مسلم معاشرے میںسلام کی اہمیت

انسانوں کے مابین بہترین تعلقات آپسی گفتگو، ہمدردی اور ایک دوسرے کے کام آنے سے ہی قائم ہوسکتے ہیں اور یہ بھی اسی وقت قائم ہوسکتے ہیں جب وہ ایک دوسرے کو پہچانیں، اور پہچاننے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کو سلام کریں تاکہ واقفیت قائم ہوسکے۔ جب تک انسان ایک دوسرے کو سلام نہیں کرے گا اس وقت تک باہمی تعلقات قائم نہیں ہوسکیں گے۔

اللہ تعالیٰ نے سلام میں ایسی تاثیر رکھی ہے کہ اس سے بغض، کینہ، حسد، دشمنی اور دیگر برے احساسات کا خاتمہ ہوتا ہے اور دلوں میں محبت و الفت، ہمدردی و غم خواری پیدا ہوتی ہے۔ اللہ نے سلام کو جنت کے ایک تحفے کے طور پر ہم مسلمانوں کو عطا کیا کہ ہم لوگ اس سلام کے ذریعے اپنی اس دنیا کو بھی جنت بنا سکیں۔ مسلم میں ابو ہریرہؓ کی حدیث ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک کہ مومن نہ بن جاؤ اور تمہارا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا جب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو، میں تم کو ایسی چیز بتاتا ہوں کہ اگر تم اس پر عمل کرلو تو تمہارے درمیان آپس میں محبت قائم ہوجائے گی، وہ یہ کہ آپس میں سلام کو عام کرو، یعنی ہر مسلمان کے لیے خواہ اس سے جان پہچان ہو یا نہ ہو سلام کرو۔ (مسلم) سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلام کو پھیلاؤ، مسکینوں اور بھوکوں کو کھانا کھلاؤ، رشتوں کو جوڑو اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں، نماز پڑھو تو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ (ترمذی)

رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کو مسلم معاشرہ میں عام کرنے کی انتہائی تاکید فرمائی ہے، چناں چہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی سے ملاقات کرے تو اس کو سلام کرے، پھر کچھ دیر بعد دیوار و درخت یا پتھر درمیان میں حائل ہوجائے توپھر دوبارہ سلام کرے، یعنی جتنی بار ملاقات ہو اتنی بار سلام کرتا رہے۔ ابوداؤد) سیدنا جابر فرماتے ہیں: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے بڑا بخیل وہ ہے جو سلام کرنے میں بخل کرتا ہے۔ (مشکوہ) سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں: جب تم کسی مسلمان سے ملو تو اس کو سلام کرو۔ جب وہ تم کو دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرو۔ جب وہ تم سے نصیحت (مشورہ) طلب کرے تو اس کو اچھی نصیحت کرو۔ جب وہ چھینک کے بعد الحمد للہ کہے تو اس کی چھینک کے جواب میں یرحمک اللہ کہو۔ جب وہ بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرو۔ جب وہ فوت ہوجائے تو اس کی نماز جنازہ میں جاؤ۔ (مسلم)

سیدنا ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’لوگوں میں اللہ کے ہاں سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو سلام میں پہل کرے۔‘‘ (ابوداؤد) سیدنا عبد اللہ بن عمروؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے بندوں کو کھانا کھلانا اور جانے اور انجانے ہر ایک کو سلام کرنا سب سے افضل عمل ہے۔ (بخاری)

مذکورہ بالا احادیث سلام کی فضیلت پر دلالت کر رہی ہیں کہ سلام بذاتِ خود محبت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے اور اس کا منتہا جنت میں دخول ہے۔ جب کسی مسلمان کو سلام کیا جائے تو اس کے ذمہ جواب دینا تو واجب ہے، اگر بغیر کسی عذر شرعی کے جواب نہ دے تو گنہگار ہوگا، البتہ جواب دینے میں دو باتوں کا اختیار ہے، ایک یہ کہ جن الفاظ میں سلام کیا گیا ہے ان سے بہتر الفاظ میں جواب دیا جائے، دوسرے یہ کہ بعینہٖ انہی الفاظ میں جواب دیا جائے۔ (معارف القرآن) جنت میں دخول کے لیے لازمی شرف ایمان ہے، یعنی جنت میں مومن ہی جاسکتا ہے، جو اللہ اور اس کے رسولوں، کتابوں اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا وہ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ مذکورہ بالا حدیث میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کی تکمیل کو انسانوں کی باہمی محبت سے تعبیر کیا ہے۔

اس مضمون کو نبی کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر احادیث سے بھی سمجھا جاسکتا ہے، جن میں نبی کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم اس وقت مومن نہیں ہوسکتے جب تک تم اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ ہو۔ مومن محبت کرنے والا ہوتا ہے۔ یہ اور اس مضمون کی دیگر احادیث مسلمان پر زور دے رہی ہیں کہ اخلاق کی تطہیر اور پاکیزگی کے بغیر کوئی بھی کامل مسلمان نہیں ہوسکتا۔ اور نبی کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاق کی تطہیر کا نسخہ سلام کو بتایا ہے کہ سلام ہی وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں سے پاکیزہ اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔ انسانوں کے باہمی تعلقات قائم ہوتے ہیں، محبتیں بڑھتی ہیں، جس کے نتیجے میں ایک بہترین معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور حقیقت میں یہی بہترین اور پاکیزہ معاشرہ جنت کی ایک مثال بن کر سامنے آتا ہے۔

صرف مخصوص اور جان پہچان کے لوگوں کو سلام کرنے کو علاقات قیامت میں شامل کیا گیا ہے کہ یہ صورت اسی وقت پیدا ہوسکتی ہے جب انسانوں کے باہمی تعلقات کمزور ترہوچکے ہوں، ایک اسلامی معاشرے کی روح ختم ہوگئی ہو اور انسان صرف اپنے آپ اور تعلق اور واسطے والوں تک ہی محدود ہوکر اپنی زندگی گزارے۔ اسے اپنے اردگرد کے لوگوں سے کوئی تعلق اور سروکار نہ ہو۔ دنیا تو دور کی بات اس کے پڑوس میں کیا ہو رہا ہے اس سے اسے کوئی غرض نہ ہو تو ایسا معاشرہ کیسے قائم رہ سکتا ہے۔ جب کہ اسلام ایک ایسا معاشرہ چاہتا ہے جہاں انسانوں کے باہمی تعلقات بہت مضبوط ہوں، وہ ایک دوسرے کے حالات سے واقف ہوں، اگر کوئی انجان شخص بھی مل رہا ہے تو اس سے سلام کے ذریعے خیر خیریت دریافت کر کے اس کے حالات سے آگاہی کے علاوہ اس کے سامنے یہ اظہار بھی کرنا ہے کہ تم اور تمہاری جان، مال عزت و آبرو ہر چیز مجھ سے محفوظ ہے۔ میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور میرے دل میں تمہارے لیے نیک جذبات ہیں۔ لیکن جہاں اس طرح کا عمل نہ ہوگا وہ معاشرہ اس دنیا میں ہی تباہی کی طرف چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سلام کی سنت کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) lll

شیئر کیجیے
Default image
سید عابد علی

Leave a Reply