تہذیبی استعمار اور ملک گیر خواتین کا استحصال

بیسویں صدی نے دنیا سے سیاسی استعمار کا خاتمہ کر کے قوموں کو سیاسی آزادی سے تو ہم کنار کر دیا مگر وہ قومیں جو سیاسی استعمار کا شکار رہی تھیں آزادی کے باوجود اپنے آپ کو آقا طاقتوں کی ذہنی غلامی سے آزاد نہ کراسکیں اور استعماری طاقتوں کی ایک نئی غلامی کا شکار ہوتی گئیں۔ یہ غلامی تہذیبی و ثقافتی غلامی تھی۔ ان کی تہذیب، ان کا کلچر اور رہن سہن، بود و باش اور کھانے پینے تک میں ان کی پیروی کو فخر تصور کیا جانے لگا اور دھیرے دھیرے ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی اسی تہذیبی رنگ میں رنگتی جا رہی ہے جو مغربی طاقتوںکا رنگ ہے۔ یہ تہذیبی استعماریت ہے اور اس نے دنیا کے تمام معاشروں کی بنیادوں کو کھوکھلا کر ڈالا ہے۔ اس مضمون میں تہذیبی استعمار کے اثرات اور تدارک پر گفتگو کی جائے گی۔

عریانیت اور فحاشی

٭ پچھلی صدی سے آزادیِ نسواں کے غلط نعرے نے ہمارے ملک میں بھی خواتین کو گھر سے باہر نکلنے پر اکسایا ، باپ اور شوہر کی مادہ پرستانہ سوچ کو گھر کی عورت خوب کمائے نے کام کرنے پر مجبور کیا۔

٭ بڑے شہروں میں لڑکیوں کے درمیان ماڈلنگ، رقص اور فلمی دنیا کی گلیمر میں کمانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ نتیجے میں مردوں کو لبھانے کے لیے فیشن اور جسم کے اعضاء کو نمایاں کرنے اور لباس کے کم سے کم استعمال کرنے کا چلن شروع ہوا۔ پارٹی کلچر اور پب کلچر نے عریانیت اور فحاشی کو اور بڑھاوا دیا۔

٭ عورت مردوں کی خواہشات کے ہاتھوں کھلونا بنتی جا رہی ہے۔ فیشن شو اور مقابلہ ہائے حسن اس کے ذرائع بن گئے ہیں۔ جن کو مرد ہی منعقد کرتے ہیں اور وہی نئے تراش و خراش کے لباس ڈیزائن کرتے ہیں۔ اسی طرح ٹی وی کے اشتہارات اور رسالوں میں عریاں تصاویر پھر ساتھ ساتھ فلموں میں معاشقہ، فحاشی کو عام کر رہے ہیں۔ یہی مرد حضرات کرکٹ کے میدان میں بھی ناظرین کو لبھانے کے لیے Cheer Girls کو نچا رہے ہیں۔

٭ بڑے شہروں میں جنہیں میٹرو سٹیز کہا جاتا ہے، جیسے ڈرگ اور Rave پارٹیز عام ہو رہی ہیں اور حکومت اور انتظامیہ ان تمام باتوں سے صرف نظر کرتی ہے اور کچھ حد تک ان کاموں میں سیاست داں اور اعلیٰ افسران بھی ملوث ہوتے ہیں۔

٭ بی پی او سیکٹر میں ڈیٹنگ الاؤنس اور مخلوط کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ ملازمین عیش و عشرت میں مگن رہ کر کمپنی کے وفادار بن کر رہیں۔

٭ گندی ویب سائٹس اور فحش لٹریچر عام ہو رہا ہے اور لوگ اس کی زد میں آتے جا رہے ہیں۔

عریانیت و فحاشی کے نتائج

٭ آج ملک میں نوجوان لڑکیوں اور عورتوں کی عزتوں پر حملے اور چھیڑ چھاڑ کے واقعات عام ہو رہے ہیں۔ کرائم رکارڈس کے مطابق ملک میں ہر ۲۶منٹ پر ایک عورت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور ہر۲۴ منٹ میں ایک آبرو ریزی ہوتی ہے۔

٭ ہر ۴۲منٹ میں جنسی حراسانی اور اغوا کے واقعات ہوتے ہیں اور دہلی شہر تو جنسی حراسانی اور خواتین کے خلاف جرائم کی راجدھانی بن گیا ہے۔

٭ دہلی کے مشہور ہندی اخبار ہندوستان کے مطابق ۷۴ فیصد قارئین نے بتایا کہ نوجوان لڑکیاں کم لباس میں دیر رات تک گھومتی ہیں۔ پارٹی اور پب کلچر بھی آبرو ریزی کے واقعات کے لیے ذمہ دار ہیں۔

٭ جسم فروشی کا کاروبار فروغ پا رہا ہے اور اس میں نوکری کا لالچ دے کر Traffickingکی جا رہی ہے۔ مساج پارلر کھلے عام اخبارات میں Adsدے کر کالے دھندے کرتے ہیں۔

٭ جسم فروشی کا کاروبار ایک بڑا بازار بن گیا ہے۔ پوری دنیا میں ۷۵ بلین ڈالرس اور واحد امریکہ میں ۲۱ بلین ڈالرس اس پہ لگے ہیں۔ اور ساتھ ہی ہم جنس پرستی کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔ بنگلور میں اس کا مشہور کلب بنایا گیا ہے۔ یہ خاندان کے توازن کو بگاڑنے میں اہم وجہ ہے۔

٭ اخلاقی گراوٹ کی شکار ITسیکٹر کی نوجوان نسل بھی ہے اور ان میں HIV/AIDS کے پھیلنے کی رپورٹ بھی سامنے آئی تھی۔ ان میں Drugs اور دیگر نشہ آور چیزوں کا پھیلنا بھی عام ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2005ء کے آخر میں مہاراشٹر میں 20,000 افراد HIV کا شکار ہوئے ہیں۔

خاندانی انتشار

اسلامی تعلیمات کے مطابق خاندان مرد و عورت کو ایک دوسرے سے سکون حاصل کرنے اور اپنی نسل کو آگے بڑھانے کے لیے وجود میں آتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کا لباس بن کر ایک دوسرے کے خاندان کو عزت بخشتے ہیں۔

مگر آزادی نسواں کے نعرے شادی، گھر و خاندان کو لعنت بتاتے ہیں۔ عورت کا زیادہ وقت گھر کی بجائے کام کی جگہوں پر خرچ کرنا سکھایا جاتا ہے۔ تحریک نسواں معاشی خود مختاری کے نام پر مردوں کے ساتھ گھلنا ملنا اور ساتھ ساتھ ملازمت کروانا چاہتی ہے اور شادی کو عورت کی ’’قید‘‘ بتاتی ہے۔

٭ دوہری آمدنی فارمولہ پر بچے نہ پیدا کرنا یا دیر سے بچوں کی پیدائش پر عورتوں کو مجبور کیا جاتا ہے۔ فطرت میں اس دخل اندازی سے جسمانی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ غرور، خود غرضی اور گھر کے بگاڑ سے میاں بیوی کے درمیان دوری اور دھیرے دھیرے چھوٹی چھوٹی باتوں میں تناؤ اور جھگڑے وغیرہ کی نوبت گھریلو تشدد پر آجاتی ہے۔

٭ ماں باپ سے دوری اور کم وقت دے پانے کی وجہ سے بچوں کی اخلاقی تربیت پیچھے رہ جاتی ہے۔ بچوں کے لیے درکار پیار، محبت و الفت سے بھی محرومی ظاہر ہے والدین اولاد کے لیے پر مسرت اور عیش و آرام کی زندگی مہیا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔

٭اولاد اور والدین میں کشمکش عام ہو رہی ہے۔ اولاد کی نافرمانی اور والدین کی پریشانی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ ماں باپ ڈرتے ہیں کہ ان کی سختی سے بچے خود کشی نہ کرلیں۔

٭ پیسے کی ہوس میں ضعیف والدین کو دور کر کے بچے والدین سے دوری اپنانے لگے ہیں۔

٭ مرد اور عورتوں کے کام کے مقامات پر آپسی دوستیاں بڑھ رہی ہیں اور یہ میاں بیوی میں شک اور تناؤ کو فروغ دے رہی ہیں۔

٭ گھر کے مردوں کی غلط عادتوں نے بہت سے گھروں کو اجاڑا ہے۔ بہت سی خواتین اس بنا پر خود کشی کرلیتی ہیں۔ اور نفسیاتی شکایتیں بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔

٭ حالیہ چند سالوں میں میاںبیوی کے درمیان علیحدگی کا رواج بھی بڑھ رہا ہے، غیر مسلموں کے علاوہ مسلمانوں میں بھی طلاق کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہر پونہ میں ۶۰۰۲ کے دوران ہر ماہ ۰۵۱ طلاق کے واقعات درج ہوئے اور ۷۰۰۲ میں یہ بڑھ کر ہر ماہ ۰۴۲ ہوگئے۔

٭ ۲۰۰۲ء میں ممبئی اور تھانے میں ہر ۵ شادیوں میں سے دو طلاق کے کیس درج ہوئے۔ بڑھتے ہوئے طلاق کے گراف نے خواتین کمیشن کی ذمہ دار بہنوں کو بھی پریشانی میں ڈال دیا ہے۔

٭ تہذیبی استعمار کی ایک اور لعنت یہ ہے کہ بڑے شہروں میں اونچے عہدوں پر فائز عورت صرف اپنے لیے جینا چاہتی ہے۔ بغیر کسی بندش کے وہ فخر سے تنہا زندگی بسر کرنا چاہتی ہیں۔

٭ ایک اور خطرناک اقدام جو مادہ پرستی کی ذہنیت سے وجود میں آتا ہے وہ کرائے کی کوکھ (سیروگیسی) کا بڑھتا رجحان ہے۔ اس میں عورت ماں تو بننا چاہتی ہے لیکن بغیر حاملہ بنے اور جسم کی خوب صورتی برقرار رکھتے ہوئے ایک بچہ حاصل کرنے کے لیے وہ کرایے کی کوکھ کا استعمال کرتی ہے۔ مغرب کی جوڑیاں غریب ملکوں کی عورتوں کا سستے داموں میں استعمال کر رہی ہیں۔

بچوں کا استحصال

٭ کمائی کی فکر اور اپنے جسم کی خوب صورتی کی بقا کے لیے آج کی مائیں اپنے بچوں کو دودھ بھی نہیں پلانا چاہتی ہیں۔ ڈبے کا دودھ استعمال ہو رہا ہے جو بچوں کی صحت پر اچھا اثر نہیں ڈالتا اور اولاد اور والدین کے درمیان محبت کا رشتہ بھی قائم نہیں ہونے دیتا۔

٭ بچوں کو، جن کے ماں باپ کام کاجی ہیں، آئے دن فاسٹ فوڈس اور Probioticغذاؤں پر منحصر رہنا پڑتا ہے جو ان میں موٹاپے کو بڑھا رہا ہے اور صحت کو بھی خراب کرتا ہے۔

استعمار کے عالمی ہتھکنڈے

٭خاندان کے انتشار اور عورتوں کے استحصال کے عالمی پیمانے پر ہونے والے چند خطرناک اقدامات وہ کانفرنسیں ہیں جو قاہرہ اور بیجنگ وغیرہ مین منعقد ہوئی تھیں۔

٭ Beijing+5 کانفرنس میں جو نکات طے ہوئے انہیں U.N.کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں سن ۲۰۰۰ میں Acceptکیا گیا۔ درج ذیل نکات طے ہوئے:

٭ مرد اور عورت کو طلاق اور وراثت میں برابر کا حق حاصل رہے گا۔

٭ہم جنس شادیوں کو قانونی درجہ حاصل رہے گا۔

٭ عورتیں خانہ داری نہیں کریں گی۔ اگر کرے تو اجرت طلب کرسکے گی۔

٭حمل اور وضع حمل کے لیے عورت مرد سے اجرت طلب کرسکتی ہے۔

٭ زنا بالرضا کوئی جرم نہیں۔

٭ فاحشہ عورت کو Commercial sex workerکہا جائے۔ Prostitute کہنا قانوناٍ جرم ہوگا۔

٭ Marital Rapeقانوناٍ جرم ہوگا۔

قرآنی احکامات کی روشنی میں تدارک

ہم کچھ ایسے حل کے بارے میں سوچیں جو اس ذہنیت کو بدل دے کہ کوئی اظہار خیال کی آزادی کے نام پر سماجی اقدار کے ساتھ کھیل نہ کر پائے، لوگوں کو سماجی اقدار اور روز قیامت کی جواب دہی کے تابع کرنے سے ہی ان کو گرتی ہوئی اخلاقی حالت سے روکا جاسکتا ہے۔

٭ سماجی زندگی کی بندش ایسی ہو کہ آرٹ اور تفریح کی آڑ میں عریانیت کو دکھانا ناممکن ہوجائے۔

٭قرآن میں فرمانِ الٰہی ہے: ’’اے بنی آدم ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر ایسے فتنے میں مبتلا کردے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا اور ان کے لباس ان پر سے اتروا دیے تھے تاکہ ان کی شرم گاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھول دے۔‘‘ (اعراف:۶۲)

٭ اسلام نے معاشرتی اور اخلاقی نظام کے تحت بھی کچھ اصول دیے ہیں:

٭ قرآن کے احکامات جنسی انتشار سے بچنے کے لیے اور بہتر جنسی توازن قائم کرنے کے لیے واضح اصول ہیں۔

٭ احادیث میں مرد و عورت کے آزادانہ اختلاط کی روک تھام کے لیے حجاب کے اصول، طریقے اور فوائد واضح ہیں۔

٭ محرمات اور غیر محرمات کی تفریق سے خاندانی رشتوں میں بھی عورت اور مرد حضرات کے درمیان برے احساسات رکے رہتے ہیں۔

٭ مسلم خاندانوںمیں بچپن سے پردے کی ترغیب دی جائے اور عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی ترجیح ہو۔ چہرے کے پردے پر بھی توجہ دی جائے۔

٭ مسلم اداروں میںمخلوط تعلیم کو ختم کیا جائے۔

٭ مسلم لڑکیوں میں پروفیشنل اور تکنیکی تعلیم کے رجحان کو ناپسند کیا جائے اور بنیادی انسانی و سماجی علوم کو بڑھاوا دیا جائے تاکہ خواتین سماجی تعمیر میں اپنا رول ادا کرسکیں۔

خاندانی انتشار سے بچاؤ

اسلامی خاندانی نظام کے اصول:

٭ نکاح کی اہمیت، نکاح میں سادگی ہو۔

٭ خوشگوار ازدواجی زندگی کے اصول عمل میں لائے جائیں۔

٭ خواتین کی گھریلو ذمہ داریاں اور بچوں کی تربیت پر خاص توجہ ہو۔

٭ فضول خرچی سے بچنے کی کوشش اور Consumerism سے بچاؤ کی تدابیر۔

٭ اولاد اور والدین کے رشتے کو مضبوط کرنا۔

٭طلاق اور Seperationکی لعنت سے بچنے کے لیے فیملی کونسلنگ کی مدد لی جائے۔

٭ مطلقہ اور بیوہ کا دوسرا نکاح کو سماج میں رائج کیا جائے۔

٭مرد کو دوسری شادی کے لیے آزادی دی جائے اور وہ بہ شرط انصاف دوسری شادی کرے۔ اس طرح سماج کی مجبور، بیوہ، مطلقہ اور معذور خواتین کو معاشرتی تحفظ فراہم ہوگا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
منیرہ خانم (پونے)

Leave a Reply