مہر کا اختیار

مریم اور ماریہ گہری سہیلیاں تھیں دونوں ہم جماعت تھیں، ساتھ ساتھ اسکول اورکالج جاتیں کیوں کہ مریم کا فلیٹ ماریہ کے بنگلہ کے بالمقابل تھا۔ مریم کے والد ایک پرائیویٹ کمپنی میں کلرک تھے جب کہ ماریہ کے والد ایک بڑی کمپنی کے مالک تھے۔ اس سال دونوں گریجویٹ ہوگئیں فائنل ایئر کا رزلٹ آنا ابھی باقی ہی تھا کہ مریم کی شادی طے ہوگئی۔ ایک تاجر سے اس کی شادی ہوگئی۔

ٹھیک دو سال بعد ماریہ کی شادی کی دھوم تھی۔ پانچ روز قبل سے ہلدی اور مہندی لگائی جانے لگی۔ ان پانچوں دنوں میں مریم برابر شرکت کرتی رہی۔ باتوں باتوں میں مریم کے حالات اور ازدواجی زندگی کے بارے میں ماریہ کو مکمل معلومات حاصل ہوئیں معلوم ہوا کہ وہ اولاد والی ہوچکی ہے اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے اخراجات درپیش ہیں جب کہ آمدنی کم ہے۔ تجارت کے فروغ کے لیے روپیوں کی ضرورت ہے۔

آج ماریہ کا عقد ہوا۔ دو لاکھ دو ہزار اکیاون روپیوں کی لاگت سے تیار شدہ سونے کا ہار بطور نقد مہر دیا گیا۔ اسے شہر کی ایک معروف فرم کے مالک کو دیا گیا تھا۔

ماریہ جب کبھی کسی فنکشن یا تقریب میں جانے کے لیے تیاری کرتی سنگار کرتی تب وہ اپنے مہر کے ہار کو بغور دیکھتی اور کسی سوچ میں ڈوپ جایا کرتی جب کہ اس کے پاس سونے کے دیگر خوب صورت ہار بھی موجود تھے۔ اس بات کا اس کے شوہر ریحان نے نوٹس لیا۔ بالآخر ایک دن پوچھ ہی لیا کہ ’’ماریہ! کیا بات ہے؟ میں دیکھتا ہوں کہ تم مہر کا ہار پہننے سے قبل اور اتارنے کے بعد کچھ دیر بغور تکتی ہو پھر کسی سوچ میں ڈوب جاتی ہو! کیا بات ہے؟ مگر ماریہ نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے دوسری بات چھیڑ دی۔ اب ریحان نے بھی ٹھان لی کہ وہ اس راز کو ضرور جانے گا۔ ریحان کے باربار اصرار پر ایک دن ماریہ نے اپنے شوہر سے سوال کیا کہ کیا اس مہر کے ہار کو میں اپنے طور پر استعمال کرسکتی ہوں؟‘‘ جب کہ وہ جانتی تھی کہ مہر کی اس رقم پر اسی کا اختیار ہے۔

ریحان بھی گوکہ ایک مصروف بزنس مین تھے مگر انہیں دین سے خاصا لگاؤ تھا اور وہ وقت نکال کر اسلامک پروگرامس میں شرکت کرتے تھے اور چاہتے بھی تھے کہ لوگ اسلامی تعلیمات پر عمل کریں۔

مگر ہمیشہ کی طرح مصنوعی غصہ اور رعب دار آواز میں گرجے کہ ’’نہیں! ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ وہ ہمارا مہر کا نقد دیا ہوا ہار ہے اس پر صرف اور صرف ہمارا ہی حق ہے۔ پھر انتہائی محبت بھری نظروں سے ماریہ کی آنکھوں میں جھانکنے لگے۔ دونوں مسکرانے لگے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ’’یہ تمہار امہر ہے اس پر تمہارا ہی اختیار ہے۔ ماریہ نے انہیں اپنی سہیلی مریم کے بارے میں بتایا اور خواہش ظاہر کی وہ مہر کی اس رقم سے اس کی مدد کرنا چاہتی ہے۔ ریحان بھی راضی تھے، مگر اب امی یعنی ساس صاحبہ کی اجازت کا مسئلہ تھا۔ جب ان کے سامنے مسئلہ رکھا گیا تو ان کے تیور ہی بدل گئے کہنے لگیں ’’ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ہے یہ تو مہر کا ہار ہے، ہمارا ارمانوں کا ہار ہے کہیں اور کیسے جاسکتا ہے۔ پھر انہیں ریحان نے محبت کے انداز میں اور بار بار سمجھایا کہ امی جان! مہر کی رقم پر بیوی کا پورا پورا اختیار ہوتا ہے کہ وہ جب چاہے، جیسے چاہے استعمال کرسکتی ہے۔ پھر ماریہ تو اسے بہت نیک کام میں استعمال کرنا چاہتی ہے اس طرح وہ بھی راضی ہوگئیں۔

پھر اس دن مریم اور اس کا شوہر تو بہت خوش تھے ہی ساتھ ہی ساتھ ماریہ کا یہ چھوٹا سا خاندان بھی خوش تھا اور انتہائی سچی خوشی محسوس کر رہا تھا کہ ان کی یہ رقم مریم اور اس کے شوہر نے قبول کرلی ہے اور وہ بہت خوش ہیں۔ گھر پہنچ کر ریحان، ماریہ سے مخاطب تھے کہ تم نے تو مہر کا صحیح حق ادا کر دیا ہے اور اپنے سجنے اور سنورنے کی چیز سے کسی کی زندگی ہی سنوار دی ہے۔ اور دونوں کی آنکھوں میں ہمدردی اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے آنسو چھلک رہے تھے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
الیاس احمد انصاری شاداب

Leave a Reply