2

قبر

میں ایک قبر ہوں۔ بہت ہی پرانی قبر، سینکڑوں سال پرانی۔ میں نے کبھی یہ نہ جانا کہ میں یہاں کب پیدا ہوئی۔ لیکن مجھے یاد ہے کہ جب پہلی صبح میں آئی تو اس کھلے اور پھیلے ہوئے میدان میں، میں تنہا تھی۔ بالکل تنہا، کوئی ساتھی نہ ہمسایہ کسی کی دیوار مجھ سے لگی تھی نہ کسی کا سایہ مجھ پر پڑتا تھا۔ میں بالکل اکیلی اپنی گود میں سوئی ہوئی ایک بے گناہ مظلوم بیٹی کی حفاظت اور اس کا دل بہلانے کے سامان کرتی۔ یہ پہلی شہید بیٹی ہے۔ یہی بیٹی میری جان، میری روح، یہی میرا سب کچھ ہے۔ اس کا معصوم چہرہ دیکھ کر میرا دل دکھ سے بھر آتا کہ کسی ظالم نے اس پر اس طرح وار کیا تھا کہ شرم و حیا کے نازک آبگینے کرچیاں بن کر ایک عالم میں بکھر گئے…! ظلم تو ظلم ہے … ظالم اپنے ہی جال میں پھنس جاتا ہے… لیکن یہ لڑکی تاریخ کی ضخیم کتاب کا سنہرا رو پہلا ورق بن گئی۔ یوں آرام کر رہی ہے، جیسے ملکہ عالم…!

جس دن سے وہ میری گود میں آئی ہے ہر صبح جب سورج کی کرنیں اپنی نیند سے جاگ کر روشنیوں کا شہر سجاتی ہیں اور ہر شام جب یہ کرنیں سمیٹ کر شب کی ہم نوا بن جاتی ہیں تو مجھے حکم ہوتا ہے کہ اس ملکہ کو اپنی کھڑکی سے جنت کا نظارہ کراؤں… اور میں اس کے لیے بہت کشادہ بھی کردی گئی…!

وقت کے گزرتے گزرتے یوں ہوتا گیا کہ میرے اطراف ایک ایک کر کے اور بھی قبریں سر اٹھانے لگیں۔ میں خوش ہوئی کہ میری تنہائی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن کبھی افسردگی کی گپھاؤں میں بیٹھ کر سوچتی ہوں کہ کتنے ہی مرد اورعورتیں زندگی کی جفاؤں کی تاب نہ لاکر یہاں چلے آتے ہیں کہ جہاں زندگی کا راستہ ثوابوں اور گناہوں کی فصیلوں کے بیچ سے گزر کر یکلخت ختم ہی ہو جائے تو پھر کیا کریں آخر…!

گھروں کے ماتم، بیٹیوں کی آہیں، بہن بھائیوں کا غم، سہاگ کے بانکپن کا ٹوٹا ہوا تاج… راستہ سے گزرنے والوں کے اجنبی کاندھے۔ رشتہ دار، دوست، پیارے، محبت کرنے والوں کی دھیمی دھیمی چاہتوں کی آنکھوں سے ٹپکنے والے درد کے آنسو۔ غم زدہ سرگوشیاں، دعائیں دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی آہٹوں کے لرزتے ہاتھ تھام کر سرد آنسو سے لبریز شب گزیدہ پگڈنڈیوں سے گزر کر خموشیوں کے سمندروں میں گم ہو جاتی ہیں تو سوائے خدائے بزرگ و برتر کے کوئی اور ان کو سننے والا نہیں…!!

جتنے لوگ اتنی باتیں۔ مرحوم بہت نیک سیرت تھے۔ بے وقت کی موت، ابھی عمر ہی کیا تھی۔ ساری زندگی انسانوں کی خدمت میں صرف کردی… اور … اور نہ جانے کتنی باتیں، شکوے، شکایتیں، حکایتیں …!! میں سوچتی … یہ زندگی کیا ہے؟ کیا لوگ بس اسی لیے جیتے ہیں کہ ایک دن سب کچھ چھوڑ کر یہاں آجائیں کہ کتنے ہی اہم منصوبے، ارمان آرزوؤں کے قافلے تھک ہار کر اسی چوکھٹ پر خاموش ہوجاتے ہیں اور اس مٹی کا پیوند بن جاتے ہیں۔ میرے اطراف سے گزرنے والے اکثر میرے بارے میں کہتے ہیں کہ اس پرانی قبر سے مشک و عنبر کی خوشبو آتی ہے۔ یہ سن کر میں خوشی سے اندر ہی اندر جھوم اٹھتی ہوں۔ مجھے یقین ہونے لگتا ہے کہ یہ مہک اسی معصوم شہید بیٹی کے پاک جسم سے آتی ہے جو میری میراث ہے۔ مجھے نہیں معلوم اور دوسری قبروں کا کیا حال ہے، میں اپنی قسمت پر شکر گزار ہوں کہ میری گود میں پھولوں کی گٹھری پڑی ہے۔

کبھی میرا دل چاہتا ہے کہ باہر سر نکال کر دیکھوں کہ اس کھلے میدان کا کیا حال ہوا ہے۔ ایک دن تو میں سخت حیران ہوگئی کہ میدان تو سارا چھوٹی بڑی قبروں سے پر ہوگیا ہے۔ یہ احساس ہمت بندھاتا رہا کہ اب میں تنہا نہیں رہی لیکن یہ سوچ کر کہ یہاں کی آبادیاں کتنی بستیوں کو ویران کر رہی ہیں، میں غم زدہ ہوجاتی…!!

ایک دور مجھے وہ بھی یاد ہے جو لوگ رات کے آخری پہر یہاں آجاتے رات کے دبیز تہ بہ تہ سناٹے کے درمیان خاموش کھڑے ہوجاتے تو ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش یوں برسنے لگتی کہ گمان ہوتا کہ یہ تو اب تھمنے والی نہیں۔ ان کی ہچکیوں سے جیسے اندھیرے ماحول میں بجلیاں چمک جاتیں۔ یہ آنسو، یہ ہچکیاں کس کے لیے… کچھ سمجھ میں نہیں آتا… لیکن جانے کیوں اب ایسے لوگ بہت کم ہوگئے۔ شاید لوگوں کی نیندیں بہت گہری ہوگئیں، خواب دیکھنے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ شاید مصروفیت نے فاصلوں کو بڑھا دیا ہے۔

میں تو ایک پرانی قبر ٹھہری مجھے یہ سب کچھ نہیں سوچنا چاہیے یہ سوچ کر میں اپنی خاموشی کی چادر اوڑھ لیتی ہوں…!

لیکن آج ایک عجیب واقعہ پیش آگیا… میری گود میں لیٹی ہوئی میری بیٹی نے بہت دنوں بعد مجھے آواز دی، اس کی آواز میں بڑا درد اور سوز تھا۔

اس نے کہا دیکھو کہیں ایسا تونہیں بیٹیوں پر ظلم و ستم کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ آج تک جاری ہے۔ یہ دیکھو میرے ارد گرد میری کتنی بہنیں اور سہیلیاں ظلم کی شدت سے تڑپ رہی ہیں۔ کوئی ہے جو اس سلسلہ کو ختم کرے گا۔ کبھی تو یہ سلسلہ ختم ہو… میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا… بیٹی تم گہری نیند میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی ہو…اس نے اپنی بات جاری رکھی۔ دیکھو ابھی جو نوجوان لڑکی میرے پہلو میں سوئی ہے اس کے سرخ جوڑے کا رنگ بھی مدھم نہیں ہوا ہے وہ بھی میری طرح زخمی ہے۔ اس کی آواز تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی تھی میں اس کو دلاسہ دیتی رہی… اس نے تقریباً چیخ کر کہا۔ کب تک چلے گا یہ اندھوں کا قانون کب تک یہ ناپاک رسمیں انجام دی جاتی رہیں گی، کب تک طاقتور ہاتھ فالج زدہ بوڑھوں کی مانند کپکپاتے رہیں گے، کب تک، یہ مجرم کالے ناگ معصوم جسموں کو ڈنستے رہیں گے۔ یہ ظلم اور بربریت کا شرمناک ناچ معصوم روحوں کے ساتھ کب تک جاری رہے گا، بندھے ہوئے ہاتھ کب ان زہر کے پیالوں کو شکستگی کا درس دیں گے… اس سلسلہ کو کون ختم کرے گا۔ کوئی تو ہوگا، ضرور ہوگا!

اس کی کربناک چیخیں رات کے سناٹے میں گونجتی رہیں…! اور میرے پاس ان کا کوئی جواب نہیں تھا! میں تو ایک بے جان سی بہت پرانی قبر ٹھہری…!!

شیئر کیجیے
Default image
سید عبد الباسط انور (حیدر آباد)

تبصرہ کیجیے