بچوں کے حضورﷺ

بچے بھلا کسے اچھے نہیں لگتے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بچوں سے جس قدر لگاؤ تھا، تاریخ اس کی مثال دینے سے قاصر ہے۔ آپؐ ہی کا ارشادِ پاک ہے کہ بچے جنت کے پھول ہیں۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ اپنی فطرت کے مطابق مسلمان پیدا ہوتا ہے، لیکن اس کے والدین اسے نصرانی یا یہودی بنا دیتے ہیں۔

مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا عجیب منظر ہے کہ ایک یتیم بچہ اکیلا ہی آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے۔ اس کے پاس کسی کی کوئی سفارش نہیں ہوتی اور وہ سرکار دو جہاں سے عرض کرتا ہے کہ ابوجہل نے میرا مال دبا لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دم اس کی مدد کے لیے حاضر ہوجاتے ہیں اور ابوجہل سے اس کا حق لے کے رہتے ہیں۔

آپ نے فرمایا کہ جو بڑوں کا ادب نہیں کرتا اور چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا، وہ ہم میں سے نہیں۔ حضرت حسنینؓ سے آپ کا پیار اس حد تک تھا کہ حالت نماز میں بھی آپ انہیں اپنے اوپر سوار کرے رہتے۔ ایک موقع پر حضرت حسینؓ سوار تھے کہ حضرت عمرؓ آگئے۔ انہوں نے کہا کہ کیسی عمدہ سواری ہے۔ آپ نے فرمایا کہ سوار کو بھی تو دیکھو، کیسا بہترین ہے۔ ایک موقع پر آپؓ بیٹھے تھے کہ حسینؓ تشریف لائے، آپؐ نے محبت سے اپنے بازو پھیلا لیے۔ حضرت حسینؓ نے بھی اپنے بازو پھیلادیے اور آپ سے چمٹ گئے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اے اللہ، میں حسین سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کر، اور جو اس سے محبت کرے تو بھی اس سے محبت کر۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میری نظر میں حضرت حسینؓ سے زیادہ کوئی محبوب نہ تھا۔

ایک شخص نے آپ کو بچوں سے محبت کرتے دیکھا تو عرض کیا کہ میرے دس بچے ہیں، لیکن میں ان سے اتنی محبت نہیں کرتا، جتنی آپ کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر اللہ نے تمہارے دل سے محبت نکال دی ہے تو میں کیا کرسکتا ہوں۔

حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں دس سال آپ کی خدمت میں حاضر رہا، لیکن آپ نے نہ جھڑکا نہ مارا۔ آپ ہمیشہ بچوں کو بھی سلام میں پہل کرتے۔ اگر کوئی محفل میں شیرینی آتی تو آپ پہلے بچوں کو ہی دیا کرتے۔ ایک محفل میں آپ کے دائیں جانب بچہ بیٹھا تھا اور بائیں جانب بزرگ۔ آپ نے کوئی چیز تقسیم کرنا چاہی اور بچے سے اجازت لی لیکن بچے نے اپنا حق نہ چھوڑا اور اپنی طرف سے ہی تقسیم کرنے کو کہا۔ آپ نے اس کی بات سن لی۔ ایک بچے کا کوئی پرندہ مر گیا۔ آپ بار بار اس سے پوچھتے جاتے کہ تمہارے پرندے کو کیا ہوا؟ مسجد نبویؐ جس جگہ بنی وہ دو یتیم بچوں سہل او رسہیل کی تھی، انہوں نے یہ قطعہ زمین یدیہ کرنا چاہی، لیکن آپ نے اس کے پورے دام دیے۔

آپؐ حالت نماز میں اگر بچے کے رونے کی آواز سنتے تو نماز کو مختصر کر دیا کرتے تھے۔ بچے کے ساتھ محبت کے ساتھ ساتھ اس کی تعلیم و تربیت پر بھی آپ نے توجہ دلائی اور فرمایا کہ والدین کی طرف سے بہترین عطیہ ان کی اچھی تعلیم و تربیت ہے، جب کہ یتیم بچوں کے حقوق ادا کرنے پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ جو کسی یتیم کی کفالت کرے، وہ اور میں روزِ قیامت اس طرح ہوں گے۔ یہ کہہ کر آپؐ نے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو آپس میں ملا دیا۔ قرآنِ پاک میں بھی یتیم کے مال سے بچنے کی اس حد تک تاکید کی کہ فرمایا، مال یتیم کے قریب بھی نہ پھٹکو۔

ایام جاہلیت میں بچیوں کو زندہ درگور کرنے کا عام رواج تھا، لیکن یہ اسلام ہی تھا کہ جس نے اس قبیح اور ظالمانہ رسم کو ختم کیا۔ ایسے دنوں کی ایک شخص نے آپ کو روداد سنائی کہ میں اپنی بچی کو زندہ دفن کر رہا تھا کہ وہ پکارتی جاتی، ہائے ابو، ہائے ابو۔ محسن انسانیتؐ نے یہ دلسوز واقعہ سنا تو آپ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ آپؐ کے ساتھیوں نے اسے کہا کہ تم نے نبیﷺ کو رنجیدہ کر دیا۔

آپﷺ بچوں کو سلام کرنے میں پہل کرتے۔ ان سے پیار کرتے، انہیں گود میں اٹھاتے اور ان کے حقوق ادا کرنے کی ترغیب دلاتے۔ آپﷺ کی اسی محبت کا نتیجہ تھا کہ زید بن حارثہؓ گھر بار چھوڑ کر آپ کے پاس رہنے کے لیے تیار ہوگئے۔

بچے کو اچھی تعلیم و تربیت دینے ساتھ ساتھ ان کا اچھا نام رکھنا بھی بچے کا حق ہے۔ اس کی بھی آپ نے تاکید کی۔ اگر ہم بچوں کے حقوق ادا کرنا چاہیں تو سیرت طبیہ سے ہمیں ضرور استفادہ کرنا پڑے گا۔ کیوں کہ نبیؐ صرف بڑوں کے ہی نہیں، بلکہ بچوں کے بھی نبی تھے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محمد ہمایوں یعقوب

Leave a Reply