پانچواں پراٹھا

بٹی بڑی اور بٹو چھوٹا تھا۔ بٹی اسکول جاتے جاتے اب تیسری کلاس میں پہنچی ہے۔ محنتی ہے، سمجھ دار ہے، لیکن کبھی کبھی گھپلا ہو جاتا ہے۔ بٹو کے داخلے کی کوشش دو سال سے ہوتی آرہی ہے۔ پچھلے سال بھی داخلہ نہیں ہو پایا۔ باپو کے پاس نہ تو پیسے ہی ہیں اور نہ وہ ایسے کسی کو جانتے ہیں جو بٹوکا داخلہ کرا سکے۔ محلے کے پندرہ بیس مکان داروں نے پانچ پانچ روپے مہینے پر رات کو پہرہ دینے کے لیے رکھا ہے۔ وہ ان ہی سے جاکر کہتے ہیں۔ وعدہ سب کرلیتے ہیں لیکن ہوتا کچھ نہیں۔ باپو کی نوکری پہلے ایک مل میں تھی۔ قریب دو سال سے باہر ہیں۔ شروع میں کچھ دن کی چھٹنی ہوئی تھی۔ سب مزدوروں کو بٹھا دیا گیا تھا۔ بہت سے مزدور تو کام پر لے لیے گئے، باپو ابھی تک باہر ہیں۔ باپو کبھی کبھی بہت دکھی ہوتے ہیں۔ ’’ارے! کام کی کمی کے سبب بٹھاتے تو بات تھی۔ لگتا ہے کام کرنا ہی کال ہوگیا۔‘‘ ان جیسے جتنے بھی بیٹھے، آج تک اٹھ ہی نہیں پائے۔

ماں آس پاس کے گھروں میں کام کرنے جاتی ہے۔ کل ملا کر تیس چالیس روپے ماں کو مل جاتے ہیں۔ وہ اپنے کرموں کو روتی رہتی ہے۔ ڈھائی تین گھنٹے صبح کام کرو، اتنا ہی شام کو، تیس روپے ملتے ہیں۔ آدمی کے جسم اور محنت کا تو بیاج تک نہیں ملتا۔ جسم کی قیمت ہی نہیں تو بیاج کیا ملے گا!

بٹیا اسکول جاتی ہے۔ اسے مہینے میں تیس دن خالی پیٹ ہی جانا پڑتا ہے۔ کبھی باپو ڈیوٹی پر سے جلدی آگئے اور چائے بن گئی تو پیٹ میں دو گھونٹ چائے پڑ جاتی ہے، ورنہ وہ بھی نہیں۔ یہی اس کے دکھ کا سب سے بڑا سبب ہے۔ وہ چاہتی ہے دن میں ملے نہ ملے، لیکن اسکول جاتے ضرور پیٹ بھرا رہے۔

اسکول میں سارا دن پیٹ میں کچھ چوں چوں کرتا رہتا ہے۔ دھیان بٹتا ہے۔ ماسٹر جی بولتے رہتے ہیں اور اس کا دھیان پیٹ کی چوں چوں میں لگا رہتا ہے۔ دوسرے بچے ہیں، وہ کھاکر بھی آتے ہیں اور پیسے بھی لاتے ہیں۔ وقفہ میں وہ کھیلتی رہتی ہے اور بچوں کو چاٹ چٹورے کھاتے دیکھتی رہتی ہے۔ پہلے اس کا ایک دوست تھا جو وہ خود کھاتا تھا اسے بھی کھلایا کرتا تھا۔ اس کی اس ادا سے وہ اس کے قریب آگئی تھی۔ ایک دن وہ پیسے نہیں لایا۔ دوست نے اس سے کہا، آج تو کھلا۔ بٹی کہاں سے کھلاتی؟ نہیں کھلایا۔ دوست نے اسے طعنہ دیا ’’تو بھی کبھی کھلایا کر۔ یا بس کھانے ہی کھانے کو ہے؟‘‘ اسے بہت رونا آیا۔ بعد میں اس دوست نے بٹی کو بلایا بھی مگر وہ گئی نہیں۔ بیٹھنے بھی دوسری جگہ لگی۔ بولنا چالنا تو بند سا ہو ہی گیا۔ وہ بات اس نے گھر پر آکر نہیں بتائی، لیکن وہ بات اندر ہی اندر اسے کھاتی رہی۔

اس واقعے کے بعد کچھ دن تک تو بٹی چپ رہی، پھر ایک دن وہ ماں پر برس پڑی۔ ’’سب بچے گھر سے کچھ کھا کر آتے ہیں تو ہمیں نہ کھانے کو کچھ دیتی ہے اور نہ لے جانے کو۔ ہم کیا کریں؟ اسکول میں بھوک لگتی ہے۔ بھوکے پیٹ ہم سے نہیں پڑھا جاتا۔‘‘ باپو کے بارے میں وہ کبھی کچھ نہیں کہتی تھی۔ اس دن باپو پر بھی غصہ آگیا۔ ’’باپو مل میں کام کرنے کیوں نہیں جاتے؟ جب مل میں کام پر جاتے تھے تو کھانے کو ملتا تھا۔ اب گھر میں بیٹھے رہتے ہیں۔ کان پور میں اتنی ساری ملیں ہیں۔ سب کام کرنے جاتے ہیں۔‘‘ ماں کو اس کے بڑبولے پن پر غصہ آگیا۔ اس نے بٹی کی خوب مرمت کی۔ بٹی روتی ہوئی کہتی رہی، ’’ماں اب معاف کردے۔ اب نہیں کہوں گی۔ بھوکی مرجاؤں گی پر کبھی کھانا نہیںمانگوں گی۔ کسی کو کچھ نہیں کہوں گی۔ ماں غلطی ہوگئی!‘‘ مگر ماں نے تب تک نہیں چھوڑا جب تک مارتے مارتے خود تھک نہیں گئی۔

پٹائی کے بعد ماں کا دل بہت تڑپا۔ بچی کا کیا قصور تھا۔ بچہ ہے تو بھوک لگے گی ہی۔ آدمی باہر کی آگ تو برداشت بھی کرلے، اندر کی آنچ نہیں سہی جاتی، بٹی کا دل بھی گر گیا۔ ماں نے پیار بھی کیا، مگر وہ نہیں بولی۔ بھائی بھی اس کے چاروں طرف منڈلاتا رہا۔ وہ اسے نظر انداز کرتی رہی۔ گدگدی کر کے بلوانا چاہا پر بٹی نے اسے دھکیل کرہٹا دیا۔ چپ چاپ اسکول کا کام کیا اور عین غین ہوگئی۔

چوں کہ بٹی بڑی تھی اور ماں کے ہاتھ سے خوب مار کھا چکی تھی، اس لیے ماں کا دل اسی میں اٹکا تھا۔ ماں کو اس دن ایک گھر سے مہینے کی پگار کے دس روپے ملے تھے۔ روپے ہاتھ میں آتے ہی اسے بٹی کا خیال آیا۔ اسے پراٹھے پسند تھے۔ تھوڑی دیر تک وہ شش و پنج میں رہی۔ پراٹھے بنائے تو کئی دن کی روٹی یہ پراٹھے نگل جائیں گے۔ لیکن بٹیا کی شکل رہ رہ کر اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی تھی۔ اس کا دل تڑپ اٹھتا تھا کہ اسے کسی طرح مسکراتے ہوئے دیکھے۔ بٹی کو جو بات لگ جاتی ہے تو لگ جاتی ہے، مشکل سے ہی نکلتی ہے۔ اس کی نظر میں بٹی کو مسکراتے ہوئے دیکھنے کا ایک ہی طریقہ تھا۔ اس نے چپ چاپ پراٹھے بنانے کی تیاری کرلی۔ پراٹھے ہی اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ واپس لاسکتے تھے۔ تقریباً ایک کٹوری کھلا ڈالڈا خریدا۔ ڈیڑھ روپیہ اس میں چلا گیا۔ اس کا دل قدرے کسمسایا۔ سوکھے آلو اسے زیادہ پسند تھے لیکن اس نے گیلے آلو بنانے کا فیصلہ کیا۔ چار بڑے بڑے آلو خریدے۔ قریب قریب آٹھ آنے اس میں نکل گئے۔ آٹا خریدا۔ دس روپے میں سے صرف دو روپے بچے۔ اس نے سوچ لیا کہ وہ سارے کا سارا آٹا پراٹھے میں ہی نہیں لگا دے گی تھوڑا بچالے گی۔

اس خریداری کے بعد اسے یہ بات ستانے لگی کہ ذرا سی بات کے لیے لگ بھگ مہینے بھر کی پوری طلب ہی پھونک دی۔ لیکن اپنی اس سوچ کے کواڑ اس نے زبردستی بند کیے اور ان سے پیٹھ اڑا کر کھڑی ہوگئی کہ کہیںپھر نہ کھل جائیں۔ اس کے باوجود اس کے کانوں میں لگاتار کوئی سرگوشی کر رہا تھا ایک وقت کے کھانے میں آٹھ روپے! تیرا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا؟ اس سرگوشی کی طرف سے بھی اس نے کانوں میں روئی ٹھونس لینے کی ٹھان لی۔پھر دوسری بات اسے تنگ کرنے لگی۔ بچوں کا لاڈ پیار غریبوں کے لیے منع ہے، پاپ ہے۔ آدمی اپنے حق میں بھی گناہ کرتا ہے اور ان کے حق میں بھی۔ اس بات سے بھی اس نے منہ موڑ لیا اور تیزی سے چلنے لگی۔ چلتے چلتے شوہر کی حالت کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ کتنا دوڑے، کتنا پیسہ کھلایا۔ ایک ایک چیز تک گروی ہوگئی۔ اس کڑکی میں روٹی کو ہم نہیں کھاتے، روٹی ہمیں کھاتی ہے۔ پراٹھوں کا منہ تو اور بھی بڑا ہوتا ہے۔

ماں نے گھر جاکر چپ چاپ آٹا گوندھا۔ سبزی بنائی۔ نام کے لیے تھوڑا سا گھی ڈالا کہ تھوڑی رونق آجائے۔ پراٹھے سینکتے وقت ذرا سا گھی چھوا دیا۔ سب سے پہلے بٹی کو پکارا، پھر بٹو کو آواز لگائی۔ بٹو پہلے آگیا۔ بٹی تھوڑا نخرے کے ساتھ آئی۔ شاید وہ نہ بھی آئی ہوتی لیکن پراٹھے سینکنے کی خوشبو نے معاً اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ پراٹھے بنتے دیکھ کر اس کی ساری ناراضگی مسکراہٹ میں بدل گئی۔ کنویں میں کانٹا ڈال کر جیسے ڈول نکالا جاتا ہے اسی طرح بٹیا کی ہنسی ماں کی خوشی کو بھی باہر نکال لائی۔ ماں نے پراٹھا سینکنا بند کر کے اسے کھینچ کر گلے سے لگا لیا اور بنا کچھ کہے آنچل سے آنکھیں پونچھنے لگی۔ بٹو ہنسے جا رہا تھا، بٹی کو چڑا رہا تھا۔ ’’اے بٹی دیدی، روز ماں سے پٹاکر۔ تجھے ماں کے گلے لگنے کو ملے گا اور ہمیں پراٹھے کھانے کو۔‘‘ ماں نے ہنس کر اسے ڈپٹ دیا، ’’چپ رے! بہت بولتا ہے۔‘‘

چوں کہ بٹی بڑی بھی تھی اور ماں کے ہاتھ سے پٹی بھی تھی، ماں نے پہلا پراٹھا بٹی کے سامنے ہی پروسا۔ بٹو اس بات سے چڑ گیا اور بیٹھا بیٹھا غصے میں پیر چلانے لگا۔ زور زور سے رونا شروع کر دیا۔ ’’ہمیں روز مارتی ہے تو کچھ نہیں اور دیدی کو ایک آدھ بار مار دیا تو اس کے لیے پراٹھے بننے شروع ہوگئے۔ دیدی کو ہی سب پوچھتے ہیں، ہمیں کوئی نہیں پوچھتا۔ ہم فالتو ہیں۔ جب ہم پہلے آئے تو پراٹھا دیدی کو پہلے کیوں دیا؟‘‘ ماں اسے سمجھاتی جا رہی تھی، ’’تو میرا راجا بیٹا ہے۔ دیدی کا کیا؟ دیدی تو اپنے گھر چلی جائے گی۔ تو تو میرے پاس ہی رہے گا۔ جانے والے کو کھلا پلا کر جلدی سے رخصت کر دینا چاہیے۔ دیدی چلی جائے گی تو دونوںماں بیٹے روز پراٹھے بنا کر کھایا کریں گے۔‘‘ لیکن بٹو ضد پر اڑا تھا۔ بٹی کا ہاتھ بار بار لقمہ توڑنے کے لیے بڑھتا تھا اور رک جاتا تھا۔ اس کا چہرہ مرجھاتا جا رہا تھا اور کھسیاہٹ بڑھتی جا رہی تھی۔ آخر اس نے اپنا پراٹھا اٹھا کر اس کی طشتری میں ڈال دیا اور تیزی سے بولی۔ ’’لے کھا، نگل!‘‘

بٹو نے جھٹ سے رونا بند کیا اور پراٹھا کھانے میں جٹ گیا۔ کھاتے کھاتے وہ بٹی کی طرف دیکھتا جا رہا تھا۔ حالاں کہ اس کی آنکھیں گیلی تھیں لیکن وہ ہنس رہا تھا۔ پراٹھا بناتے بناتے ماں اب اسے سمجھانے لگی تھی۔ ’’اس کی بات کا برا مت مان۔ یہ تو سرے سے بگڑ گیا ہے۔ دن بھر ڈھور کی طرح گھومتا ہے۔ جس دن یہ اسکول جائے گا گنگا نہاؤں گی۔ اتنا جل ککڑ ہے کہ بہن کے منہ میں پانی کا گھونٹ تک جاتے نہیں دیکھ سکتا۔‘‘ بٹو کھانے میں مگن تھا اور بٹی کو طرح طرح کا منہ بنا کر چڑا رہا تھا۔ ماں کی بات کا اس پر ذرا سا بھی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ ماں نے اگلا پراٹھا بٹی کو پروس دیا۔ بٹی نے آنکھیں پونچھ کر پراٹھا کھانا شروع کر دیا۔ بٹی نے جیسے ہی کھانا شروع کیا، بٹو فوراً بولا، ’’بٹی دیدی کو تم پراٹھے دو یا نہ دو، میں پیٹ بھر کر پراٹھے کھاؤں گا۔‘‘

ماں کا چہرہ تھوڑا اتر گیا۔ آگ جل رہی تھی۔ پراٹھے سینکتے وقت خوب دھواں اٹھ رہا تھا۔ ماں پہلے اسے دیکھتی رہی، پھر بولی، ’’زیادہ پراٹھے کھانے سے پیٹ خراب ہو جاتا ہے۔ ٹٹیاں آنے لگتی ہیں۔ جن کو پراٹھے کھانے کی عادت ہوتی ہے ان کی بات اور ہوتی ہے۔ پراٹھے، وہ بھی گیہوں گے۔ ہضم کرنے کو فولاد کا پیٹ چاہیے۔ بس دو دو ملیں گے۔ باپو بھی تو کھائیں گے نا!‘‘ بٹی نے ماں کی طرف دیکھا۔ گردن نیچی کر کے کھاتی رہی۔ ماں نے بھی بٹی کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔

بٹی کا پہلا پراٹھا ختم ہوگیا تھا۔ توے پر پراٹھا سک کر تیار تھا۔ بٹو کا پراٹھا بھی ختم ہو رہا تھا، ایک دو لقمے باقی تھے۔ ماں نے پراٹھا جلدی سے بٹی کی طشتری میں ڈال دیا۔ بٹی کی باچھیں کھل گئیں۔ بٹی نے گرمی کی پروا کی نہ ٹھنڈے کی، جلدی سے ٹکڑا توڑا، آلو کے پانی میں بھگویا اور کھانا چالو کر دیا۔ بٹو نے شور مچا دیا۔ ’’پھر بٹی دیدی کو دے دیا! ہم بھی کھا چکے تھے۔‘‘ ماں نے اسے جھڑکا، ’’کچا ہی دے دوں کیا؟ سکتے سکتے ہی تو سکے گا۔‘‘ پر وہ بڑبڑ کرتا رہا، ’’جب ہمیں کوئی چاہتا ہی نہیں تو ہمیں بھگوان اپنے پاس کیوں نہیں بلا لیتا۔‘‘

ماں زور سے چلائی، ’’اگر اب پھر ایسی بات کہی تو زبان پر گرم گرم چمٹا رکھ دوں گی۔ بھگوان کو بلانے کے لیے ہی تو ہڈیاں گلا گلا کر پال رہے ہیں تجھے۔‘‘ پراٹھا سک گیا تھا، اسے اس کی رکابی میں رکھ دیا۔ بغیر ماں کی ڈانٹ کا خیال کیے بٹو پراٹھا کھانے میں لگ گیا۔

ماں کی نظر بار بار بٹیا پر جا رہی تھی۔ آدھا پراٹھا تو اس نے جلدی جلدی کھایا تھا۔ اب وہ چھوٹے ٹکڑے ٹوڑ رہی تھی۔ اس طرح گویا وہ بچے ہوئے پراٹھے کو دیر تک کھانا چاہتی تھی۔ سبزی بھی وہ زیادہ نہیں لگا رہی تھی۔ زیادہ تر شوربے میں ہی ٹکڑا بھگوتی تھی۔ کبھی کبھی آلو کا ٹکڑا توڑ کر پراٹھے کے ٹکڑے کے ساتھ کھا لیتی تھی۔ بٹو جلدی جلدی کھا رہا تھا۔ وہ اگلا پراٹھا اٹھا لینے کے چکر میں تھا۔ اسے اس بات کا بھی اندیشہ تھا کہ ماں اگلا پراٹھا بھی دیدی کی طشتری میں نہ ڈال دے اور اس کی چھٹی ہوجائے۔ اس بیچ ماں ایک پراٹھا سینک کر روٹی کی ٹوکری میں رکھ چکی تھی، دوسرا توے پر تھا اور تیسرا چکلے پر۔ پراٹھا ختم ہوتے ہی بٹی نے ماں کی طرف دیکھا۔ ماں نے آنکھ چرالی۔ بٹو اپنا پراٹھا ختم کر کے تیسرے پراٹھے کے لیے ضد کرنے لگا۔ ماں بڑے تردد میں تھی، پھر بھی اس نے اسے سمجھانا چاہا۔ ’’بس اور نہیں۔‘‘

بٹو کیوں کہ چھوٹا اور ناسمجھ تھا، اس لیے ضدی بھی تھا۔ وہ اس پر بضد تھا کہ کچھ بھی ہوجائے وہ پراٹھا ضرور لے گا۔ ماں کا دھیان بار بار ختم ہوتے آٹے اور گھی پر جا رہا تھا۔ پراٹھے بنانے میں یہی تو مصیبت ہوتی ہے۔ چاہے پیٹ بھر جائے، نیت نہیں بھرتی۔ آج سارا آٹا ختم کر دیا تو کل کا انتظام کہاں سے ہوگا؟ پھر ادھار۔ وہ بولی، ’’جیٹھ کی کھوائی پیٹ نہیں اٹنے دیتی۔ اپنے پیٹ کی سمائی دیکھ۔‘‘ ماں کی بات بٹو کے کانوں تک پہنچ ہی نہیں رہی تھی۔ آخر ماں نے آٹے کی چھوٹی سی لوئی بنائی اور ایک چھوٹا سا پراٹھا بنا کر اسے دے دیا۔

’’میرا چھوٹا سا بیٹا اور اس کا چھوٹا سا پراٹھا۔‘‘

بٹی کھا تو چکی تھی مگر بیٹھی تھی۔ کٹوری میں تھوڑی سی سبزی بھی بچی تھی۔ وہ منہ سے کچھ نہیں بول رہی تھی۔ ماں بار بار نظر بچا کر اسے دیکھ رہی تھی۔ چار پراٹھے سک چکے تھے، پانچواں بیل رہی تھی۔ بٹو وہ پراٹھا بھی ہڑپ کر گیا۔ وہ ماں سے ایک پراٹھا اور مانگنے لگا۔ اس بار ماں نے سختی سے ڈانٹ دیا۔ ’’جاتا ہے یا بتاؤں۔‘‘

مارنے کو بیلن اٹھایا تو وہ نو دو گیارہ ہوگیا۔ بٹی ہنس دی۔ ماں کو بھی ہنسی آگئی۔ دھیرے سے بولی، ’’بہت شیطان ہوگیا ہے!‘‘ پھر دھیرے دھیرے سست ہوتی گئی اور دکھ بھرے لہجے میں بولی، ’’ماں باپ کا نام اوڑھنے سے کیا فائدہ جو بچوں کو پیٹ بھر روٹی بھی نہ دے سکے۔ بانجھ ہوتی تو دھیرج رہتا کہ نہیں ہوئے۔ اے بھگوان، بچے دے تو ایسا مت کر کہ بچے پراٹھے جیسی چھوٹی چیز کو ترس جائیں‘‘ اور آنچل سے آنسو پوچھنے لگی۔

بٹی چپ چاپ بیٹھی ماں کو دیکھ رہی تھی اور بات بھی سن رہی تھی۔ پانچواں پراٹھا سک چکا تھا۔ اسے ماں نے ٹوکری میں رکھ دیا تو بٹی دھیرے سے بولی، ’’آٹا تو بچا ہے، ایک اور بنا دو۔‘‘

ماں تھوڑی دیر اسی طرح چکلا بیلن پر ہاتھ رکھے چپ چاپ بیٹھی رہی۔ توا خالی جلتا رہا۔ گھی لگا ہونے کے سبب دھواں بھبھک کر اٹھ رہا تھا اور ماں کے منہ پر سے گزر رہا تھا۔ بٹی اپنے آپ ہی بولی، ’’اس وقت نہیں کھاؤں گی، سویرے کے لیے رکھ دوں گی۔‘‘

’’ہم اپنے بڑے آدمی نہیں کہ بچوں کو ناشتہ کراکے اسکول بھیجیں۔ دو وقت کی روٹی مل جائے تو بہت ہے۔ بار با رکھانے والے دوسروں کا حصہ بھی کھاتے ہیں۔ اپنے حصے پر ہی صبر کرنا چاہیے۔‘‘

بٹی کا چہرہ اتر گیا۔ آلو کا بچا ہوا جھول پی کر وہ اٹھنے لگی۔ اس کے اٹھنے کے انداز سے لگا کہ اس کے گھٹنے اسے اٹھنے نہیں دے رہے ہیں۔ ماں اسے اٹھتے ہوئے دیکھتی رہی۔ اٹھ کر چلنے لگی تو ماں نے اسے پکارا۔ ’’سن!‘‘ وہ لوٹ آئی۔ ماں نے پانچواں پراٹھا اٹھا کر اسے دے دیا۔ ’’لے، بٹو کو مت بتانا۔ سوچا تھا تیرے باپو کو بھر پیٹ کھلا دوں گی۔ ویسے ان کی خوراک ہی اب کہا ں رہی۔ پانچ تو بہت ہیں۔ چار ہی کھالیں تو غنیمت ہے۔‘‘

بٹی دوڑی دوڑی گئی اور کاغذ لاکر اس میں لپیٹ لیا۔ جس کوٹھری میں سب سوتے تھے، دبے پاؤں گئی اور پراٹھے کو چھپانے کی تدبیر کرنے لگی۔ زمین پر بستر بچھے تھے۔ بستر کیا، گدڑی ہی تھی۔ اس نے ہوشیاری سے چاروں طرف دیکھا، بٹو آس پاس کہیں نہیں تھا۔ جس طرف وہ سوتی تھی وہاں اس نے کاغذ میں لپٹا پراٹھا چھپا دیا۔ تھوڑی دیر اس پر بیٹھی رہی۔ اسے بیٹھے بیٹھے ہی محسوس ہوا کہ پراٹھا ابھی گرم ہے۔ کل صبح اسکول جاتے ہوئے کھاکر جائے گی۔ اگر گرم نہیں بھی رہا تو ملائم تو رہے گا۔ پراٹھا کھاکر جانے میں کتنا مزہ آئے گا۔ کوئی کہے گا بھی کچھ کھالو تو کہہ دوں گی کہ گھر سے کھاکر آئی ہوں۔ پھر رک کر بدبدائی، آدھا اس کے لیے لے جاؤں گی۔ طعنہ دیتا تھا، کبھی کھلایا بھی کرو۔ پر آدھے کا کیا لے جانا! تو پھر پورا لے جاؤں گی۔ اس نے دوبارہ گدڑی اٹھا کر دیکھا۔ پراٹھا کاغذ میں لپٹا جوں کا توں رکھا تھا۔ اس کا دل نہیں مانا۔ اس نے اسے نکال لیا۔ کاغذ ہٹا کر دیکھا، چکنا چور ہوگیا تھا۔ نہ جانے کیا سوچو کہ ایک طرف سے توڑ کر چٹ سے کھا گئی۔ روکھا ہی مزہ دیتا ہے، بے کار ہی لوگ پراٹھا سبزی سے کھاتے ہیں۔ باقی اس نے کاغذ میں جلدی سے لپیٹا اور پھر رکھ دیا۔ تھوڑی دیر وہ بغیر منہ چلائے اسی طرح چپ چاپ بیٹھی رہی، پھر دھیرے دھیرے منہ چلانا شروع کیا۔ کافی دیر تک اسی طرح چلاتی رہی۔

بٹو ماں کے پاس پہنچ گیا تھا۔ اسے پھر بھوک لگی تھی۔ ماں اسے ڈانٹ رہی تھی۔

باپو آنے والے تھے۔ باپو شام کو لیمن جوس وغیرہ کی چھوٹی سی دکان لے کر سڑک کے کنارے بوریے پر بیٹھ جاتے تھے۔ آٹھ دس آنے مل گئے تو مل گئے، نہیں تو ڈبا اور بوریا لے کر آٹھ بجے تک گھر آجاتے تھے۔ باپو کے آنے کے وقت بٹی باہر نکل کر کھڑی ہوجاتی تھی۔ جیسے ہی انہیں آتا دیکھتی تھی، ویسے ہی آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ سے سامان لے لیتی تھی۔ اس دن باپو تھوڑا جلدی آگئے۔ وہ باہر جاکر سامان نہیں لے پائی۔ باپو نے آتے ہی پوچھا:

’’آج بٹی کہیں گئی ہے کیا؟‘‘

’’نہیں تو،‘‘ ماںنے کہا۔

باپو خود ہی بولے، ’’لگتا ہے میں ہی آج جلدی آگیا۔‘‘ ماں نے کہا تو کچھ نہیں لیکن ہنس دی۔

باپو ہاتھ پیر دھونے میں لگ گئے۔ بٹی نے جلدی سے تختہ بچھا کر لوٹا اور تھالی سجا دی۔ دل ہی دل میں سوچتی رہی کہ باپو کو بھی پراٹھے پسند ہیں۔ پراٹھے دیکھ کر باپو بہت خوش ہوں گے۔ مل میں کام کرتے تھے تو تیسرے چوتھے دن پراٹھے بنوایا کرتے تھے۔ اچار کے ساتھ پراٹھا کھانا انہیں بہت اچھا لگتا تھا۔ تب ماں اچار بھی ڈال دیتی تھی۔ اب تو کبھی کبھار کام والے گھروں سے دو چار پھانکیں مانگ لاتی ہے۔

باپو کھانے بیٹھے۔ ماں نے سبزی اور پراٹھے پروسے تو اس کی آنکھوں میں خوشی جھلکی پڑ رہی تھی، لیکن باپو کو اپنی طرف بجھی بجھی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے پاکر اس کی خوشی دوپہر بعد کی دھوپ کی طرح سمٹی چلی گئی۔ باپو دھیرے سے بولے ’’بٹی کی ماں…‘‘ جملے کو ادھورا چھوڑ کر وہ کھانے میںلگ گئے۔ کھاتے کھاتے بولے ’’بہت گھی لگ گیا ہوگا… پراٹھا کمبخت بہت گھی پیتا ہے۔ پانی میں بن سکتا تو سب کے منہ چڑھ جاتا۔‘‘ تھوڑی دیر بعد پھر پوچھا ’’بچوں نے کھائے یا نہیں؟‘‘ ماں نے گردن ہلا دی۔

جب دو چار لقمے لے لیے تو ماں نے بتانا شروع کیا ’’آج بٹی کو مار دیا۔ اس کی غلطی بھی نہیں تھی۔ بچے کو بھوک لگی ہو اور کھانے کو نہ ملے تو چلائے گا نہیں؟ وہ الٹا سیدھا بول گئی۔ بول کیا گئی، بھوک نے بلوا دیا۔ میں مار بیٹھی۔ بہت روئی بے چاری۔ رمی بابو کی بہوجی نے مہینے کے دس روپے دیے تھے، بہت روکا پر دل نہیں مانا، سوچا تمہیں بھی اچھے لگتے ہیں۔ بٹی اور بٹو بھی چاؤ سے کھاتے ہیں۔ ہمت کر کے جگاڑ بٹھا ہی دیا۔‘‘ بابو چپ چاپ کھاتے رہے۔ چوتھا پراٹھا بھی انہوں نے لے لیا۔ کھا کر اٹھے تو دھیرے سے بولے، ’’دیکھو آج کے یہ پراٹھے کتنے دن تک سہارا دیتے ہیں‘‘ اور ہلکی سی ہنسی ہنس دیے۔

’’تم نے نہیں کھایا؟‘‘ ہاتھ دھوکر باپو نے پوچھا۔

’’سویرے سے پیٹ نرم تھا، اس لیے بھات ڈال دیا ہے۔‘‘

باپو نے ماں کی طرف دیکھا اور باہر نکل گئے۔ بٹو سو گیا تھا۔ بٹی غڑغڑ سب دیکھ رہی تھی۔

اگلے دن صبح باپو چوکیداری سے تھوڑی دیر ہوئے لوٹے تھے۔ اصل چوکیداری کا وقت تو پانچ ساڑھے پانچ بجے کا ہی تھا۔ آج کل پانچ بجے دن نکل آتا تھا۔ جن گھروں کی چوکیداری کرتے تھے، ان میں سے کوئی دودھ لانے کو کہہ دیتا تھا تو کوئی چائے کی پتی منگانے بھیج دیتا تھا۔ اس بہانے باپو کو بھی دو گھونٹ چائے مل جاتی تھی۔ کبھی کبھی باسی کوسی کھانا بھی دے دیتے تھے۔ کھانا باپو وہاں نہیں کھاتے تھے، گھر لے آتے تھے۔ ماں کو سویرے ہی چھ بجے سے پہلے گھروں کا کام نپٹانے کے لیے نکل جانا ہوتا تھا۔ بٹی اپنے آپ تیار ہوکر جاتی تھی۔ بٹو یا تو سوتا رہتا تھا یا پھر اٹھ کر بہن سے جھگڑا کرتا تھا ’’بھوک لگی ہے۔‘‘ باپو اگر وقت سے آگئے تو چائے وائے مل جاتی تھی، نہیں تو بٹی سات بجے تک بٹو کو گھر چھوڑ کر اسکول چلی جاتی تھی۔ اسکول جانا اسے پسند تھا۔ وہاں اسے کھلا پن لگتا تھا۔

بٹی صبح جلدی اٹھ گئی۔ اٹھتے ہی اس نے سب سے پہلے بستر ہٹا کر پراٹھا دیکھا۔ کاغذ میں لپٹا رکھا تھا۔ اس نے زیادہ ٹوہ نہیںکی، رکھا دیکھ کر مطمئن ہوگئی۔ ٹٹی کے لیے چلی گئی۔ ٹٹی کے لیے اسے تھوڑا دور جانا پڑتا تھا۔ بم پولیس کی ٹٹیوں میں تو سویرے بھیڑ لگی ہوتی تھی، اسی لیے فارغ ہونے گھاٹ پر چلی جاتی۔ بٹو تو وہیں نالی کے کنارے بیٹھ کر پھر لیتا تھا۔ بٹی اب تھوڑی بڑی ہو چلی تھی۔ لوٹ کر وہ جلدی جلدی نہائی، کتابیں جمع کیں۔ وہ اپنے اس فیصلے سے خوش تھی کہ چاہے اسے خود آج کھانے کو ملے نہ ملے، وہ دوست کو ضرور پراٹھا کھلا کر چھوڑے گی۔ اس دن اس نے ایسی بات کیوں کہی تھی؟ اس نے بٹو کی طرف دیکھا۔ وہ آنکھیں بند کیے سو رہا تھا۔ بہت سنبھل کر اس نے بستر ہٹایا۔ پراٹھا گم تھا۔ صرف کاغذ پڑا تھا۔ ا سنے سوچا، ہوسکتا ہے پراٹھا نیچے کھسک گیا ہو۔ اس نے پورے کا پورا بستر پلٹ دیا۔ پراٹھا واقعی غائب تھا۔ کہاں چلا گیا؟ کون لے گیا؟ اس کی نظر بٹو پر گئی۔ وہ نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کے دیکھتے ہی اس نے آنکھیں کس کر بند کرلیں اور جیسے گہری نیند میں سو گیا۔ بٹی کو لگا جیسے اسے کسی نے بجلی کا کرنٹ چھوا دیا ہو۔ اس نے پوچھا، ’’میرا پراٹھا تونے کھایا؟‘‘ وہ سوتا ہوا بنا رہا۔ وہ اس کے پاس گئی اور زور زور سے اسے ہلانے لگی۔ اس نے آنکھیں کھول کر بٹی کی طرف اس طرح دیکھا جیسے نیند میں ہو، اور آنکھیں بھینچ لیں۔

بٹی بار بار چلا رہی تھی، بولتا کیوں نہیں؟… تونے میرا پراٹھا کھایا؟ بول، بول، بول!‘‘ اس نے اس کے بال پکڑ کر کھینچنے شروع کر دیے۔ بال کھینچے تو اس نے آنکھیں کھولیں۔ پوری طرح روہانسا ہوگیا تھا۔ ’’بتا؟ پراٹھا کہاں گیا؟‘‘ وہ پاگلوں کی طرح چیخنے لگی۔ ’’بول! بول تونے میرا پراٹھا کیوں کھایا؟‘‘ وہ دھیرے سے بولا، ’’بھوک لگی تھی دیدی۔‘‘

’’بٹی کو اور زور سے غصہ آگیا۔ وہ اس کے اوپر چڑھ بیٹھی اور اس کی گردن پکڑ کر مارنے لگی۔ بٹو کو روتے روتے کھانسی آنے لگی، لیکن وہ رکی نہیں۔ باپو آرہے تھے۔ ان کے ڈنڈے کی آواز دور سے سنائی دینے لگی تھی۔ وہ اسے چھوڑ کر اٹھ گئی۔ اٹھ کر بٹو کی طرف دیکھا۔ بٹو کی زبان تھوڑی باہر نکل آئی تھی۔ اس نے غور سے دیکھا اور زبان کو اندر کرنے میں لگ گئی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
گری راج کشور (ہندی سے ترجمہ: سلام بن رزاق)

Leave a Reply