حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا

ان کا اصل نام برہ تھا۔ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آنے کے بعد میمونہ نام رکھا گیا۔ والدہ قبیلہ حمیر سے تعلق رکھتی تھیں اور ہند بنت عوف نام تھا۔

حضرت میمونہ بنت حارث پہلے خاوند مسعود بن عمرو سے مطلقہ تھیں، جب کہ دوسرے خاوند ابو رہم سے بیوہ ہوگئی تھیں۔

آپ آں حضورﷺ کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب کی اہلیہ کی حقیقی بن تھیں۔ بہن کے ہاں خوب آنا جانا تھا، دونوں بہنیں سہیلیاں بھی تھیں اور نظریہ و عقیدے میں بھی ہم آہنگ و ہم قدم تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت عباسؓ اپنی بیوہ سالی کے بارے میں فکر مند تھے۔ چناں چہ ایک سفر عمرہ کے دوران انہوں نے حضور کو حضرت میمونہؓ سے نکاح کرلینے کی پیشکش کی۔ آں حضورؐ نے چچا کی تجویز کو قبول کیااور حضرت میمونہ کے ساتھ ۵۰۰ درہم حق مہر کے عوض نکاح کرلیا۔ ابھی آپ نے احرام بھی نہیں کھولا تھا جب نکاح کیا۔ حضرت عباسؓ خود اپنی سالی حضرت میمونہ کے وکیل بنے۔

عمرے سے فارغ ہونے کے بعد آپ مکے سے کچھ فاصلے پر سرف کے مقام پر ٹھہرے، یہیں پر آپؐ نے لوگوں کے لیے دعوتِ ولیمہ کا اہتمام فرمایا۔ حضورؐ کے غلام حضرت ابو رافع آپ کو لے کر اسی جگہ آگئے تھے اور یہیں رسم عروسی ادا ہوئی۔

حضرت میمونہؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بیوی تھیں، یعنی ان کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات تک کوئی اور نکاح نہیں کیا۔

حضرت میمونہ اپنی بہن ام الفضل کی طرح بے پناہ خوبیوں کی مالک تھیں۔ انمیں ایک طرف تو اسلامی غیرت و حمیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، دوسری جانب علم و حکمت میں بھی یکتا تھیں۔

ایک دفعہ مدینہ میں ایک عورت سخت بیمار ہوئی، اس نے منت مانی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی تو بیت المقدس میں جاکر نماز پڑھوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے شفا دی تو اس نے اپنی منت پوری کرنے کے لیے بیت المقدس جانے کا ارادہ کیا۔ سفر پر روانہ ہونے سے قبل وہ حضرت میمونہ سے ملنے آئی اور اپنے سفر کا ارادہ بتایا۔ حضرت میمونہؓ نے اسے سمجھایا کہ مسجد نبویؐ میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد میں نماز پڑھنے کے ثواب سے ہزار گنا زیادہ ہے، تم بیت المقدس جانے کے بجائے مسجد نبویؐ میں نماز پڑھ لو۔ ثواب بھی زیادہ ہوگا اور منت بھی پوری ہوجائے گی۔ اللہ کو مسجد نبویؐ بیت المقدس سے زیادہ محبوب ہے۔

اسی طرح ایک دفعہ انہوں نے ایک لونڈی کو راہِ خدا میں آزاد کر دیا۔ حضور اکرمؐ کو معلوم ہوا تو دعا دی فرمایا: ’’خدا تم کو جزا دے۔‘‘

آپ کی ذات کی بڑائی یہاں بھی دکھائی دیتی ہے کہ تمام امہات المومنین بہت بلند و بالا ہونے کے باوجود اپنے نسوانی جذبات کے تحت اکثر سوکنوں سے کھنچی کھنچی رہتی تھیں۔ لیکن سیدہ میمونہؓ کے اخلاق و کردار کا یہ عالم تھا کہ وہ سب ازواجِ مطہرات سے خوش خوش رہتیں اور ہر ایک کے لیے کلمہ خیر ہی ان کی زبان پر ہوتا۔ وہ دینی و شرعی مسائل بیان کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کیا کرتی تھیں۔

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بہت بڑے عالم، مفسر اور محدث تھے لیکن ایک مرتبہ انہوں نے ان کی نادانی پر انہیں ٹوکا بھی اور تصحیح بھی فرمائی۔ ہوا یوں کہ ایک دن حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ان کی خدمت میں اس حالت میں آئے کہ سر کے بال بکھرے ہوئے تھے اور لباس بھی پراگندہ تھا۔ پوچھا یہ حالت کیوں بنا رکھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ میری بیوی ہی میرے سر میں تیل لگاتی ہے، کنگھی کرتی ہے، لیکن ان دنوں وہ مخصوص ایام میں ہے اس لیے یہ خدمت انجام نہیں دے سکتی۔ ناپاکی کے ان ایام میں میں نے یہ کام اس سے لینا بھی مناسب نہ سمجھا۔

حضرت میمونہؓ نے فرمایا: ’’واہ بیٹے، کبھی ہاتھ بھی ناپاک ہوتے ہیں! ہم تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی انہی ایام میں خدمت کیا کرتے تھے، آپ ہماری گود میں سر رکھ کر قرآن مجید پڑھا کرتے، اسی حالت میں مصلی اٹھا کر مسجد میں رکھ آتے تھے۔‘‘ پھر انہیں سمجھایا کہ عورتیں اس حالت میں ہوں تو ان کے چھونے سے کوئی چیز ناپاک نہیں ہوتی۔

آپ کی عظمت ہے کہ اسلامی احکام کی خلاف ورزی پر سرزنش اور تنبیہ کرنا ضروری سمجھتی تھیں۔ معاملہ حدودِ الٰہی توڑنے یا احکام الٰہی پامال ہونے کا ہو تو آپ ہرگز نرمی نہ برتتیں۔

حضرت میمونہؓ بے پناہ خوبیوں کی مالک تھیں، نہایت خدا ترس اور متقی خاتون تھیں۔ حضرت عائشہؓ صدیقہ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ ’’میمونہ ہم سب میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والی اور صلہ رحمی کا خیال رکھنے والی تھیں۔‘‘

حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا علم و حکمت سے بھی مالامال تھیں۔ شعائر اسلامی پر گہری نظر تھی۔ اس کی خلاف ورزی پر وہ کسی کو معاف نہیں کرتی تھیں۔ ایک دفعہ ایک قریبی رشتہ دار ان کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کے منہ سے شراب کی بو آرہی تھی۔ یہ دیکھ کر سخت غضب ناک ہوئیں اور اسے سختی جھڑک کر کہا: ’’آئندہ کبھی میرے گھر میں قدم نہ رکھنا۔‘‘

بہت مخیر اور فیاض خاتون تھیں، اس لیے اکثر اوقات قرض لینے کی نوبت آجاتی جس سے وہ مستحقین کی داد رسی کیا کرتیں۔ ایک دفعہ بہت زیادہ رقم قرض لینا پڑ گئی۔ کسی نے پوچھا: ام المومنین اتنی زیادہ رقم کی واپسی کیسے ہوگی؟ آپ کو فرمانِ رسولؐ پر اتنا یقین تھا کہ کہنے لگیں: ’’میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ جو شخص قرض ادا کرنے کی نیت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا قرض ادا کرنے کے اسباب مہیا کر دیا کرتا ہے۔‘‘

حضرت میمونہؓ جلیل القدر صحابیات میں ہیں کہ آپ سے ۴۶ احادیث مروی ہیں۔ ان میں سات متفق علیہ ہیں۔ ان کے راویوں میں حضرت عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن شداد، عبد الرحمن بن سائب، عبید اللہ الخولانی اور عطا بن یسار جیسی جلیل القدر ہستیاں ہیں۔

حضرت میمونہ کی وفات ۵۱ھ میں مقام سرف میں ہوئی۔ آپ کی سفر کے دوران ہی وفات ہوئی اور اتفاق یہ ہے کہ یہ وہی مقام تھا جہاں آپ کا نکاح ہوا اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ولیمہ کیا تھا، اور یہیں سے دوبارہ آپ اعلیٰ علیین میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ ہوگئیں۔ آپ کے بھانجے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔

جب جنازہ اٹھایا گیا تو حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا: ’’جنازہ کو زیادہ حرکت نہ دو، یہ رسول اللہﷺ کی رفیقہ حیات ہیں، ادب کے ساتھ آہستہ آہستہ چلو۔‘‘

انہوں نے خود بڑھ کر قبر میں اتارا اور وہیںتدفین ہوئی۔

خشیت الٰہی سے مالا مال اور صلہ رحمی کو ملحوظ رکھنے والی حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی زندگی عالم اسلام کی خواتین کے لیے اسوہ حسنہ ہے۔ آج بھی کائنات کی ہر عورت علم و حکمت کے موتی چنتے ہوئے ترقی کی منازل طے کرسکتی ہے۔

آپ کی زندگی میں خدا ترسی اور انسانیت کے ساتھ خیر خواہی کا جو جذبہ نظر آتا ہے وہ پیغام دیتا ہے کہ بے شک:عبادت سے جنت ملتی ہے تو خدمت سے خدا ملتا ہے۔

اگر کوئی شخص تنگ دستوں کی ساتھ نرمی کا معاملہ فرماتا ہے تو:

بروز قیامت اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ بھی نرمی کا معاملہ فرمائے گا۔

احسان اور نیکی کرنے کے لیے دولت کی نہیں دل کی ضرورت ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جو لوگوں کی خدمت کرنے میں سبقت لے جائے گا وہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ قریب ہوتا جائے گا۔ فرمایا ہم ان سے کسی عمل کی بدولت آگے نہیں بڑھ سکتے بجز اس کے کہ شہادت نصیب ہوجائے۔

اللہ رب العالمین ہمیں سبقت لے جانے والوں میں شامل کرے اس عمل کے ساتھ جو رب کی نظر میں سب سے قابل تحسین ہو۔lll

شیئر کیجیے
Default image
حمیرا خالد

Leave a Reply