اپنا شوہر اپنے پیسے، چوری کیسی؟

بیوی رات جو سونے کی انگوٹھی آپ نے مجھے تحفے میں دی تھی، وہ آج کہیں گم ہوگئی ہے۔ شوہر نے کہا: ’’اچھا، یہ عجیب اتفاق ہے کہ آج میرے کوٹ کی جیت میں سے بھی ایک ہزار کا نوٹ غائب ہوا ہے۔ مگر مجھے ہزار کا نوٹ گم ہونے کا اتنا غم نہیں ہے۔‘‘ کیوں؟ بیوی نے چونک کر پوچھا۔اس لیے کہ تمہاری کھوئی ہوئی انگوٹھی مل گئی ہے، شوہر نے جواب دیا۔ سچ؟ بیوی نے خوشی سے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ کہاں ہے؟ میرے کوٹ کی جیب میں تھی کہ جس میں سے ہزار روپے غائب ہوئے ہیں۔

یہ ایک لطیفہ ہے، مگر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایسی بہت سے بیویاں ہیں کہ جو اپنے شوہروں کی جیب پر ہاتھ صاف کرتی رہتی ہیں۔ زیادہ کماؤ شوہر ہو تو جیب سے پیسے غائب ہونے کا شوہر کو اتنا زیادہ پتا نہیںچلتا اور اگر اندازہ ہو بھی جائے تو شوہر کوئی نوٹس نہیںلیتا۔ ہاں اگر شوہر کوئی ملازمت پیشہ ہو یا کم آمدنی والا ہو اور بیوی بھی ایسی مل جائے تو بس پھر ایسی بیوی کی خیر نہیں، آئے دن لڑائی جھگڑے اس گھر کا مقدر بن جاتے ہیں۔ بسا اوقات یہ لڑائی جھگڑے بڑھتے بڑھتے علیحدگی تک پہنچ جاتے ہیں۔

بیویاں ایسا کیوں کرتی ہیں؟ جب اس سوال پر غور کیا اور دیگر افراد سے پوچھا تو اس کی کئی وجوہات سامنے آئیں۔ جیسے ہی ہمسائے کی کسی عورت کا کوئی عمدہ پہناوا دیکھا یا کسی عزیزہ کے گھر کوئی نئی چیز دیکھی تو وہ ویسا ہی پہناوا خریدنے یا ویسی ہی چیز خریدنے کے لیے شوہر کی جیب سے پیسے نکال کر ضرورت پوری کرتی ہیں۔ لیکن اس کی سب سے اہم وجہ خود شوہر ہوتے ہیں، ایسے شوہر جو اپنی بیویوں کی ضرورت کا خیال نہیںرکھتے اور انہیں جیب خرچ نہیںدیتے۔

میاں بیوی کے تعلقات میں ہم آہنگی کسی بھی معاشرے کی مضبوطی اور اس کے استحکام کے لیے ایک بنیادی اور اساسی اہمیت کی چیز ہے۔ میاں بیوی کے میل ملاپ اور ان کے اتحاد و اتفاق ہی کی بدولت ایک نئے خاندان کی بنیاد پڑتی ہے اور مختلف خاندان کا مجموعہ ہی معاشرہ، سماج یا سوسائٹی کہلاتا ہے۔ لہٰذا جن خاندانوں میں باہمی جھگڑے پائے جاتے ہیں یا جن میں اتحاد و یگانگت موجود نہ ہو یا جن میں میاں بیوی کے درمیان تفرقہ اور انتشار پیدا ہو چکا ہو وہ معاشرہ اور سماج حد درجہ کھوکھلا ہو جاتا ہے اور بہت جلد زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس اعتبار سے میاں بیوی کے درمیان محبت و الفت اور باہمی ہم آہنگی کا پیدا ہونا بہت ضروری ہے تاکہ دونوں مل کر اپنے حقوق و فرائض بخوبی ادا کرسکیں اور اپنی اولاد کی بھی صحیح تربیت کرسکیں۔ جن کے نازک کندھوں پر اگلے خاندانوں کو سنبھالنے اور انہیں قائم رکھنے کا بوجھ رکھا جائے گا۔

اسلام کی نظر میں گھر اور زوجہ کے تمام اخراجات ادا کرنامرد کی ذمہ داری ہے اور مرد کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کے تمام اخراجات کو پورا کرے، چاہے بیوی شوہر سے زیادہ دولت مند ہی کیوں نہ ہو۔ نفقہ (اخراجات) کا واجب ہونا اسلام کا ایک قطعی حکم ہے اور زوجہ کا شرعی حق ہے۔ اگر مرد اس کو نہ ادا کرے تو اس کے اوپر قرض کے عنوان سے باقی رہے گا اور مطالبہ کے وقت ادا کرنا پڑے گا۔

فقہاء نے نفقہ کی تعریف کچھ اس طرح سے کی ہے۔ ’’نفقہ ان چیزوں کو کہا جاتا ہے جو عورت کی زندگی کے لیے ضروری ہو اور وقت، حالات اور اس کی گھریلو حیثیت کے مطابق ہوں جیسے :

۱- کھانا، پینا، پھل اور دوسری ضرورتیں معمول کے مطابق۔ ۲- سردی اور گرمی کے کپڑے جو اس کی شان کے مطابق ہوں۔ ۳- بستر، تکیہ، پلنگ، تخت وغیرہ۔ ۴-کھانا پکانے اور کھانے پینے کا سامان۔ ۵- گھر کو گرم یا ٹھنڈا رکھنے کے وسائل (پنکھا، کولر، انگیٹھی وغیرہ) ۶-ذاتی گھر یا کرایہ کا گھر جو اس کی حیثیت کے مطابق ہو اور اس میں گھر والوں کے لیے سکون فراہم ہوسکے۔ ۷- علاج کے اخراجات ۸- صفائی اور بناؤ، سنگھار کے سامان اور دوسری ضروریاتِ زندگی۔

فقہاء کا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ بحیثیت مسلمان یہ شوہروں پر فرض ہے کہ وہ اپنی بیویوں کو ان کی ضرورت کے مطابق کچھ ذاتی خرچہ دیں۔ خاوند اپنے اخراجات جیسے مرضی کرے مگر بیوی کے لیے کچھ ذاتی خرچہ ضرور دے۔ کیوں کہ اس نے اپنے آپ کو اور اپنی زندگی کو آپ کے حوالے کر دیا ہے، وہ آپ کے لیے وقف ہوچکی ہے۔ چناں چہ اس کی جملہ ضروریات آپ کے ذمے ہیں۔ بحیثیت انسان اس کا بھی کہیں خرچ کرنے کو دل کرتا ہے۔ اپنی مرضی کی کوئی چیز خریدنے کا، اپنے والدین یا عزیز و اقارب کو کچھ دینے کا یا کچھ صدقہ خیرات کرنے کا۔ تو فقہاء نے لکھا ہے کہ خاوند کو بیوی کا ہر مہینے کا کچھ ذاتی خرچ متعین کردینا چاہیے۔جو ہر مہینے اپنی بیوی کو دے کر بھول جائے اور اس کا حساب اس سے نہ مانگے۔ اب یہ عورت کو اختیار ہے کہ وہ چاہے تو ان پیسوں کو اپنے کپڑے اور جوتوں پر خرچ کرے اور اگر چاہے تو اپنے بچوں پر اس کو خرچ کرے، یا چاہے تو غرباء پر اس کو خرچ کرے۔ اس لیے کہ عورت کو بھی تو دل ہے کہ میں اللہ کے راستے میں اس کو خرچ کروں، ممکن ہے کہ وہ کسی غریب عورت کی امداد کرنا چاہتی ہو، کوئی دکھی عورت اس کے علم میں ہو وہ اس عورت کو کچھ دینا چاہتی ہو یا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا چاہتی ہو۔ تو عورت کو یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے پیسے جو جیب خرچ کے ہیں ان کو اپنی مرضی سے خرچ کرے۔

جیب خرچ کے حوالے سے فقہاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ شریعت یہ نہیں کہتی کہ خاوند پر اتنا زیادہ بوجھ ڈال دیا جائے کہ وہ اٹھا ہی نہ سکے۔ ہاں شوہر جتنا جیب خرچ آسانی سے دے سکتا ہے اتنا خرچ متعین کردے۔ جس کا اصل میں مقصد یہ ہے کہ بیوی کو چھوٹی چھوٹی باتوں میں خاوند کی منتیں نہ کرنی پڑیں۔ اس طرح شریعت نے عورت کی عزت کا خیال رکھا ہے کہ وہ اپنی ذاتی ضروریات کے لیے ہر وقت کی محتاج نہ رہے اور فقیروں کی طرح شوہر کے آگے ہاتھ نہ پھیلاتی رہے۔

آج کل چوں کہ جیب خرچ متعین نہیںکیا جاتا، لہٰذا عورتیں گھر کے خرچے کو جیب خرچ ہی سمجھ لیتی ہیں، یا پھر شوہر کی جیب پر ہاتھ صاف کرتی ہیں۔ جس سے جھگڑوں کا آغاز ہوتا ہے۔ مزید مزے کی بات یہ ہے کہ شوہر کی جیب سے پیسے نکالنا کوئی جرم بھی نہیں۔ یہ چوری کے زمرے میں نہیں آتا، اس عمل پر کوئی تعزیر کا اطلاق نہیں ہوتا۔ بلکہ بخاری شریف میں ایک حدیث بیان کی گئی ہے کہ شوہر بیوی کے کھانے پینے اور لباس وغیرہ کے اخراجات کو پورا کرے اگر وہ ان اخراجات کی ادائیگی سے پہلو تہی کرتا ہے یا بخل سے کام لے کر پوری طرح ادا نہیں کرتا تو بیوی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی بھی طریقہ سے خاوند کی آمدنی سے انہیں پورا کرسکتی ہے۔ اس حوالے سے رسولِ خداﷺ نے فرمایا: بیوی شوہر کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر اتنا لے سکتی ہے جس سے معروف طریقہ کے مطابق اس کی اور اس کی اولاد کی گزر اوقات ہوسکے اور گھر کا نظام چل سکے۔

مندرجہ بالا حدیث کے پیش نظر اگر خاوند گھریلو اخراجات کی ادائیگی میں کنجوسی کرتا ہے تو بیوی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے اتنی رقم لے سکتی ہے جس سے گھر کا نظام چل سکے لیکن یہ اجازت صرف ضروریات کے لیے ہے، فضولیات کے لیے نہیں۔ نیز اگر ایسا کرنے سے بیوی خاوند کے درمیان اختلاف اور تعلقات کے کشیدہ ہونے کا اندیشہ ہے تو اس طریقہ سے اخراجات پورے نہیں کرنا چاہیے۔ کیوں کہ بیوی خاوند کے تعلقات کی استواری مقدم ہے، اس بات کا فیصلہ بیوی خود کرسکتی ہے کہ ایسا کرنے سے تعلقات تو خراب نہیں ہوں گے۔ بہرحال ایسے حالات میں ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بیوی کو اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے اس قدر رقم لینے کی شرعاً اجازت ہے جس سے معروف طریقہ کے مطابق گزر اوقات ہوسکے۔

بہرحال شوہروں کو چاہیے کہ وہ اپنی بیویوں کو گھریلو اخراجات کے علاوہ کچھ جیب خرچ بھی باقاعدگی سے دیا کریں۔ اس سے ایک تو ہر دو فریقین زندگی آرام سے گزر سکیں گے اور کوئی تلخی پیدا نہیں ہوگی اور دوسرے بیویاں بھی شوہروں کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرنے سے باز رہیں گی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
منصور مہدی

Leave a Reply