مسلمان ہونے کا مطلب

مسلمان جب سرزمین عرب سے باہر نکلے اور روم و ایران کی حدود میں داخل ہوئے تو ان کاصرف ایک ہی مقصد تھا کہ ’’ہم یہاں اس لئے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو تاریکی، گمرہی اور بندوں کی بندگی سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی بندگی میں داخل کریں، دنیا کی تنگی سے نجات دے کر وسعت و آسائش کی راہ دکھائیں، تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیںجن کے درمیان برادرانہ محبت قائم ہونی چاہئے۔ ہماری نظروں میں انسانوں کے درمیان تقسیم درست نہیں ہے، ہم انسانوں کی خود ساختہ اونچ نیچ کے قائل نہیں ہیں اور ہم انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے آئیہیں۔‘‘

ملکوں کو فتح کرنا، ریاستوں پر حکمرانی کر نا، مال و دولت کے انبار اور عیش و عشرت کی زندگی ان کا مقصد نہ تھے، وہ روکھا سوکھا کھا کر اورپھٹاپرانا پہنکر انسانوں کی خدمت کیا کرتے تھے، دنیا میں انسانیت کا دارو مداراس پر ہے کہ ہر آدمی دوسرے آدمی کی جان کا پاس و لحاظ رکھے اور ہر شخص دوسرے شخص کی حفاظت کا جذبہ و خیال رکھے۔ اللہ تعالی کے ہاں اسی قانون و نظام کے تحت کسی انسان کاناحق قتل بہت بڑا گناہ ہے اور ایک شخص کا بلاوجہ قتل پوری انسانیت کا قتل بتایا گیا ہے اور ایک جان کی حفاظت کو پوری انسانیت کی حفاظت بتایا گیا ہے۔ (سورۃ المائدہ ۔ آیت نمبر ۲۳) خاتم النبینحضرت محمدؐ کی شفقت اورمحبت و رواداری دوست، دشمن، کافر و مشرک، اور یہود و نصاری سب کے لئے عام تھی۔

تاریخ کے بہت سے مشہور واقعات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ جن کے متعلق حضورؐ نے فرمایا کہ عمر جس راستے سے گزرتے ہیں اس راستے کو شیطان چھوڑ دیتا ہے، میرے بعداگر کوئی نبی ہوتا تووہ عمر ہوتے تقریر کر رہے تھے فرمایا لوگوں! میری سنو اور مانو، اسے سنتے ہی ایک شخص فوراً کھڑا ہوا اور کہنے لگا’’ہم آپ کی بات کیسے مانیں، جو چادر تقسیم ہوئی تھیںوہ چھوٹی تھیں اس میںکسی طرح آپ کا اتنا لمبا کرتا نہ تیار ہو سکتا تھا پھر بھی میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے جسم پر اسی چادر کا بنا ہوا کرتا ہے آخر اتنا زیادہ کپڑا کہاںسے آیا؟ جب تک مجھے اس سوال کا جواب نہ ملے گا میں آپ کی بات نہ سنوں گا اور نہ ہی کہنا مانوں گا حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ کی طرف اشارہ کیا وہ اٹھے اور اس شخص کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا تم صحیح کہہ رہے ہو وہ چادر واقعی اس لائق نہ تھی کہ اس میں اتنا بڑا کرتا بن سکے لیکن میں نے اپنے حصے کی چادر بھی امیر المومنین کو دے دی تھی جسے ملا کر کے ان کا یہ کرتا تیار ہوا ہے یہ سن کر وہ شخص مطمئن ہو گیا اور پھر کہا کہ فرمائیے اب آپ جو کہیں گے اسے سنوں گا اور مانوں گا بھی۔ ایک موقع پرجنگی حالات نے یہ صورت پیدا کر دی کہ مسلمانو ںکو اپنی پوری طاقت سمیٹ کر محاذ پر لے جانے کی نوبت آگئی، حمص میں حفاظتی محصول وصولا جا چکا تھا جب حالات ایسے ہو گئے کہ امیر مسلم حمص سے اپنے تمام سپاہیوں و لشکر کو لے جانے لگا تو اس نے شہر کے باشندوں کو جو کہ عیسائی مذہب کو ماننے والے تھے بلا کر کہا ہم نے تم سے کچھ رقم اس لئے وصول کی تھی کہ تمہاری حفاظت کا انتظام کریں لیکن اب ایسے حالات درپیش ہیں کہ ہمارے لئے تمہاری حفاظت دشوار ہے اس لئے ساری وصول شدہ رقم تمہیں واپس کر رہے ہیں، حمص کے عیسائی باشندوں کو امیر کے اس جملے اور اقدام نے اتنا متاثر کیا کہ ان کی زبان سے بے اختیار نکل پڑا کہ خدا وہ دن جلد لائے کہ آپ لوگ پھر ہمارے شہر میں تشریف لائیں۔

اس قسم کے واقعات تاریخ میں بکثرت موجود ہیں۔ خلفاء راشد ین اور دور اولین کے مسلمانوں کا یہی وہ نقطۂ نظر اور طرز عمل تھا جس کے باعث وہ جہاں بھی گئے وہاں فرشتہ رحمت سمجھے گئے، ان کی آمد ایک رحمت سمجھی گئی نہ کہ زحمت، اور ہر مذہب و ملت کے لوگوں نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لے کر ان کا دل کھول کر استقبال کیا۔

مسلمان اگر حقیقی طور پر مذہب اسلام کے پیروکار ہوتے، ان کے قول وفعل میں بھی اسلام کی جھلک اور تصویر ہوتی تو ان کے خلاف ناگواری میں کمی ہوتی اور جب غیر مسلمین کو ان کے عمل و اقدار سے یہ پتہ چل جاتا کہ مسلمانوں کا وجود ان کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ ان کے لئے مفید ہی ہے تو پھر ان کی مخالفت ختم ہو جاتی اور ان کو وہ گلے سے لگانے کو تیار ہو جاتے لیکن ہمارے معاملات نے ہم کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا، دنیا کے کسی بھی خطے میں ہمارا کیا مقام ہوگیا ہے یہ کوئی بھی بہ آسانی مشاہدہ کر سکتا ہے۔ اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جس سے ہندوستان کی اکثریت کے ایک بہت بڑے طبقے کو اس سے شکایت و ناگواری ہے اور بہت حد تک مسلمانوں پر اعتماد بھی نہیں ہے۔ بلکہ اس مذہب سے بھی ان کو اب نفرت ہونے لگی ہے جس کے وہ نام لیوا ہیں۔

موجودہ دور میں ان نامناسب حالات اور باد مخالف سے نمٹنے کے لئے مسلمانوں کو ہمت و استقلال اور بہت ہی دانشمندی و صبر سے کام لینا پڑے گا۔ تدریجی انحطاط جو ان کا بہت تیزی سے پیچھا کر رہا ہے کا بہت ہی گہرائی و سچائی سے مطالعہ کرنا پڑے گا اور جوش سے نہیں بلکہ ہوش سے کام لینا پڑے گا۔

ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ اسلام کی صحیح تعلیمات سے لوگوں کو واقف و روشناس کرنے کے لئے بیداری کی ایک مہم چلائی جائے تاکہ سب کو اسلام کی سچی تعلیم و تصویر معلوم ہو سکے، اپنے آپ کو صبر وتحمل کا خوگر اور رواد ار بنائیں تاکہ اپنی بات کہنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی بھی بات سننے و سمجھنے میں آسانی ہو، کسی کی دل آزاری اور ناگوار تنقیدوں سے سخت پرہیز کیا جائے،کسی کو بھی حقیر و کمتر نہ سمجھا جائے۔ اگر قرآن و حدیث کے مطابق زندگی گزاری جائے تو سب کچھ ممکن ہے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
عبد الرزاق الحافظ

Leave a Reply