زندگی کے تین زرّیں اُصول

زندگی ایک بار ملی ہے، اُسے بندگی کے دائرے میں رہتے ہوئے بھرپور اور کامیاب طریقے سے گزارنا چاہیے۔ اپنی زندگی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے اُن اصولوں پر عمل پیرا رہنا چاہئے جو زندگی کامیاب اور خوبصورت بناتے ہیں۔

ویسے تو زندگی کو بہتر اور کامیاب بنانے کے بہت سارے زرّیں اصول ہیں، لیکن بنیادی طو رپر اعلیٰ اور کامیاب زندگی گزارنے کے تین زرّیں اصول ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر انسان ایک قابلِ رشک زندگی گزار سکتا ہے۔ اور وہ اصول ہیں:

(۱) حسن اخلاق، (۲) میانہ روی او ر (۳) مثبت سوچ۔

زندگی کا پہلا زریں اصول حسن اخلاق ہے۔ ایک انسان کی زندگی کا بنیادی اصول یہ ہونا چاہئے کہ وہ حسن اخلاق کو اپنی پوری زندگی میں راہ دے۔ حضرت محمد۔ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد محاسنِ اخلاق کی تکمیل بتایا اور قرآن کریم نے سورۃُ القلم کی آیت نمبر:۳ میں آپ کے اوصاف کے ضمن میں کہا کہ— ’’اِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْم‘‘ یعنی آپ اخلاق کے سب سے اعلیٰ معیار پر فائز ہیں۔

خلقِ عظیم-ایک ایسا وسیع المعانی لفظ ہے جو حسنِ اخلاق، تہذیبی بلندی، نرم زبانی، شیریں گفتاری، امانت و صداقت کی پاسداری، حِلم، جود و سخا، غرض جملہ انسانی خوبیوں کا مکمل احاطہ کرتا ہے۔ گویا لفظ اخلاق اپنے اندر بڑی وسعت اور ہمہ گیری کا حامل ہے۔ لیکن اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ انسان لوگوں کے ساتھ بہتر طریقے سے خندہ جبینی کے ساتھ پیش آئے اور ملنے والے کو اس بات کا احساس ہو کہ آپ اس سے مل کر خوش ہوئے۔ آپ اس کا احترام کرتے ہیں اور آپ کے دل میں اس کے لئے ہمدردی و محبت ہے۔ آپ جب کسی سے گفتگو کریں تو نرم او رشیریں لہجہ اختیار کریں۔ اس کے سبب آپ کا دشمن بھی آپ کا دوست بن جائے گا۔ ایک انسان کی شیریں گفتاری جہاں ایک طرف اس کی شخصیت کو دلکش اور دلنواز بناتی ہے، وہیں دوسری طرف دوسروں کے دلوں میں اس کے لئے محبت اور احترام کا جذبہ بھی پیدا کرتی ہے۔ حسن اخلاق کا سب سے بڑا پیمانہ یہ ہے کہ آپ کے یہاں جب کوئی آئے تو وہ وہاں سے بڑا بن کر واپس جائے۔ یہ آپ کے بڑے پن کی دلیل ہوگی۔ حسن اخلاق کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ جب کوئی اپنی بات کہے تو آپ پورے صبر و سکون کے ساتھ اسے سنیں اور اپنی با ت پیش کرنے میں بالکل عجلت نہ دکھائیں۔ گفتگو کرنے میں ہمیشہ سلیقہ اور تہذیب کو مقدم رکھیں۔

اور جب آپ اپنی بات موقع ومحل کی مناسبت سے سلیقہ کے ساتھ پیش کریں گے تو آپ کی باتوں میں اثر ہوگا اور آپ کی بات سنی جائے گی۔

انسان کی کامیاب زندگی کے لئے دوسرا زریں اصول یہ ہے کہ وہ ہر کام میں میانہ روی اختیار کرے۔ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے، جس نے میانہ روی پر بے حد زور دیا ہے۔ یہاں تک کہ عبادت و ریاضت میں بھی میانہ روی کی ترغیب دی ہے۔

انسان اگراپنی زندگی میں میانہ روی یعنی اعتدال پسندی کو شعار بنائے تو اس کی زندگی کامرانی کی راہ پر گامزن رہے گی۔ لہٰذا ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں میانہ روی اختیار کرنی چاہئے۔ خواہ وہ تعلقات کا معاملہ ہو، اخراجات کا معاملہ ہو، دوستی اور محبت کا معاملہ ہو، دشمنی اور عداوت کا معاملہ ہویا وہ عبادت اور ریاضت کا معاملہ ہو۔

بے اعتدالی عبادت کے سلسلے میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ بعض حضرات نماز پڑھتے ہیں تو اس قدر نوافل، دُعاؤں اور تسبیحات کا اہتمام کرنے لگتے ہیں۔ کچھ ہی دنوں کے بعد ان پر دوسرا دور آتا ہے کہ نماز ان کو اس قدر گراں گزرنے لگتی ہے کہ نوافل، تسبیحات اور دُعائیں تو دُور کی بات، فرض نماز سے بھی بے نیاز ہوجاتے ہیں۔ ایسا صرف اس لئے ہوتا ہے کہ ہم عبادت میں میانہ روی کو بھول جاتے ہیں۔ اگر عمل میں میانہ روی ہو تو ساری زندگی میں ایک بھی نماز نہیں چھوٹے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ : ’’اللہ تعالیٰ کو وہی عبادت پسندیدہ ہے جو ہمیشہ اور مسلسل کی جائے، خواہ وہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ اسی طرح کھانے پینے اور بولنے چالنے میں بھی میانہ روی ہونی چاہئے۔ ان میں زیادتی کرنے والوں کو کوئی پسند نہیں کرتا ہے بلکہ جو اعتدال کی راہ اختیار کرتے ہیں، انہیں سبھی پسند کرتے ہیں۔ غرض عمل میں میانہ روی انسان کی زندگی کو کامیاب و کامران بنانے کا دوسرا اہم ترین نسخہ ہے۔

انسان کی کامیاب زندگی کا تیسرا راز یا اصول مثبت سوچ یعنی Positive Thinking ہے۔ یہ بڑا ہی کامیاب اور آزمودہ نسخہ ہے۔ اس نسخے پر عمل کرکے آپ دنیا میں بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ مثبت سوچ کا مقصود و مطلوب یہ ہے کہ انسان جب بھی کوئی کام شروع کرے تو وہ پختہ یقین رکھے کہ اس کام میں ان شاء اللہ اسے ضرور کامیابی ملے گی۔ اگر وہ ایسی سوچ رکھے گا تو ضرور کامیاب ہوگا۔ کیونکہ مثبت سوچ رکھنے سے انسان کی کوشش بھی صحیح سمت اختیا رکرتی ہے اور اللہ کی مدد بھی شاملِ حال ہوجاتی ہے۔ اس لئے کبھی بھی کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے ہرگز یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ پتا نہیں اس کام میں کامیابی ملے گی یا ناکامی۔ بلکہ ہماری سوچ صرف یہ ہونی چاہئے کہ ان شاء اللہ اس میں ضرور کامیابی حاصل ہوگی۔

مثبت فکر ایک بڑا ہی مؤثر او رکارگر نسخۂ کامیابی ہے۔ مثبت فکر رکھنے والوں کے کاموں کا نتیجہ بھی ہمیشہ مثبت ہی ہوتا ہے۔ منفی سوچ رکھنے والوں کو ہمیشہ ناکامی ہی ہاتھ آتی ہے۔ ایک حدیث میں وارد ہوا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گمان کے ساتھ ہے‘‘۔ یعنی بندہ جیسا گمان کرے گا، جیسی سوچ رکھے گا، اللہ تعالیٰ ویسا ہی نتیجہ دے گا۔ اگر کوئی ذی شعور انسان اس حدیث کو سمجھ کر اپنی زندگی میں اُتار لے اور حرزِ جاں بنالے تو اس کی زندگی میں انقلابی تبدیلی واقع ہوگی اور وہ شخص مثبت شخصیت کا مالک بن کر کامیابیوں کے زینے پر چڑھتا ہی چلا جائے گا۔ تجربات یہی بتاتے ہیں کہ مثبت سوچ رکھنے والوں کی زندگی میں کامیابیوں کی بہاریں مسکراتی ہیں۔

یاد رکھئے! اپنی پوری زندگی کو کامرانی و شادمانی سے ہمکنار کرنے اور اپنی شخصیت کو مقبول و محبوب بنانے کے لئے حسنِ اخلاق، میانہ روی اور مثبت سوچ کے تینوں اصولوں کو شعارِ زندگی بنالیجئے۔ پھر دیکھئے زندگی کس طرح مسکراتی ہے۔

زندگی ایسی جیو کہ دشمنوں کو رشک ہو

موت ایسی ہو زمانہ دیر تک ماتم کرے

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر اسلم جاوداں

Leave a Reply