بحیثیت مسلم بیٹی

اللہ تعالیٰ زمین اور آسمانوں کے بادشاہی کا مالک ہے۔ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے۔ (الشوریٰ:۹۴-۰۵)

آج سے چودہ سو سال پہلے عہد جاہلیت میں اسلام کی انقلابی تعلیمات نے عورت کو اس کے حقیقی حقوق اور مرتبہ عطا کیا۔ اپنے آغاز سے لے کر آج تک اسلام کا مقصد ہمیشہ یہ رہا ہے کہ خواتین کے حوالے سے ہماری سوچ خیالات، احساسات اور ہمارے طرزِ فکر میں بہتری لائی جائے۔ اور معاشرے میں خواتین کا مقام بلند تر کیا جائے تاکہ وہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں بھرپور رول ادا کرسکیں۔ اس کے لیے اسلام نے اسے بنیادی قسم کے حقوق اور اختیارات دیے اور عورت کے ہر مرحلہ زندگی کے لیے حقوق اور ذمہ داریاں تفویض کیں۔ عہد جاہلیت کے معاشرے میں عورت کی حالت کو دیکھتے ہوئے جو سب سے پہلی ہدایت دی وہ یہ تھی کہ بیٹی کو جان کی حفاظت فراہم کی ہے اور بیٹوں کو قتل کرنے کی قبیح روایت کا خاتمہ کیا اور قتل اولاد کو حرام قرار دیا۔

سورہ تکویر میں ارشاد ہوتا ہے:

’’جب زندہ گاڑی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی۔‘‘

ظہور اسلام سے قبل دورِ جاہلیت کے عرب معاشرے میں لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا کرتے تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ اسلام نے اس مکروہ اور ظالمانہ رسم کا خاتمہ کر دیا۔

اسلام صرف بچی کے قتل پر ہی پابندی نہیں لگاتا بلکہ وہ اس طرزِ عمل کی بھی سخت مذمت کرتا ہے کہ بچے کی پیدائش پر خوشیاں منائی جائیں اور بچی کی پیدائش کی خبر سن کر افسوس کیا جائے۔ حدیث مبارکہ میں ارشاد ہے:

’’جس شخص نے اپنی دو بیٹیوں کی اچھی طرح پرورش کی اور ان کا خیال رکھا اور محبت کے ساتھ انہیں پالا وہ شخص جنت میں داخل ہوگا۔‘‘

بحیثیت مسلم بیٹی، اسلام نے جو مقام عطا کیا ہے وہ اللہ کی طرف سے بخشی ہوئی ایک بہت بڑی نعمت ہے اس نعمت کا صحیح شکریہ ہے کہ وہ اپنے قول و عمل، سیرت و کردار اور بہترین اخلاق سے اسلام کی نمائندہ بن کر دین کی خدمت کو انجام دے اور اسے اس بات کا بھی شعور ہونا چاہیے کہ اسلام اس پر کیا ذمہ داری عائد کرتا ہے۔

عہد رسالت کی خواتین نے نہ صرف اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ لیا تھا بلکہ وہ ان کو ادا کرنے کے لیے بھی خود کو پوری طرح تیار کرچکی تھیں۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس سماج میں علم و عمل کے میدان کی شہسوار خواتین تیار ہوئیں۔

جی ہاں بنت ابوبکر صدیقؓ حضرت عائشہؓ سے صحابہ کرامؓ اور خلفائے راشدین تک رہ نمائی حاصل کرتے رہے۔ وہ نہ صرف یہ کہ علوم دینیہ کی ماہر تھیں بلکہ دیگر علوم مثلاٍ طب پر بھی ماہرانہ دسترس رکھتی تھیں۔ انہیں علم ریاضی سے بھی دلچسپی تھی میراث کے مسائل آپ سے دریافت کرنے کے لیے صحابہؓ آتے تھے۔ حضرت عائشہؓ سے تقریباٍ بارہ ہزار دو سو دس احادیث مروی ہیں آپؓ نے ۸۸ علماء کو تعلیم دی تھی آپ کو استاذ الاساتذہ کا مقام حاصل تھا۔

حضرت فاطمہؓ سرورِ کائنات کی چہیتی اور سب سے چھوٹی صاحبزادی تھیں۔ قرآن و سنت سے جو علم حاصل ہوا اس پر عمل کرتی تھیں۔گھر کا کام کاج خود کرتی تھیں اور آپ کو خاتون جنت بھی کہا گیا ہے۔ اس طرح مسلم بیٹی کی ذمہ داری گھر کے کام کاج تک محدود نہیں ہے بلکہ اسلام کی دعوت و تبلیغ کا فریضہ بھی انجام دینا ہے۔ حضرت خدیجہؓ نے اپنا پورا مال دعوت و تبلیغ کے لیے اللہ کی راہ میں دے دیا تھا۔

اس طرح حضرت فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا کا واقعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قبول اسلام یہ دعوت کا کام ایک بیٹی نے کیا۔ اور یہی عمر فاروق خلیفہ راشدین میں شمار ہوئے۔

دین کی اقامت کے لیے جدوجہد ہر مسلم بیٹی کے لیے ضروری ہے۔ جس طرح حضرت فاطمہؓ اور حضرت عائشہؓ نے کیا تھا۔

حضرت ام عمارہؓ بنت کعب خیبر، حنین اور جنگ یمامہ میں شریک تھیں۔ یمایہ کی جنگ میں تو انہوںنے اتنی بہادری سے کفار کا مقابلہ کیا تھا کہ جسم مبارک پر سترہ زخم آئے اور ایک ہاتھ کٹ گیا۔

ایک مسلم بیٹی کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ وہ عصر حاضر کے تقاضوں کو شرعی و اخلاقی حدود میں رہ کر ادا کریں۔ اس تعلیمی دور میں بھی مسلم بیٹی عصری تعلیم میں پیچھے نہ رہے۔ کیوں کہ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے قوموں کے عروج و زوال کو پرکھا جاسکتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ دینی تعلیم سے بیگانہ ہوکر صرف دنیاوی تعلیم حاصل کی جائے بلکہ دونوں علوم میں مہارت پیدا کر کے دین و ملت، ملک اور انسانیت کی بہتر سے بہتر خدمت انجام دیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ناہید انجم بنت ظفر حسین آکولہ

Leave a Reply