موت سے ٹکراؤ

مجھے موت کا خیال بارہا آیا ہے۔ اور کوئی انسان ایسا نہیں جسے اس خیال نے کبھی نہ کبھی ستایا نہ ہو۔ ماں باپ کی انتہائی کوشش اور احتیاط کے بعد بھی گوتم بدھ کو اس خیال سے محفوظ نہیں رکھا جاسکا۔ کبھی کسی کے مرنے کی خبر یہ خیال زندہ کردیتی تو کبھی کسی گزرتے ہوئے جنازے پر نظر پڑ جاتی۔ بعض جنازے خوب صورت ہوتے ہیں اور بعض بھیانک۔ میں تقریباً دس سال ایک ہسپتال کے پیچھے ایک ایسے کمرے میں رہ چکا ہوں جس کے پیچھے وارثوں کو ہسپتال میں مرنے والوں کی لاشیں دی جاتی تھیں۔ جنازے وہیں تیار ہوتے۔ بہت سوں کی مذہبی رسمیں وہیں ادا ہوتی تھیں۔ کبھی صبح کبھی شام اور کبھی آدھی رات کو اچانک شور ماتم بلند ہوتا۔ شروع شروع میں یہ آواز کانوں کو ناگوار گزری اور منظر آنکھوں کو برا لگا۔ پھر آنکھوں نے دیکھنا اور کانوں نے سننا چھوڑ دیا۔ ایک دن میرے دو ڈھائی سالہ بچے نے خبر سنائی ’’اماں، اماں، آج بہت سے مردے لوگ جمع ہوئے ہیں۔‘‘ زندہ اور مردہ کا فرق انسان باشعور ہوکر سیکھتا ہے۔

بعض اوقات یہ بھی ہوا کہ جب موت کا خیال آنا چاہیے تھا، وہ نہ آیا۔ میں ناسک (مہاراشٹر) جیل میں تھا۔ میرے ساتھ تقریباً دو سو سیاسی قیدی بھی زیر حراست تھے۔ ایک بار دس گز کے فاصلے سے پولیس نے سیاسی قیدیوں پر گولی چلا دی۔ ہماری پشت پر بارک کی دیوار تھی اور سامنے بندوقیں۔ جب گولی چلی تو ایک لمحے کو یہ محسوس ہوا کہ میرا دل سینے سے پھسل کر زمین پر گر گیا اور پھر واپس آکر دھڑکنے لگا۔ ہمارے ساتھیوں میں کئی زخمی ہوئے اور ایک کی جان گئی۔موت کا خیال بارک کے اندھیرے میں اس واقعے کے بعد آیا جب چاروں طرف تالے پڑ چکے تھے اور ہم سب بیٹھے آپس میں اس واقعے پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ تب کی ہیجانی کیفیت نے موت کا خیال قریب نہیں آنے دیا تھا۔ شاید میدان جنگ میں سپاہیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس بھیانک رات نے میری شاعری کو نئے شعری پیکر عطا کیے:

رات کی آنکھ میں بارود کے کاجل کی لکیر

رائفل کرتی ہے فولاد کے ہونٹوں سے کلام

گولیاں کرتی ہیں سیسے کی زباں سے باتیں

دوسرا حادثہ اس واقعے کے چند سال بعد اسٹاک ہوم (سویڈن) میں پیش آیا۔ میں ایک کانفرنس میں شریک تھا۔ دسمبر کا مہینہ تھا، ایک پارک سے گزرتے ہوئے زندگی میں پہلی بار زمین پر جمی برف دیکھی۔ پیروں کے نیچے برف آنے کا احساس بہت عجیب و غریب تھا۔ ذرا فاصلے پر ایک چوکور ٹکڑا دکھائی دیا جس پر برف کی تہہ ذرا زیادہ دبیز تھی۔ میں نے بڑے شوق سے بڑھ کر اپنا پاؤں اس پر رکھ دیا اور ایک لمحے میں پانی کے اندر تھا۔

خیریت یہ ہوئی کہ اس زمین کی سطح کی برابر حوض میں اندر سے کوئی پائپ گزر رہا تھا۔ میرا پیر اتفاق سے اس پر ٹک گیا اور میں گلے گلے پانی میں کھڑا ہوگیا۔ موت کا خیال تو درکنار میرے جسم نے برفانی پانی کی ٹھنڈک تک کو محسوس نہیں کیا۔ قبل اس کے ٹھنڈک سے خون جم جاتا، میرے دوستوں نے مجھے باہر نکال لیا۔ بھیگے کپڑوں کے اندر خون نے تیزی سے دوڑنا شروع کیا اور جسم گرم ہوگیا۔ میں ٹیکسی میں بیٹھ کر ہوٹل واپس پہنچا۔ جب کپڑے بدل کر مشروب کی خوش ذائقہ تلخی سے اپنا وجود گرم کر رہا تھا تو موت کا خیال اس شکل میں آیا کہ اگر حوض کے اندر پائپ نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟

مجھے سب سے زیادہ شدت کے ساتھ موت کا خیال ۱۹۴۰ میں آیا، جب لکھنؤ ڈسٹرکٹ جیل میں ایک صبح بارک کے دروازے اس لیے تاخیر سے کھولے گئے کہ ایک مجرم کو پھانسی دی گئی تھی۔ پھر جب میں بنارس سنٹرل جیل میں تھا تو ایک رات ایک قیدی نے ہمارے سامنے تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا اور ہم کچھ نہ کرسکے اس وقت میں نے موت پر پہلی نظم کہی۔ چند سال بعد ممبئی میں ایک عزیز دوست کی بیوی کے انتقال نے موت کے احساس کو پھر شدید کر دیا۔ ایک اور نظم کہنے کے بعد میں نے اس احساس سے نجات پائی:

وہ جبیں جس پہ دمکتا تھا دہکتا ہوا چاند

سرد ہے اوس میں بھیگے ہوئے پھولوں کی طرح

جسم لکڑی کی طرح سخت ہوا جاتا ہے

ہاتھ میں خشک بیاباں کے ببولوں کی طرح

ایک بار بیمار ہوکر ہسپتال پہنچے تو اندھیرا ہوچکا تھا۔ کمرہ روشن تھا اور نرسوں کے چہرے بھی جو موت اور زندگی دونوں کے احساس سے بے نیاز معلوم ہوتے تھے۔ ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ حیدر آباد کے تربیت یافتہ ڈاکٹر تھے اور بڑی اچھی اردو بولتے۔ مجھے دیکھنے آئے تو غالب کے ایک مصرع سے مجھے تسکین دی:

’’شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک‘‘

اور مجھے پہلا مصرع یاد آگیا:

’’غم ہستی کا اسد، کس سے ہو جز مرگ علاج‘‘

میں سوچنے لگا کہ ڈاکٹر نے شاید جان بوجھ کر مجھے یہ شعر یاد دلایا تاکہ وہ بڑی حقیقت فراموش نہ ہوجائے جسے موت کہتے ہیں۔

میرے کان بچپن سے ان الفاظ کے عادی ہیں کہ موت برحق ہے، قبر برحق ہے، قیامت برحق ہے، حساب کتاب برحق ہے، زندگی خدا کی نعمت ہے… اور موت بھی خدا کی نعمت ہے اور یہ کہ کفران نعمت گناہ ہے۔ قرآن شریف کی یہ خوب صورت آیت جو میں نے بچپن میں لکھنؤ کے نہایت خوش الحان قاریوں سے سنی اور بار بار پڑھی، اسی حقیقت کو بیان کرتی ہے:

’’جو مخلوق زمین پر ہے، وہ سب فنا ہونے والی ہے۔ اور صرف تمہارے پروردگار کی ذات جو عظمت اور کرامت والی ہے، باقی رہے گی۔ تو اپنے مالک کی کن کن نعمتوں سے انکار کروگے؟‘‘ (الرحمن:۵۲-۷۲)

میرے حافظے میں یہ بات کہیں محفوظ نہیں کہ قرآن پاک کے علاوہ کسی اور جگہ یہ کہا گیا ہو کہ زندگی کی طرح موت بھی خدا کی نعمت ہے۔ لہٰذا انسان کو اس کی قدر کرنا چاہیے۔lll (مشہور شاعر، علی سردا رجعفری کی ایک سوانحی تحریر سے اقتباس)

شیئر کیجیے
Default image
علی سردار جعفری

Leave a Reply