بعثت محسن انسانیت ﷺ

اللہ کے رسولﷺ اللہ کی طرف سے جو پیغام اور ہدایت لے کر آئے وہ بلا استثنائے ملک و قوم و ملت سب کے لیے سراسر بھلائی، خیر اور امن و سلامتی کا پیغام ہے۔ انسان خواہ عرب کا رہنے والا ہو یا عجم کا، امریکی، افریقی، گورا کالا، مرد ہو یا عورت کسی بھی خطہ ارض اور شہر سے تعلق رکھنے والا ہو، کہیں کا باشندہ ہو اس کے لیے اس آفاقی پیغام میں رہ نمائی کا سامان موجود ہے۔

کسی قدر اچنبھے کی بات ہے کہ جب حضورؐ اس دنیا میں تشریف لائے تو اس دنیا میں انسانیت کی فلاح اور خیر خواہی کا کوئی نظام موجود نہیں تھا۔ ہر طرف لوٹ کھسوٹ خود غرضی، جبر و استبداد، ظلم و استحصال کا دور دورہ تھا۔

آپﷺ کے سامنے کوئی ایسا نمونہ یا ماڈل نہیں تھا کہ جس سے متاثر ہوکر آپؐ نے ایسا مثالی نظام پیش کیا کہ جس میں کسی مخصوص قوم یا علاقہ کے باشندوں کی خیر و بھلائی کا رنگ و عنصر غالب نہ ہو، جو بلا امتیاز قوم و ملت سب کے لیے خیر و بھلائی کا سرچشمہ ہو۔

آپﷺ نے مکہ میں جو تصور دیا تھا، مدینہ منورہ پہنچ کر اس پر عمل کر کے دنیا کے سامنے عملی نمونہ رکھا اور ثابت کیا کہ ان کا لایا ہوا نظام ناقابل عمل نہیں… اس پر عمل بھی کیا جاسکتا ہے اور اس میں خیر ہی خیر ہے۔

یہ تصور عربی یا عجمی روایتی اصطلاحات پر مبنی نہ تھا بلکہ اس تصور کے لیے قرآنی اصطلاح ’’امت‘‘استعمال کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ امت کی اصطلاح کا تصور کوئی معمولی تصور نہیں۔ یہ ایک انقلاب آفرین تصور تھا۔ یہ ایک ایسا تصور تھا جس نے رنگ، قوم، نسل، قبیلہ اور وطنیت کے تمام فرق مٹا کر رکھ دیے۔ امت کے اس تصور سے اس میں وہ تمام لوگ شامل ہوگئے جو اسلام کو ماننے والے اور اس پر عمل پیرا تھے۔

یہ تصور تمام سماجی، سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی اونچ نیچ کی نفی کرتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ امت کے اس تصور نے عالم اسلام کو ایسے مضبوط رشتے میں باندھ دیا کہ جس کے نتیجے میں ایک مدت دراز تک اسے ناقابل تسخیر سمجھا جاتا رہا۔

آج بھی اسلام کی اس گم گشتہ عظمت اور شان و شوکت کو واپس لانے کے لیے اس کے علاوہ کوئی گر کار گر نہیں ہوسکتا کہ ہم اسی فعال تصور کو ازسرنو زندہ کریں اور اغیار کے چراغوں سے روشنی حاصل کرنے کی بجائے اپنے خورشید سے روشنی اور توانائی حاصل کریں۔ جسے ہم نے ڈھانپ رکھا ہے۔ میرا یہ مطلب بہرحال نہیں کہ جذبات کی رو میں بہہ کر کسی دوسرے کی دل آزاری یا مخالفت کی جائے بلکہ مقصد یہ ہے کہ اسلام کی صحیح تعلیمات اور اقدار کو اپنے کردار و گفتار کے ذریعے فروغ دیا جائے اور دنیا کو صحیح طور پر اسلام سے آگاہ کیا جائے کہ دنیا اسلام کی حقانیت کو جان سکے اور اس کی برکتوںسے مستفید ہوسکے۔

رسول اللہﷺ کا کوئی امر ایسا نہیں ہے کہ جس پر اگر امت عمل کرنا چاہے تو نہ کرسکے۔ آپؐ نے جو بات کہی، جو ارشاد فرمایا پہلے خود اس پر عمل کر کے دکھا۔ دنیا کے سامنے اپنے کردار کی مثال رکھی، خود عمل کر کے باور کرایا کہ عمل کرنا ناممکن نہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ صحابہ کرامؓ نے بھرپور عمل کیا۔

آپؐ کی ذاتِ مبارکہ اسوۂ حسنہ کا پیکر تھی۔ آپؐ انسانیت کا کامل اور قابل تقلید نمونہ تھے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ تھا…‘‘ (الاحزاب:۱۲)

تاریخ انسانی میں بے شمار انبیا اور مصلحین آئے۔ کوئی کسی ایک برائی کو مٹانے اور کوئی ایک خرابی کو دور کرنے آیا تو کسی نے ایک وصف میں کمال حاصل کیا۔ کوئی بہترین جرنیل کہلایا تو کسی نے جود و سخا میں نام پایا۔ انسانی تاریخ کے سارے اوراق کھنگال ڈالیے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ ایک شخصیت بھی ایسی نہ ملے گی جس میں انسانی زندگی کے لیے رہ نمائی ملتی ہو۔ انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ ایک رول ماڈل ہے۔ آپؐ کی مثالی شخصیت ہمہ پہلو اور ہمہ گیر ہے۔

آپﷺ بہترین مبلغ و قائد ہی نہیں بلکہ بہترین شوہر، بہترین باپ، بہترین مصلح بہترین سپہ سالار، بہترین حکمراں، بہترین سیاست داں اور بہترین تاجر، غرض یہ کہ انسانی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جہاں ہدایت و رہ نمائی کے لیے ہمیں کسی اور طرف دیکھنا پڑے۔ آپؐ کا نورِ نبوت اور آپ کا پیغامِ حق ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ آپؐ کی سیرت پاک کا مطالعہ ہر دور میں ہر فرد کی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔ آپؐ کی ذاتِ مبارکہ میں نہ صرف ایفائے عہد، امانت و دیانت، مہمان نوازی، شجاعت و سخاوت جیسے اوصافِ حمیدہ بدرجہ اتم موجود تھے بلکہ دوست و دشمن کے لیے خیر خواہی، ہمدردی و غم خواری اور رحم دلی جیسے جذبات و احساسات بھی نمایاں طور پر موجود تھے جس کے معترف آپﷺ کے جانی دشمن بھی تھے۔

آپﷺ میں بلا کی قوتِ برداشت تھی۔ عام حزن ہو یا شعب ابی طالب میں محصور ہوکر سماجی و معاشرتی بائیکاٹ اور بھوک و پیاس کا سامنا، حسین سے حسین عورت سے شادی کی پیش کش ہو یا مال و دولت، تاج و تخت اور اقتدار کی جھلک کا جھانسا، کوئی لالچ، کوئی خوف کسی مقام و موقع پر آپﷺ کے پائے استقلال میں جنبش تک پیدا نہ کرسکا۔ آپﷺ نے ایسی استقامت کا ثبوت دیا کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔

اپنے مشن کی تکمیل کی خاطر دنیا کے سب سے بڑے محسن اور بہی خواہ کو اپنے اس شہر کو چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی کہ جس شہر میں اُن کے آباء و اجداد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی نشانیاں اور ان کے کارناموں کا ریکارڈ موجود تھا۔

اپنے جدامجد کہ جس نے بیت اللہ کی تعمیر جدید کی تھی، جن کی اس شہر میں جابجا نشانیاں تھیں، اس شہر مکہ، اپنی جائے مولود کی ان گلیوں کے نشیب و فراز کو الوداع کہنا پڑا کہ جن میں چل پھر کر آپؐ جوان ہوئے، جہاں کے باسیوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے ان لوگوں کی ایذائیں بھی برداشت کیں۔

مکہ چھوڑتے ہوئے اس پر آخری نگاہ ڈالتے ہوئے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! اے مکہ تو اللہ کی سب سے بہتر زمین ہے اور اللہ کی نگاہ میں سب سے بڑھ کر محبوب… اگر یہاں سے نکالا نہ جاتا، تو میں کبھی نہ نکلتا۔‘‘ (محسن انسانیت، ص۳۰۲)

آپؐ نے اپنے وطن عزیز سے محض ہجرت ہی نہیں کی بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ پوری انسانیت کی اصلاح و فلاح کے لیے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ تج دی۔

غور کرنے اور سوچنے کا مقام ہے کہ ایسی عظیم المرتبت ہستی کے پیروکار ہونے کے باوجود آج ہم یعنی امت مسلمہ پریشان حال اور ذلیل و خوار کیوں ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اقوام عالم کے لیڈر و رہبر ہوتے، دنیا ہماری پیروکار ہوتی مگر معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے۔

مشکوٰۃ شریف میں حضرت عبد الرحمن بن قرادؓ سے مروی ایک حدیث پیش خدمت ہے:

حضرت عبد الرحمن بن ابی قرادؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے وضو کیا تو آپؐ کے کچھ اصحابؓ آپ کے وضو کا پانی لے کر اپنے چہروں پر ملنے لگے تو آپؐ نے پوچھا: ’’تمہارے اس کام کا محرک کیا ہے؟

عرض کیا گیا: ’’اللہ کے رسولؐ کی محبت‘‘

آپ نے فرمایا: ’’جن لوگوں کو اس بات کی خوشی ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت کرتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ : ٭ جب بات کریں تو سچ بولیں۔

٭ جب اُن کے پاس امانت رکھی جائے تو بحفاظت مالک کے حوالے کریں۔

٭ اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلو کریں۔

آپ کے وضو کا پانی لے کر برکت کے لیے چہروں اور ہاتھوں پر ملنا آپؐ کی محبت کی وجہ سے تھا۔

آپؐ نے انہیں بتایا کہ محبت کا اونچا مقام اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کی پیروی اور قلبی لگاؤ کے ساتھ عمل کرنے سے حاصل ہوسکتا ہے۔

اسی طرح ایک اور موقع پر آپؐ نے فرمایا:

’’تم میں سے کوئی شخص مطلوبہ درجہ کا مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کی نگاہ میں اس کے باپ اس کے بیٹے اور سارے انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔‘‘

رسولِ اکرمﷺ نے امت کی ہر ہر قدم اور ہر ہر موقع و محل پر رہنمائی فرمائی ہے۔

خدا لگتی کہیے کہ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو صرف ان دو احادیث کے معیار پر ہی پورے اترتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملی اور اجتماعی طور پر انحطاط کا سبب اسوۂ حسنہ پر عمل پیرا ہونے سے گریز کرنا ہے۔

ہماری انفرادی اور اجتماعی طور پر یہ ذمہ داری ہے کہ ہم حالاتِ زمانہ اور رفتار زمانہ کا ادراک کرتے ہوئے آپ کی سیرتِ طیبہ کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو ڈھالیں۔

خود آپؐ کے اسوۂ حسنہ پر عمل کریں اور دوسروں کو دعوت دیں کہ یہ دعوت خیر ہی خیر ہے۔ ہم انفرادی اور اجتماعی امور میں ایسا رویہ اور راستہ اختیار کریں کہ جس میں بے جا ضد، انانیت، ہٹ دھرمی، خود نمائی اور ریاکاری کی بجائے میانہ روی، ہمدردی، فلاحِ عامہ، اخوت و محبت، اتفاق و اتحاد اور حصولِ جنت کی خواہش کار فرما ہو۔ یہی وہ ازلی پیغام اور نور ہے کہ جس سے عالم منور ہوگا۔

جو قوم بھی اس پیغام کو اپنائے گی دین و دنیا میں بلند و بالا اور شاد و کامران ہوگی۔

حقیقت یہ ہے کہ حضورؐ کی حیاتِ مبارکہ کا تعلق خواہ مکی دور سے ہو یا مدنی دور سے، نبوت سے قبل کا ہو یا نبوت سے بعد کا، ہر دور کے انسان کے لیے قابل عمل ہے۔

٭ وہ محسن انسانیت ہیں۔

٭ان کی زندگی پوری انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے۔

٭ ان کا اسوہ انسان دوستی کا درس دیتا ہے۔

٭ ان کی تعلیمات عالمگیر تہذیب کی بنیاد ہیں۔

٭ان کی زندگی رواداری، ایثار اور عفو و درگزر سے عبارت ہے۔

موجودہ مسائل، بحرانوں اور چیلنجز سے نپٹنے کے لیے اسوۂ حسنہ ہی اپنانا ہوگا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد صفدر بشیر

Leave a Reply