اخلاقی کردار کو مضبوط کرنے کے رہنما اصول

کچھ لوگوں کی شخصیت دوسروں کے مقابلے میں زیادہ پرکشش اور پسندیدہ ہوتی ہے اور اس کی بنیادی وجہ ان کا مضبوط اخلاقی کردار ہوتا ہے۔ بہت دوستانہ، ساتھ دینے والے، باتونی، ہمدرد، مشفق، عاجز، منکسر المزاج، سچے اور ایماندار لوگوں کو یہ اخلاقی کردار حاصل کرنا انتہائی آسان ہوتا ہے۔ ہم لوگ اخلاق اور کردار کے لفظ کو تقریباً روزانہ استعمال کرتے ہیں اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بہت کم لوگ اسے سمجھتے ہیں کہ اخلاق اور کردار آخر کسے کہتے ہیں؟

اس دنیا میں مخلص، باہمت اور بااخلاق لوگوں کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ اگر آپ اپنے اخلاق اور کردار کو بنانے کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل عوامل پر آپ کو بھرپور توجہ دینا ہوگی۔

ہمیشہ پرسکون رہیں

گرم مزاجی اور ضرورت سے زیادہ ردعمل کی چنداں ضرورت نہیں۔ آپ کا پرسکون انداز آپ کو بہت آگے لے جاسکتا ہے۔ کیوں کہ آپ کا مستحکم اور پرسکون رویہ آپ کو توجہ مرکوز کرنے میں مدد دے گا اور آپ ایسے فیصلے کرنے کے قابل ہوجائیں گے جو آپ کے لیے فائدہ مند ہوں۔ تحمل مزاجی باکردار لوگوں کی ایک اہم خصوصیت ہوتی ہے۔ اگر آپ اپنے خیالات اور جذبات کو تحمل مزاجی اور پرجوش انداز میں ادا کرنے کے قابل ہو جائیں تو یہ آپ کے حلقہ احباب کو متاثر کرنے کے لیے انتہائی معاون ہوگا۔ اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا:

’’پہلوان وہ نہیں جو لوگوں کو پچھاڑ دے۔ بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔‘‘

مظلومیت کا رونا مت روئیں

مظلومیت کا رونا رونے والوں کو کوئی پسند نہیں کرتا۔ زندگی میں ہر شخص کو مشکلات کا سامنا کرنا ہوتا ہے لیکن مظلومیت دکھانے اور تقدیر کا رونا رونے سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے۔ ہم جو بھی زندگی گزارتے ہیں اس کے دمہ دار ہم خود ہیں لہٰذا دوسروں کو اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے ہمیں خود ذمہ داری قبول کرنا ہوتی ہے۔ آپ کو اپنے تمام اعمال کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی اور اپنی تقدیر کو بدلنے کی خود ہی بھرپور کوشش کرنا ہوگی۔ خوشی ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے جو انسان خود ہی تخلیق کرتا ہے۔ آپ کو خوشی کہیں سے خیرات میں نہیں ملے گی۔ آپ کو اسے بالکل ابتدا سے تخلیق کرنا پڑے گا۔ اس کے لیے آپ کو ’’توجہ کا قانون‘‘ یاد رکھنا ہوگا یعنی ’’آپ جو سوچتے ہیں اسے ہی اپنی طرف متوجہ کرلیتے ہیں۔‘‘

نامعقول محرکات سے بچ کر چلنا

بعض اوقات نامعقول محرکات سے متاثر ہونا انسان کی عادت بن جاتی ہے۔ بعض لوگ دوسروں کے مقابلے میں چیزوں کو زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں نامعقول عوامل جنم لیتے ہیں۔ اگر آپ ان نامعقول محرکات کے آگے بند نہیں باندھتے تو نہ صرف یہ آپ کے آپس کے تعلقات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات آپ کے عقلی تقاضوں کی حدود سے بچ کر آگے نکل جاتے ہیں اور اس طرح خوف اور غم ہم پر حاوی ہوجاتے ہیں جب کہ یہ کلی طور پر ہم پر منحصر ہوتا ہے کہ اس خوف کو اپنے اوپر مسلط کرلیں یا ان عوامل پر اپنا کنٹرول برقرار رکھیں۔

ہمیشہ سچائی کے خواہش مند رہیں

سچائی کے خواہش مندوں کو ہر کوئی پسند کرتا ہے۔ یہ لوگ ہمیشہ مشکل اور تکلیف دہ سچ کو آرام دہ جھوٹ پر ترجیح دیتے ہیں جو کہ یقینی طور پر ’’مضبوط اخلاقی کردار‘‘ کی پہچان ہے۔ مضبوط کردار کے عقل مند لوگ ہمیشہ چیزوں کو مشکوک نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں تمام حقائق پر پرکھتے ہیں اور اسی خصوصیت کی بنیاد پر انہیں عقلمند گردانا جاتا ہے۔ مضبوط کردار کے لوگ تمام طرف داریوں، تعصبات کو بالائے طاق رکھ کر ہر سطح پر خوشی کی تلاش میں رہتے ہیں۔

باہمت رہیں اور پیچھے مڑکر نہ دیکھیں

خوف زدہ ہونا بالکل ایک نارمل اور قدرتی عمل ہے۔ ذہنی دباؤ میں خوف محسوس کرنا ایک عام بات ہے کیوں کہ اللہ نے ہمیں جینیاتی طور پر ایسا ہی بنایا ہے۔ اس کے باوجود کچھ لوگ خوف کو اپنے اوپر حاوی کرلیتے ہیں، جب کہ کچھ لوگ انتہائی مہارت سے خوف کو چکمہ دے دیتے ہیں اور باہمت رہتے ہیں۔ آپ کو درپیش مشکلات سے نہ پریشانی میں مبتلا ہونا ہے اور نہ مشکلات سے کترانا ہے بلکہ اپنے اوپر بھروسہ کرنا ہے۔

دوسروں کے زاویہ نگاہ سے بھی دیکھیں

چیزوں کو دوسروں کے زاویہ نگاہ سے دیکھنا مضبوط کردار کے لوگوں کی ایک بہت اہم خصوصیت ہے اور دراصل یہی وہ خصوصیت ہے جو ہمیں انسان کا مقام دیتی ہے۔ آج کل یہ غلط تصور بہت عام ہے کہ دوسروں کا احساس کرنے سے یا دوسروں کے لیے گرم جوشی دکھانے سے ان کی اپنی کمزوری ظاہر ہوتی ہے جب کہ درحقیقت مضبوط اور باکردار لوگ ہی جو کہ اندر سے روشن ہوتے ہیں وہی دوسروں کے ساتھ مہربانی اور احساس کا رویہ رکھ سکتے ہیں۔ ہمیشہ ان لوگوں سے محبت کریں اور ان کی محبت کا احساس کریں جو آپ کے آس پاس رہتے ہیں، بغیر کسی لالچ اور طمع کے کسی کے متعلق کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے اس کا زاویہ نگاہ سمجھ لیں کیوں کہ ہر شخص اپنی ایک سخت جنگ میں مصروف ہے جس کا آپ کا علم نہیں رکھتے۔

اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں

خود اعتمادی ہی آپ کو پرکشش اور بااختیار بناتی ہے۔ جب آپ اپنی قابلیت کے سلسلے میں پُر اعتماد ہوتے ہیں تو لوگ آپ سے متاثر ہوکر آپ جیسا بننا چاہتے ہیں اور آپ کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اگرچہ خود اعتمادی ایک قدرتی چیز ہے لیکن یہ پیدائشی طور پر آپ کی شخصیت کا حصہ نہیں ہوتی بلکہ خود اعتمادی، ذاتی احترام اور محبت ہمیں سیکھنی پڑتی ہے۔ ہماری زندگی کے مختلف واقعات اور اتار چڑھاؤ ہماری خود اعتمادی کو بری طرح متاثر کرتے ہیں مگر اس کے باوجود یہ سب ہم پر منحصر ہوتا ہے کہ ان تمام رکاوٹوں کو ہم کس طرح عبور کریں اور کبھی بھی ہار نہ مانیں۔ کامیابی کو ہمیں مرحلہ وار تعمیر کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے بہت زیادہ کوشش اور وقت درکار ہوتا ہے۔ ہمارے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم اپنی بڑی ناکامیوں پر غور کرنے کے بجائے اپنے چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو تسلیم کریں اور یاد رکھیں اور یہی خود اعتمادی بڑھانے کا عمدہ نسخہ بھی ہے تاکہ مضبوط اور باکردار شخصیت بنائی جاسکے جسے سب پسند کریں۔

اپنی ساکھ اور سماجی مقام کا خیال

آپ کی ساکھ آپ کے قیمتی اثاثوں میں سے ایک اثاثہ ہے کیوں کہ اپنے احباب میں اس کو بنانے کے لیے سالہا سال لگ جاتے ہیں لیکن اس کے مسمار ہونے میں چند سکنڈ لگتے ہیں۔ لوگ ان شخصیات کو بہت قدر اور محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جن کی ذاتی ساکھ بہت اچھی اور دیانت دارانہ ہو۔ لہٰذا آپ کو اپنی ساکھ ناقابل تردید بنانے کے لیے بھرپور کوشش کرنی ہوگی۔ جب تک کہ یہ آپ کی کسی دوسری خصوصیت (جیسے کہ دیانتداری) کو متاثر نہ کرے۔ آپ شخصی لحاظ سے جو بھی ہیں اسے تسلیم کریں اور خود کو کبھی دھوکے میں نہ رکھیں۔ اور یہ یاد رکھیں کہ کچھ لوگ آپ سے ضرور متاثر ہوں گے اور آپ کے نقش قدم پر چلیں گے۔

ہــر ایک سے شائستہ اور نــــرم رویہ

شائستہ رہنے کا فیشن کبھی پرانا نہیں ہوتا کیوں کہ لوگ اچھے اخلاق کو ہمیشہ پسند کرتے ہیں۔ جہاں تک شائستگی کی بات ہے تو آپ ان لوگوں سے عموماً شائستہ ہی رہتے ہیں جنہیں آپ پسند کرتے ہیں لیکن اصل مرحلہ ان لوگوں کے ساتھ شائستہ رہنا ہوتا ہے جنہیں آپ پسند نہیں کرتے اور جب آپ یہ سب کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں تو آپ نے یقینا اپنا کردار بڑی حد تک مضبوط بنا لیا ہوتا ہے اور آپ کے دوست احباب یقینا اس کی قدر کرنے لگتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
رشید حیات

Leave a Reply