سناٹا

عارف اصغر کا نیا دوست تھا۔ اصغر اور عارف دونوں ایک پرائیویٹ فرم میں انٹرویو دینے گئے تھے اور دونوں ہی ملازمت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ تاہم ان کی یہ پہلی ہی ملاقات دوستی میں بدل گئی تھی۔ دونوں کا مشترکہ مسئلہ انہیں ایک دوسرے کے پاس لے آیا تھا۔ اب وہ دونوں ذہنی ہم آہنگی کے باعث پکے دوست بن گئے تھے۔

بعد ازاں ایک دن عارف اصغر سے ملنے اس کے محلے میں آیا۔ اصغر نے اس کا خوش دلی سے استقبال کیا۔ حال و احوال پوچھنے اور ادھر ادھر کی باتوں کے بعد وہ اسے چائے پلانے بازار میں لے گیا۔ دونوں دوست اپنی بیروزگاری اور ملک کے حالات پر باتیں کرتے رہے اور مستقبل کے حوالے سے منصوبے بناتے رہے۔ ہوٹل میں چائے پینے کے دوران انہوں نے دیکھا کہ ایک بڑے میاں چلتی سڑک سے بے نیاز سڑک کے بیچ میں گرے ہوئے کاغذ اور اخبار کے ٹکڑے اکٹھے کرنے میں مگن ہیں۔ یہ سب دونوں کے لیے بہت حیران کن تھا خاص طور پر بڑے میاں کا ہر چیز سے بے نیاز ہونا عجیب لگ رہا تھا۔ نئے دوست عارف نے اصغر سے پوچھا: ’’یہ بڑے میاں کیا کر رہے ہیں۔ سڑک پر گرے کاغذ کے ٹکڑے کیوں اکٹھے کر رہے ہیں؟ اور انہیں کسی چیز کا کوئی ہوش ہی نہیں ہے۔ آس پاس کی ٹریفک کو بھی کوئی اہمیت نہیں دے رہے۔ میرے خیال سے شاید اسلامی کاغذ ہوں گے جنہیں بے حرمتی سے بچانے کے لیے بڑے میاں ایسا کر رہے ہیں۔‘‘

’’ایسی کوئی بات نہیں۔ یہ ان کی عادت ہے۔‘‘ عارف نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا ’’حلیہ سے یہ پاگل لگتے ہیں۔‘‘

’’ہاں یہ پاگل ہی ہیں‘‘ اصغر نے مثبت جواب دیا۔ عارف نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا ’’پتا نہیں کن حالات نے انہیں پاگل کر دیا۔‘‘

’’کچھ تو ہوا ہوگا؟‘‘ اصغر نے کہا۔

’’ان کی کہانی میں جانتا ہوں۔ یہ کسی پرائیویٹ فرم میں ایک ملازم تھے۔ ان کا جنون تھا اخبار بینی اور کبھی کبھار اخباروں کے لیے آرٹیکل لکھنا۔ کئی اخبار ان کے گھر آتے تھے۔ یہ اپنے جنون کی وجہ سے سارا دن اخبارات میں گم رہتے۔ پھر ایک دن کسی وجہ سے ان کی نوکری چھوٹ گئی۔ روزگار چھن گیا تو ظاہر ہے کہ آمدنی کا ذریعہ نہ رہا۔ گھر میں تنگ دستی نے ڈیرا جما لیا۔ ان کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوا کہ گھر میں اخبار آنا بند ہوگیا۔ بڑے میاں کے لیے یہ سب ناقابل برداشت تھا۔ وہ اخبار کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔

اپنے اس جنون کو پور اکرنے کے لیے بک اسٹور پر جاکر اخبار پڑھنے شروع کر دیے۔ اسٹال والے کچھ عرصے انہیں برداشت کرتے رہے اور مفت میں اخبار پڑھنے پر کچھ نہ کہا لیکن پھر ایک دن وہ اخبار پڑھ رہے تھے کہ بک اسٹال کے مالک نے ان سے اخبار چھین لیا اور کہا اخبار پڑھنے کا زیادہ شوق ہے تو اخبار خرید کر پڑھو۔ میں اب یوں مفت اخبار پڑھنے نہیں دوں گا۔ ان کے ساتھ پہلے بھی ایک اسٹال پر ایسے ہی ہوچکا تھا۔ اس دن سے انہوں نے بک اسٹال کا رخ نہیں کیا۔ تب انہوں نے ایک نیا حل نکالا۔ وہ صبح صبح میوہ منڈی جاتے اور پھلوں کے کریٹوں سے نکلی ردی اخباروں کو گھر لے آتے اور پڑھتے رہتے۔ گویا پرانے اخبار یا ان کے ٹکڑے ہوتے مگر یہ میاں کا شوق پورا کرنے کے لیے کافی تھے۔ وہ اپنا شوق اسی طرح پورا کرتے ہیں۔ اسی طرح سڑک یا زمین پر گرے اخباروں کے ٹکڑے بھی اٹھا کر گھر لے آتے اور مزے سے پڑھتے رہتے ہیں۔ ایک دن انہوں نے سڑک کے درمیان گرا اخبار کا ایک ٹکڑا دیکھا وہ فوراً اس کی طرف لپکے مگر ایک تیز رفتار موٹر سائیکل سے ٹکرا گئے اور پتھریلے فٹ پاتھ پر زور سے سر لگنے پر اپنی یاد داشت کھو بیٹھے۔ کافی علاج کروایا مگر ٹھیک نہیں ہوئے۔ اس حادثے کے بعد بھی سڑک پر اخبار کے ٹکڑے جمع کرنے کا جنون ختم نہیں ہوا۔ یہ جنون جیسے ان کی روح میں سما گیا ہے۔ اب وہ اخبار پڑھ نہیں سکتے بلکہ ان ٹکڑوں کو بستر پر سجا کر خوش ہوتے رہتے ہیں لیکن اپنا جنون چھوڑنے کو کسی طور تیار نہیں۔‘‘ چائے کی چسکی لیتے ہوئے عارف نے پوچھا: ’’بڑے میاں پاگل ہیں تو یہ کھلے کیوں پھرتے ہیں انہیں گھر میں بند کیوں نہیں کیا گیا۔ پاگل آدمی تو کسی وقت بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘‘

اصغر نے کہا: انہیں کچھ عرصے کے لیے گھر میں بند کیا گیا تھا مگ ریہ چیخنے چلانے لگے۔ مجبوراً انہیں کھلا چھوڑ دیا گیا۔ اس کے علاوہ یہ کسی کو نقصان بھی نہیں پہنچاتے بس صرف اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔

’’ان کی اولاد تو ہوگی؟‘‘ عارف کے پوچھنے پر اصغر نے کہا: ’’ہاں ان کے دو بیٹے ہیں ایک معمولی تنخواہ پر کسی دکان میں ملازم ہے اور دوسرا بے روزگار ہے۔ بیچارے نے کئی جگہ انٹرویو دیے مگر کامیاب نہ ہوسکا۔ اب نوکری کے لیے روز مختلف دفاتر کے چکر لگاتا ہے۔‘‘ پھر چائے کی چسکیوں کے دوران عارف نے پوچھا اگر بڑے میاں کے متعلق تمہاری معلومات کافی ہیں تو ضرور یہ تمہارا محلے دار یا پڑوسی ہوگا۔‘‘

اصغر نے دھیمی آواز میں کہا ’’نہیں ایسا نہیں۔‘‘

’’تو پھر تم ان کے متعلق اتنا کچھ کیسے جانتے ہو؟‘‘ عارف کے اس سوال پر اصغر نے پھر دھیمے لہجے میں کہا: ’’یہ میرے ابو ہیں۔‘‘ عارف نے حیرت کے جھٹکے سے سنبھلتے ہوئے کہا: ’اوہ یہ تمہارے ابو ہیں۔‘‘

’’ہاں یہ میرے ابو ہیں۔‘‘تب اس کے بعد چند لمحوں تک کوئی بھی نہ بولا اور نہ ہی چائے کی چسکیوں کی آواز آئی۔ بس سناٹا تھا۔ گہرا سناٹا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عبد الوحید صدیقی

Leave a Reply