کیا اپنے بچوں پر آپ کی نظر ہے؟

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ہمارے علاقے میں راہ چلتی ہوئی ایک خاتون کا پرس چھینا گیا، وہ بے چاری روتی پیٹتی رہ گئی لیکن موٹر سائیکل سوار یہ جاوہ جا۔ جب کیس تھانے میں رجسٹرڈ ہوا تو تحقیق سے حیران کن بات سامنے آئی کہ اس عورت کے سامان کو لوٹنے والا کوئی اور نہیں اس کے ہمسایوں کا جوان بیٹا تھا، جو مقامی یونیورسٹی میں انجینئرنگ کا طالب علم بھی تھا۔ خاتون اور اس کا شوہر حیران رہ گئے اور اس کے والدین سے شکایت کی اور اس طرح اس معاملے کو دبا دیا گیا۔ اسی طرح ایک اور واقعہ ایک عزیز کے ساتھ پیش آیا۔ صاحب دفتر سے واپس آئے، انہیں ایک ضروری میٹنگ کے سلسلے میں ہوٹل جانا تھا، اس لیے گاڑی گیراج میں کھڑی کرنے کے بجائے باہر کھڑی کر دی۔ باہر نکلے تو گاڑی غائب تھی۔ پندرہ دن کی تلاش کے بعد پولیس نے بلایا کہ چور پکڑا گیا ہے، یہ خوش خوش تھانے پہنچے، ملزم کو دیکھا تو ہکا بکا رہ گئے کیوںکہ وہ محلے کے ایک شریف خاندان کا چشم و چراغ اور شہر کے ایک معروف کالج کا طالب علم تھا۔ نشان دہی پر دوسرے گھروں میں چھاپہ مارا گیا تو ملزم کا دوسرا ساتھی ایک وکیل کا بیٹا تھا، جب کہ تیسرا لڑکا بھی مقامی کالج کا طالب علم تھا اور چوتھے کا باپ شہر کے معززین میں شمار ہوتا تھا۔ چاروں نے گاڑی کو کسی کے ہاتھ اونے پونے بیچ دیا، جس کے بعد گاڑی پکڑی گئی۔ اب سب کی ایک ہی استدعا تھی کہ کیس واپس لیا جائے، لوگوں میں بہت سبکی ہوگی۔ غرض منت سماجت کے بعد وہ اس شخص کو رام کرنے میںکامیاب ہوگئے۔

ایسے لاتعداد دیگر واقعات بھی آئے روز رونما ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے واقعات سے ہمارا معاشرہ اٹا پڑا ہے۔ جس میں نوجوان اولاد والدین کی عزت کو بٹے لگاتی پھرتی ہے۔ راہ چلتی عورتوں اور لڑکیوں کو چھیڑنا، ان کے پرس چھیننا، کالجوں کے سامنے لڑکوں کا ہجوم، نشے میں جھومتی نوجوان نسل اور کہیں اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والے نوجوان، غرض بے شمار مثالیں ہیں، جنہیں ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں بخوبی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ ایسے واقعات صرف ایک گھر کا مسئلہ نہیں رہے بلکہ ہر خاندان اور گھر اس طرح کے مسائل سے دوچار ہے۔ کوئی نہ کوئی نوجوان کسی جرم کے سلسلے میں پکڑا جاتا ہے اور اس کے گھر والے منت سماجت اور سفارشوں کے لیے دھکے کھا رہے ہوتے ہیں۔ مقامی تھانے کے ایک اعلیٰ افسر کے بقول بے چارے شریف والدین بچوں کو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے لیے بھیجتے ہیں لیکن اکثر غلط دوستوں کی وجہ سے کبھی Thrill کے لیے چوری کرتے ہیں یا کبھی لڑکیوں کو چھیڑتے ہیں اور جب تھانے لایا جاتا ہے تو ان کی ضمانت کے لیے آنے والے والدین جس طرح شرم کے مارے گردن جھکائے بے بسی کا شکار ہوتے ہیں، وہ ناقابل بیان ہوتا ہے۔ اس لیے کبھی کبھار شریف باپ کی منت سماجت اور ضمانت کے بعد ہم تنبیہ کر کے چھوٹے موٹے مسئلے میں بچے کو چھوٹ دیتے ہیں لیکن بعض اوقات یہی بچے بڑے جرائم کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔

یہ کس قدر افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ موجودہ دور کا ہر انسان دال روٹی اور دوسری ضروریات کے چکر میں اس طرح گرفتار ہوکر رہ گیا ہے کہ اسے اپنی اولاد کی نقل و حرکت کا اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کس لمحے گھر اور والدین کا سر شرم سے سے جھکا دیں گے۔ یہ سچ ہے کہ معاشی مسائل بعض والدین کو اولاد کی تعلیم و تربیت سے غافل کردیتے ہیں مگر امراء کے بچے بھی بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ چلو ایک لحظہ کے لیے ہم غریب لڑکوں کے لیے یہ سوچ سکتے ہیں کہ چوں کہ غربت اور معاشی تنگ دستی کے سبب ان کے بچے اپنی اس حالت سے چھٹکارا پانے کے لیے ایسی راہوں کا انتخاب کرلیتے ہیں، جب کہ دوسری جانب اس کے برعکس امیر طبقے کے بچوں کا ایسی راہوں کا انتخاب عجب حیرت کا عالم ہے کیوں کہ ’’جسٹ فار انجوائے منٹ‘‘ کی تسکین ساری عزت کو خاک میں ملا دیتی ہے۔ مشہور سائیکالوجسٹ ڈاکٹر خالد کا اس بارے میں کہنا ہے کہ کہیں غربت اور محرومی اور والدین کی بے توجہی ان حالات کی ذمہ دار ہے تو کہیں ہر نعمت کا بغیر محنت کے حاصل ہو جانا بھی مسائل کا سبب بن رہا ہے۔ ضروری ہے کہ والدین کو بچوں کی ضروریات پورا کرنے کے علاوہ ان کی زندگی میں ایک چیک سسٹم رکھنا چاہیے تاکہ انہیں تحفظ کا احساس رہے۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ آج کا نوجوان اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ ہے اور والدین اپنے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو کیبل، سینما، وی سی آر، ویڈیو گیمز، انٹرنیٹ اور موبائل فونز جیسی لغویات کی بھی آزادانہ اجازت دے دیتے ہیں، سو نتیجتاً ایسی صورت حال تو پیش آنی ہی ہے۔

والدین اپنی معاشی مصروفیات کے علاوہ وقت گزاری پر سو طریقوں سے عمل کر رہے ہیں مگر اولاد کی فکر نہیں کرتے کہ وہ کس حال میں ہے۔ انہیں پہلے ہی تمام صورتِ حال پر اپنا کنٹرول رکھنا چاہیے۔ ایک سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ اس ابتری کا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ خود ہمارے ایسے کئی بھائی اور بہنیں ہیں، جو اپنے طور پر معاشرے کے سدھار کا کام کر رہے ہیں لیکن خود ان کے اپنے گھروں کا یہ حال ہے کہ کسی کو کسی کی خبر نہیں۔ ان والدین کے بچے سب سے زیادہ معاشرے کے قاعدے اور قوانین کو توڑتے رہتے ہیں۔ کیا وہ بچے قصور وار ہیں یا پھر ان کے والدین؟‘‘ یہ بات اپنی جگہ کافی وزن رکھتی ہے کیوں کہ ماں کی گود بچے کا اولین مکتب کہلاتی ہے، اگر اسے یہاں ہی کچھ حاصل ہو نہ پائے تو مزید اسے بھلا کیا حاصل کرنا ہے۔ ماؤں کی غفلت اور باپ کی مصروفیات، بچوں کو ایسی راہوں پر لے آتی ہے اور وہ پھر اپنی دنیا میں مگن ہوجاتے ہیں۔ اس صورت حال کی مزید وضاحت ماہرین نفسیات کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایسے بچے جن کو شفقت یا توجہ نہیں ملتی تو وہ خود کو دوسروں کی نظروں میں ممتاز کرنے کے لیے ایسی حرکات کو اپنا وطیرہ بنا لیتے ہیں، جس سے لوگ حیرانی کا شکار ہوں۔ دراصل ایسے بچے یا لوگ احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں، جس کو وہ تھرل کے ذریعے احساس برتری میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، جس سے ان کی انا کو تسکین حاصل ہوتی ہے۔ بعض اوقات اپنی اس محرومی کو تشدد، مار پیٹ اور دیگر عوامل کے ذریعے تسکین پہنچاتے ہیں۔

دوسرا محرک جو بچوں کے بگاڑ کا ہے، وہ یہ ہے کہ جب والدین آپس میں لڑائی جھگڑے کریں، زیادہ مصروف ہوں، تو بچے ایسے تمام اثرات کو جلد قبول کرلیتے ہیں۔ وہ اپنی ذات کی محرومی کو ایسی حرکات کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جذباتی طور پر ناپختگی اور سب سے بڑھ کر اکیلا پن اور ذات کی تنہائی کا شکار انسان اور بچہ ہر قسم کی چیزوں کا اثر لے کر ایسی راہوں کا انتخاب کرتا رہتا ہے۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ ایک خاتون کا کہنا تھا کہ والدین اپنے بچوں کی جیبوں کو روپے پیسوں سے تو بھر دیتے ہیں لیکن تربیت کے نام پر ٹکے کا وقت بھی ان کو نہیں دیتے۔ بچوں کے گھر آنے کے اوقات وغیرہ پر بھی ان کی نظر نہیں ہوتی اور نہ ہی اس چیز کو چیک کیا جاتا ہے کہ آخر بچوں کی صحبت کس قسم کی ہے۔ بس فیس کارڈ پر مروجہ فیس ادا کردینا اور صبح ناشتے پر ہیلو ہائے کردینا ہی ان کی ذمہ داری رہ گئی ہے۔

والدین کو تعلیمی اداروں میں ان کی حاضری کا مکمل ریکارڈ دیکھنا چاہیے۔ ان کے ٹیچر حضرات سے ان کی کارکردگی کے حوالے سے بات چیت کرنی چاہیے تاکہ ان کو علم رہے کہ بچے کس قسم کی سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ دوسری جانب والدین بچوں کی اس صورت حال کے حوالے سے ایک عجیب قسم کی دلیل پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک پیسہ اور تعلیمی ادارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ بعض والدین کی رائے یہ ہے کہ جب کسی تعلیمی ادارے میں بچہ پڑھتا ہے تو پھر وہاں کے اساتذہ اس بات کے ذمے دار ہوتے ہیں کہ بچے کی اخلاقی تعلیم و تربیت کس طرح کرنی چاہیے جب کہ حقیقت میں کئی والدین سال ہا سال یہ زحمت ہی گوارہ نہیں کرتے کہ کبھی بچے کے تعلیمی ریکارڈ کے حوالے سے اسکول کا دورہ کر کے اساتذہ سے اس کی کارکردگی کو ڈسکس کریں۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق ملک میں ہر سال دسیوںلاکھ بے روزوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ یہ بے روزگار پڑھے لکھے اور کبھی تعلیم یافتہ بھی ہوتے ہیں لیکن انہیں کہیں راہ نہیں ملتی۔

ان بے روزگار افراد کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ والدین سخت مشقت کے بعد اپنے بچوں کو تعلیم دلواتے ہیں اور نوکری کے حصول میں ناکامی کے بعد والدین پر یہی نوجوان بوجھ بنے رہتے ہیں اور جوان بیٹیاں جہیز کی وجہ سے چھوٹی موٹی نوکریاں کرتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت بیشتر خواتین کاٹیج انڈسٹری میں معمولی تنخواہوںپر کام کر رہی ہیں، انہیں پورے دن کی محنت کا صلہ یہ ملتا ہے کہ دو وقت کی روٹی بھی بہ مشکل پوری ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بچوں کو وہ توجہ یا نگہداشت حاصل نہیں ہوتی، جس کی ان کو ضرورت ہوتی ہے لیکن نوجوان نسل اور بالخصوص ٹین ایجرز میں بڑھتے ہوئے جرائم کی وجہ بھی یہ ماہرین، والدین کی تربیت و توجہ کے فقدان کو قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ معاشی تبدیلیوں کے ساتھ ترجیحاب بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے، جس کی وجہ سے ہمیں اپنی اقدار واضح طور پر تبدیل ہوتی دکھائی دیتی ہیں لیکن اب معاشی تبدیلیوں کے ساتھ وہ خاندانی اقدار بھی تبدیل ہوگئی ہیں، جو ایک مضبوط خاندان کی بنیاد تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ون یونٹ فیملی میں والدین بچوں کو تربیت کی فراہمی سے بعض اوقات قاصر نظر آتے ہیں اور کبھی بڑے خاندانوں میں بھی ذمہ داریوں کا بوجھ بچوں پر توجہ نہیں دینے دیتا۔

دیکھا جائے تو یہ حقیقت ہے کہ آج معاشرے میں جو افراتفری، بدنظمی، تشدد اور دہشت گردی اور لاقانونیت ہمیں نظر آتی ہے، وہ سب ہمارے رویوں اور کم زوریوں کی عکاس ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کیا دے رہے ہیں؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں بجائے انسانیت پر یقین رکھنے کے ان اقدار کو اپنانا پسند کریں گی، جو انہیں معاشرے میں انفرادیت بخشیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ لاپروائی اور کوتاہی بچے کی شخصیت کی صورت میں ایسی پراڈکٹ کو سامنے لا رہی ہے، جو فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے ہمیں بچوں کو وقت اور تربیت دینے کی ضرورت ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شاہدہ پروین

Leave a Reply