بایونک گرل

سات سالہ اولیو یا فارنسورتھ کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ بہ ظاہر نارمل دکھائی دینے والی یہ لڑکی ایک انتہائی نادر کیفیت یا مرض میں مبتلا ہے۔ جس نے بڑے بڑے ڈاکٹروں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اولیویا کونہ تو درد محسوس ہوتا ہے، نہ نیند آتی ہے اور نہ ہی بھوک اور پیاس لگتی ہے۔ وہ کئی کئی روز سوئے اور کھائے پیے بغیر گزار دیتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے وہ کار سے ٹکرا گئی تھی۔ اس حادثہ میں اسے شدید چوٹیں آئی تھیں مگر وہ ایک آنسو بہائے بغیر اپنے پیروں پر چلتی ہوئی اسپتال پہنچی تھی۔

اولیویا کی اس ’بہادری‘ نے ڈاکٹروں کو چکرا دیا ہے وہ یہ تو جان چکے ہیں کہ یہ معصوم سے بچی ایک نادر کیفیت میں مبتلا ہے، جو طبی اصطلاح میں Chromosome delitionosyndome کہلاتی ہے، مگر ایسا پہلی بار ہوا ہے جب اس کیفیت میں مبتلا مریض میں تینوں علامات یعنی بھوک پیاس، نیند اور تکلیف کے احساس کا غائب ہونا بہ یک وقت ظاہر ہوا ہو۔

اولیویا کی ماں نکی ٹریپک کا کہنا ہے کہ تکلیف کا احساس نہ ہونے کی وجہ سے اولیویا میں ڈریا خوف بھی نہیں ہے۔ جسم انسانی کی بنیادی ضروریات سے ماورا ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے اسے ’’بایونک گرل‘‘ کا نام دے دیا ہے، جب کہ نکی بھی اپنی بیٹی کو ’’فولادی لڑکی‘‘ کی عرفیت سے پکارتی ہے۔

اولیویا کے ایکسیڈنٹ کے بارے میں نکی بتاتی ہیں کہ میں اپنے بچوں کے ساتھ اس وقت سڑک کے کنارے پر تھی، ہمیں سڑک پار کرنی تھی، اچانک ہی اس نے قدم بڑھا دیے۔ وہ تیز رفتاری سے آتی ہوئی کار سے ٹکرائی اور دور تک گھسٹتی چلی گئی۔ یہ دیکھ کر ہم سب کی چیخیں نکل گئی تھیں۔ میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا تھا، میں بری طرح روتی ہوئی اس کی طرف بھاگ رہی تھی کہ اچانک وہ اٹھ کھڑی ہوئی، اور ہم سب کی طرف دیکھتے ہوئی بولی۔ کیا ہوا؟‘‘ اس کے ہاتھ پاؤں زخمی ہوگئے تھے۔ زخموں سے خون رس رہا تھا، مگر اسے تکلیف کا کوئی احساس نہیں تھا۔ میں نے اسے قریب ہی واقع اسپتال لے جانے کے لیے گود میں اٹھا لیا مگر اس نے کہا کہ وہ ٹھیک ہے اور پھر پیدل چل کر اسپتال گئی۔ نکی کے مطابق اس طرح کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں جب اولیویا کو زخم آئے مگر اسے درد کا احساس تک نہیں ہوا۔

اولیویا کو کھانا کھلانا بھی اس کی ماں کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں کیوں کہ وہ شکم سیری کے لیے کبھی کچھ نہیں مانگتی۔ اسے زبردستی اپنی بیٹی کو کھلانا پلانا پڑتا ہے۔

انسان اگرپوری نیند نہ لے تو اس پر تھکن طاری ہوجاتی ہے۔ مگر اولیویا مسلسل کئی روز تک بیدار رہنے کے باوجود ہشاش بشاش رہتی ہے۔ نکی کا کہنا ہے کہ اولیویا کو سلانے کے لیے ڈاکٹروں کی تجویز کردہ خواب آور ادویہ کھلائی جاتی ہیں۔

اس عجیب و غریب مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود اولیویا اپنے دوسرے بہن بھائیوں کے ساتھ نارمل بچوں کی طرح ہنستی کھیلتی ہے۔ تاہم بعض اوقات اسے شدید غصہ آتا ہے۔ اس وقت وہ اپنی ماں اور بہن بھائیوں کے ساتھ لڑنے جھگڑنے لگتی ہے۔

دنیا بھر میں کرو موسوم کی خرابی میں مبتلا رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد پندرہ ہزار ہے۔ ان میں سے محض ایک سو اس مرض کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر بیور لے سیرل کے مطابق جو سابق ماہر حیاتیات اور کروموسوم کے بگاڑ میں مبتلا افراد کی فلاح کے لیے قائم کردہ تنظیم ’’یونیک‘‘ کے چیف ایگزیکیٹو کہتے ہیں کہ کسی اور فرد میں اب تک اس بگاڑ سے پیدا ہونے والی تمام علامات بیک وقت ظاہر نہیں ہوئیں، جیسا کہ اولیویا کے معاملے میں ہوا ہے۔ ڈاکٹر بیورلے کہتے ہیں کہ یہ مرض یا کیفیت لا علاج ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

Leave a Reply