؟ زیادہ تر خواتین خود۔ اگر ایک مرد عورت پر ہاتھ اٹھاتا ہے، تو وہ خود بھی تو اپنے بیٹے کو اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھانے سے منع نہیں کرتیں۔ وہ یہ نہیں سوچتیں کہ میرے ساتھ ایسا ہوا تو کیوں نہ مین یہ روش ختم کرنے کی کوشش کروں اور اپنے بیٹے کو ایسی تربیت دوں کہ وہ ایک اچھا انسان، اچھا بیٹا ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا شوہر بھی ثابت ہو اور میرے جیسی آنے والی ایک اور عورت ظلم کا نشانہ نہ بنے۔ بارہا دیکھنے میں آتا ہے کہ ساس اور نندیں خود ساتھ مل کر بہوتشدد کا نشانہ بناتی یا بنواتی ہیں اور کہیں سب مل کر اپنی بہو کو زندہ جلا دیتے ہیں یا زہر دے کر قتل کر دیتے ہیں۔ کیا وہ خواتین نہیں ہوتیں؟ کیا وہ اس ظلم میں برابر کی شریک نہیں ہوتیں؟ کیا صرف اکیلا مرد ہی اس کا قصور وار ہے؟ بہت سی خواتین تشدد کا شکار ہونے کے باوجود اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتیں، اپنے حقوق کے لیے کوشش نہیں کرتیں اور اس تشدد بھری زندگی کو ہی اپنا مقدر تصور کر کے زندگی بسر کر دیتی ہیں اور آہوں اور سسکیوں کے ساتھ زندگی گزارتے گزارتے ایک دن اس جہانِ فانی سے کوچ کر جاتی ہیں۔ کیا وہ حق پر ہیں؟ کیا وہ اپنے ساتھ ہونے والے مظالم میں قصور وار نہیں؟

اس سائنسی دور میں، جہاں دنیا چاند پر پہنچ گئی اور دیگر سیاروں پر پاؤں رکھنے کے بارے میں سوچ رہی ہے، اس دور میں بھی بیٹی کی پیدائش کو پسند نہیں کیا جاتا اور بیٹی کی پیدائش پر خوشی نہیں منائی جاتی بلکہ کچھ گھرانوں میں تو سوگ کا سماں بندھ جاتا ہے، جیسے کوئی آفت آگئی ہو۔ خود گھر کی خواتین اس میں سب سے زیادہ ملوث ہوتی ہیں اور خود ہی لڑکی کی پیدائش کو اپنے لیے مسائل کا باعث سمجھتی ہیں۔ ابتدا سے ہی اس کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے، جیسے وہ ایک انسان نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بیٹیوں کو رحمت قرار دیا ہے اور ہم اسے زحمت سمجھتے ہیں۔ مرد و خواتین، سب کی بیٹیوں کے بارے میں ایک سی سوچ ہوتی ہے کہ بیٹیاں بوجھ ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب اللہ تعالیٰ ایک بیٹا پیدا کرتا ہے تو اس سے فرماتا ہے کہ جا اپنے باپ کا بازو بن اور جب ایک بیٹی کو پیدا کرتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ جا آج سے میں تیرے باپ کا بازو ہوں۔‘‘ جس کے والد کا بازو بننے کا ذمہ خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے اٹھایا ہو کیا وہ کسی پر بوجھ ہوسکتی ہے۔

اس لیے سب سے پہلے خواتین کو خود یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بیٹی ہو یا بیٹا، دونوں برابر ہیں، ایک نعمت ہے تو دوسری رحمت۔ اگر خواتین اس بات کو تسلیم کرلیں تو مسائل کافی حد تک کم ہوجائیں۔ رسولِ اکرمؐ نے ایک اور جگہ فرمایا جس عورت کے پہلی بیٹی ہو، وہ خوش نصیب ہے۔‘‘

اگر کوئی عورت بیوہ ہوجائے یا اس کو طلاق کا سامنا کرنا پڑے، جب کہ وہ جوان ہی ہو، تو اس کی دوسری شادی نہیں ہو پاتی۔ اس کی شادی کرنے کے بارے میں اگر سوچا جائے، تو خواتین ہی کہتی ہیں کہ کیا لڑکیاں مر گئیں کہ ہم بھائی یا بیٹے کی شادی بیوہ یا مطلقہ سے کریں؟ اگر کوئی اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرلے یا اسے طلاق ہوجائے تو خواتین ہی طرح طرح کی باتیں بناتی ہیں کہ خود ہی بری ہوگی، کوئی غلطی کی ہوگی یا کہیں کوئی اور چکر ہوگا۔ مردوں کو اپنے کام سے اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ وہ ایسی باتیں کرسکیں، اس لیے خواتین کو بدنام کرنے میں زیادہ تر خواتین کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتیں کہ کبھی ان کے ساتھ یا ان کی بیٹی کے ساتھ ایسا ہو جائے۔۔۔ تو؟

جہیز ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکا ہے، جس کی بدولت بہت سی لڑکیوں کے سر میں چاندی اتر آتی ہے مگر ان کی شادی نہیں ہو پاتی کیوں کہ ان کے والدین جہیز دینے کے قابل نہیں ہوتے۔ جہیز لینے میں جتنے قصور وار مرد ہیں، اس سے کہیں زیادہ خواتین ہیں۔ وہ ایک ماں، ایک عورت ہوکر دوسری عورت کو اشیا کے پلڑے میں تول کر گھر لانا چاہتی ہیں۔ کیا وہ اپنے بیٹے کو یہ نہیں سمجھا سکتیں کہ وہ پہلے اس قابل ہو کہ ایک لڑکی کی مکمل ذمہ داری اٹھا سکے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ لڑکا اپنی استطاعت سے بڑھ کر کرے، صرف اتنا کہ وہ لڑکی والوں سے کچھ لیے بنا ہی اسے ضروری اشیا مہیا کر سکے۔ کیا ہمارے گھر کی خواتین اپنے بیٹوں اور بھائیوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں کہ دینے والا اللہ تعالیٰ ہے تم سسرال سے جہیز کے بجائے اللہ تعالیٰ سے ستغنا طلب کرو۔ اور اگر ایسا کروگے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ہر چیز سے بے نیاز کر دے گا۔

ہماری بیٹی کے سلسلے میں تو خواہش یہ ہوتی ہے کہ داماد اسے رانی بنا کر رکھے مگر بہو کے سلسلہ میں خواہش اور رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نوکرانی بن کر رہے۔ گھر کے ہر فرد کی خدمت کرے اور سب کو خوش رکھے۔ مگر خدمت کی توقع بلکہ حق جتانے والے یہ نہیں سوچتے کہ وہ بھی انسان ہے اور اسے بھی آرام اور سکون درکار ہے۔

ہمارے اپنے ہی دوہرے معیار، اصل میں ہم پر ہونے والے مظالم کی اصل وجہ ہیں۔ خواتین خود کو مرد کے ہاتھ کا کھلونا بنانے میں خود ذمہ دار ہیں اور پھر اپنی مظلومیت کا رونا روتے ہوئے صرف یہی کہتی ہے کہ مرد ظالم ہیں جب کہ اصل ظلم تو خود پر ہم خواتین خود ہی کرتی ہیں۔ کیا مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر، جلتے کڑھتے رہنا اور آنسو بہانا ہی عقل مندی ہے یا ہم اپنی سوچ اور اپنے عملی رویوں میں بھی کسی قسم کی تبدیلی کے خواہش مند ہیں؟lll

شیئر کیجیے
Default image
غزل اعظم

Leave a Reply