طریقہ دعوت اور علمائے کرام

مسلمانوں کے اب تک غیر مسلموں کو دعوت دین پہچا نے کے، مختلف طریقے کار فرما ہیں ۔ مگر دیکھنے میں آرہا ہے کہ برادرانِ وطن میں ایسی کوئی بڑی تبدیلی نہیں آرہی ہے جیسی کہ ہم چاہتے ہیں،سیرت کے جلسوں میں کئی ایک بردارانِ وطن شریک ہوتے ہیں اور بڑے غورسے علماء اور دا نشوروں کی تقاریر بھی سنتے ہیں اور انکی حامی بھی بھرتے ہیں مگر انکے دلوں میں اسلام کو قبول کرنے کا داعیہ پیدا نہیں ہوتا ۔آخر کیوں؟ لیکن ہم ذاکر نائیک صاحب کے پروگراموں میں دیکھتے ہیں کہ دس دس آدمی اسلام قبول کرتے ہیں اورعلی الاعلان سب کے سامنے کلمہ پڑ ھتے ہیں لیکن بعد میں وہ اسلامی اصولوں پر کسقد ر عمل آوری کر پاتے ہیں اس کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔ سیرت پاک ﷺ میں ہم کوایک بات یہ بھی ملتی ہے کہ آپ نے غیر مسلم بادشاہوں کو خطوط لکھے ، لیکن ہم اس سنت پرعمل نہیں کر رہے ہیں غیر مسلم سر براہوں اور دانش وروں کو سیرت کے جلسوں میں بلاتے ہیں وہ بھی رسول ﷺ کی سیرت پر عمدہ تقاریر کرتے ہیں اور سا معین سے دادِ تحسینِ بھی حاصل کرتے ہیں ۔ مگر خود وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ سیرت پر اچھی تقریر کر دینے سے نجات نہیں ملتی بلکہ اسلام قبول کر کے رسولؑ کی سیرت پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر ہمارے علماء اور مسلم دانشور غیر مسلم اکا برین اور دانش ور سیاسی لیڈروں سے ذاتی طور پر ملاقات کرکے انفرادی طور پر اسلام کی دعوت دیں تو اس کا اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے ۔ مگر ہمارے علماء اور دانش وروں سے پتہ نہیں کیوں فرو گزاشت ہو رہی ہے ۔بڑے سیاسی اور مذہبی قائدین و کلاء، ڈاکٹر ز ، انجینئر اور پروفیسر ز کی لسٹ بنا کر اگر دعوتی کاموں کا آغاز کیا جائے تو چندسالوں میں اچھے نتائج نکل سکتے ہیں، خصوصاً پارٹیوں کے اندر جو فسطائی ذہنیت اور اسلام مخالف قائدین ہیں ان سے روابط بڑ ھائے جا سکتے ہیں۔ ہماری توانائی کا بڑ ا حصہ مسلمانوں میں صرف ہورہا ہے ، فرقہ پرستوں کے پھیلا ئے ہوئے زہر یلے پروپگنڈ ے کا اثر اس حد تک بڑ ھ گیا ہے کہ ہم رسول کریم ﷺ کی اس دعوتی سنت اور طریقہ کار کو اختیار کرنے میں تذ یذ ب کا شکار ہوگئے ہیں۔ مسلمانوں میںچند ایک ایسے گروپس ہیں جو برادران وطن میں پائے جانے والے شرک کو اور بڑ ھاوا دیتے ہیں اور توحید کے تصور کو پیش کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے ،سرکاری حلقوں میں جو مسلمان وزراء وغیرہ ہیں وہ تو انکے کلچر میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ وہ مندروں میں جانے اور وہاں دونوں ہاتھ جوڑ کر اپنی عقید ت کا اظہار کرتے ہیں۔ اب ایسے قائدین سے ہم کیا توقع کرسکتے ہیں کہ انھیں دین کی دعوت دیںگے اور شرک و بت پرستی سے منع کریں گے ۔آجکل انٹرنیٹ ، فیس بک ، واٹ سیپ، کے ذریعہ دین کی دعوت کو برادرانِ اسلام تک آسانی سے پہنچا یا جا سکتا ہے ۔ اُن کو استعمال کرنے کے لئے تھوڑی سی محنت کرنا ضروری ہے۔ آپ گھر بیٹھے پورے ملک کے مذہبی ، سیاسی ، سماجی قائدین سے ربط پیدا کر سکتے ہیں ، اور اُن کو اسلام کی دعوت پہنچا سکتے ہیں ۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر عبد الحمید مخدومی گلبرگہ

Leave a Reply