نئی قانون سازی کا دباؤ

گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں وزیر برائے ’وومین اینڈ چائلڈ ویلفیئر‘ محترمہ مینکا گاندھی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’میریٹل ریپ‘ کا تصور، جیسا کہ وہ دنیا بھر میں سمجھا جاتا ہے ہمارے ملک ہندوستان کے تناظر میں نافذ نہیں کیا جاسکتا۔‘ اس کے اسباب بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’تعلیم اور خواندگی کی سطح، غربت، سماجی اقدار و روایات، مذہبی عقائد اور شادی کو مقدس مذہبی بندھن سمجھنے کا تصور اس راہ کی رکاوٹ ہیں۔‘‘ محترمہ مینکا گاندھی کا یہ بیان دراصل حکومت کے اس موقف کی وضاحت تھی کہ انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 375 میں تبدیلی کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ مذکورہ دفعہ کے مطابق کسی مرد کا پندرہ سال یا اس سے زائد عمر کی بیوی سے جنسی تعلق قائم کرنا قانونی طور پر جرم نہیں ہے جب کہ میریٹل ریپ کا قانون شادی شدہ مرد کو اپنی بیوی سے مرضی کے خلاف جنسی تعلق قائم کرنے کو بھی ریپ قرار دیتا ہے اور اسے اسی طرح مجرم گرداننا چاہتا جس طرح عام ریپ کے مجرم ہوتے ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کی اس کمیٹی کے جواب میں کہی گئی تھی جو خواتین کے خلاف صنفی تفریق کے خاتمہ کے لیے عالمی سطح پر کام کرتی ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ سال ستمبر میں 150 سے زیادہ عالمی لیڈران کے سامنے اقوام متحدہ کے ادارے ’’یو این ڈیولپمنٹ پروگرام‘‘ کے ذریعے دیے گئے 17اہداف کو 2030 تک حاصل کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی۔

محترمہ مینکا گاندھی کے اس بیان کے ساتھ ہی ملک میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ’نام نہاد‘ تنظیموں اور اداروں کی جانب سے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں اور انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے ڈیولپمنٹ پروگرام کی سربراہ محترمہ ہیلن کلارک نے بھی کہہ دیا کہ اگر ہندوستان اپنے قانون میں اس کے مطابق تبدیلی نہیں کرتا تو وہ "Sustainable Development Goals” کے پروگرام کی، جس کو اس نے قبول کیا ہے، خلاف ورزی کرے گا۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہر ملک کو ایس ڈی جی کی روشنی میں اپنے قوانین پر نظر ثانی کرنی ہوگی اور یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ خواتین کو آگے بڑھاناچاہتے ہیں یا انہیں پیچھے لے جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ان ممالک کو واضح طور پر تنبیہ کی جو ابھی تک میریٹل ریپ اور گھریلو تشدد کو جرم بنانے کے لیے قانون نہیں بنا سکے۔ واضح رہے کہ ہندوستان اس سمت میں قدم پڑھاتے ہوئے کئی اقسام کے قوانین بنا چکا ہے جو خواتین کے تحفظ کے سلسلے میں کلیدی تصور کیے جاتے ہیں ان میں ’’گھریلو تشدد سے خواتین کے تحفظ کا قانون (D.V.Act 2005) اور کام کاج کی جگہوں پر خواتین کے تحفظ کا قانون 2013 وغیرہ شامل ہیں۔

اس بات سے سبھی لوگ واقف ہیں کہ اس وقت دنیا بھر میں خواتین کے خلاف تشدد اور جرائم کا سیلاب بلا خیز ہے جو دن بہ دن شدید تر ہوتا جا رہا ہے اور ان جرائم سے خواتین کا تحفظ انسانی حیثیت سے بھی لازمی ہے اور سماجی و معاشرتی پہلو سے بھی انتہائی ضروری ان کے لیے تحفظ اور انھیں کو آگے بڑھانے کی سوچ اس لیے بھی اہم ہے کہ دنیا بھر میں خواتین صدیوں سے صنفی تفریق کا شکار رہی ہیں اور ظلم و ستم کا نشانہ بھی۔ صنفی تفریق اور کسی بھی قسم کا غیر اخلاقی اور غیر انسانی سلوک خواتین کے ساتھ ناقابل برداشت ہونا چاہیے اور عورت فطری طور پر اس بات کی حق دار ہے کہ اسے عزت و وقار اور ہر سطح اور ہر جگہ پر تحفظٖ حاصل ہو ،مگر دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ عالمی سطح پر حقوق نسواں اور تحفظ نسواں کے لیے کام کرنے والے ادارے اور تنظیمیں، خواہ وہ سرکاری ہوں یا غیر سرکاری، پوری طاقت اس بات پر صرف کر رہی ہیں کہ گھریلو زندگی میں عورت کو حقوق و تحفظ دیا جائے۔ وہ دنیا کے سامنے یہ تاثر پیش کرنے میں لگی ہوئی ہیں کہ جیسے عورت کے لیے سب سے زیادہ غیر محفوظ جگہ اس کا گھر ہی ہے۔

مغرب اور ’’ترقی یافتہ‘‘ معاشروں کے بارے میں تو یہ بات درست ہے یا نہیں، ہم فیصلہ نہیں کرسکتے مگر مشرقی معاشروں میں یا ہندوستان جیسے ملک میں تو ہم مکمل شرح صدر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ عورت باہر کے مقابلے آج بھی گھر ہی میں سب سے زیادہ محفوظ ہے اور سب سے زیادہ ظلم و زیادتی کے واقعات اسی صورت میں واقع ہوتے ہیں جب وہ گھر سے باہر ہوتی ہے۔

اب رہی بات خانگی اور ازدواجی تنازعات کی تو وہ ایک فطری بات ہیں اور ان تنازعات کا بہترین اور باوقار حل گھر، سماج، معاشرے اور قانون سبھی کی ذمہ داری ہے۔ البتہ عالمی اداروں کی کوششوں اور دنیا کے کمزور ممالک کو نئی قانون سازی کے لیے مجبور کرنے سے اس بات کا شبہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے تحفظ نسواں کے پروگرام کے پیچھے کوئی خاص ایجنڈا رکھتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مغرب جہاں سائنس و ٹکنا لوجی کے میدان میں اپنی عظمت کو منوانے میں کامیاب ہوگیا ہے، اور یہ بجا طور پر اس کا حق بھی ہے، وہیں اب وہ دنیا بھر میں اپنی تہذیب و ثقافت کی برتری اور عظمت کو بھی منوانے کی کامیاب جدوجہد کر رہا ہے۔ اس کی تہذیب و ثقافت نے عورت کو آزادی دی ہے، اسے حقوق و اختیارات دیے ہیں اور اسے بے مثال مساوات کا بھی موقع دیا ہے۔ ہر وہ میدان جہاں مرد کام کرسکتے ہیں عورت بھی ان کے برابر کھڑی ہے اور ہر وہ کام جو مرد کر رہے ہیں عورت بھی انجام دے رہی ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عورت، عورت ہے اور مرد مرد۔ دونوں کا اپنا اپنا کردار اور رول سماجی، معاشرتی اور قومی ارتقاء میں مسلم ہے اور بہترین بات یہ ہے کہ دونوں اپنی اپنی ذمہ داریاں بہ حسن و خوبی اور توازن کے ساتھ انجام دیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ یوروپ اس وقت اس توازن سے دن بہ دن دور ہوتا جا رہا ہے۔ توازن یہ ہے کہ عورت اپنی خانگی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کسی بھی صورت میں کوتاہی نہ کرے اور مرد اپنی معاشی و سماجی ذمہ داریوں کو ذمہ داری کے ساتھ انجام دیتا رہے۔ مگر مغرب کے سامنے اس وقت اس کا ارتقاء ایک چیلنج بن گیا ہے اور مساوات اور حقوق کے نام پر اسے جس طرح سماج کی بنیادی یونٹ ’’گھر‘‘ سے دور ہونا پڑا ہے، اس نے ازدواجی زندگی کو کچے دھاگے کے مانند بنا دیا ہے۔ رشتوں کی حرمت ختم ہوگئی ہے، طلاق کی شرح بڑھنے سے آگے نکل کر اس مقام پر آگئی ہے جہاں لوگ شادی کے بنا ہی ’’ازدواجی جیسی‘‘ زندگی گزارتے رہتے ہیں اور اسے نام دیا گیا ہے ’’لیو اِن رلیشن‘‘کا۔

جنسی آسودگی مرد اور عورت کی فطری ضرورت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اس کی تکمیل کا ہر ذریعہ اختیار کیا جانا چاہیے اور اسے جائز ہونا چاہیے یہ اس سماج کی بنیادی قدر ہے۔ قمار بازی کو کاروبار اور قحبہ گری کو سیکس ورک کا نام دیا جا رہا ہے اور ہم جنس پرستی جیسے ملعون عمل کو LGBT کے نام پر قانونی طور پر جائز بنانے کے لیے دنیا بھر میں قوانین بنوائے جا رہے ہیں۔ مرد کی مرد سے اور عورت کی عورت سے شادی کو قانونی حق دینا کیسا ہے یہ تو ہر ذی ہوش سمجھ سکتا ہے مگر اس کے باوجود دنیا کو اس کی حمایت میں قانون بنانے پر مجبور کرنا مغرب کا تہذیبی اور ثقافتی بالادستی قائم کرنے کا ایک ذریعہ اور اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ضرور ہے۔

مغربی دنیا اور عالمی ادارے ڈومسٹک وائلینس ایکٹ اور میریٹل ریپ جیسے قوانین بنانے پر اس لیے زور دیتے ہیں کہ وہ ہمارے خاندانی نظام کو اسی مقام پر لانا چاہتے ہیں جہاں وہ خود کھڑے ہیں۔

’’ڈومسٹک وائلنس ہو یا میرٹیل ریپ‘‘ کا معاملہ اسلامی معاشرہ اور اسلام اس مسئلہ کو چٹکیوں میں حل کر دیتا ہے اور کہیں بھی ازدواجی تنازعات کو تشدد یا زیادتی تک جانے کا امکان نہیں چھوڑتا۔ وہ کہتا ہے: ’’ھن لباس لکم و انتم لباس لھن (ترجمہ: بیویاں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو) رسولِ پاکؐ نے ارشاد فرمایا: تم میں سب سے اچھا انسان وہ ہے جو اپنی بیوی کے لیے اچھا ہو اور میں تم میں اپنی بیویوں کے لیے سب سے اچھا ہوں۔‘‘

اسلامی تعلیمات کو دیکھئے کہ وہ میاں بیوی کے درمیان کس قسم کا تعلق رکھنے کی تلقین کرتی ہیں۔ جو لوگ اسلام کے ماننے والے اور رسول پاکؐ کی ہدایات پر عامل ہوں ان کے گھروں میں تشدد اور زیادتی کا امکان سرے سے نہیں ہے اور فطری تنازعات کے طویل ہونے کی صورت میں جو حل اسلام پیش کرتا ہے وہ احسن طریقے سے علیحدگی ہے جہاں تشدد کا گزر نہیں ہوسکتا۔

مغرب کیوں کہ خاندانی نظام کو توڑ بیٹھا ہے اس لیے اس کے یہاں عورت گھر میں بھی اسی طرح غیر محفوظ ہے، بلکہ اس سے زیادہ، جتنی باہر ہے اس لیے اس کی ضرورت ہے گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی جس کو وہ دنیا بھر میں نافذ کرنا چاہتا ہے۔ اسلامی معاشرے میں گھریلو تشدد کا کوئی گزر نہیں یہ بات عملاً مسلم سماج کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply