چھوٹے لوگ

غصے سے ان کے نتھنے پھڑک رہے تھے، وہ فون پر بلند آواز سے چلا رہے تھے: ’’اس معمولی سپروائزر کی یہ ہمت کہ میرے آرمی کو منع کرے! اس کو سمجھالو، اگر میں آیا تو اس کی خیریت نہیںہوگی۔‘‘ عادل صاحب گفتگو کرتے جا رہے تھے اور تیزی سے تیار ہو رہے تھے۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ فون سے نکال کر اسے ایک تھپڑ رسید کریں۔

بیگم عادل چائے کی ٹرے لیے کھڑی تھیں۔ انہوں نے ایک دو مرتبہ شوہر کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی، مگر وہ کچھ سن ہی نہیں رہے تھے۔ بالآخر فون بند ہوا تو بیگم عادل نے کہا: ’’چائے تو پی لیں۔‘‘

’’نہیں، دیر ہو رہی ہے۔‘‘

’’آپ کیا کریں گے وہاںجاکر؟‘‘ بیگم عادل نے پوچھا۔

’’آج تو خیریت نہیں، اس معمولی آدمی کی یہ ہمت؟‘‘ عادل صاحب ابھی بھی غصے میں تھے۔

’’معمولی آدمی کی یہ ہمت بلاوجہ نہیں ہوسکتی، آپ کسی بڑے آدمی کو اپروچ کریں، چھوٹے آدمی کے منہ لگنے کا کیا فائدہ؟‘‘ بیگم عادل نے نرمی سے کہا۔

’’بھئی بلڈر سے میں اجازت لے چکا ہوں، میرے سامنے اس نے اوکے کیا تھا۔‘‘ عادل صاحب جھنجلا کرکہنے لگے۔

’’تو پھر آپ کے بعد اس نے ضرور منع کیا ہوگا، چھوٹا آدمی بڑے آدمی کی شہ کے بغیر اتنی ہمت نہیں کرسکتا۔‘‘

عادل صاحب یکدم بیٹھ گئے، انہوں نے اطمینان سے چائے پی اور نمبر گھمانے شروع کردیے۔ یہ تو سامنے کی بات تھی، انہوںنے ایک فلیٹ خریدا تھا، ابھی آدھی پیمنٹ ہوئی تھی، بلڈر سے انہوں نے اجازت لے لی تھی کہ کچن کا کام کروالیں، اس نے سپروائزر کو ان کے سامنے ہدایت کی کہ عادل صاحب کے بندے کو کام کرنے دیں اور اب جب وہ سارا سامان لے کر پہنچا تو سپروائزر نے اچانک انکار کر دیا۔ عادل صاحب کو آگے گھر کا قبضہ دینا تھا، وہ جلد از جلد نیا گھر مکمل کروانا چاہتے تھے۔ نہ بلڈر کانمبر لگ رہا تھا نہ ٹھیکیدار کا۔ وہ خود سے بڑبڑا رہے تھے!‘‘ آخر اچانک ایسا کیا ہوگیا؟‘‘ لیکن یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی تھی کہ ڈوریاں کہاں ہلانی ہیں۔ بیگم کی فراست پر ان کا ایمان اور پکا ہوگیا۔ ویسے بیگم کی سمجھ داری کے تو وہ شادی کے پہلے مہینے ہی قائل ہوگئے تھے… کس سے کب بنانی ہے، کب بگاڑنی ہے، کس سے کتنی رکھنی ہے، کب رکھائی دکھانی ہے۔ بیگم نے پہلے ہی دن چارج سنبھال لیا۔ عادل صاحب ہلکے پھلکے ہوگئے۔ ’’ذہین عورت کے ساتھ رہنے کا اپنا سکھ ہوتا ہے۔‘‘ عادل صاحب کبھی کبھی انہیںکریڈٹ دیتے تو وہ خوشی سے نہال ہوجاتیں۔

اپنا گھر تکمیل کے مراحل میں تھا، بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے تھے، خاندان والے ان کی عزت کرتے تھے، ان سے محبت کرتے تھے۔ ایک عورت کو اور کیا چاہیے؟بس ان سے ملتے نہ تھے۔ ایک عرصہ تک خاندان میں ان کا طوطی بولتا رہا، ان کے مشورے کے بغیر نہ نندیں، نہ جیٹھانیاں کوئی کام کرتی تھیں، اور ساس تو ان کے گن گاتی تھیں۔ بس تین مہینے پہلے ان کا جیٹھانی کی بیٹی کی ہونے والی ساس سے ٹاکرا ہوگیا۔ جان پہچان دوستی میں بدل گئی، دو چار مرتبہ آنا جانا ہوا، اس دوران کسی وجہ سے انہوں نے رشتہ توڑ دیا۔ دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ جیٹھانی صاحبہ نے اس میں بیگم عادل کو بھی ایک وجہ قرار دے دیا، حالاں کہ انہوںنے سوائے اپنی تعریفوں کے کبھی کچھ نہ کہا تھا، مگر ظاہر ہے اپنی تعریفوں اور بڑائیوں میں انسان دوسروں کی برائیاں اور گھر کی بہت سی باتیں بھی کھول دیتا ہے۔ جب یہ باتیں کھلیں تو پتا چلا دو نندوں، دو جیٹھانیوں کو تو ان سے بہت سی شکایتیں تھیں۔ ساری زندگی کی قربانیوں کا یہ صلہ ملا کہ پورے خاندان نے ان سے ملنا ملانا کم کر دیا۔ کہاں وہ روز روز کے محبت بھرے فون، چھوٹے چھوٹے کاموں میں مشورے، بازاروں کے چکر… کہاں یہ کہ تقریبات کے علاوہ ملنا ملانا ہی نہ رہا۔ ’’کسی کی نظر لگ گئی‘‘ کبھی کبھی چائے پیتے بیگم عادل شوہر سے کہتیں۔ رونق لگی رہتی تھی، کبھی کوئی آجاتا، کبھی کسی کے گھر چلے جاتے تھے، بھرا پرا خاندان تھا، محبتیں تھیں۔ شام کے وقت اکثر بیگم عادل کو اداسی کے دورے پڑتے۔ تینوں بیٹے پڑھائی میں مصروف رہتے، شوہر کو چائے دیتے ہوئے انہوںنے کہا: ’’بھابھی بیگم میری ہر دلعزیز طبیعت سے ہمیشہ خار کھاتی تھیں۔ عینی اور عالیہ کو دیکھو بھابھی بھابھی کرتے ان کی زبان سوکھ جاتی تھی۔‘‘ حسب معمول انہوں نے دل کے پھپھولے پھوڑے۔

’’کیا نہیں کیا میں نے اس خاندان کے لیے؟‘‘ ان کی آواز میں تاسف تھا۔ کتنی عجیب بات ہے۔ انسان وہ آئینہ کہاں سے لائے جس میں اپنے باطن کا خبث دیکھ لے۔ رشتہ داریاں اور تعلقات عذاب بن جائیں اگر ان کے پیچھے واضح مقصد نہ ہو۔ عزت، مفاد، پیسہ، کس کو کہاں رکھنا ہے یہ بیگم عادل کو خوب پتا تھا۔ کس کو کھلانا ہے؟ کس کو سنانا ہے؟ معاشرے کے بھرم، آپس کی محبت کی داستانیں۔‘‘ کیسے خاندانی لوگ ہیں‘‘ … ’’بہت مل جل کر رہتے ہیں‘‘ لوگوں کے یہ جملے انہیں خوش کردیتے۔ بیگم عادل ببانگ دہل کہتیں ’’اس خاندان کو ملا کر رکھنے میں میرا بڑا ہاتھ ہے۔‘‘ دیکھا جائے تو انہوں نے قربانیاں بھی بہت دی تھیں، مگر یہ سوال تو انہوں نے خود سے بھی نہیں کیا تھا… کیوں؟‘‘

بے خدا تعلقات اور رشتہ داریاں ایسے ہی تکلیف دیتی ہیں۔ قائم رکھو تو بھی عذاب، چھوڑ دو تو بھی مصیبت۔ یہ انسان کے گلے کی وہ ہڈی ہے جو نہ نگلے بنتی ہے نہ اگلے۔

’’ہونہہ۔ رشتہ داروں کو تو منہ لگانا ہی نہیں چاہیے، دو چار اچھے دوست ہوں تو کافی ہو جاتا ہے۔ عدیل کے بیٹے کی سالگرہ پر دیکھا نہیں اس کے دوستوں نے کیا مہنگے مہنگے تحفے دیے۔‘‘ چائے کی پیالی کو منہ سے لگاتے ہوئے انہوں نے کہا۔

عادل صاحب کو ہنسی آگئی ’’مفت کے تحفے تھوڑی تھے، اس سے مہنگے تحفے تمہارے بھائی نے دیے ہوں گے۔ یہ تو کاروبار ہے، یہاں دو وہاں لو۔‘‘

’’دوستی میں چوائس ہوتی ہے، پسند آئے تو صحیح ورنہ ختم۔ رشتہ دار گلے پڑ جاتے ہیں۔‘‘ بیگم عادل کی سوئی اٹکی ہوئی تھی۔ ’’عینی کو فرج چاہیے، بھابھی کو فون کر دیا، حالاںکہ عالیہ ذرا ذرا سے مشوروں کے لیے مجھے فون کرتی تھی۔‘‘

’’اور تم اسے پوری دنیا میں نشر کردیتی تھیں۔‘‘ عادل صاحب نے تاسف سے کہا ’’اوریہی غلطی ہوئی…‘‘ بیگم عادل نے بھڑک کر کہا: ’’ہاں آپ اپنے خاندان والوں کی زبان بولنے لگے۔‘‘

عادل صاحب نے بیگم کا موڈ بدلتے دیکھا تو فوراً اخبار منہ کے آگے کرلیا۔ وہ دل میں تو سمجھ چکے تھے کہ بول کر گڑبڑ کردی۔ اب دو، تین دن ان کا موڈ آف رہنا تھا اور بہانے بہانے سے وہ ان قربانیوں کا ذکر کرنے والی تھیں جو انہوں نے عادل صاحب کے خاندان کے لیے دی تھیں۔ یوں تو وہ سمجھ دار آدمی تھے، بیوی کے معاملات سے الگ تھلگ ہی رہتے تھے، مگر آج نہ جانے کیوںمنہ سے نکل گیا۔ پھر اچانک انہیں جیسے کوئی خیال آگیا۔ انہوںنے بیگم سے کہا: ’’وہ جو اس دن میں بلڈر پر بہت غصے میں تھا تو تم نے کیا کہا تھا بیگم؟‘‘

’’ارے چھوڑیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے!‘‘ بیگم عادل کا منہ پھولا ہوا تھا۔

عادل صاحب نے چائے کی پیالی میز پر رکھتے ہوئے مدبرانہ انداز میں کہا: ’’چھوٹے لوگوں کی یہ اوقات نہیں کہ وہ آپ سے کوئی برائی کریں، جب تک اوپر والے کی شہہ نہ ہو۔ کمال ہے اتنی گہری اور سمجھ داری کی بات مجھے بتائی اور خود بھول گئیں۔ لوگوں کی کیا مجال کہ وہ تمہیں کوئی تکلیف، اذیت یا دکھ پہنچا سکیں یا تمہارا نام خراب کرسکیں جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہے۔ تم اپنے رابطے وہاں بحال کرلو، جیسے میں اس دن فون ملا رہا تھا ناں دھڑادھڑ، ایسے ہی کوشش میں لگ جاؤ۔‘‘ عادل صاحب نے خلوص دل سے کہا۔ ہر بات کا فٹافٹ جواب دینے والی خاتون ایک لمحے لیے چپ رہ گئیں۔ کمال ہے، بعض اوقات ہم دوسروں کو مشورے دیتے دیتے خود کو بھول جاتے ہیں۔ بیگم عادل کے لیے ایک ایسا ہی لمحہ تھا آگہی کا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
کاشف حسین

Leave a Reply