میں بھول نہیں سکتی

زندگی میں کچھ واقعات، کچھ لوگ، کچھ مناطر ایسے ہوتے ہیں جو ناقابل فراموش ہوتے ہیں۔ سالہا سال بیت جانے کے باوجود بھی دل و دماغ ان کو بھول نہیں پاتے۔ یہ ایسا ہی واقعہ تھا۔ چھٹی کا دن تھا اور چھٹی کے دن بچوں کو گھمانے پھرانے کے بعد کسی فوڈ کورٹ یا ریسٹورینٹ میں لے جانا بہت عام ہوتا جا رہا ہے۔ وہ بھی ایک ایسا ہی دن تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک مشہور شاپنگ مال کے فوڈ کورٹ میں ایک سات آٹھ سالہ بچی ڈیڑھ سالہ بچے کو گود میں لیے گھوم رہی تھی۔ وہ حیرت سے اطراف میں بنے مختلف کھانوں کے اسٹالز اور دکانوں کو دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے کے تاثرات اور نگاہیں اس کی بھوک کو بیان کر رہی تھیں۔ وہ بار بار پلٹ کر اپنے مالک اور مالکن کی طرف دیکھتی کہ کب وہ کھانا لے کر آئیں گے اور وہ بھی اس سے لطف اندوز ہوسکے گی۔ چند لمحوں میں اس نے دیکھا کہ کھانا میز پر آچکا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر وہ تیزی سے میز کی جانب بڑھی۔ خاتون نے اپنے تین چار سالہ بیٹے کو برگر، فرنچ فرائز اور کولڈ ڈرنگ دی اور فرنچ فرائز کی ایک پلیٹ اس بچی کی جانب بڑھائی تو اس کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مگر اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پر مایوسی ٹپکنے لگی جب خاتون نے اس کی گود میں بیٹھے بچے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’یہ اسے کھلا دو۔‘‘

وہ چپ چاپ بچے کو فرنچ فرائز کھلانے لگی۔ خاتون اپنے تین سالہ بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے برگر اور فرنچ فرائز کھلا رہی تھیں۔ یہ دیکھ کر اس کی بھوک مزید بڑھ گئی۔ شاید اس سے زیادہ بے بس اس نے خود کو کبھی محسوس نہیں کیا تھا کہ ہاتھ میں فرنچ فرائز موجود ہونے کے باوجود خود اسے کھانے کی اجازت نہیں۔ چند لمحوں میں فرنچ فرائز کھا کر وہ بچہ دو بارہ گود سے اترنے کے لیے مچلنے لگا تو خاتون نے گارلک بریڈ کا ایک سلائس اس بچی کو دیا۔ بچی کے چہرے پر پھر خوشی کا رنگ چھا گیا مگر ساتھ ہی خاتون نے بچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’یہ اسے کھلا دو۔‘‘

وہ بچی چپ چاپ بے دلی سے بچے کو گارلک بریڈ کھلاتی، فوڈ کورٹ میں گھومنے لگی۔ چاروں طرف انواع و اقسام کے کھانے دیکھ کر بھوک اور بے بسی کے احساس سے اس کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔ میز پر بچا ہوا کھانا خاتون نے پارسل کروالیا تھا۔ بچے نے گارلک بریڈ مزید کھانے سے انکار کر دیا تو بچا ہوا آدھا ٹکڑا اس بچی نے اپنی مالکن کی جانب بڑھایا تو انہوںنے کہا ’’یہ تم کھالو۔‘‘ یہ سن کر اس بچی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

وہ لوگ فوڈ کورٹ سے نکل رہے تھے اور بچی ننھے بچے کو گود میں اٹھائے گارلک بریڈ کا وہ ٹکڑا کھاتی، سر جھکائے اپنے آنسوؤں کو چھپاتی ان کے پیچھے چل رہی تھی۔

مجھے آگے بڑھ کر اس بچی کے لیے کچھ کرنا چاہیے تھا مگر میں ہمت نہ کرسکی۔ لیکن یہ منظر جیسے میرے ذہن پر نقش ہوگیا۔

ملازمین اور چھوٹے بچوں کو سنبھالنے والی ان کم سن آیاؤں کے ساتھ ان کے مالکان کا رویہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے اور اس کا ایک بڑا سبب دین سے دوری ہے۔

رسول اللہﷺ نے اپنے آخری خطبے میں ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو! تم اپنے غلاموں اور نوکروں کی فلاح کے ذمے دار ہو، ان سے اچھا سلوک کرو، اگر وہ غلطی کریں تو انہیں معاف کردو، انہیں وہی کچھ دو جو تم خود کھاتے ہو اور پہننے کو وہی کچھ دو جو خود پہنتے ہو۔‘‘ احادیث مبارکہ میں بھی ہمیں یہی تلقین کی گئی ہے کہ ’’مومن وہ ہے، جو اپنے لیے پسند کرے وہی دوسرے کے لیے کرے۔‘‘

چند لمحوں کے لیے چشم تصور سے ان بچوں کی جگہ اگر ہم اپنے بچوں کو رکھ کر سوچیں تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ کھانے کی یہ تقسیم اور بے حس رویے دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے لگے۔ لیکن ہمارے دل اور نگاہوں پر بے حسی کی ایسی پٹی بندھی ہے کہ ہم انسانیت، عزت، محبت، ہمدردی جیسے جذبوں کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ جب کہ گھریلو ملازم بچے ہماری محبت وہمدردی کے زیادہ مستحق ہوتے ہیں کیوں کہ وہ عمر کے اس حصے میں ہوتے ہیں جو ان کے کھیلنے کودنے، لکھنے پڑھنے کی عمر ہوتی ہے، لیکن حالات کی مجبوری انہیں اس موڑ پر لے آتی ہے کہ وہ دوسروں کے بچے سنبھالنے، تلخ رویے اور ظلم برداشت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ماں باپ سے دور، غربت کے مارے یہ بچے ہمارے معاشرے کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

در حقیقت ہمارے دل اتنے سخت ہوگئے ہیں کہ ہمارے رویے کسی پر کتنے گراں گزرتے ہیں اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں۔ جب کہ ان بچوں کے جذبات، احساسات، دکھ اور تکلیف کا خیال رکھنا ان کے آجروں کا اولین فرض ہے، بصورتِ دیگر ہمیں شعر یاد رکھنا چاہیے:

تیرا انصاف فقط حشر پہ موقوف نہیں

زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے

شیئر کیجیے
Default image
مسز عادل

Leave a Reply