نصیب دشمناں

جلال کا مدت کے بعد ایک مختصر سا خط بالکل غیر متوقع طور پر مجھے ملا جس کے ذریعہ اس نے اپنے آنے کی اطلاع دی تھی۔ اس خط نے میرے دل کے پرسکون تالاب کی سطح آب پر ایک کنکری جیسا کام کیا تھا اور میرے دل میں سوچ و فکر کا ایک جال سا پھیلنے لگا تھا۔ اس جال نے میرے پورے وجود کو اپنی مضبوط گرفت میں لے لیا تھا۔ میرا دم گھٹنے لگا تھا، ایسی بے بسی میں نے پہلے کبھی بھی محسوس نہیں کی تھی۔ اگر خدا نخواستہ کبھی ایسی کیفیت سے دوچار ہوا بھی تو مریم مجھے بھرپور سہارا دیتی۔ مریم کے بعد تو میں بالکل تن تنہا اور بے سہارا سا ہوگیا ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ ساری دنیا میرے لیے اندھیری ہوگئی ہے۔

جلال میری اکلوتی اولاد ہے۔ اسے بڑے لاڈ و پیار سے پالا اور پڑھا لکھا کر ڈاکٹر بنایا۔ مگر ہائے رے میری قسمت! کہتے ہیں اولاد والدین کے بڑھاپے کی لاٹھی ہوتی ہے مگر جلال نے ایسا دکھ دیا ہے کہ معاذ اللہ۔ مریم نے بیٹے کے لیے کیا کیا خواب دیکھ ڈالے تھے مگر ان کی تعبیر محض حسرت و غم ہی ہوئی۔ مریم نے اپنی بہن سلمیٰ کی اکلوتی بیٹی شہد کو اس کے بچپن میں ہی اپنی بہو بنانے کے لیے چن لیا تھا اور سلمیٰ سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ یہ بات پکی سمجھو۔ بھلا سلمیٰ کو کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔وہ تو چاہتی ہی تھی کہ اپنی بہن سے کبھی بھی جدا نہ ہو۔ سراج سلمیٰ کے فیصلہ کے خلاف کہاں جانے والا تھا۔ اور پھر آج کل لڑکیوں کی شادی کی مشکلات کے پیش نظر یہ تو اللہ پاک کی غیبی مدد تھی۔ حالاں کہ وہ اس پیش کش سے ظاہراً بہت خوش نظر نہیں آیا مگر باطناً بہت مطمئن تھا۔ سلمیٰ کی طرف سے جلد شادی کر ڈالنے کا اصرار بڑھتا رہا مگر ہم نے جلال کے امتحانات کو سامنے رکھ کر اسے ٹال دیا۔ ایم بی بی ایس کے امتحانات ہیں۔ ذرا تم ہی غور کرو۔ شادی کرنا کیا مناسب ہوگا؟ وہ خاموش ہوجاتی۔ جلال کے امتحانات ختم ہوگئے۔ اور جب ریزلٹ آگئے تو سلمیٰ کے تقاضوں میں اضافہ ہونے لگا۔ جلال کی تقرری ڈاکٹر کی حیثیت سے چنڈی گرھ کے سرکاری اسپتال میں ہوگئی۔ وہ بے حد خوش تھا۔ ہماری خوشیوں کو جیسے پر لگ گئے تھے۔ اتنی خوشی سے جیسے ڈر لگنے لگ گیا تھا۔

شادی کے سوال پر جلال ہمیشہ ہی خاموش رہا۔ یہ خاموشی رضا مندی والی نہیں تھی۔ مجھے شک ہونے لگتا مگر میں خاموش رہتا۔ سلمیٰ نے جب متواتر تقاضے شروع کردیے تو میں نے جلال سے اس کی مرضی جان لینا مناسب سمجھا۔ وہ ہر بار کی طرح خاموش رہا۔ مگر میرے بار بار کے سوالوں پر میری طرف عجیب نظروں سے دیکھا اور بولا:

’’ابا! آپ بار بار اس شادی کے مسئلہ کو کیوں اٹھاتے ہیں؟ مجھے اپنا اچھا برا سوچنے اور سمجھنے کا تو وقت دیجیے۔‘‘

’بیٹا! یہ مسئلہ تو بالکل ہی نہیں ہے ہاں، ایک سوال ضرور ہے جس کا جواب تمہیں ہی دینا ہے۔

تو میرا جواب یہ ہے ابا کہ ابھی میں شادی نہیں کروں گا۔ اور اگر کروں گا بھی تو اپنی پسند کی لڑکی سے۔

’کیا؟‘

اور وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔ اس کا جواب نہایت گستاخانہ اور چونکا دینے والا تھا اس طرح کے جواب کی مجھے ہرگز امید نہ تھی۔ اسی رات میں نے مریم کو بھی اس کے خیالات سے آگاہ کر دیا۔ اسے میری باتوں پہ جب یقین نہ ہوا تو اس نے خود ہی جلال سے پوچھ ڈالا۔ بیٹا، میں یہ کیا سن رہی ہوں؟

’ہاں اماں، آپ نے ٹھیک ہی سنا ہے۔ مزید یہ بھی سن لیجئے کہ میں جس لڑکی سے شادی کروں گا وہ میری ہم جماعت تھی اور وہ بھی ڈاکٹر ہے، ڈاکٹر شیلا اور وہ اپنے ہی مذہب پر قائم رہے گی۔‘

’’اللہ غضب، تو یہ کیا کہہ رہا ہے؟‘‘

’اور یہ بھی کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ ہی رہے گی۔‘

’بس، بس‘ مریم نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے اور تیزی سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ جلال تھوڑی دیر کھڑا رہا پھر باہر نکل گیا۔ مریم نے مجھے سب کچھ بتا دیا۔ مجھے کوئی حیرت نہ ہوئی۔ ایسے واقعات تو روز ہی ہو رہے تھے۔ میں سوچنے لگا، یہ میری اپنی ہی ناعاقبت اندیشی تھی کہ جلال کی پڑھائی کانونٹ اسکول سے شروع کرائی۔ بنیادی دینی تعلیم سے تو وہ کوسوں دور ہی رہا۔ وہ کیا جانے کہ حرام کیا ہے اور حلال کیا۔ اچھے اور برے کی تمیز تو مذہب ہی دلاتا ہے ورنہ انسان اور جانور میں کیا فرق رہ جاتا۔ مجھے خود پر ہی غصہ آیا مگر اب وقت تو نکل گیا۔ اس بات سے پورے گھر میں tension آگیا۔ میں نے خود جلال سے اس موضوع پر گفتگو کرلینا موزوں سمجھا۔ کہنے لگا۔ ابا میں نے اپنا فیصلہ امی کو سنا دیا ہے۔ اب مزید اس مسئلہ کو طویل نہ کریں تو بہتر ہوگا۔

’جلال! تم مجھ سے باتیں کر رہے ہو، اس کا خیال رکھو۔‘

’میں نے کیا ایسا کہہ دیا آپ کو؟‘

’دیکھو، تمہارا فیصلہ بالکل غلط ہے اور نامناسب بھی۔ دومذاہب کے مابین عقد نہیں ہوتا۔ ہاں، ان قوموں سے ہوسکتا ہے جو اہل کتاب ہیں ورنہ دیگر سے ناممکن۔‘

’ابا آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں انٹر ریلیجن میریج سب سے پہلے شہنشاہِ اکبر نے کی تھی۔ تو کیا ان کے لیے اسلام کی اجازت تھی؟ اس لیے کہ وہ جہاں پناہ، ظل سبحانی، مہابلی وغیرہ وغیرہ تھے۔ یہ تو سرا سر ناانصافی ہے اور ظلم بھی۔‘

’تم اسلام کے اصولوں کو ظلم کہہ رہے ہو؟ خوف کرو، خوف۔‘

’سارے بڑے لوگ بے خوف رہیں اور آپ مجھے خوف کرنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ بہت ساری مثالیں میرے سامنے موجود ہیں۔ آپ جنہیں قاعد اعظم کہتے ہوئے نہیں تھکتے یعنی مسٹر جناح کی دوسری اہلیہ رتن بائی تھیں۔ خیر سے جن کو موت کے بعد رحمۃ اللہ علیہ بھی کہا جانے لگا۔ مجاہد آزادی آصف علی نے ارونا سے شادی کی۔ مرکزی حکومت کی اہم وزارت کے وزراء کی شادیاں غیر مسلم خواتین سے ہوئیں۔ ان کی اولادوں نے خواہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں غیر مسلم نوجوانوں کے ساتھ ہی شادیاں رچائیں۔ پروفیسر رشید احمد صدیقی کی بیٹی سلمیٰ صدیقی نے اپنے شوہر کو چھوڑ کر کرشن چندر سے شادی کرلی۔ ایم جے اکبر، اظہر الدین، نواب پٹودی، فلم کے متعدد ہیرو، ہیروئن نے غیر مسلم لڑکوں، لڑکیوں سے شادیاں کی ہیں اور سماج میں آج بھی عزت پا رہے ہیں۔

آپ ہمیں بتا دیجئے ان تمام حضرات کے کیس میں کیا ان کا عمل غیر اسلامی نہیں تھا۔ سارے مفتی سارے علماء آخر چپ کیوں ہیں؟

’دیکھو بیٹا، تم نے جو یہ Argument پیش کر کے اپنے غیر اسلامی ارادے کو Justify کرنے کی کوشش کی ہے اسے میں تمہاری ناسمجھی سے تعبیر کرتا ہوں۔ تمہاری مزید جان کاری کے لیے تمہیں یہ بھی بتادوں کہ مشہور ترقی پسند شاعر ا، ن م راشد اور مشہور بے باک افسانہ نگار عصمت چغتائی کو ان کی وصیتوں کے مطابق سپرد خاک نہ کر کے نذر آتش کیا گیا تھا۔ یہ عمل تو ان کے مذہب سے دوری اور ان کی لامذہیت کی دلالت کرتا ہے گویا اسلام سے ان کا دور دور کا بھی لگاؤ نہیں تھا۔ انہیں ایمان کی بنیادی باتوں کا بھی انکار تھا۔ اس لیے صرف نام مسلمان جیسا رکھ لینے سے کوئی مسلمان نہیں ہوتا۔ اور ایسے لوگوں کے کسی بھی عمل کو اسلامی عمل نہیں کہا جاسکتا۔ ہر آدمی اپنے اپنے عمل کے لیے ذمہ دار ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا، ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود کافر رہ گیا۔ نبی کا بیٹا ہونے کی وجہ سے اس کے گناہ معاف ہوجائیں گے ایسا قطعی نہیں ہے۔ اللہ پاک نے تو صاف صاف حکم دے دیا ہے کہ جہنم کی آگ سے بچو اور اپنی اولاد کو بھی بچاؤ۔ اگر اولاد نہ سمجھے گی تو حشر وہی حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے جیسا ہوگا۔ میری عقل میں جتنی باتیں آئی ہیں تمہیں بتا دیں۔ صرف اللہ سے ڈرو اور جہنم سے پناہ مانگو۔ یہی تمہارے لیے اچھا ہے۔

آپ کی ساری باتیں تسلیم کرتا ہوں مگر میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ آج کی ڈیٹ میں کون ایسا برا کام ہے جو مسلمان نہیں کر رہا ہے۔ آج پوری دنیا میں مسلمان ہی نفرت کی نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ دہشت گرد، قاتل، شرابی، اسمگلر، زانی، ظلم سب مسلمانوں کے ہی فرد ہیں۔ انہیں اسلامی تعلیمات کیوں نہیں روک پاتی ہے۔ صرف بین مذہب شادی پر ہی کیوں واویلا مچایا جاتا ہے۔ دو دلوں کو ملنے سے کیوں روکا جاتا ہے۔ محبت کرنا کوئی جرم تو نہیں ہے۔ اسی پاک جذبے کو فروغ دینے کی تعلیم شائد اسلام بھی دیتا ہے۔ میری گستاخی معاف کر کے مجھے اتنی سی ہی بات سمجھا دیجئے۔

مجھے تمہاری اس احمقانہ گفتگو پر سخت تعجب اور افسوس بھی ہو رہا ہے۔ جتنے کام آج ہو رہے ہیں اور جن کا تم نے ابھی ابھی ذکر کیا ہے وہ ایک خاص طبقہ کے افراد کے ذریعہ انجام دیے جا رہے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے نام مسلمان جیسے ضرور ہیں مگر وہ مسلمان ہیں نہیں۔ سلمان رشدی کو ہی لے لو۔ نام سے معاذ اللہ کتنا بڑا مسلمان لگتا ہے مگر ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ راندۂ درگاہ ملعون ہے۔ صرف نام مسلمان جیسا ہونا کافی نہیں ہے۔ ایمان اور عمل شرط ہے اور یہ سیدھی اور سچی بات لوگوں کو کیوں سمجھ میں نہیں آتی کہ جس نے اللہ پاک کے حکم کے خلاف عمل کیا وہ اس کے عتاب کا مستحق ہوگیا۔ اس کی رضا مندی حاصل کرنا ہی ہر مسلمان کا ایمان ہے۔ ہمیشہ اس کی فرماں برداری روا رکھو اور اس کی عنایتیں حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ ورنہ گمراہوں کا ٹھکانہ تو جہنم ہی ہے۔

جلال نے میری طرف تیکھی نگاہوں سے دیکھا اور وہاں سے ٹل گیا۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا اور سوچا ممکن ہے میری باتوں کا کچھ اچھا اثر اس پر ہوا ہو مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وہ دوسری صبح بغیر مجھ سے ملے چنڈی گڑھ کے لیے روانہ ہوگیا۔ ماں کو اپنا اٹل فیصلہ بتانا نہ بھولا۔ چند دنوں تک اس کا انتظار کیا مگر وہ نہ آیا اور نہ ہی کوئی خبر دی۔ میں نے تو صبر کیا مگر مریم اپنی اکلوتی اولاد کے لیے لمحہ لمحہ پگھلتی رہی اور اس شدید غم کی تاب نہ لاسکی اور مجھے اس دنیا کی ساری صعوبتیں برداشت کرنے کے لیے تنہا چھوڑ گئی۔ وقت کے مرہم نے اس غم کے زخموں کو رفتہ رفتہ مندمل کر دیا۔ مگر پھر بھی زندگی نارمل نہ ہوسکی۔ گھر کے دیوار و در سے یادوں کی پرچھائیاں ابھر ابھر کر دل و دماغ پر ہمیشہ سایہ فگن رہتیں۔ میں نے انہیں اپنی زندگی کا حصہ مان کر بہ خوشی قبول کرلیا۔ اور تقریباٍ بھول بیٹھا کہ میرا بھی کوئی بیٹا تھا۔ اس کے کافرانہ رویہ کو برداشت کرلینے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ میں اکثر یہ سوچا کرتا کہ جلال کی تعلیم اور تربیت میں میری طرف سے کوتاہی رہ گئی ہے۔ جس کے لیے خد اکے حضور میں ہی جوابدہ ہوں گا۔ تعلیم تو دلائی مگر ڈاکٹری جو لوگوں کے نزدیک خالصتاً دنیا کمانے والی تعلیم ہے او راللہ پاک جس تعلیم کا حکم فرماتا ہے وہ تو دین کی تعلیم ہے، جس پر عموماٍ ہم توجہ نہیںدیتے۔ اس بے توجہی کا نتیجہ میرے سامنے ہے اور تربیت کا جہاں تک سوال ہے ہم بچوں کو وہ سلیقہ، وہ آداب کہاں سکھلاتے ہیں جس کی ضرورت دین کو بھی ہے اور دنیا کو بھی۔ آج جو آئے دن نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی من مانی کر رہے ہیں اس کے لیے دراصل والدین ہی ذمہ دار ہیں۔

جلال کو اگر سات برسوں کے بعد میری یاد آئی تو اسے میں خدا کی مرضی ہی سمجھتا ہوں۔ میں جسے قطعی بھول چکا ہوں اسے سامنے پاکر بھلا مجھے کیسا محسوس ہوگا۔ وہ صبح بھی آہی گئی۔ وہ ایک پانچ سال کے فرشتے کے ساتھ میرے سامنے تھا۔ سات برسوں میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔ چہرے کی شگفتگی زائل ہوچکی تھی۔ آواز میں جو اعتماد تھا وہ غائب تھا۔ اپنی عمر سے زیادہ کا نظر آرہا تھا۔ مجھے ڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھا اور بے تحاشہ مجھ سے لپٹ گیا۔ رنجش کے باوجود میں بھی جذباتی ہو اٹھا۔ جب جلال الگ ہوا تو اس پانچ سال کے فرشتے نے جھک کر میرے پاؤں چھونے چاہے مگر وہ خود فوراً سنبھل کر کھڑا ہوگیا اور بولا، دادا جی۔ السلام علیکم۔

’وعلیکم السلام‘ اور میں نے اسے اٹھا کر اپنی گود میں لے لیا اور پوچھا، مجھے پہچانتے ہو؟

جی، پاپا نے آپ کے بارے میں بتایا ہے۔

’اچھا اور کیا بتایا ہے؟‘

’پاپا نے کہا تھا کہ دادا جی کو سلام علیکم کہنا مگر میں بھول گیا تھا اور آپ کے پاؤں چھوتے چھوتے رہ گیا۔ اپنے نانا جی کو روزانہ پیر چھوکر پرنام کرتا ہوں اسی کی عادت…‘

’اچھا بس کرو۔ بہت بولتے ہو، جلال نے بچے کو ڈانٹا، وہ خاموش ہوگیا۔

میں نے اسے بہلانے کی خاطر دریافت کیا، اچھا بھئی اپنا نام تو بتاؤ، ابھی وہ بولنا ہی چاہتا تھا کہ جلال نے آہستہ سے کہا ’کمال‘۔

کمال بول اٹھا۔ نہیں دادا جی۔ پاپا نے میرا نام غلط بتایا ہے۔ اسکول میں میرا نام کمل لال ہے اور پاپا کا ڈاکٹر جئے لال۔ آپ اپنے بیٹے کا بھی نام بھول گئے دادا جی؟ معصوم بچے کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔

’’ہاں بیٹے، مجھے تو اب اپنا نام بھی یاد نہ رہا۔ اور مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں اندھیروں کی ایک ایسی کھائی میں اتر گیا ہوں جہاں حسب نسب، خاندان شرافت، رنگ و نسل، انسانیت، مذہب، گناہ و ثواب، سزا و جزا، زندگی اور موت جیسے الفاظ کا کوئی تصور ہی نہیں ہوتا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ابو اللیث جاوید

Leave a Reply