متوازن غذا کیوں ضروری ہے؟

غذا ہمارے جسم کی نشو و نما میں مدد دیتی ہے اور جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے۔ ایسی خوراک جس کو کھانے سے جسم کی نشو ونما بہتر طریقے سے ہو رہی ہو اور جسم کو درکار تمام اجزاء مل رہے ہوں، اسے متوازن غذا کہا جائے گا۔ وہ خواتین جو اپنے گھروں میں سب سے زیادہ وقت اپنے باورچی خانے کو دیتی ہیں، ان کے لیے متوازن غذا کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اب تو یہ غذا خاندان بھر کو فراہم کرنا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ خواتین سبزیوں، پھلوں، گوشت، اناج، دودھ اور دہی کو دسترخوان کا حصہ بنانے کے باوجود اس مسئلے پر کنفیوژن کا شکار ہیں بلکہ کہ وہ خود ایک بہتر ڈائیٹ سے ہی بے خبر ہیں۔ آگاہی نہ ہونے سے انہیں صحت کے کئی مسائل لاحق ہو رہے ہیں۔ اکثر خواتین گھروں میں جب کھانا پکاتی ہیں تو جہاں ان کو تمام افراد کی پسند و ناپسند کا خیال رکھنا پڑتا ہے وہیں وہ گوشت اور مرغن کھانے کو متوازن خوراک خیال کرتی ہیں۔ تاہم خواتین کو یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ صرف پروٹین، کاربو ہائیڈریٹس، آئرن اور چکنائی سے ہی اچھی صحت حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ ہمارے جسم کے مختلف عضلات، خلیوں، ہڈیوں، دماغ اور اعضا کو نشو و نما کے لیے مختلف قسم کے دیگر مادوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیں ساری چیزیں ایک خاص توازن سے کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ غذا متوازن نہ ہو تو جسمانی نشو و نما اور صحت پر منفی اثر پڑتا ہے۔ جب ہم اپنی غذا میں پروٹین، کاربوہائیڈریٹس یا چکنائی میں سے کسی ایک چیز کی زیادتی کرتے ہیں تو ہمارے جسم میں غیر مطلوبہ تبدیلیاں شروع ہوجاتی ہیں، اس میں موٹاپا، قبض، گردے یا دل کے مسائل شامل ہیں۔ ماہرین غذا، خواتین کو بہتر صحت اور غذا کے حوالے سے مشورے دیتے ہیں کہ دن میں کم از کم تین چار بار پھل و سبزیوں کا استعمال کسی نہ کسی طرح ضرور کریں۔ ان میں آئرن اور مختلف وٹامنز ہوتے ہیں تاہم ان سبزیوں کو تیز آنچ پر نہ پکایا جائے کیوں کہ اس سے ان کے اندر موجود غذائی اجزاء ختم ہوجاتے ہیں۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ان کو پکانے کی بجائے سلاد کے طور پر استعمال کیا جائے۔ عام طور پر متوازن غذا ہر شخص کی ضرورت ہے تاہم کچھ لوگوں کو ان کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً مخصوص بیماریوں اور مسائل کی وجہ سے اکثر خاص غذا ہی تجویز کی جاتی ہے۔ مثلاً ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے شکار افراد کی خوراک اور ایک نارمل انسان کی خوراک میں فرق ہوتا ہے۔ اسی طرح گھر کے بعض افراد کو جسم میں آئرن کی زیادتی کا مسئلہ در پیش ہوتا ہے۔ ایسے افراد کو سبزیوں اور پھلوں کا استعمال کم سے کم کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ایسی غذائیں جو کہ آئرن سے بھرپور ہوں وہ ایسے افراد کی صحت کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔

کئی افراد مشقت زیادہ کرتے ہیں، ان کے لیے زیادہ توانائی والی خوراک جب کہ اس کے برعکس طرز زندگی کے حامل افراد کو کم کیلوریز والی غذائیں لینی چاہیں۔ خواتین مردوں کے مقابلے میں نازک اندام ہوتی ہیں، ان کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے متوازن غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ چوں کہ قدرت نے عورتوں کو ماں جیسے رتبے سے بھی نوازتا ہے تو ایسی صورت حال میں غذا کی اہمیت ان کے لیے اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ جسمانی لحاظ سے اکثر خواتین کو خون کی کمی کا مسئلہ ہوتا ہے۔ حاملہ عورتوں میں خصوصاً اینمیا و آئرن کی کمی سے دوران زچگی نہ صرف مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ غذائی ضروریات پوری نہ ہونے سے بچے کی صحت پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ اس سے بعض اوقات بچہ کسی ذہنی و جسمانی معذوری کا شکار ہو جاتا ہے یا خود عورت اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ اس لیے گھروں میں عورتوں اور بالخصوص نوجوان لڑکیوں کی غذا میں آئرن و فولک ایسڈ اور پروٹین کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

آج کل خوراک کے لیے معاشرے میں ’’ڈائیٹ‘‘ کا لفظ استعمال ہو رہا ہے، جو فاقوں کے مترادف ہوچکا ہے۔ بعض خواتین وزن کو کم کرنے کے لیے یہ لفظ اور کئی خواتین بہترین خوراک کو ہی ڈائیٹ سمجھ لیتی ہیں۔ ہمارے ہاں میڈیا نے بھی ماڈلز کی کیٹ واک اور نت نئے فیشن کی دل دادہ لڑکیوں کو ڈائیٹنگ کے جنون میں گرفتار کر دیا ہے، ہر لڑکی کا خواب کترینہ کیف کی طرح خوب صورت بننا ہے، لڑکیاں راتوں رات کریش دائیٹ کرتی ہیں، یہ بھی مہلک عمل ہے۔ اس کو ڈاکٹروں نے نقصان دہ قرار دے دیا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ لڑکیاں وزن کم کرنے کے چکر میں جسمانی ورزش اور متوازن غذا کے بجائے کھانا پینا بالکل ہی چھوڑ دیتی ہیں۔

اس حوالے سے گائنا کالوجسٹ کا کہنا ہے کہ کئی لڑکیوں میں کھانے پینے کی بے احتیاطی سے ’’پی سی او ایس‘‘ (پولی سیٹک اووری سینڈروم) مرض بڑی تیزی سے پھیل رہاہے یہ عورت کے جسمانی نظام کا سخت دشمن ہوتا ہے۔ مناسب خوراک نہ کھانے اور خالی پیٹ ہونے سے بھی یہ مسئلہ بڑھ رہا ہے۔ اس مرض سے لڑکیوں میں شادی کے بعد بہت سی پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔ حمل میں بھی شدید مشکلات ہوتی ہیں، جو لڑکیاں وزن کم کرنے کی خواہش مند ہیں، ان کو ماہرین کی مدد سے غذائی چارٹ بنا کر اس پر عمل کرنا چاہیے۔ ایک ماہر غذا کم کیلوریز کی حامل غذاؤں کے علاوہ متوازن خوراک کا غذائی چارٹ بنا کر دے گا۔ اس سے ان کی صحت کو نقصان نہیں ہوگا۔

مچھلی، سبزیوں یا پودوں سے قدرتی طور پر حاصل ہونے والی چکنائی صحت کے لیے اچھی ہوتی ہے۔ اس لیے زیتون کا تیل، کینولا اور ویجیٹیبل آئل کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس کے برعکس مکھن، مار جرین اور گھی وغیرہ میں جمنے کی صلاحیت سے یہ شریانوں میں جمع ہوکر موٹاپے اور ہارٹ اٹیک کا سبب بنتی ہے۔ ہمارے ہاں رفتہ رفتہ ’’جنک فوڈ‘‘ کا فیشن بھی پروان چڑھ رہا ہے۔ ریستوران، برگر شاپ اور پیزا اشاپ ان ہی کے دم سے آباد ہیں۔ جنک فوڈ سے مراد ہلکے پھلکے کھانے ہیں لیکن ان میں غذائیت کم او رکیلوریز زیادہ ہوتی ہیں۔ غذا پر نمک چھڑکنا بھی ایک قاتل عمل ہے، یہ بند ہونا چاہیے۔

دیکھنے میں یہ بھی آتا ہے کہ ماہر غذا متعلقہ فرد کی عمر، جنس، آمدنی اور سرگرمیوں کو مدنظر رکھ کر غذائی چارٹ بناتا ہے۔ اس سے فرد کو صحیح معنوں میں فائدہ حاصل ہوتا ہے، ماہر غذا ڈاکٹر قیصر کا کہنا ہے کہ وزن کی کمی میں سبزیاں مفید ہوتی ہیں، یہ قدرتی طور پر کم چکنائی کی حامل ہوتی ہیں اور ان میں کیلوریز کی مقدار بھی کم ہوتی ہے لہٰذا اگر سلاد کے طور پر ایک پیالہ کھا لیا جائے تو یہ ایک چمچ آئل کی کیلوریز کے برابر ہوگا۔ سلاد کی شکل میں سبزیوں کا کھانا زیادہ مفید ہے، ہمارے جسم کو دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ چکنائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے تاہم ہمیں چکنائی کی اتنی ہی مقدار لینی چاہیے، جتنی ضرورت ہو۔ اگریہ زیادہ ہوجائے تو خون میں مضر صحت کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور جسم میں چکنائی جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ صورتِ حال ہمیں موٹا کرتی ہے، جس کا نتیجہ ذیابیطس بھی ہوسکتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شاہدہ پروین

Leave a Reply