ورقِ گم گشتہ

ایک شخص اپنے گدھے اور بیٹے کے ساتھ بازار کی طرف جارہاتھا۔ راستے میں کچھ لوگ ملے جو بولے کیسے احمق ہیں سواری ہوتے ہوئے پیدل چل رہے ہیں۔ باپ نے بیٹے کو گدھے پر سوار کردیا ۔ راہ میں کچھ اور لوگ ملے جو بولے کیسا بد تمیز بیٹا ہے جو خود تو سوار ہے مگر باپ پیدل چل رہاہے۔ اب باپ سوار ہوگیا اور بیٹا پیدل ۔ کچھ دوری پر پھر لوگ ملے جو اس طرح گویا ہوئے،ـ” بڑا ظالم باپ ہے جو بیٹے کو پیدل چلا رہاہے مگر خود سوار ہے” ۔ آخر دونوں سوار ہوگئے۔ تو کچھ اور لوگوں نے اس طرح دونوں کی سرزنش کی، ” کیا زمانہ آگیا ہے بے زبان جانور پر اتنا بوجھ ؟” آخر کا ر دونوں نے ملکر گدھے کو اپنے اوپر اٹھالیا۔

یہ حماقتیں ،حسرتیں اور رنج والم اور نقصانات ہماری زندگی کا خاصہ بن گئے ہیں۔ کیوں؟۔۔۔اتنا Confusion کیوں ؟اس لئے کہ ہم سب کی سنتے ہیں اللہ کی نہیں سنتے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کو مانتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کی نہیں مانتے ۔

عقل اور ایمان واسلام کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دنیا کی محبت نے ایمان کمزور کردیا تو اسلام بھی ڈھیلا پڑگیا اور عقل رخصت ہوگئی ۔

کلام اللہ میں جگہ جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ،’’ہم نے تمہارے لئے چوپائے بنائے جو تمہاری غذا ،تمہاری مال برداری اورتمہاری سواری کے طور پر کام آتے ہیں اور بھی کئی طرح سے تمہارے لئے فائدے مند ہیں "۔ مگر ہم نے تو کلام الٰہی کو حرزجاں بنانے کے بجائے اپنی زندگی کا ورق گم شدہ بنالیا ہے اور اب گدھے والے کی طرح سب کے اشارہ پر ناچتے ہیں ۔ کا الانعام بل ھم اضلّ۔ وہ چوپائیوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گذرے ۔

اللہ پاک نے فرمایا لاتقربوا الزنا۔ زناکے قریب بھی مت بھٹکو اور اس کے رسولؐ نے فرمایا ۔ نکاح کو آسان بنائو۔مگر ہم نے اللہ کے کلام اور اس کے رسولؐ کی تعلیمات کویکسر بھلادیا اور لگے ہیں غیر قوموں کی نقالی میں ۔ فیشن کے نام پر عریانیت، ماڈرن ازم کے نام پر بے حیائی نے زنا کے درجنوں بلکہ سیکڑوں راستے کھول دیئے اور زنا کو آسان ترین عمل بنادیا۔ اس کے برعکس رسومات، روایات، فضول خرچی، نام نمود کی خواہش اور شہرت پسندی نے خود غرضی اور تکبر کو خوب بڑھادیا جس کے نیتجے میں غریبی، مفلسی، سادگی اور اسلامی روایات معاشرے کی بیڑیاں بن گئیں اور نکاح مشکل سے مشکل ہوگیا ہے ۔ یعنی قرآن وحدیث پر عمل ہماری زندگی کا ورق ِگم گشتہ بن گیا ہے ۔

صحت وتندرستی اور حسن لازوال ،نماز،روزہ حکم ِخداوندی کی بجاآوری اور آخرت میں کامیابی کے ساتھ ساتھ دنیا میں بہتر صورت وسیرت اور صحت کی ضامن ہے۔ آج کل جتنی بدصورتی اور جوانوں تک کے چہروں پر جوبے رونقی ہے، پہلے نہیں تھی ۔ آج کل جو بیماریاں ہیں پہلے نہیں تھیں ۔پوری نوجوان نسل مریض نظر آتی ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہواتھا ’’جو کچھ پاکیزہ رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے کھائو ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاکی اور صفائی ایمان میں سے ہے۔ یعنی وضو اور غسل کے ذریعے ظاہری صاف صفائی کا اور نماز روزے کے ذریعے اندورنی میل کچیل کو دور کرنے کا اہتمام کیا جاتا اور حلال پاکیزہ غذا کھائی جاتی تو ہماری صورت اور صحت سب قابل رشک ہوتی ۔

مگر فاسٹ فوڈ ،جنک فوڈ ،چائینز اور بغیر حلال حرام کی تمیز کے ناقص غذائوں کے استعمال نے صحتوں کا بیڑا غرق کردیا ہے ۔ نماز سے ہی غافل ہیں تو وضو کا کیا ذکر اور تنہائیوں میں خدا کو یاد کرکے آنکھوں کو اشکبار کرنے اور آنسوئوں سے آنکھوں کو دھونے کا کیا سوال۔کیریکٹر کی بلندی سے خالی اور سستیو کمزوری سے بھری زندگی حسن صورت اور حسن سیرت زندگی سے دور ہوگئی ہے یعنی ورق گم گشتہ…

اسی طرح بوڑھے والدین ایک مسئلہ بن گئے ہیں۔ یہاں بھی ہم نے حکم خدواندی کو قصّہ پارینہ اور کتاب زندگی سے کھویا ہوا صفحہ بنادیا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل اور سورہ لقمان میں واضح طور پر اور بیشتر مقامات پر اللہ تعالیٰ کے بعد والدین کے حقوق بیان ہوئے۔ آپ ؐ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی شدید تاکید فرمائی مگر جب خوف خدانہ رہے فکر آخرت ماند پڑجائے تو بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست ۔

کہیںایسا نہ ہوکہ کتاب زندگی کے ایک ایک کرکے تمام اوراق کھو جائیں اور ہماری کتابِ زندگی کی بھدی بوسیدہ خالی خولی جلد رہ جائے خدا کرے کہ ایسا ہرگز ناہو ۔اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بقرہ آیت (۶۶۲) میں فرماتے ہیں ،’’کیا تم میں کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس ایک باغ ہو جس میں کھجوروں اور انگوروں سے لدے پھندے درخت ہوں اور بہترین نہریں جاری وساری ہوں ۔اس شخص کے لئے اس باغ میں ہرقسم کے میوے اور پھل ہوں (لیکن) اس حال میں جبکہ وہ بوڑھا ضعیف ہوچکا ہوا ور اس کی اولاد بھی ناتواں (کم عمر) ہو اس کے باغ کو پالہ مارجائے (ایسی ہواکا بگولہ جس میں آگ ہو) یا وہ گرم ہواسے جل جائے۔‘‘ اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے نشانیاں وضاحت سے بیان فرماتے ہیں تاکہ تم غور فکر کرو۔lll

شیئر کیجیے
Default image
خان عارفہ محسنہ

Leave a Reply