غزل

ممکن نہیں کہ تیری دعا میں اثر ملے

جب تک نہ دل میں سوز ہو اور چشم تر ملے

سانسوں کا زیر و بم ہے دلیل فنائیت

ہر ایک کو بھلا کہاں عمر خضر ملے

نرگس کی اشک شوئی نہ ہوجائے رائیگاں

یارب چمن کو اب تو کوئی دیدہ ور ملے

ابر خلوص بن کے برستا ہے دم بہ دم

’’رستے میں خواہ دوست کہ دشمن کا گھر ملے‘‘

ڈھل جائیں گی یقین ہے گنہ کی سیاہیاں

توبہ کے جام کا کوئی قطرہ اگر ملے

صورت گری خیال کی دشوار ہے بہت

عطیہ ہے رب کا جس کو یہ اختر ہنر ملے

شیئر کیجیے
Default image
سعید اختر اعظمی

Leave a Reply