اپنا گھر جنت اگر … وہ صاف ستھرا ہو

ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں لیکن اپنے گھر جیسا سکون نہیں پاسکتے۔ گھر کے تمام افراد کا باہمی اشتراک ہی گھر کو جنت بناتا ہے، البتہ خاتون خانہ کا کردار زیادہ اہم ہوتا ہے۔ گھر والوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ گھر کو صاف ستھرا رکھنا بھی انتہائی اہم ہوتا ہے جسے قطعاً نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

بحیثیت مسلمان صفائی ہم پر فرض ہے اور یہ ہمارے ایمان کا بھی حصہ ہے۔ رسول اکرمﷺ نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے۔ آپﷺ نہ صرف صفائی کی تلقین کیا کرتے تھے بلکہ خود بھی صفائی کا خاص خیال رکھتے تھے۔

گھر کی صفائی کو بہت سی خواتین ایک کٹھن کام تصور کرتی ہیں جب کہ آپ کی تھوڑی سی محنت اور تدابیر سے اسے آسان بنایا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلے اپنے کام کے وقت کو مقرر کرلیں کیوں کہ بے وقت کے کام کاج سے نہ صرف کام میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ وہ بوجھ بھی بن جاتے ہیں اس لیے وقت پر کام کرنے کو اپنی عادت بنا لیں۔ جیسے ناشتہ کے فوراً بعد برتن دھولیے جائیں۔ سنک کو برتنوں سے نہ بھرا جائے۔ اس طرح آپ زیادہ برتنوں سے اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوں گی۔

بہت سی خواتین سارا دن کام میں لگی رہتی ہیں لیکن پھر بھی وہ صفائی سے مطمئن نہیں ہوتیں اور بارہا اس بات کا شکوہ کرتی نظر آتی ہیں کہ صفائی اچھی نہیں ہے۔ ایسی خواتین کو اپنے کام کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔ صفائی کو روز مرہ کی بنیاد پر کریں تاکہ گھر زیادہ گندہ نہ ہو۔ کم از کم باتھ روم روزانہ دھوئیں۔ ہفتہ میں ایک مرتبہ بیڈ شیٹس تبدیل کریں اور اسی دن جالے بھی صاف کریں۔ کھڑکیاں، دروازے اور سوئچ بورڈز بھی صاف کریں۔ اکثر خواتین ہفتہ کے کسی ایک دن سارے گھر کے کپڑے اکٹھے کر کے دھونے بیٹھ جاتی ہیں اور تھکاوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہفتہ میں دو یا تین مرتبہ واشنگ مشین لگائی جائے۔ ایک مرتبہ روز مرہ کے استعمال والے کپڑے دھو لیے جائیں اور دوسری مرتبہ پردے، بیڈ شیٹس، تولیے وغیرہ۔ کچن کی کیبنٹس وغیرہ کو بھی اچھی طرح صاف کریں۔ مہینہ میں ایک مرتبہ کچن کے تمام سامان کو باہر نکال کر اس کی صفائی کریں۔ پردے، صوفے کے کشن کو تبدیل کریں۔ الماری کی صفائی لازماً کی جائے۔ سال میں ایک مرتبہ گھر میں ڈسٹمپر یعنی رنگ کرایا جائے جس سے گھر زیادہ صاف ستھرا دکھائی دینے لگے گا۔ ہمارے ہاں لوگ اتنے امیر تو نہیں کہ سال میں دو یا تین مرتبہ رنگ کر اسکیں۔ البتہ سال یا دو سال میں ایک مرتبہ ضرور کرائیں، جن کے گھر چھوٹے بچے ہوں ان کی دیواریں جلد گندی ہوجاتی ہیں، جس سے سارا گھر گندا لگنے لگتا ہے۔ ڈسٹمپر یا پینٹ کرانے کے لیے رمضان سے پہلے والا مہینہ سب سے زیادہ بہتر ہے۔ اس کے بعد عید الفطر اور عید الاضحی جیسے تہوار آتے ہیں اور مہمانوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور آنے والوں کو آپ کا گھر خوب صورت دکھتا ہے اور آپ سبکی سے بھی بچ جاتی ہیں۔

بہت سی خواتین اچانک آجانے والے مہمانوں سے گھبرا جاتی ہیں۔ کیوں کہ اکثر گھروں میں چیزیں بے ترتیبی سے پڑی ہوتی ہیں۔ ایسے میں اچانک مہمان آجائے تو مشکل پیش آتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ چیزوں کو ہمیشہ ان کی مقررہ جگہ پر ہی رکھا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں زیادہ مسئلہ نہ ہو۔ لیکن جن کے گھر چھوٹے بچے ہوں وہ چاہ کر بھی جگہ پر چیز نہیں رکھ پاتے اور کچھ نہ کچھ بے ترتیبی پھیلی ہوتی ہے۔ ایسے میں آپ کو چاہیے کہ ڈرائینگ روم سیٹ کر کے اسے لاک کر دیا جائے تاکہ اگر کوئی مہمان اچانک ہی آجائے تو کم از کم ایک کمرہ تو ان کے لیے صاف ستھرا میسر ہو، اس کے علاوہ کچن اور باتھ روم کو بھی صاف رکھیں۔ اس سلسلے میں ایک مثل بھی مشہو رہے کہ گھر والی کا سلیقہ اس کے باورچی خانہ اور غسل خانہ سے معلوم ہوتا ہے۔

گھر کی صفائی میں کچن کی صفائی بہت اہمیت کی حامل ہے کچن میں موجود تمام اشیاء کو روز مرہ کی بنیاد پر صاف کیا جائے۔ چولہا، اوون اچھی طرح صاف کریں۔ کچن اس طرح بنوایا جائے کہ اس کے ہر کونے میں ہاتھ پہنچ سکے اور اس کی صفائی کی جاسکے۔ کچن کی شیلف کو پانی اور سرکہ میں بھیگے ہوئے کپڑے سے صاف کریں۔ اس سے نہ صرف شیلف چمکنے لگے گی بلکہ جراثیم سے بھی نجات ملے گی۔ سنک کچن کی ایسی جگہ ہے جسے بہت زیادہ صاف ہونا چاہیے کیوںکہ سب سے زیادہ جراثیم اسی حصے میں ہوتے ہیں۔ اسے چکناہٹ زدہ ہر گز نہ ہونے دیں۔ سنک میں برتن ہرگز نہ رہنے دیں۔ ان کو ساتھ ساتھ دھوتے رہیں۔ رات کو برتن دھوکر سوئیں۔ اگر تھکاوٹ کی وجہ سے کبھی برتن نہ بھی دھو پائیں تو ان میں ہڈیاں اور چھلکے وغیرہ نکال کر ترتیب سے رکھیں۔ رات کو سونے سے پہلے کھولتے ہوئے پانی میں ڈیٹول ڈال کر سنک میں ڈال دیں۔ اس سے نہ صرف چکناہٹ دور ہوگی بلکہ جراثیم کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔

کچن کے دروازوں یا ان کے قبضوں پر اگر زنگ لگ جائے تو ان پر مٹی کا تیل ڈال دیں اورپھر کپڑے سے پونچھ لیں۔ زنگ ختم ہوجائے گا۔ شیشے کے برتنوں میں چمک برقرار رکھنے کے لیے ان کو دھونے کے بعد صاف پانی میں سرکہ ڈال کر کھنگالیں۔ فرش کو فینائل سے دھوئیں تاکہ کچن میں کیڑے مکوڑے نہ آنے پائیں۔ بوتلوں سے گندگی دور کرنے کے لیے سرکہ اور نمک بوتلوں میں ڈال دیں آسانی سے گندگی دور ہوجائے گی۔ کچن کی الماریاں اکثر سخت ہوجاتی ہیں ان پر موم مل کر کئی مرتبہ بند کر کے کھولیں۔ مسالے والے ڈبوں کو بھی صاف کریں اور کیبنٹ میں گلاس، پلیٹیں اور چمچ ترتیب سے رکھیں تاکہ آپ کی غیر موجودگی میں بھی بہ آسانی مل سکیں۔ جراثیم جو کچن کی عدم صفائی کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں فوڈ پوائزن کا باعث بنتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں پایا کہ کسی بھی بیماری یا انفکشن کا بنیادی خطرہ کھانے پینے کی اشیاء سے ہے اور خوراک ہمیشہ تیاری کے دوران یا پانی لگنے کی وجہ سے زہر آلود ہوتی ہے۔ اس لیے کچن کی صفائی آپ اور آپ کے گھر والوں کو صحت مند رکھنے کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔

اس کے علاوہ باتھ روم کی صفائی بھی بے انتہا اہمیت رکھتی ہے۔ باتھ روم جو کہ پورے گھر میں جراثیم اور حشرات کا گڑھ ہے اگر اسے صاف نہ کیا جائے تو باقی کی گئی تمام صفائی بے کار ہے۔ باتھ روم کو روزانہ فینائل اور واشنگ پاؤڈر سے دھوئیں۔ صابن دانی میں پانی جمع نہ ہونے دیں۔ ہفتہ میں کم از کم ایک مرتبہ باتھ روم کی دیواریں بھی دھوئیں۔ بیسن کو بھی روزانہ فینائل سے دھوئیں۔ گھر کی صفائی گھر کو خوش نما دکھانے کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے بھی اشد ضرورت ہے۔ اپنے گھر کو صاف ستھرا رکھ کر اپنی سلیقہ شعاری کا ثبوت دیجئے اور اسے اپنے پیاروں کے لیے جنت کا گہوارہ بنائیے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
غزل اعظم

Leave a Reply