بغض اور حسد

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’حسد سے بچو کیوں کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے، جس طرح آگ خشک لکڑیوں کو کھالیتی ہے۔‘‘ (ابوداؤد)

حسد کیا ہے؟

حسد یہ ہے کہ اگر کسی کو کوئی نعمت حاصل ہو تو وہ آدمی کو بری لگے صرف بری نہ لگے بلکہ وہ یہ چاہے کہ یہ اس سے چھن جائے۔

حضرت آدم و ابلیس کے واقعے میں کبر کا مظاہرہ سامنے آتا ہے۔ شیطان نے کہا کہ میں آدم سے بہتر ہوں تو اسے کس طرح سجدہ کروں؟ تونے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا۔ اس میں جہاں کبر ہے وہیں حسد بھی ہے۔ اپنے مقابلے میں دوسرے کو بڑا دیکھ کر، دوسرے کی کوئی اچھائی یا اس کو ملی نعمت دیکھ کر اس پر غصہ اور ناراضی بھی ہے۔ اگر اس پر شیطان نے چیلنج کیا کہ نعمت حاصل ہوگئی ہے تو میں اس سے چھیننے کی کوشش کروں گا۔ دائیں سے بائیں سے آگے سے پیچھے سے آؤں گا اور گھات لگا کر بیٹھوں گا اور جتنا بھی میں ان لوگوں کو گمراہ کر سکوں گا اور جنت سے نکال کر جہنم میں ڈال سکوں گا اس کے لیے کوشش کروں گا۔

حسد آدمی کے دل کے لیے اور اس کے نیک اعمال اور عبادات کے لیے مہلک ہے، جس سے نیک اعمال ’’کبر اور حسد، کی نذر ہوجاتے ہیں۔‘‘

آپﷺنے فرمایا! میں تمہارے اندر ان ہی برائیوں کو دیکھتا ہوں جو برائیاں تم سے پچھلی قوموں کے اندر ظاہر ہوئی تھیں اور وہ حسد ہے۔نیز اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: دشمنی اور کینہ حسد کا نتیجہ ہے اور حسد استرے کی طرح ہے۔ یہ بال نہیں مونڈتا بلکہ پورے دین کو مونڈ کر صاف کر دیتا ہے۔ (ترمذی، احمد)

یہودیوں کو بھی اس بات کا حسد تھا کہ نبوت اور رسالت کی وہ نعمت جو بنی اسرائیل میں مسلسل چلی آرہی تھی وہ اسحق علیہ السلام کے بھائی اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں کیوں منتقل ہوگئی۔ ان کو اپنے دین پر، اپنی ہدایت پر، اپنی تورات پر، انبیاء کی نسل سے ہونے پر اور اپنی تاریخ پر بڑا ناز تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ یہ سب چھین کر دوسرے کو دیا جا رہا ہے تو حسد ان کے قبول حق کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔

انسانی تعلقات جب بھی بگڑتے ہیں وہ بنیادی طور پر دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھنے، حسد اور دشمنی کی وجہ سے بگڑتے ہیں۔ اسی کی وجہ سے آدمی غیبت کرتا ہے اور موقع ملتے ہی اس کو ذلیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے برخلاف کسی کے نیک اعمال کو دیکھ کر آدمی کا دل یہ چاہے کہ میں بھی ایسا ہی ہو جاؤں یا اس سے آگے بڑھ جاؤں، اللہ کو بہت محبوب ہے۔آپﷺ نے فرمایا: حسد صرف دو آدمیوں کے معاملے میں جائز ہے ایک وہ شخص جسے خدا نے مال دیا پھر اسے راہِ حق میں لٹانے کی توفیق بھی دی اور دوسرا وہ شخص جسے خدا نے حکمت سے نوازا اور وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔ (بخاری)

غیبت کے اندر بھی دوسرے اسباب کے علاوہ ایک سبب حسد ہوتا ہے۔

کیوں کہ آدمی کسی کی برائی پیٹھ پیچھے اس لیے کرتا ہے کہ کس طرح دوسروں کی نگاہوں میں اس کو گرائے۔ چناں چہ وہ اپنی دشمنی کے انتقام کے لیے اپنے نفس میں مخفی عداوت کی تسکین کے لیے برائیوں کو بیان کرتا ہے۔ غیبت جیسا بڑا جرم بھی حسد کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ حسد کا ایک سبب دنیا کی محبت بھی ہے اور یہ بہت سی خرابیوں کی جڑ ہے۔

حسد در اصل اللہ سے ناراضی کا اظہا ر بھی ہے۔ کوئی شخص بندے سے تو ناراض ہو سکتا ہے لیکن جس کے دل میں ایمان ہے وہ اپنے رب سے ناراض نہیں ہوسکتا۔

اگر دینے والا اللہ ہے تو اس سے ناراضی کیسی؟ او راگر ناراضیِ رب سے آدمی ڈرے تو کسی کو ملی نعمت پر آدمی حسد اور جلن کا شکار کیسے ہوسکتا ہے۔ یہی بات اللہ کے رسول کے اس قول سے واضح ہوتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:کسی کے دل میں حسد اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے۔ (نسائی)

حسد سے کیسے بچیں

حسد کا پہلا علاج یہ ہے کہ آدمی ہر بات اچھی طرح جانے اور سمجھے اور عمل کی کوشش اور مجاہد سے اس بیماری کو اپنے دل سے نکال دے۔ گناہوں کو ترک کرنے کا طریقہ اپنے ارادے اور کوشش کے سوا کوئی نہیں ہے۔

lجس کسی آدمی کے بارے میں یہ احساس پیدا ہو آدمی اس کے لیے اللہ سے دعائے خیر کرے۔ اے اللہ! اس کو خوب خوب عطا فرما ۔ قرآن میں ایک دعا سکھائی گئی ہے۔ رجمہ:اے اللہ تو ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے برے جذبات نہ پیدا ہونے دے۔

lآدمی جس کا دشمن ہو اس کے لیے دعا خیر ہی کرے، یقینا معاف کرنا نفس کو مارتا ہے اور یہ بڑا مشکل کام ہے۔ لیکن ہمارے ذہن میں رہنا چاہیے کہ اللہ سے بڑا معاف کرنے والا کون ہے؟ اس نے انسان کو پیدا کیا اس کی ضرورت کی ہر چیز بنائی مگر پھر بھی بندہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہے۔ کتنی بڑی ناشکری اور نافرمانی ہے یہ۔

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’نہ آپس میں حسد کرو اور نہ بغض کرو اور آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔‘‘

اگر ہم اسلامی اخوت اور بھائی چارے کی دینی اہمیت کو سمجھ لیں اور باہمی محبت کے اجر سے واقف ہوجائیں تو ہمارے دل بغض و حسد سے پاک ہوسکتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
غزالہ عامر

Leave a Reply