ہدایت نامہ برائے نئی دلہن

خاندانی نظام کی بنیادوں کو ہلانے کے لیے بہو کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ سسرال میں عام طور پر بہو ایک مظلوم سی شخصیت تصور کی جاتی ہے اور ساس سسر، بالخصوص نندیں ظالم زمین دار کی طرح۔ لیکن آج ہم سسرال کو ناک آؤٹ کرنے کے کچھ ایسے مشورے دینے جا رہے ہیں، جن پر عمل کر کے ایک بہو جلد اس قلعہ کو مسمار کرسکتی ہے۔

سسرال میں قدم رکھتے ہی بہو کو اگر آرام اور چین کی نیند سونا ہے تو اول دن سے ان باتوں کا خیال رکھنا پڑے گا:

صبح کو دیر تک سونے کی عادت ہے تو ہرگز بارہ بجے سے پہلے کمرے سے باہر نہ آئے، اگر جلدی آنکھ کھل بھی جائے اور ناشتے کی خواہش ہو بھی تو بہتر ہے کہ کمرے میں ہی اس کا بندوبست رکھے۔ ضروری نہیں کہ گھر کے سب افراد کے ساتھ ناشتہ کیا جائے اور خواہ مخواہ سلام و آداب کر کے ساس، سسر کو خوشی پہنچائی جائے۔

اب گھر کے کاموں میں بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ضرورت نہیں۔ آخر بہو کے آنے سے پہلے بھی تو گھر کے کام کاج ہو ہی رہے تھے، تو جہاں تک ہوسکے مہمان بن کے ہی گھر میں رہا جائے۔ کبھی کبھار ساس اماں کو دکھانے کے لیے شوہر کے آگے پیچھے رہا جاسکتا ہے تاکہ وہ سمجھیں کہ ان کے بیٹے کا خیال رکھنے والی بہو ان کا اچھا انتخاب ہے۔

گھر سے جب جانا ہو تو گھر والوں سے تذکرہ نہ ہی کیا جائے، کیا خبر کتنی دیر میں آنا ہو اور وہ انتظار ہی کرتے رہیں۔ شروع شروع میں شکوہ ہوگا لیکن آہستہ آہستہ وہ اس بے نیازی اور بدتہذیبی کے عادی ہو ہی جائیں گے اور یوں آنے جانے اور آزاد گھومنے پھرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی۔

سسرال کو اپنا گھر سمجھنے کی غلطی کبھی نہ کی جائے، خاص طور سے اگر کوئی رشتہ دار مہمان آجائے تو زیادہ خاطر تواضع یا گھل مل کے بیٹھنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ اس طرح بار بار آنے کی حوصلہ شکنی کرتی رہیں تو جلد رشتہ داروں سے فاصلے پیدا ہوجائیں گے اور مہمان داری کی زحمت سے بچا جاسکے گا۔

کچن کا معاملہ بھی بہت نازک ہوتا ہے۔ اگر یہاں کام میں مہارت دکھائی تو یوں سمجھو تمہارے حوالے۔ بس نادان بنے رہنے میں ہی عافیت ہے۔ بدمزگی ہوگی لیکن تمہارے لیے خوش گواری اسی میں ہے کہ بے حس اور ڈھیٹ بن کر سب کو کام کرتے دیکھو اور خود ہاتھ نہ بڑھاؤ۔

البتہ اگر چھوٹے دیور اور نند ہوں تو ان سے دوستی ضرور رکھنا۔ یہ تمہارا ادب و لحاظ کرتے ہوئے بھی تمہارا حکم نہیں ٹالیں گے۔ لہٰذا ان سے اچھی خدمت لے سکتی ہو۔ تحفہ تحائف دے کر اور کبھی سیر و تفریح پر ساتھ لے جاکر انہیں خوش رکھنا، اسی میں تمہارا بھلا ہے۔

سسرال میں بیماری، تکلیف کے موقعوں پر بھی بہت احتیاط برتنا ہوگی۔ مثلاً ساس سسر بیمار ہوں تو ایسا نہ ہو کہ تمہارے دل میں ان کی محبت جاگ اٹھے۔ ہمدردی کے چند بول ان کو توانائی دے سکتے ہیں۔

دل کو سمجھانا کہ یہ تمہارے ماں باپ تو نہیں جو تم ان کی تکلیف پر ہلکان ہوئی جا رہی ہو۔ یہ تو ان کی اولاد کا فرض ہے، آخر کس دن کے لیے پیدا کی تھی! پھر اگر دل نہ مانے تو کوئی بہانہ کر کے میکے چلی جاؤ۔

میکے جاتے ہوئے اپنے کمرے کی ہر چیز خوب دیکھ بھال کر بند ضرور کرلینا، کہیں کوئی استعمال نہ کرلے۔ الماری اور دیگر چیزیں لاک کر کے چابی اپنے ساتھ ہی لیتی جانا کہ یہ تمہاری ملکیت ہیں۔

سسرال میں نوکروں کے ساتھ بھی ایک خاص رویہ رکھا جاتا ہے، یہ بڑے کام کے لوگ ہوتے ہیں، چند ٹکوں میں تمہیں بہت ساری معلومات فراہم کردیں گے۔ ان کے ذریعے رشتہ داروں کے تعلقات کی نوعیت، خوشی و ناراضی کی وجوہات، اگلی پچھلی شکایتیں سب معلوم کی جاسکتی ہیں۔ یہ خوب بڑھا چڑھا کر بتائیں گے، لیکن کیا حرج ہے! کوئی سرا تو ہاتھ لگ ہی جائے گا۔ اس طرح خاندان کے کچھ راز، کچھ کمزوریاں تمہارے کام آئیں گی۔

ان ساری احتیاطی تدابیر کے بعد بھی اپنا مزاج ذرا برہم ہی رکھنا ہوگا کہ کبھی تمہاری مسکراہٹ یا خوش گفتاری سے کوئی اچھی توقعات نہ لگالے اور گھر کی فضا میں کوئی خوش گواری کھل جائے۔

ابتدا میں ضمیر کی چبھن ضرور پریشان کرے گی لیکن ایک مستحکم خاندانی نظام کی اس عمارت کو ڈھانے کے لیے یہ کڑوا گھونٹ تو پینا ہی ہوگا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ریحانہ شیخ

Leave a Reply