ویڈیو گیمز

ویڈیو گیمز کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے ہوتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر عمر کے لوگ انہیں کھیل کر لطف اٹھاتے ہیں۔ بعض تو ویڈیو گیمز کے جنون میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ہمہ وقت کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر گیمز کھیلتے نظر آتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ویڈیو گیمز سے لطف نہیں اٹھاتے بلکہ یہ ان کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر ویڈیو گیمز کے نشے میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور نشے کی طرح ویڈیو گیمز کی طلب پوری کرنے کے لیے گیمز کھیلتے ہیں۔ منشیات کے نشے کی طرح ویڈیو گیم کا نشہ بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے جیسا کہ ولاد میر چیخوف کے معاملے میں ہوا۔

۸۲ سالہ ولاد میر سائبیریا کا رہائشی ہے۔ چند ماہ قبل وہ مشہور ایکشن گیم ’’فال آؤٹ فور‘‘ کی ڈی وی ڈی خرید کر لایا۔ چیخوف کو یہ گیم اتنا بھایا کہ وہ فارغ وقت میں بس اسی سے لطف اندوز ہوتا رہتا تھا۔ کچھ عرصے کے بعد ویڈیو گیم کے لیے اس کی پسندیدگی جنون کی حدوں کو چھونے لگی۔ اب وہ ہر وقت کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بیٹھا اس میں مگن رہتا۔ اسے کھانے پینے کا کوئی ہوش نہ تھا۔ حد تو یہ ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو بھی نظر انداز کر دیا تھا۔ فال آؤٹ فور کی لت میں وہ اس بری طرح مبتلا ہوا کہ ملازمت سے بھی چھٹیاں کرنے لگا۔ ولادمیر کو ہوش اس وقت آیا جب مسلسل چھٹیوں کی وجہ سے اس کی ملازت جاتی رہی اور اس کی پیاری بیوی بھی اسے چھوڑ کر چلی گئی۔ اس وقت ولادمیر کو احساس ہوا کہ ویڈیو گیم کھیلنے کے جنون میں وہ اپنی زندگی تباہ کر بیٹھا ہے مگر اس تباہی و بربادی کے لیے اس نے خود کو قصور وار ٹھہرانے کے بجائے ویڈیو گیم بنانے والی کمپنی کو ذمے دار ٹھہراتے ہوئے اس پر مقدمہ کر دیا ہے!

فال آؤٹ فور امریکی کمپنی Bethesda کا تخلیق کردہ ویڈیو گیم ہے۔ سائبیریا کے علاقے کرسنویارسک کے رہائشی نے مقامی عدالت میں دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ دو ماہ قبل اس نے فال آؤٹ فور نامی ویڈیو گیم آن لائن خریدا تھا۔ وہ اس ویڈیو گیم کی لت میں اس بری طرح مبتلا ہوا کہ اسے اپنے اہل خانہ، اپنی بیوی اور دوستوں کے علاوہ کھانے پینے کا بھی ہوش نہ رہا۔ تین ہفتے تک وہ گھر سے باہر نہیں نکلا، جس کے نتیجے میں اس کی نوکری چلی گئی اور تو اور اس کی بیوی نے بھی اس سے طلاق لے لی۔ درخواست میں ولادمیر نے موقف اختیار کیا ہے کہ Bethesdaگیم اسٹوڈیو اور ان کی مقامی شراکتی کمپنی Softclub کو یہ تنبیہ کرنی چاہیے تھی کہ یہ ویڈیو گیم کھیلنے والے کو اپنا عادی بنا سکتا ہے بلکہ اپنی لت میں مبتلا کرسکتا ہے مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ ولادمیر نے اپنے نقصان کا ذمے دار Bethesdaکو ٹھہراتے ہوئے ہرجانے کے طور پر 500000 روبل طلب کیے ہیں۔ ولادمیر کا کہنا ہے ’اگر مجھے علم ہوتا کہ یہ گیم کھلاڑی کو اپنا عادی بنا سکتا ہے تو میں محتاط ہو جاتا۔میں اسے خریدنے سے اجتناب کرتا یا پھر اس سے چھٹی کے روز ہی لطف اندوز ہوتا۔‘‘

اگر عدالت اس کیس کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرلیتی ہے تو یہ روس میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہوگا۔ علاوہ ازیں یہ کیس اس سلسلے میں مثال بن جائے گا کہ ویڈیو گیمز کھیلنے والے ان گیمز کے نفسیاتی اثرات کی بنیاد پر ان کے تخلیق کاروں پر مقدمہ کرسکتے ہیں۔ روس میں یہ پہلا کیس ہے مگر امریکہ میں اس طرح کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
عالیہ رحمن

Leave a Reply