رسولِ اکرمؐ ہمہ جہت، تاریخ ساز شخصیت

سرکار رسالت مآب کی حیات مبارک کا ہر پہلو درخشندہ وتاباں ہے اور اپنی نورانی کرنوں سے تاقیامت اہل ایمان و محبت کے دلوں کو منور کرتا رہے گا۔ زندگی کا کوئی شعبہ بھی ایسا نہیں ہے، جہاں امام کائناتؐ کی پاکیزہ سیرت کا روشن و درخشاں، نیر تاباں سامان ہدایت موجود موجود نہ ہو۔ آپؐ کی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں، جو آج امت کی نگاہوں سے اوجھل ہو کیوں کہ ذات والا صفات ختمی مرتبتؐ کے بارے میں قرآن مجید کی واضح دلیل موجود ہے۔ ’’تمہارے لیے رسولؐ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔‘‘

اے نبیؐ! ہم نے آپ کو شاہد (گواہ) خوش خبری دینے والا اورآگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے اور اس کے حکم کے مطابق آپؐ (لوگوں) کو اللہ کی طرف بلانے والے اور ایک روشن چراغ ہیں۔‘‘

نمونہ اسی کو قرار دیا جاسکتا ہے، جو کامل و اکمل ہو۔ گویا ذات رسالت مآبؐ، رشد و ہدایت کا مظہر اکمل ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی انسان زندگی کے کسی بھی مرحلے، ملک اور شعبے میں ہو وہ محبوب رب العالمین کی پاکیزہ سیرت کو مشعل راہ بنا کر ہی دنیاوی و اخروی فوز و فلاح سے ہم کنار ہوسکتا ہے۔ سید الاولین والآخرین کی پاکیزہ سیرت کی ہمہ جہت صفات عالیہ اس کی بین دلیل ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے محبوب! ہم نے آپ کو گواہ بنا کر بھیجا یعنی انسانیت پر حجت تمام ہوگئی کہ اللہ کی توحید کو اختیار کریں اور شرک کی نجاست سے اپنے دامن آلودہ نہ کریں۔ آگے فرمایا کہ ہم نے آپﷺ کو بشیر یعنی خوش خبریاں دینے والا بنا کر بھیجا، یعنی جو اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق عقیدہ و عمل اختیار کرے گا اسے تو جنت کی خوش خبری سنا دیجئے اور آگے فرمایا کہ ہم نے تمہیں ڈرانے والا بھی بنا کر بھیجا کہ جو شخص بھی آپﷺ کی دعوت سے اعراض کرے گا اور توحید و رسالتؐ کے دامن سے وابستگی اختیار کرنے سے انکار کرے گا، تو پھر ایسے لوگوں کو جہنم کے درد ناک عذاب کی وعید بھی سنا دیجیے، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’اے محبوب، ہم نے آپ کو روشن چراغ بنا کر بھیجا۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے آپ کو جو روشن چراغ بنا کر بھیجا، تو گویا وہ تمام امور آپﷺ نے عملی مظاہرے کے ذریعے انسانیت کے سامنے پیش فرما دیے، جو جنت کے حصول کا ذریعہ ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام امور بھی انسانیت کے سامنے پیش کردیے ہیں کہ جن کی وجہ سے انسان جہنم کا ایندھن بن سکتا ہے۔ تو گویا آپﷺ روشن چراغ اس معنی میں ہیں کہ حق، باطل، سچ، جھوٹ، توحید باری تعالیٰ اور شرک کی لعنت اور اس کی تباہ کاریاں سب واضح طور پر پیش کردی گئی ہیں۔ یہاں پر لطیف پہلو یہ بھی ہے کہ آپؐ کو روشن چراغ کیوں قرار دیا گیا؟ حالاں کہ اس سے قبل اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو شاہد و مبشر و نذیر کے القاب سے نواز دیا تھا، تو پھر سراج منیر کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ تو اس کا سادہ سا جواب یہی ہے کہ اگر کہیں گھپ اندھیرا ہو، ہر سو تاریکی ہو، ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا ہو اور ایسے میں دکھیارے، درماندہ بھٹکے ہوئے لوگوں کی راہ نمائی کے لیے ایک دیا روشن کر دیا جائے تو آپ جانتے ہیں، اس دیے کی روشنی سے اندھیرے کافور ہوجائیں گے۔ ظلمت کی جگہ نور ہوگا اور ہر چیز منور ہوجائے گی اور اس روشنی میں مایوس و نامراد، اپنی منزل کی صحیح سمت روانہ ہوجائیں گے اور زندگی کی رونقیں جو ظلمتوں کی وجہ سے ماند پڑ گئی تھیں، پھر سے لوٹ آئیں گی۔ جب روشنی ہوتی ہے تو چہار جانب ضو فشانی کرتی ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ محض سامنے کی جانب اجالا ہو رہا ہو، بلکہ چراغ اپنے اطراف و اکناف کی ہر سمت میں روشنی پھیلاتا ہے اور ہر زاویہ اور سمت کا رہنے والا اس کی رو پہلی کرنوں سے اپنے اندھیرے کو دور کرلیتا ہے۔ اسی لیے آپؐ کو روشن چراغ قرار دیا گیا کہ جب دنیاوی چراغوں کی یہ تاب ناکی ہے تو پھر جب آفتاب نبوت کا مہر تمام طلوع ہوا تو کیسے ممکن ہے کہ وہ پوری کائنات کو اپنی نورانی کرنوں سے فیض یاب نہ کرے۔ یہ وہ مہر منور ہے کہ جس کی ضیا باریوںسے تاقیامت پوری انسانیت ہی نہیں بلکہ ہر مخلوق منور ہوتی رہے گی۔ گویا اللہ رب العالمین ہے تو آپؐ رحمۃ للعالمین ہیں۔ آپﷺ رہتی دنیا تک کے لیے اللہ کا آخری نظام حیات لے کر تشریف لائے، اسی لیے اللہ رب العالمین نے آپ کو کامل و اکمل بنا کر بھیجا۔

سیرت طیبہ کا ہر پہلو کس قدر درخشندہ و رخشندہ ہے کہ اگر آپ والد گرامی ہیں تو فاطمہؓ، ام کلثوم، رقیہ اور زینب رضی اللہ عنہن کے بابا کو دیکھ لیں کہ اگر حسنین دوران نماز کندھوں پر سوار ہوجاتے ہیں تو آپ سجدہ طویل کردیتے ہیں، مگر شفقت و محبت کے لبریز جذبات سے انہیں اتارتے نہیں۔ سیرت طیبہ کا یہ پہلو کہ بہ حیثیت شوہر آپؐ سب سے عظیم نظر آتے ہیں۔ امام کائناتؐ ہونے کے باوجود آپﷺ اپنی ٹوٹی ہوئی جوتیاں خود گانٹھ لیتے ہیں۔ پرانے کپڑے خود سی لیتے اور ازواجِ مطہرات کے ہم راہ گھریلو کاموں میں بھی ہاتھ بٹا دیتے ہیں اور کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ حالاں کہ عرب معاشرے میں یہ بڑی عجیب بات تصور کی جاتی تھی۔

آج ہمارے معاشرے میں بھی مردانگی کی شان یہی سمجھی جاتی ہے کہ مرد گھر میں عورتوں پر حکم چلائے اور خواتین ہی تمام گھریلو امور انجام دیں۔ جب کہ ختم المرسلینؐ ہر طرح کی بیرونی مصروفیات کے باوجود اپنے اہل خانہ کے ہم راہ ہر طرح سے تعاون فرماتے تھے۔ سیرت پاکؐ کے ذاتی، عائلی اور خانگی معاملات تو تاریخ انسانی کے روشن ترین باب ہیں ہی، مگر بہ حیثیت رسولؐ، داعی حق، امام الانبیاءؐ، سیاست داں، جرنیل و سپاہ سالار، حکم راں، تاجر، طبیب، سفارت کار، ماہر معاشیات، مصلح، مدبر، صلح جو، شجاعت، شرافت، امانت، دیانت، غریب پروری، خبر گیری جیسے اوصافِ حمیدہ آپؐ کی ذات اقدس میں بہ درجہ اتم موجود تھے اور آج بھی دنیا آپؐ کی عظمتوں کا اعترا کرنے پر مجبور ہے۔

آج تک نسل انسانی ایسی کامل و اکمل مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ سیرت مبارکہ کا ہر پہلو روشن، تابناک اور ضیا بار ہے۔ یہ ہمارا ظرف ہے کہ ہم سیرت طیبہ سے کس قدر فیض حاصل کرتے ہیں و گرنہ تو ہادی عالم، مرشد اعظم، نیر تاباں، ماہ درخشاںؐ کی سیرت طیبہ تو ہر متلاشی حق کے لیے منارہ نور ہے۔ آپؐ کی سیرت پاک کے گن مسلم ہی نہیں، بلکہ غیر مسلم بھی گاتے ہیں اور کیوں نہ گائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک سراسر ہدایت ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
حافظ عبد الرحمن سلفی

Leave a Reply