سائیکل کو نوبیل پرائز دو

نوبیل پیس پرائز عالمی سطح پر امن کے قیام اور فروغ کے لیے قابل قدر خدمات انجام دینے والے فرد یا ادارے کو دیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والوں میں ملالہ یوسف زئی، امریکی صدر براک اوباما، یورپی یونین اور تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار (OPCW) شامل ہیں۔ نوبیل پرائز کی تاریخ میں کبھی یہ انعام کسی ’شے‘ کو نہیں دیا گیا، مگر حال ہی میں ایک آن لائن تحریک شروع کی گئی ہے، جس کا مقصد سائیکل کو امن کا نوبیل انعام دلوانا ہے… جی ہاں سائیکل کو!

آن لائن تحریک اٹلی کے سرکاری ریڈیو سے وابستہ دو افراد نے شروع کی ہے۔ معروف میزبان ماسیمو کیری اور سارا زیمبوتی اپنے پروگرام ’’کیٹر پلر‘‘ کے ذریعے سامعین سے درخواست اور ان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ اس آن لائن پٹیشن کی توثیق کریں جس میں نوبیل پرائز کمیٹی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ 2016 میں امن کا نوبیل انعام ’سائیکل‘ کے نام کیا جائے۔ اپنی پٹیشن کی حمایت میں انہوں نے سائیکل کے کئی کارنامے گنوائے ہیں۔ وہ سائیکل کو ’’انسرومنٹ آف پیس‘ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سائیکل کی وجہ سے کبھی جنگ نہیں ہوئی۔

لوگوں کو آن لائن پٹیشن کی توثیق پر راضی کرنے کے لیے میزبان کہتے ہیں کہ سائیکل انسانیت کے لیے دستیاب نقل و حمل کا سب سے سستا ذریعہ ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق سائیکل پر ایک کلو میٹر سفر طے کرنے پر 0.16 یورو خرچ ہوتے ہیں جب کہ کار میں اتنا سفر کرنا کئی گنا مہنگا ہے۔ پٹیشن میں آلودگی کم کرنے میں سائیکل کے کردار کو کلیدی بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سائیکلوں اور دوسری گاڑیوں سے ہونے والے حادثات کا موازنہ بھی کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ سائیکل برائے نام حادثات کا سبب بنتی ہے۔ ماسیمو اور سارا کا دعویٰ ہے کہ سائیکل چلانے سے بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کے قریب آجاتے ہیں۔

سائیکل انسانی جانیں بچانے میں بھی کام آتی ہے۔ اس سلسلے میں ریڈیو پروگرام کے میزبانوں نے سائیکلنگ کے شہرت یافتہ اطالوی چمپئن جینو برتالی کی مثال پیش کی ہے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران اطالوی مزاحمتی تحریک کو معلومات اور دستاویزات پہنچاتا تھا۔ اس پیغام رسانی کا مقصد یہودیوں کو نازی جرمنوں سے بچانا تھا۔ جینوبر تالی سائیکل پر سفر کرتے ہوئے مزاحمتی تحریک کے ذمہ داران تک پہنچتا تھا۔ راستے میں اگر اسے روکا جاتا تو وہ کہہ دیتا تھا کہ سائیکلنگ کی پریکٹس کر رہا ہوں۔ قومی چمپئن ہونے کی وجہ سے اس کی یہ بات تسلیم کرلی جاتی تھی۔

ماسیموکیری اور سارا زیمبوتی کا کہنا ہے کہ مطلوبہ تعداد میں حمایت حاصل ہوجانے کے بعد وہ سائیکلوں پر سوار ہوکر ایک ریلی کی صورت میں نوبیل کمیٹی کے دفتر جاکر پٹیشن پیش کریں گے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ودیعہ انور

Leave a Reply