دلہن کی تلاش

ہماری کفالت امی جان نے کی۔ وہ ایک اسکول ٹیچر تھیں۔ والد صاحب کے بعد انہوں نے ہمارا بوجھ اٹھایا، جیسی میری والدہ تھیں۔ ایسی ماں کی مثال نہیں ملتی۔

بھائی تاجدار مجھ سے تین برس بڑے تھے۔ نیک لائق اور محنتی تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بینک میں آفیسر لگے تو ہمارے بھی دن پھر گئے۔ میں نے بی اے کرلیا تھا۔ امی مجھے اپنے گھر کا کرنا چاہتی تھیں، مگر میںنے کہا پہلے بھائی کی شادی ہونی چاہیے تاکہ میری رخصتی کے بعد والدہ اکیلی نہ رہ جائیں۔

آس پڑوس کی عورتوں نے بھی امی کو یہی صلاح دی بلکہ ایک محلے دار خاتون نے تو رشتہ بھی ڈھونڈ لیا۔ اصرار کر کے امی کو لڑکی دکھانے لے گئیں کہ چندے آفتاب چندے ماہتاب ہے۔ دوبارہ ایسا رشتہ چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے گا۔

میرے کہنے پر والدہ لڑکی دیکھنے چلی گئیں۔ پڑوسن نے سچ کہا تھا واقعی وہ لڑکی چندے آفتاب چندے ماہتاب ہی تھی۔ چراغ تو کیا، سورج لے کر بھی ڈھونڈو تو ایسی لڑکی نہیں مل سکتی تھی۔

لڑکی کا نام حسن افروز تھا۔ پہلی نظر میں میری ماں کو بھاگئی۔ یوں چٹ منگنی پٹ بیاہ ہوگیا۔ بھائی کے سہرے کے پھول کیا کھلے، دلہن پاکر وہ ہر وقت گلاب کے پھول کی طرح کھلے کھلے رہنے لگے۔

یہ شادی گرچہ امی جان کی پسند سے ہوئی تھی، مگر جب دلہا دلہن نے ایک دوسرے کو دیکھا تو یوں لگا جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک دوسرے کے لیے ہی بنایا تھا۔

کہتے ہیں جہاں خوشیاں پھولوں کی طرح نچھاور ہوتی ہیں وہاں غم بھی تاک میں رہتے ہیں۔ بھابی، تاجدار بھائی سے بہت محبت کرتی تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے پل بھر کو جدا رہنا گوارا نہ کرتے تھے۔ مگر خوشیوں کا یہ عرصہ مختصر تھا، دوسرے بچے کو جنم دیتے ہوئے حسن افروز بھابی نے اس جہاں کو ہی خیر باد کہہ دیا۔ زندگی ہی شاید اتنی تھی اور موت و حیات پر کسی کا بس نہیں چلتا۔ انہوں نے چھ سال بھائی جان کی رفاقت میں گزارے اور اپنی دو نشانیاں عامر اور شنیلا کے روپ میں ہمارے پاس چھوڑ کر راہی ملک عدم ہوگئیں۔

بھائی تو اپنی بیوی سے اتنی محبت کرتے تھے کہ دوبارہ شادی نہ کرنے کا عہد کرلیا۔ بھابی کی وفات کو چار برس بیت چکے تھے۔ اس عرصہ میں کون سا دن ہوگا جب انہوں نے ان کی یاد میں نیر نہ بہائے ہوں۔

والدہ اور میں نے مل کر ان کے بچوں کو سنبھالا، پالا پوسا… لیکن کب تک … امی کو میری شادی کی فکر تھی اور وہ خود بوڑھی ہو رہی تھیں، پہلے جیسی طاقت نہ رہی تھی۔ پوتے اور پوتی کی خاطر میری شادی کو اتنا عرصہ ملتوی کرنا پڑا تھا۔

انہوں نے بیٹے کے کان کھانے شروع کر دیے کہ اب تم دوسری شادی کر لو تاکہ عالیہ کو اس کے گھر کا کر سکوں۔ تمہاری بیوی آجائے گی تو گھر بار کے ساتھ بچوں کو بھی سنبھال لے گی۔

بھائی جان گرچہ دوسری شادی پر راضی نہ تھے مگر ماں کے اصرار سے مان گئے۔ تاہم ایک شرط رکھ دی کہ کسی بے سہارا لڑکی کو سہارا دیں گے جو لاوارث ہوگی، تاکہ اللہ تعالیٰ اس نیکی کے صدقے ان کے بچوں کی زندگی میں خوشیاں عطا کرے اور وہ سوتیلی ماں کے ستم کا شکار نہ ہوں۔

ان کا ارادہ نیک تھا مگر سوال یہ تھا کہ اب ایسی لاوارث اور بے سہارا لڑکی کہاں سے ڈھونڈی جائے… جو ایسی خصوصیات کی مالک بھی ہو کہ ان کے بچوں کو سگی ماں جیسا پیار دے سکے۔

لاوارث اور بے سہارا لڑکی کی تلاش میں ہم کچھ فلاحی اداروں میں گئے، لیکن مطلب کی لڑکی نہ ملی۔ کئی لوگوں سے بھی کہہ رکھا تھا۔ کہتے ہیں کہ جب ڈھونڈو تب مراد ملتی نہیں لیکن اکثر بن مانگے مل جاتی ہے۔ تلاش میں دو سال اور نکل گئے۔ میرے سر میں چاندی کے بال چمکنے لگے تو اماں گھبرا گھبرا کر ہر ایک سے کہنے لگیں۔ لڑکی کی عمر نکلی جاتی ہے، مگر میرے بیٹے کو ہوش نہیں خدا اسے ہوش کے ناخن دے۔ بہن بوڑھی ہو چلی ہے اور یہ ابھی تک اس سے اپنے بچے پلوا رہا ہے۔

عامر اب تیرہ سال کا ہو چکا تھا اور شنیلا میٹرک میں تھی۔ بھائی بھی عمر رسیدہ دکھائی دینے لگے تھے۔ یار دوستوں نے سمجھایا۔ میاں کس چکر میں پڑ گئے ہو، کسی شریف گھرانے سے رشتہ تلاش کرلو جو ضرورت مند ہوں۔ غریب اور یتیم بچیاں محض دولت نہ ہونے کے باعث غیر شادی شدہ رہ جاتی ہیں۔ کسی غریب گھر کی لڑکی کو بغیر جہیز بیاہ لانا بھی تو نیکی ہی ہوگی۔

انہی دنوں بھائی کے ایک بچپن کے دوست دبئی سے تشریف لائے۔ وہ بہت پیسہ کما کر لائے تھے۔ ایک روز ملنے آئے، بھائی کا مسئلہ سنا تو ان کو ایسی جگہ لے گئے، جہاں لاوارث لڑکیاں تو تھیں مگر ان کے سودے ہوتے تھے۔

دوست کا نام طارق تھا۔ طارق نے کہا… سہارا ہی دینا ہے تو ایسی کسی لڑکی کو عزت دو جو عزت کی زندگی جینے کو ترس رہی ہو مگر زبردستی گناہ کی دلدل میں دھکیل دی گئی ہو۔ اس سے بڑی نیکی اور کوئی نہیں ہوسکتی اور اس نیکی کا اجر اللہ تعالیٰ کے پاس ضرور گراں مایہ ہوگا، مجھے اس امر کا یقین ہے۔

طارق نے خود بھی ایک مظلوم اغوا شدہ لڑکی سے شادی کر کے اسے عزت کی زندگی دی تھی۔

طارق کی بات میرے بھائی کو متاثر کر گئی، وہ اس کے ساتھ اس بازار میں عیش و نشاط کی خاطر نہیں بلکہ کوئی مظلوم اور لاوارث لڑکی تلاش کرنے کو جانے لگے… کہ جو عزت کی زندگی بسر کرنے کی تمنائی ہو۔

ایک روز ان کو دلال نے ایک لڑکی دکھائی جو میرے بھائی کو بھلی لگی… وہ سترہ برس کی دوشیزہ تھی۔ گناہ گاروں کی بستی میں رہتے ہوئے بھی اس کے چہرے پر فرشتوں جیسی معصومیت تھی۔

جب تنہائی میسر آئی، بھائی نے نرمی سے کلام کیا… کسی شریف گھرانے کی لگتی ہو… نام کیا ہے تمہارا؟

آپ کو نام سے کیا کام… اس نے بے دلی سے جواب دیا اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ کب سے یہاں آئی ہو اور کب تک روتی رہوگی، ایسے تو آنکھیں کھو دو گی… بھائی نے ہمدردی سے بات کی مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا۔

دعا کرو… خدا تم پر رحم کرے۔

اب تو آپ کے رحم و کرم پر ہوں۔

ٹھیک ہے بولو کیا چاہتی ہو؟

آپ اپنے گھر ملازمہ رکھ لیں مگر میں یہ گندی زندگی نہیں گزارنا چاہتی۔

تم کہاں سے آئی ہو یا لائی گئی ہو اور کس کی بیٹی ہو؟

سب یہی پوچھتے ہیں میری آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر مگر مقصد وہی پورا کرتے ہیں جس مقصد کے لیے لاتے ہیں۔

میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں تم میرا یقین کرو… آرام سے بیٹھو اور بھروسے سے بات کرو میں تمہارے بھروسے کو ٹھیس نہیں پہنچاؤں گا۔

تم سے قبل بھی اس کانے دلال نے مجھے تین لڑکیاں دکھائیں۔ بہت خوب صورت تھیں مگر مجھے پسند نہیں آئیں جب کہ تم مجھے پہلی نظر میں اچھی لگی ہو۔

آپ کی مہربانی ہے، اب آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟

تمہارے حالات جاننا چاہتا ہوں اور تمہارا نام…

حالات میں نہ بتاؤں گی … نام انہوں نے نوشین رکھا ہے۔ لیکن میرا نام طیبہ ہے۔ طیبہ ہی پیارا نام ہے جو تم پر جچتا ہے۔ حالات نہیں بتاؤگی تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ یہاں اسی غرض سے آیا ہوں۔ کسی مظلوم لڑکی کا ہاتھ تھامنا چاہتا ہوں اس کو عزت دار زندگی دینا چاہتا ہوں۔

کیوں کیا کسی عزت دار گھرانے سے لڑکی نہیں ملتی؟

ملی تھی مگر موت نے اس کو مجھ سے چھین لیا، یہ ایسا گھاؤ ہے جو بھرتا ہی نہیں۔ اب میرے پاس اس کی امانت دو بچے ہیں جن کو ماں کی ضرورت ہے۔ میری اپنی ماں بوڑھی ہے وہ اب ان کی ذمہ داریاں نہیں نباہ سکتی۔ اس نے بہت غور سے بھائی کی بات سنی۔ پھر تاسف سے بولی۔

اب کیا ہوسکتا ہے؟

وہ سب کچھ ہوسکتا ہے، جس کی تمنا ایک عورت کو ہوتی ہے۔ اگر تم چاہو تو میں تم سے نکاح کرلوں گا اور تمہاری قیمت ادا کر کے یہاں سے لے جاؤں گا۔

آپ کے گھر والے کیسے برداشت کریں گے مجھ کو؟

یہ شادی میں والدہ کی اجازت سے کروں گا… اگر تم کو شرافت کی زندگی قبول ہے تو میں ان لوگوں سے بات کرتا ہوں۔ بھائی کی بات سن کر لڑکی کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا اور وہ خوشی سے رونے لگی … تبھی بھائی نے درمیان والے آدمی سے رابطہ کیا۔ وہ تھوڑی دیر میں آگیا اور سوال کیا… کیوں باؤجی کیا ہوا؟ معلوم تھا کہ یہ چھوکری ضرور بین کرے گی۔ ماتم کا ماحول بنا دیتی ہے اور گاہک کا دل خراب ہو جاتا ہے۔

ایسی بات نہیں ہے، منے میاں… لڑکی نے ماحول خراب نہیں کیا ہے اس نے ماحول بنایا ہے یہ ہمارے مطلب کی ہے۔ اب تم بتاؤ… کہ اگر ہم اس کو خرید کر نکاح کرنا چاہیں تو کتنی رقم ادا کرنا پڑے گی۔

یہ میں بائی جی سے پوچھ کر ہی بتا سکتا ہوں۔ کانے دلال نے جواب دیا… تو ابھی جاکر پوچھو اور آکر بتاؤ۔

وہ ترنت چلا گیا اور ایک گھنٹہ کے بعد لوٹ آیا۔ ساتھ ایک ادھیڑ عمر عورت بھی تھی، ٹھسے دار، ظاہر ہے یہی ’’بائی جی‘‘ تھی۔

بائی جی … آپ کو منے میاں نے ہمارا مدعا بیان کردیا ہوگا۔ آپ کیا کہتی ہیں؟ ہم تو صاحب اس چھوکری سے پہلے دن سے تنگ ہیں، ناک میں دم کر دیا ہے اس نے ہمارا، ہم خود چاہتے تھے کہ کسی طرح اس کو کوئی خرید ہی لے جائے تاکہ ہمارے وہ دام تو وصول ہوجائیں جو ہم نے اس پر ضائع کر دیے ہیں… ہم نے اس کو ایک لاکھ میں خریدا تھا۔

اچھا لو بائی اب کام کی بات کرو۔ کتنے روپے لوگی؟

دولاکھ میں … مگر نکاح بھی ہمارے سامنے ہوگا… ہم نہیں چاہتے آگے کوئی اس سے زبردستی دھندا کرائے، کیوں کہ جب ہم کسی لڑکی کو خرید لاتے ہیں، وہ ہماری اولاد کی طرح ہوجاتی ہے، اچھی نکلے یا بری… کماکر دے یا لگایا ہوا روپیہ غارت جائے۔ وہ ہماری بیٹی بن جاتی ہے اور خراب اولاد کو بھی کوئی کنویں میں نہیں دھکیلتا۔

ٹھیک ہے بائی جی… آپ رقم لیں جو شرط رکھیں، مگر ہماری بھی ایک شرط ہے کہ جب ان کانکاح ہمارے ساتھ ہوجائے گا، تب آپ سے ان کا رابطہ ختم ہوجائے گا۔ آپ کا پھر ان سے کچھ ناتا واسطہ نہ رہے گا۔ اگر آپ کو یہ بات منظور ہے تو ان کی اچھی زندگی کی دعا کیجئے، ہم سے رقم لیجئے اور ناتا ختم کیجیے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مصباح ناز

Leave a Reply