غزل

میں کچھ بھی سوکھنے والی ندی سے کیا کہتا

سلگتی ریت تھی، پھر تشنگی سے کیا کہتا

فرات آج بھی پیاسوں کی راہ تکتا ہے

سنا کی نوک پہ آلِ نبی سے کیا کہتا

ہے کیا خمیر میں، لوگوں نے کب یہ جانا ہے

کہانی خاک کی میں آدمی سے کیا کہتا

اندھیری رات سے جگنوں ہی جیت جاتے ہیں

بھلا یہ بات میں اب تیرگی سے کیا کہتا

کھلا تھا شہر تمنا کا در بھی میرے لیے

تمام لوگ تھے جب اجنبی سے، کیا کہتا

یہیں قریب ہے منزل قدم تو آگے بڑھا

ستم کی ماری ہوئی زندگی سے کیا کہتا

امیر شہر نے کانٹوں کا تاج پہنا تھا

تھی کتنی جاں میں حلاوت کسی سے کیا کہتا

مجھے سلیقے سے دنیا پرکھ نہ پائی کبھی

تھا اپنے آپ میں گم اس صدی سے کیا کہتا

شیئر کیجیے
Default image
احمد نثار

Leave a Reply