کچن کارڈن

گھر کے اندر سبزیوں اور پھلوں کی کاشت کا مشغلہ نہ صرف انسان کے جسم اور دماغ کو توانا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے بل کہ آج کل مہنگائی کے دور میں گھریلو بجٹ کو بھی قابو میں رکھتا ہے۔ دنیا بھر میں بازاری سبزیوں کی خریداری اور ان کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے کچن گارڈننگ رواج پا رہی ہے۔ آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ کچن گارڈننگ کیا ہے اور کس طرح آپ گھر میں متعدد اقسام کی سبزیاں اگا کر اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں اور غذائی قلت کو دور کرسکتے ہیں۔ آپ کی تھوڑی سی محنت آپ کو دورِ حاضر میں لاحق ہونے والی ان گنت بیماریوں سے نجات دلا سکتی ہے۔

جن لوگوں کے پاس ایک اوسط درجہ کا پلاٹ ہو وہ بہ آسانی اس پر دھنیا، میتھی، ہری مرچ، لیموں، لیمن گراس، سلاد کے پتے اور اس کی سبزیاں اگا سکتے ہیں۔ گھر کے باغیچے میں کاشت کی گئی سبزیاں نامیاتی کھاد کے استعمال کی وجہ سے اسپرے، کیمیکل اور دیگر غلاظتوں سے پاک ہوتی ہیں، یوں آپ کیمیائی مضر اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔

جن لوگوں کے پاس اتنی جگہ میسر نہیں یا وہ کسی فلیٹ یا اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں اور وہ اس طریقہ کار سے سبزیوں کی کاشت نہیں کرسکتے، ان کو بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ گملوں، پرانے برتنوں، پرانے ٹائروں میں سبزیاں کاشت کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھلے ڈبوں، پلاسٹک یا لکڑی کے خوانچوں میں بھی سبزیاں اگائی جاسکتی ہیں۔

آج کل بازار میں بہت ہی غیر معیاری اور کیڑے مار دواؤں سے آلودہ سبزیاں مل رہی ہیں۔ موسمی اور بے موسمی تمام سبزیاں دستیاب ہوتی ہیں۔ سبزیوں میں کیمیکل کر کے ان کو ان کے موسم کے بعد بھی کاشت کیا جاتا ہے اور مارکیٹ میں یہ سبزیاں سارا سال دستیاب ہوتی ہیں۔ ان سبزیوں میں نہ تو موسمی سبزیوں کی طرح خوش نما رنگ ہوتا ہے اور نہ ہی ذائقے میں یہ ان کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔ ان سبزیوں کے استعمال سے روز بہ روز آپ کی صحت گرتی چلی جاتی ہے اور آپ مختلف امراض کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ اپنا کچن گارڈن بنانے سے آپ ان تمام مصائب سے بچ سکتے ہیں۔

گھریلو پیمانے پر چھوٹے پلاٹوں میں ایسی سبزیاں بھی کاشت کی جاسکتی ہیں، جو کافی دیر پیدا وار دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جیسے پالک، میتھی، گوبھی، ٹماٹر، شلجم، گاجر، مولی جیسی سبزیاں چھوٹے پلاٹ میں بہ آسانی کاشت کی جاسکتی ہیں۔ ان سبزیوں کے لیے اگر نہری پانی دست یاب نہ ہو تو پینے کا پانی بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ستمبر، موسم سرما کی سبزیوں کی کاشت کا مہینہ ہے، اس مہینہ میں مٹر، پیاز، لہسن، پالک، پھول گوبھی، مولی، ٹماٹر، دھنیا، پودینہ وغیرہ اگایا جاسکتا ہے۔ اگر آپ کے گھر میں جگہ نہیں تو کم از کم گملوں میں میتھی، سلاد کے پتے، دھنیا، پودینہ، سبز مرچ، پالک، لہسن اور لیموں اگائے جاسکتے ہیں۔ چند سال پہلے جب آپ سبزی لینے جاتے تھے تو دکاندار سبزی کے ساتھ ہری مرچ، دھنیا یا ہری پیاز مفت میں دیا کرتے تھے لیکن اب ان چیزوں کے لیے الگ سے کم از کم سو روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں، کم از کم یہ سو روپے آپ آسانی سے بچا سکتی ہیں۔

ملکی سطح پر کچن گارڈننگ کی سب سے بڑی مثال چین نے قائم کی ہے۔ چین میں ہر کسی نے اپنے گھر میں ایک چھوٹا سا کچن گارڈن بنا رکھا ہے جو گملوں پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں وہ روز مرہ کے استعمال کی ہر قسم کی سبزیاں کاشت کرتے ہیں۔ ان کی اس محنت کا نتیجہ ہی ہے کہ وہاں امراض کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور شرح امراض تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔

جو خواتین مہنگائی کے روز بہ روز اضافے سے پریشان ہیں یا جن کی آمدنی، ان کے اخراجات سے کم ہے، ان کے لیے کچن گارڈن کسی نعمت سے کم نہیں۔ گھریلو سطح پر سبزیاں اگانے سے نہ صرف وہ کسی حد تک غذا میں خود کفیل ہوجائیں گی بلکہ ان کا گھریلو بجٹ بھی بڑی حد تک سمٹنا شروع ہو جائے گا۔

کچن گارڈن آپ کی تھوڑی سی توجہ اور محنت سے بنایا جاسکتا ہے۔ آپ کے کچن کا فالتو پانی یا استعمال شدہ پانی ہی اس کے لیے کافی ہے۔ بچا کھچا کھانا اس میں ڈال دیا جائے، چائے کی پتی، پھٹا ہوا دودھ اور بچی کھچی کھانے کی اشیا گوڑائی کرتے ہوئے مٹی میں مکس کرنے سے آپ کے پودے کیڑے اور دوسرے حشرات سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ کچن گارڈن کی شروعات کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ بہت سے پودے ایک ساتھ لگا لیں اور جلد ہی اکتاہٹ کا شکار ہوکر بیٹھ جائیں۔ اس کی ابتداء آپ پانچ چھے گملوں میں پودے لگا کر کرسکتی ہیں اور آہستہ آہستہ اپنے شوق کے ساتھ اس میں اضافہ کریں۔ سب سے پہلے آپ پانچ یا چھے گملے خریدیں اور ان میں تین حصہ مٹی اور ایک حصہ کھاد ڈالیں۔ پودوں میں ڈالنے کے لیے نہری مٹی استعمال کی جائے کیوںکہ شہروں میں نہری مٹی دستیاب نہیں ہوتی تو آپ قریبی نرسری سے مٹی منگوالیں۔ ایک دو گملوں میں گھر میں استعمال ہونے والا سوکھا دھنیا ڈال دیں اور اس پر مٹی کی ہلکی سی تہ جما دیں۔ ایک گملے میں ہری مرچ کے بیج اور ایک گملے میں لیمن گراس لگا لیں۔ ان کے بیج بھی سو پچاس روپے میں آسانی سے آپ کو کسی قریبی نرسری سے مل جائیں گے۔ اس طرح آپ چھوٹے سے کچن گارڈن کی ابتدا کرسکتی ہیں۔

اگر کچن گارڈننگ کو سب لوگ اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنا لیں تو اس قلت سے بھی نجات پائی جاسکتی ہے۔ اس زمرے میں حکومت کو کچھ اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہیـ۔ وہ لوگوں میں کچھ گارڈننگ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے منصوبہ مرتب کریں اور میڈیا بھی اس کی اہمیت کا شعور لوگوں میں جگائے۔

خواتین جو کہ فلورل ارینج منٹ جانتی ہیں، وہ گملوں میں لگے پودوں کی کانٹ چھانٹ کر کے انہیں ڈرائینگ روم اور لیونگ روم میں سجا کر گھر کی خوب صورتی میں بھی اضافہ کرسکتی ہیں۔ آپ کی تھوڑی سی محنت آپ کی زندگی میں خوش نما تبدیلی لاسکتی ہیں اور آپ کے گھر کو امراض سے پاک بھی رکھ سکتی ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
غزل اعظم

Leave a Reply