ہمارا نعرہ – آزادیِ نسواں

’’پھر کیا سوچا ہے تم نے؟‘‘ آفرین نے کتابیں اپنے بیگ میں رکھتے ہوئے پوچھا۔

’’کس بارے میں؟‘‘ سارہ حیران ہوئی تھی۔

’’انٹر کالج ڈیبیٹ مقابلہ کے بارے میں جو یومِ خواتین کی ضمن میں ہیں۔ اُس میں حصہ تو لوگی ہی تم۔‘‘ آفرین نے اپنی تیئںاسکی معلومات میں اضافہ کیا۔

’’نہیں میں نہیں لے سکتی اِس میں حصہ ۔۔۔مجھے نہیں سمجھ آتی اس دن کی۔‘‘ سارہ نے بُرا مُنہ بناتے ہوئے کہا۔

’’ اوہ… کم آن…مخالفت میں ہی کچھ کہہ دو۔‘‘

’’ آہا! تاکہ انعام ہی سے محروم ہوجائوں! میڈم یومِ خواتین ہے… اِس دن سب صرف خواتین کے فیور میں ہی سننا چاہتے ہیں۔‘‘ سارہ کا کوئی ارادہ ہی نہیں دیکھ رہا تھا مقابلہ میں حصّہ لینے کا۔

’’ تم جانتی ہو ہر ڈیپارٹمنٹ سے ایک طالبہ کانام تو جانا ہی ہے اور تم چاہے کتنا بھی منع کرلو سر ہاشم کو تمہارا ہی نام دینا ہے تو کیا ہی بہتر ہوگا کہ تم پہلے ہی ذہن بنالو۔‘‘ آفرین نے اس بار کمال بے نیازی سے کہا تو سارہ اُسے گھور کر رہ گئی…سارہ پڑھائی میںat the top تو نہ تھی بس ٹھیک ٹھاک تھی لیکن تقریری صلاحیت کمال کی تھی بس اُس نے اپنی اِسی خوبی کو پروان چڑھا کر نکھارا تھا کہ چاہے کوئی بھی مقابلہ ہو تقریر کا، ڈیبیٹ کا…ڈیپارٹمنٹ سے سارہ کا ہی نام جانا ہوگا۔ اِس بار اسکی خواہش ہی نہ تھی اسمیں حصّہ لینے کی مگر مجبوری سی مجبوری تھی۔

’’پھر کیا سوچا ہے تم نے؟‘‘

’’ آفرین تم نا! کم از کم سوال کا پیٹرن ہی بدل لیا کرو۔ جب دیکھ تب، پھر کیا سوچا ہے تم نے؟ کے ساتھ آکھڑی ہوتی ہو۔‘‘ سارہ اُسکے سوال پر بُری طرح چڑگئی تھی جبکہ اُسکی جھنجھلاہٹ پر آفرین نے بمشکل اپنے قہقے کا گلہ گھونٹا تھا۔

’’ دو دِن بعد مقابلہ ہے اور تمہیں کیا کہنا ہے اس میں؟‘‘ آفرین نے مسکراہٹ دبائے ہوئے پوچھا ۔

’’ڈیبیٹ Compitition ہے…کوئی فیور میں کہے گا تو کئی Oppose (مخالفت) میں…ویسے بھی زیادہ تر بلکہ تقریباً سبھی مسلم پبلک ہے تو اکثر ہی یومِ خواتین کے main theme مرکزی خیال آزادی نسواں کی مخالفت میں ہی کہے گے… اور پھر اسلام میں خواتین کا مقام، آپؐ کے خواتین پر احسانات یہ بھی شاید سبھی کہیں گے۔‘‘ سارہ الجھی الجھی سی کہہ رہی تھی۔

’’ہاں تو مسئلہ کیا ہے؟ تم فیور میں بولنا چاہ رہی ہو کیا؟‘‘ آفرین کے سوال پر وہ خاموش رہ گئی تھی وہ خود ابھی تک طئے نہیں کرپائی تھی کہ وہ کیا کرنے والی ہے اُس دن۔۔۔ ! اُسے خاموش دیکھ کر آفرین بھی خاموش سی ہوگئی۔

آخر کار مقابلہ کا دن آپہنچا…جیسے کے سارہ کا گمان تھا اب تک 6 ؍ لڑکیوں نے اسٹیج پر آکر ڈیبیٹ کے تحت اپنی بات پیش کی اور سبھی نے مخالفت میں ہی کہا تھا اور تھوڑے فرق کے ساتھ، انداز و لہجہ کی تبدیلی کے ساتھ سبھی نے کم و بیش یہی کہا کہ:

’’مردوں کے 365 ؍ دن میں عورتوں کے ایک دن کا کیا مطلب؟ آزادی نسواں یورپ سے اٹھی تحریک ہے جس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اب خود یورپ اپنے اس نعرہ سے پریشان ہے…اِس آزادی نسواں کے نعرہ نے یورپ کو ٹوٹتے بکھرتے خاندان،Broken homes، لاوارث بچّے، نفسیاتی مریض، بے راہ روی اور ہر قسم کی اخلاقی پابندیوں سے آزاد معاشرہ کا ایسا تحفہ دیا کہ یہی آزادی نسواں کا نعرہ انکے گلے کا پھندہ بن گیا ہے۔

اِسی طرح انھوں نے مختلف اعداد و شمار کے ذریعہ آزادی نسواں، عورت کی نمائش اور ماڈلنگ کے ذریعہ سماج پر ہونے والے منفی اثرات کو بیان کیا وہیں سبھی نے کسی نہ کسی زاویے سے اسلامی تعلیمات کو پیش کیا کہ کس طرح اِسلام نے عورت کو عزت، محبت اور تحفظ کی دیواروں میں رکھا ہے ۔ آپؐ نے عورت کو ہر محاذ پر آزادی دی۔ حقیقی آزادی، عزت کے ساتھ آزادی! سماج میں، معاشرہ میں باپ، بھائی، بیٹا، شوہر جیسے رشتوں کے ذریعہ مرد کو عورت کا محافظ بنایا گیا… معاشی اعتبار سے اُسے وراثت میں حصّہ دیا، معاشی جدوجہد سے آزاد رکھا گیا لیکن اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی بھرپور آزادی دے رکھی۔ غرض آزادیِ نسواں کا جو صحیح ماڈل اسلام نے پیش کیا ہے اسکی مثال کہیں نہیں…‘‘

اب یہ سارہ کی قسمت تھی کہ اِس مرتبہ اسکا نام لسٹ میں سب سے اخیر میںتھا… اُس کے بیشتر پوائنٹس ڈسکشن میں آچکے تھے سو اُسکی بیزاری عروج پر تھی تبھی اُسکے ذہن میں ایک خیال آیا اچھوتا سا… ! جو مسکراہٹ بن کر اُسکے لبوں پر بھی پھیل گیا تھا۔

’’پھر کیا سوچا ہے تم نے؟‘‘ آفرین نے اپنے من پسند سوال سے بات شروع کی لیکن سارہ کے گھورنے پر گڑبڑا بھی گئی… ’’مطلب دیکھو…تم فیور میں کہنے والی ہو یا اپوز (مخالف) میں…اور اگر تم کو مخالفت میں ہی کہنا ہے تو ایک کام کرو اِن سے ہٹ کر نئے پوائنٹ کہاں سے لائوگی تو یوں کرو اسٹیج پر جا کر کہہ دو کہ میں اِن تمام سے متفق ہوں اور ان کی تائید کرتی ہوں…میرا یقین مانو جج نے تمہیں ہی پرائز دیں گے کیوںکہ تم انھیں ایک بار پھر سے اتنا سب کچھ سننے کی زحمت سے بچالوگی۔‘‘ آفرین درمیان میں شاید سانس لینے کو بھی بمشکل رکی تھی شاید بہت بور ہوچکی تھی…سارہ اُسکی بات پر زور سے ہنس دی…وہ سچ ہی کہہ رہی تھی۔ ججز کے چہرے پر تاثرات کچھ ایسے ہی تھے۔

’’چلو میں یونہی کروںگی… ‘‘ سارہ نے ہنستے ہوئے کچھ اس طرح کہا کہ آفرین بھی ہنس دی تبھی سارہ کا نام اسٹیج پر پکارا گیا۔ اپنے نام پر جج حضرات کے چہروں پر ابھرتی بیزاری اور سامعین کی ہلچل پر بھی سارہ کا اطمینان قابلِ دید اور آفرین کے لیے بڑا مشکوک تھا…سارہ نے اسٹیج پر جاکر مائیک سیٹ کیا ایک طائرانہ نظر ہال پر دوڑائی تقریباً سیکڑوں کی تعداد میں خواتین اور کالج کی طالبات تھیں وہ ہلکے سے کھنکاری اور ابتدائی کلمات کے بعد:

’’میں اِن تمام لڑکیوں سے متفق ہوں جنھوں نے مجھ سے پہلے یہاں اپنی بات رکھی اور میں اُنکی تائید کرتی ہوں۔ان کی باتیں ہر اعتبار سے درست ہے میں بھی ایسا ہی کچھ سوچتی ہوں اور ان تمام نے وہ سارے پوائنٹس Cover کرلیے جو میرے زہن میں تھے۔‘‘ وہ بڑی معصومیت سے اتنا کہہ کر خاموش ہوگئی جبکہ اِس بات پر آفرین کا مُنہ کھلا کا کھلا رہ گیا اُسے سارہ سے قطعاً اِس جملے کی امید نہ تھی لیکن اُسکے اگلے الفاظ نہ صرف آفرین بلکہ وہاں موجود ہر کسی کے لیے ایٹم بم کی مانند تھے…

’’میں آزادی نسواں کے حق میں ہوں…اور آزادی نسواں کو وقت کی اہم ترین ضرورت سمجھتی ہوں…!‘‘ وہ پھر لمحہ بھر کے لیے رُکی سب کے تاثرات کو انجوائے کیا تھا شاید۔

’’لیکن میں مردوں کی اس دنیا میں عورتوں کی آزادی نہیں چاہتی… مردوں کی دنیا میں عورتوں کی آزادی کے نظریہ سے ہونے والے نتائج آپ سُن چکے ہیں…تو دراصل میں عورتوں کی دنیا میں عورت کی آزادی چاہتی ہوں۔

سب کہتے ہیں یہ مردوں کی دنیا ہے، میں کہتی ہوں نہیں یہ عورتوں کی دنیا ہے…

مرد عورت پر ظلم و زیادتی کرتا ہے تو عورت کی وجہ سے،عورت کا گھر ٹوٹتا ہے تو عورت کی وجہ سے، عورت کے حقوق پامال ہوتے ہیں تو عورت کی وجہ سے! تو میں یہ آزادی نسواں کی تحریک عورتوں میں چلانا چاہتی ہوں۔ میں ایک بار پھر سے آزادی نسواں کا نعرہ بلند کرنا چاہتی ہوں دیکھئے بات دراصل یہ ہے کہ میں یہاں کچھ Practicle بتانا چاہ رہی ہوں۔الحمد للہ ہم سب یہاں مسلماں ہے ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے رب اور ہمارے نبیؐ نے کس طرح ہمیں عزت کا درجہ دے کر محبت کا حقدار بنادیا ہے… ہم سب مغرب زدہ آزادی نسواں کے نعروں سے متاثر نہیں ہوتے کیوں الحمد للہ باپ، بھائی، بیٹے، شوہر ہمیں آج بھی اپنی عزت سمجھتے ہیں، آج بھی ہم ان کی غیرت ہیں اور وہ ہمارے محافظ ہیں…لیکن عورت عورت کے ہاتھوں ہی غیر محفوظ ہے!

یورپ میںBroken Homes ہیں کیوںکہ وہاں کی خواتین گھر چھوڑ کر باہر نکل آتی ہیں اپنی صلاحیتوں کے استعمال کے لیے، جب کہ ہمارے پاس کی خواتین اپنے گھروں کو Broken Home بنانے کے لیے اپنی صلاحیتیں لگاتی ہیں! بات ہنسی والی لگی ہے مگر بڑی تلخ سی حقیقت ہے یہ…آپ کو لگے کہ شاید میں topic سے ہٹ چکی ہوں لیکن میں نہیں ہٹی…. آج سے ایک صدی پہلے1909 میں نیویارک میں پہلی مرتبہ یہ نعرہ اٹھا تھا جسکا مرکزی موضوع تھا Woman’s right …عورتوں کے حقوق چاہتے تھے وہ جو انکا سماج انھیں نہیں دے پا رہا تھا۔ آج میں بھی آزادی نسواں کا نعرہ بلند کرنا چاہتی ہوں…Women’s right کے لیے…وہ حقوق جو میرے مذہب نے مجھے عطاء کیے ہیں اور وہ حقوق جو میرا معاشرہ مجھے نہیں دینا چاہتا اور وجہ ہے میری ہم صنف عورت….. ! مرد عورتوں کے حقوق ادا کرنا چاہتا ہے بیوی رکاوٹ بنتی ہے…

مرد بیوی کے حقوق مکمل کرنا چاہتا ہے بہنیں، ماں آنکھیں دکھاتی ہیں… بھائی بہن کے حقوق چاہتا ہے تو بیوی اور بھابھی کی ناراضگی مول لینی پڑتی ہے۔

ایسا ہوتا تو بہت کم ہے لیکن پھر بھی ایک باپ، بیٹی کے حقوق ادا کرنا چاہتا ہے مگر ماں چاہتی ہے بیٹے کو فوقیت دی جائے۔ اب بتائیں کہ کس نے عورت کی آزادی چھینی؟ اور کس نے عورت کے حقوق ضبط کیے؟

یہاں جتنی خواتین بیٹھی ہیں، ہر عورت بالکل ایمان داری سے اپنا احتساب کرے، اپنے روّیوں کو جانچے کہ وہ جن جن رشتوں میں بندھی ہے تو کتنی مرتبہ اور کتنا کسی عورت کا حق صلب کیا؟ کتنی مرتبہ کوئی عورت آپکی وجہ سے اپنے حقوق سے محروم رہی؟ سوچئے بحیثیت ماں، بیوی، بہن، بیٹی، بھابھی ہر حیثیت سے خود کا ایمانداری سے جائزہ لیں۔۔۔ اس سوچ کے ساتھ نہیں کہ آپ نے جو کچھ کیا سامنے والا اسی منفی سلوک کا حقدار تھا بلکہ اس سوچ کے ساتھ کہ آپ بھی کسی رشتے میں جڑی ہیں، اللہ کے پاس مظلوم کی فریاد رد نہیں ہوتی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ بازی الٹی پڑجائے کہ دل پھرنے میں کتنا وقت لگتا ہے وہ مُقلّبُ دلوں کو پھیرنے والا سب پر نظر رکھے ہے تو کہیں اگر آپ نے بحیثیت بیوی کسی کا حق صلب کیا تو کہیں شوہر کا دل نہ پھر جائے اور اگر بحیثیت ماں یا بہن یہ کیا ہے تو ڈریے کہ کہیں اللہ آپکے بیٹے یا بھائی کا دل پھیر دے۔

اور یہ کہ آپ سے جڑے بہت سے اہم رشتے جن سے آپ واقعتاً محبت کرتے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی رشتے میں جڑنے والے ہیں، کسی نہ کسی عورت کی ماتحتی میں جانے والے ہیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ مکافاتِ عمل انکی زندگی کو برباد کردے کیوں کہ گناہوں کے اثرات صرف انسان کی ذاتی زندگی پر ہی نہیں پڑتے بلکہ اُسکے اطراف کے رشتوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں…

تو مجھے لگتا ہے کہ آج کے دور میں اگر ہمیں کسی آزادی نسواں کے نظریہ کی ضرورت ہے تو وہ یہی ہے…. بلکہ میں تو سوچتی ہوں کہ کیوں نہ آج کے دن کو آزادی نسواں کے بجائے آزادی مرداں کے نام سے منسوب کردیا جائے کہ بیچارے مرد یہ نعرہ بلند کریں کہ عورتیں انھیں سکون کی زندگی جینے دیں… ایک پُر سکون و خوش گوار زندگی … اُس سے جڑے رشتے اُسکی زندگی کو ایک Battel Feild یا میدانِ جنگ بنا کر اُسے کشمکش میں مبتلا نہ کردیں کہ وہ ذہنی اذیت کا شکار ہوجائے…کہیں بیوی، کہیں ماں، ایک جانب بہنیں تو دوسری جانب بیٹیاں…کرے تو کیا کرے؟ جائے تو کہاں جائے۔ یہ نہ سوچئے کہ میں عورت ہو کر عورت کی مخالفت میں کہہ رہی ہوں بلکہ یہ سوچئے کہ میں عورت، آزادیِ عورت کے لیے ہی کہہ رہی ہوں… چلئے پہلے محاذ پر، اِس آزادی کے لیے کوشش کرتے ہیں پھر دیکھتے ہیں کہ مردوں کی اِس دنیا میں کون مرد عورت پر ظلم کرسکتا ہے یا اُس کے حقوق پا مال کرتا ہے؟ اگر مرد کو عورت کا بحیثیت بیوی support رہے تو ماں اور بہنوں کے حقوق کی ادائیگی میں کیا رکاوٹ ہوگی؟ کون بیٹا بوڑھے ماں باپ کو دربدر کرے گا؟ …اگر عورت بحیثیت ماں، بہن مرد کو اپنے تسلط سے آزاد کرے تو کون عورت بحیثیت بیوی مرد کی بے التفاتییا زیادتی کا شکار ہوگی۔۔۔

خیر بس مجھے اتنا ہی کہنا تھا… آگے آپ جانیں مگر بس ایک درخواست ہے کہ میری بات پر اک لمحے کے لیے سوچئے گا ضرور… شاید یہ لمحہ، لمحہ آگہی بن جائے… اگر آپ میں سے ایک خاتون بھی میری بات سمجھ جائے اور اصلاح کی کوشش کرے تو اُس سے جڑی قریباً ۴ -۳ خواتین کو تو اپنا حق مِل ہی جائے گا نا۔ تو پھر لگائیں ہم سب مِل کر آزادی نسواں کا نعرہ!!‘‘

سارہ نے مسکراتے ہوئے اپنی بات کہی اور پھر آخری کلمات کہہ کر اسٹیج سے اترنے لگی… ہال میں چھایا سکوت ججز کی تالیوں نے توڑدیا اور پھر سارا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ انعام کسے ملا اب یہ بھی بتانا ہوگا کیا…. ؟!

الحمد للہ کہانی تو خیر سے ختم ہوئی… ایک پیغام تھا آپ تک پہنچا دیا، جب تک لفظوں میں رہے گا، اِن اوراق پر سجا رہے گا تبدیلی نہیں آئے گی… یہ جب دلوں میں اُترے اور عملی زندگیوں میں آئے گا تبدیلی تب آئے گی… تو بتایئے آپ نے کیا سوچا ہے؟ تو کیا آپ میرے ساتھ آواز میں آواز مِلا نے کو تیار ہیں…؟lll

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم

Leave a Reply